Skip to content
فلم "حق”! شریعت کے خلاف ایک ناحق پروپگنڈہ
از قلم: مفتی محمد سلمان قاسمی
خادم تدریس ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد
ملک میں پھیلتی بدامنی اور اسلام دشمی کے تناظر میں اب تک بیسیوں ایسی فلمیں منظر عام پر آئیں جن کے پس پردہ کسی پروپگنڈے کو پروموٹ کیا جارہا ہو،ان فلموں کا مقصد صرف مسلم دشمنی کو فروغ دینا اور ہندوؤں کے جذبات کو مشتعل کرنا ہوتا ہے،اس طرح کی فلموں کے پس پردہ کارفرما اسلام دشمن عناصر اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہورہے ہیں تو کبھی ان کو سنجیدہ و سیکولر عوام کی ملامت بھی جھیلنی پڑ رہی ہے،حال ہی میں دی تاج اسٹوری پر احقر کا مضمون دیکھ کر بعض احباب نے مشورہ دیا کہ اس سے بھی خطرناک ایک فلم "حق” کے نام سے منظر عام پر آنے والی ہے، جس میں شریعت کو ٹارگٹ کیا گیا ہے،جب تحقیق کیا تو اس سے متعلق جو تفصیلات دستیاب ہوئیں وہ ملاحظہ فرمائیں۔
یہ فلم کا ٹائٹل حق ہے،یعنی ایک عورت جو اپنے حق کے لیے لڑ رہی ہے،فلم کی اسٹوری ایک مشہور مقدمہ "شاہ بانو کیس” پر مبنی ہے،اداکار و ہدایت کار بظاہر بتا رہے ہیں کہ فلم کا مقصد "مسلم عورتوں کے حقوق کا تحفظ اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف اسٹرائیک” ہے جب کہ حقیقت میں یہ حقوق نسواں کا پرفریب نعرہ لگا کر احکام اسلام پر اعتراض اور شریعت اسلامیہ کو بدنام کرنے کا ایک ایجنڈا ہے، اس وقت یہ ایشو اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ یہ مقدمہ عدالتوں سے خارجِ بحث ہوکر دہائیاں گزر گئیں ہیں،لیکن گڑے مردے اکھاڑنا اور اسلام کو بدنام کرنا معاندین اسلام کا پسندیدہ مشغلہ ہے،اسی کے تئیں ان کی ذہنیت کارفرما ہوتی ہے،اور اسی تناظر میں ایسی فلمیں منظر عام پر آتی رہتی ہیں،فلم کے پروپگنڈے کو سمجھنے سے پہلے شاہ بانو کیس کی تفصیلات جاننا ضروری ہے۔
چنانچہ شاہ بانو کیس کی مختصر تفصیلات درج ذیل ہیں:
ہندوستان کی عدالتی و سماجی تاریخ میں "شاہ بانو کیس” ایک ایسا واقعہ ہے جس نے نہ صرف مسلم پرسنل لا کے مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کیا بلکہ آئین، مذہب، اور ریاست کے باہمی تعلق پر بھی ایک طویل بحث چھیڑ دی۔ یہ مقدمہ ایک مسلم خاتون کے نفقہ (معاشی حق) کے مطالبے سے شروع ہوا، مگر بعد میں ایک بڑے مذہبی و سیاسی تنازعے میں بدل گیا۔
شاہ بانو نامی ایک مسلم خاتون بھوپال (مدھیہ پردیش) کی رہنے والی تھیں۔ ان کی شادی محمد احمد خان نامی وکیل سے سن 1932 میں ہوئی۔کئی برسوں بعد 1975 میں شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے کر علیحدہ کر دیا۔ اس وقت شاہ بانو کی عمر تقریباً 62 سال تھی اور ان کے غالباً پانچ بچے تھے؛اس دوران شاہ بانو کے شوہر نے ایک دوسرا نکاح بھی کیا تھا،غرض طلاق کے بعد شوہر نے شرعی اصول کے مطابق عدت کا نفقہ بیوی کو دیا، بعدہ نفقہ دینا بند کردیا جو کہ اسلامی اصول کے موافق تھا، جس پر شاہ بانو نے دفعہ 125 ضابطہ فوجداری (CrPC) کے تحت عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔
دفعہ 125 تعزیراتِ ہند ایک سیکولر قانون ہے، جو کسی مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتا۔ اس کے مطابق اگر کوئی مرد اپنی بیوی، بچوں یا والدین کو نفقہ نہیں دیتا، تو عدالت اسے اس کے لیے پابند کر سکتی ہے۔
شاہ بانو نے اسی بنیاد پر مطالبہ کیا کہ چونکہ وہ طلاق کے بعد بھی معاشی طور پر کمزور ہیں، اس لیے شوہر انہیں نفقہ ادا کرے۔
عدالت نے شوہر کو ماہانہ 25 روپے نفقہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
شاہ بانو کے شوہر نے اس فیصلے کو چیلنج کیا۔کاروائی آگے بڑھی اور ہائی کورٹ نے نفقہ کی رقم بڑھا کر 179.20 روپے ماہانہ کر دی۔
محمد احمد خان نے اس فیصلہ کو بھی چیلنج کرتے ہوئے اس موقف کا اظہار کیا کہ "اسلامی شریعت کے مطابق مطلقہ عورت کو صرف عدت کی مدت تک نفقہ دیا جا سکتا ہے، اس کے بعد نہیں۔”
سپریم کورٹ کے ذریعے 1985 میں جسٹس وائی. وی. چندرچوڈ (Chief Justice) کی سربراہی میں بنچ نے ایک فیصلہ سنایا کہ
"دفعہ 125 CrPC ایک سیکولر قانون ہے، اور اس کا اطلاق ہر مذہب کے ماننے والے پر یکساں طور پر ہوتا ہے۔ لہٰذا شوہر اپنی مطلقہ بیوی کو اس وقت تک نفقہ دینے کا پابند ہے جب تک وہ خود گزارہ کرنے کے قابل نہ ہو۔”
فیصلے کے اثرات اور ردِّ عمل:
یہ فیصلہ ہندوستان بھر میں ایک بڑی سیاسی اور مذہبی بحث کا باعث بنا۔
کئی مسلمان علماء اور تنظیموں نے اسے شریعت میں مداخلت قرار دیا۔
ان کا مؤقف تھا کہ اسلام مطلقہ کو صرف عدت تک نفقہ دیتا ہے،اس سے آگے نہیں۔
اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہوئے، اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علماء اور دیگر مسلم تنظیموں نے حکومت سے قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا،اس وقت وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت تھی؛مسلم برادری کے شدید دباؤ کے تحت حکومت نے "مسلم ویمن (تحفظِ حقوقِ طلاق) ایکٹ 1986” پارلیمنٹ سے منظور کروایا۔
اس قانون کے تحت یہ طے کیا گیا کہ:
مطلقہ عورت کو صرف عدت کی مدت تک نفقہ دیا جائے گا، عدت کے بعد اس کا خرچ اس کے رشتہ داروں یا وقف بورڈ کے ذمے ہوگا،اور دفعہ 125 CrPC کا اطلاق مسلم مطلقہ عورتوں پر نہیں ہوگا۔
یہ قانون دراصل سپریم کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرنے کے مترادف تھا۔
غرض بعد میں حکومت اور عدلیہ کے بین یہ بحث چلتی رہی اور حکومت نے سیول کوڈ کو مدنظر رکھ کر مسلم پرسنل کے خلاف سبھی عورتوں کے لیے یکساں قانون قرار دیتے ہوئے ایک قانون پاس کیا جس میں عورتوں کو عدت کے بعد بھی نفقہ دینے کی ہدایت تھی تاآنکہ وہ خود کفیل ہوجائے۔
یہ شاہ بانو کیس کی روداد تھی،یہ مسئلہ کئی سال تک سیاسی حلقوں اور ملک میں گردش کرتا رہا، بالآخر ماضی کا حصہ بن گیا لیکن اب مسئلے کو بیس پوائیٹ بنا کر فلم "حق” منظر عام پر لانا صاف طور سماج کی ذہنیت کو پراگندہ کرنا ہے،اس فلم میں جو مناظر دکھلائے گئے اس سے دو طرح کی ذہنیت کو فروغ حاصل ہوگا،ایک تو ملک کے متعصب و متنفر ہندو اور زیادہ اسلام سے بدظن ہوں گے اور شور مچائیں گے کہ مذہب اسلام میں رواداری کا لحاظ نہیں رکھا گیا،عورتوں کی حق تلفی کی گئی وغیرہ وغیرہ،اس سے بھی بڑا نقصان یہ ہوگا کہ مسلمان عورتیں جن کو دینی ماحول کی فراہمی حاصل نہیں ہے اور وہ عصری اداروں میں زیر تعلیم ہیں،ماحول کی ہماہمی سے ان کے ذہن میں اسلامی تعلیمات کے خلاف منفی سوالات گردش کرتے رہتے ہیں وہ اور زیادہ شک و شبہ میں مبتلا ہوں گے،اور اسلام کے بعض احکام کو انسانی آزادی پر جبر اور عورتوں کے حق میں ظالمانہ تصور کریں گے۔
کچھ فلم کے بارے میں:
سب سے پہلے تو مسلمانوں کو اس فلم کی طرف مائل کرنے کے لیے ایک نام نہاد مسلم اداکار عمران ہاشمی کو کاسٹ کیا گیا،پھر موصوف نے بعض انٹرویوز میں کچھ ایسا خیال ظاہر کیا کہ بحیثیت مسلمان ہونے کے اس فلم کے ذریعہ وہ اپنا کوئی قرض ادا کر رہے ہیں اور اپنی مسلمان بہنوں بلکہ ملک کی عورتوں کی حمایت و ہمدردی میں یہ فلم نکال رہے ہیں،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ فلمی دنیا سے وابستہ کسی بھی اداکار کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا،وہ اندورنی طور پر ملحد یا مشرک ہوتے ہیں،ایک اور بات جو فلمائی گئی وہ یہ کہ شاہ بانو کے شوہر نے دوسرا نکاح کیا جو کہ سراسر پہلی بیوی پر ظلم اور اس کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے،جب کہ شرعی اعتبار سے ایک مسلمان کو بہ شرط انصاف دوسرا نکاح کرنے کی کلی آزادی ہوتی ہے،جو چیز سب سے زیادہ ہائلیٹ کی گئی وہ یہ کہ مسلمان مرد عورتوں کو بے محابہ تین طلاق دیتے ہیں،اس طرح عورتوں کی زندگی معطل اور مشکل ہوجاتی ہے،اور یہی چیز مذہب اسلام میں رائج ہے جب کہ اسلام کا جو نظام طلاق ہے اس کی جو خوبی اور طریقہ کار ہے اس کا کسی بھی سماج میں بدل نہیں،لیکن سماج میں ایک منفی تاثر کو عام کرنا تھا اس لیے ایسا بتایا گیا کہ اداکار (جو فلم میں شاہ بانو کے شوہر کا کردار نبھا رہا ہے) مہر کی رقم بیوی کے سامنے پھینک کر تین طلاق دیتا ہے،ایک المیہ یہ بھی ہے کہ مسلم طبقے کی نااہلی اور ناعاقبت اندیشی اور مزاجوں میں عدم تحمل کے سبب ایک مجلس میں تین طلاق کے واقعات رونما ہوتے ہیں جس سے واقعی عورت کی آگے کی زندگی دشوار ہوجاتی ہے،اس سلسلے میں نوجوانوں کی تربیت انتہائی ناگزیر ہے،یہی واقعات اسلامی تعلیمات کی بدنامی اور دشمنوں کو اعتراض کی راہ فراہم کرتے ہی،لیکن ایک واقعے کو پورے سماج کا کلچر بناکر پیش کرنا صاف طور پر پروپیگنڈہ ہے،پھر جو چیز شاہ بانو کیس کا بنیادی سبب ہے وہ مطلقہ کا نفقہ ہے،شریعت نے مرد اور عورت کے حقوق میں عدل قائم کرتے ہوئے عورت کے لیے عدت تک کے نفقے کو مشروع کیا ہے،اب اس کو ایسے بتایا گیا کہ یہ حکم عورت اور اس کے بچوں پر ظلم ہے،مرد کو طلاق کے بعد بھی بدستور عورت کا نفقہ جاری رکھنا چاہیے،جب کہ سکّے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر طلاق کے بعد بھی مرد پر ہمیشہ کے لیے نفقے کو جاری رکھا جائے تو مرد کی حق تلفی اور اس پر ظلم ہوگا، بنظر انصاف غور کریں تو یہ حقیقت آشکارا ہوجائے گی لیکن عموماً فلموں میں ایک طرف کی کہانی بتاکر ذہنوں کو پراگندہ کیا جاتا ہے۔
ملکی قانون کے دفعہ 125 کے مطابق اس طرح کا قانون ہوگا، قانون پر اعتراض کرنا مقصود نہیں ہے،لیکن خود ملک نے مذہبی معاملات میں مسلم کمیونٹی کے لیے ایک پرسنل لا رکھا ہے،جس کے حدود میں اقدامات کا ہر ہندوستانی مسلمان کو قانونی حق حاصل ہے،اب اس طرح کے مسائل کو بنیاد بناکر پرسنل لا میں مداخلت خود قانون ہند کی خلاف ورزی ہے؛ایک چیز یہ بھی بتائی گئی کہ جب اس شاہ بانو کا کردار ادا کرنے والی عورت نے اپنے حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تو سارا مسلم سماج اس کا دشمن ہوگیا،اس کو ستانے اور دھمکانے لگا،نیز علماء نے اس پر مذہب کے ساتھ دشمنی اور غداری کے فتوے لگا دیے،گویا اسلام میں عورت کو منہ کھولنے ہی نہیں دیا جاتا، عورت کی آواز کو مکمل طور پر دبا دیا جاتا ہے،جب کہ واقعہ کچھ اور ہے،اسلام نے جس قدر سماج کے ایک ایک فرد کی رعایت کی ہے بالخصوص عورتوں کے حقوق میں جو عادلانہ نظام مروج کیا ہے دیگر تہذیبوں اور مذاہب میں اس کی مثال عنقی ہے۔
ملک میں کچھ ماہ قبل یونیفارم سیول کوڈ کا مسئلہ بڑے شد و مد کے ساتھ اٹھایا جارہا تھا کہ پرسنل لا کو ختم کیا جائے اور یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے اور ملک کے تمام مذاہب سے وابستہ لوگوں کو ایک قانون و نظام کا پابند بنایا جائے،پھر اسی کو بنیاد بناکر مسلم پرسنل میں ترمیم اور وقف ایکٹ میں تبدیلی وغیرہ جیسی کئی مہمات چلائی گئیں،اور سابق میں بھی مسلمانوں کو نشانہ بناکر ایسے بل جو سراسر شریعت اسلامیہ سے متصادم ہوں ملک میں جاری کرنے اور اسلامیان ہند کو پریشان کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ابھی بھی یہ جاری ہے،بس حکومت کے اسی منشأ کی تکمیل و ترجمانی اس فلم کا درپردہ پیغام اور میسیج ہے،اس فلم میں تین طلاق،تعدد ازدواج، نففۂ مطلقہ اور مرد و زن کے درمیان مساوات وغیرہ جیسے کئی مسائل کو گھیرا گیا ہے جن کا تعلق راست طور پر اسلامی شریعت سے ہے،اور ان تمام کا شرعی حل کتب فقہ میں اور قانونی حل ملکی قانون میں محفوظ ہے،یہ فلم حقوقِ نسواں کا پرفریب نعرہ لگا کر شریعت کو بدنام کرنے کا ایک خفیہ منصوبہ ہے،اور یونیفارم سیول کوڈ کا پرچار ہے اور مسلم پرسنل میں ترمیم کے لیے اٹھائی جانے والی ایک آواز ہے،سیکولیزم کا دم بھرتے ہوئے لبرل ازم کو پروموٹ کرنے کی ایک سازش ہے،اس طرح کے موضوعات پر خامہ فرسائی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ اہل باطل اپنے دائرے کار میں اسلام کو نشانہ بنانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں تو بحیثیت مسلمان ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ اسلام کا دفاع کریں،اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبائیں اور علماء و عوام کے سامنے اس طرح کے مکھوٹ اور جھوٹ کا صحیح چہرہ اور سچائی کو واضح کریں۔
Like this:
Like Loading...