Skip to content
نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو زندہ کرکے ہی معاشرہ کو سنوارا اور سجایا جاسکتا ہے :مولانا انعام احمد صاحب کاس گنج
پکھرایاں کانپور7دسمبر (پریس نیوز) مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم محلہ نور گنج پکھرایاں ضلع کانپور دیہات میں ایک روزہ عظیم الشان جلسہ اصلاح معاشرہ و تعلیمی بیداری کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ملک کے نامور علماء کرام اور شعراء تشریف لائے اور اپنی قیمتی نصائح اور خطابات سے سامعین کو مستفیض فرمایا اور ماحول کو ایمانی اور نورانی بنایا ،،
ناظم مدرسہ جناب مولانا عبدالماجد صاحب قاسمی کی صدارت میں منعقدہ اس پروگرام میں تشریف لائے پیر طریقت جناب حضرت الحاج مولانا انعام احمد صاحب قاسمی کاس گنج خلیفہ محئی السنہ شاہ ابرار الحق صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنے گراں قدر خطاب اور قیمتی پندو ونصائح سے سامعین کو سرفراز فرمایا
انہوں نے اپنے نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ جب انسان اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو وہ بالکل بے علم ہوتا ہے؛ نہ وہ جانتا ہے، نہ پہچانتا ہے، نہ چلنا سیکھا ہوتا ہے اور نہ ہی رشتوں کی پہچان ہوتی ہے انسان کو جو کچھ علم ملتا ہے وہ اللہ کے دیے ہوئے کانوں کے ذریعے ملتا ہے۔ اگر انسان سننے کی صلاحیت سے محروم ہو تو وہ بولنا بھی نہیں سیکھ پاتا، اس لیے سننے کی قوت علم کا بنیادی دروازہ ہے
قرآن پاک بھی اللہ نے سننے کے ذریعے امت تک پہنچایا، یہ کوئی لکھی ہوئی کتاب کی صورت میں پہلے سے اتری ہوئی نہیں تھی، بلکہ اللہ کے کلام کو نبی کریم ﷺ نے سماعت کے ذریعے حاصل کیا اور امت تک پہنچایا کان ہمارے لئے خیر کا ذریعہ ہے اس لئے اس کان سے غلط چیزوں کا علم اور غلط بات سننے سے اجتناب کرنا چاہئے اور خیر کی طرف اپنے آپکو بڑھانا چاہیے
آج کا زمانہ فساد کا زمانہ ہے فساد صرف جنگ و جدال کا نہیں بلکہ وہ معاشرتی بگاڑ ہے جس میں نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات اور سنتیں لوگوں کو اچھی نہیں لگتیں لوگ دینی باتیں سننے اور ماننے سے کتراتے ہیں، اور یہ رجحان صرف ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہر طرف عام ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں نکاح کے مختلف طریقوں کو عملی شکل میں امت کے سامنے رکھاچاہے عمر میں بڑی خاتون سے نکاح ہو یا کم عمر، کنواری ہو یا بیوہ، حتیٰ کہ مطلقہ سے نکاح کیا تاکہ امت کو صحیح رہنمائی مل سکے مگر آج ان سنتوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے
آج لوگ شادی بیاہ میں فضول رسومات کو لازم سمجھ بیٹھے ہیں بارات کا بڑا ہونا، غیر ضروری خرچ کرنا، اور دنیا کو دکھانے کے لئے رسمیں ادا کرنا عام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم لوگ ہیں جو شادی کے وقت یہ سوچتے ہوں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی شادیوں اور اپنی بیٹیوں کی شادیوں میں کیا طریقہ اختیار کیا تھا اور ہم بھی اسی سنت پر عمل کریں
معاشرہ اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو زندہ نہ کیا جائےاگر ہم سنت سے منہ موڑ لیں تو دنیا بھر کی طاقتیں بھی ہمارا معاشرہ سنوار نہیں سکتی ،
مفتی اعظم شہر کانپور مفتی اقبال احمد قاسمی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اللہ ایمان والوں سے قرآن میں تقاضا کرتا ہے کہ اے ایمان والوں سچے مسلمان بن جاؤ برائیوں سے بچ کر جو صفات ایمان والوں کی ہے ،انکو اپنائیں ،جو لوگ نماز ادا کرنے والے ہیں ،اچھے کام کرنے والے ہیں وہ مسلمان کامیاب ہونگے
پروگرام میں جناب مولانا انعام اللہ صاحب قاسمی کانپور، مولانا نعمت اللہ صاحب راجپوری، مولانا ایوب صاحب ندوی، مولانا عبدالرحمٰن صاحب سٹی نے بھی خطاب کیا ،شاعر اسلام جناب اسد اعظمی نے نعتیہ کلام کا نذرانہ پیش کیا،اسکے علاوہ خواص طور سے مولانا عبدالواجد صاحب قاسمی، مولانا خالد صاحب حافظ سیف الاسلام مدنی، قاسمی حافظ احسان الحق صاحب پکھرایاں مولانا اظہار صاحب کیسی ،حافظ نعیم صاحب پکھرایاں، حاجی عقیل احمد صاحب پکھرایاں، حافظ محمد اسعد صاحب ڈیرہ پور مولانا سلیم صاحب پکھرایاں، حافظ طفیل سٹی،مفتی مجیب الرحمن بھوگنی پور ،حافظ شکیل پکھرایاں، مفتی عبدالماجد صاحب گلولی،مولانا احسان صاحب گلولی،حافظ جلال الدین صاحب، قاری ہارون صاحب سٹی شیخ محمد صاحب حافظ قاسم صاحب اصالت گنج ،محمد دلشاد پکھرایاں۔شریک رہے اسکے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ شریک رہے،پروگرام کی نظامت قاری محئی الدین صاحب کانپوری کی تلاوت سے محفل کا آغاز ہوا ،جناب مولانا فضل رب صاحب قاسمی نے انجام دیں
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...