Skip to content
میڈیا کی اہمیت ضرورت اور اس کے کردار کے ساتھ جھوٹی خبروں کی پہچان اور میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال پر گفتگو .
مولانا مطیع الرحمن عوف ندوی کی زیر صدارت معہد دارالعلوم سکروری میں میڈیا بیداری کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد
لکھنو ،12دسمبر(الہلال میڈیا)
صفا انسٹیٹیوٹ فار میڈیا لٹریسی اینڈ جنرلزم کے زیر اہتمام لکھنو کے معروف علمی ادارہ معہد دارالعلوم سکروری میں میڈیا بیداری کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں میڈیا کی اہمیت ضرورت اور اس کے کردار کے ساتھ جھوٹی خبروں کی پہچان اور میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال پر گفتگو کی گئی اور شرکاء کو تفصیلی معلومات فراہم کی گئی پروگرام کے صدارت مولانا مطیع الرحمن عوف ندوی نے کی جبکہ پروفیسر مسعود عالم فلاحی (خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی) مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے، معروف صحافی غفران نسیم نے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو سمجھنا اور اس میدان میں اگے بڑھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے مگر میڈیا میں ان کی حصہ داری صفر کے برابر ہے، نوجوانوں کو خاص طور پر اس میدان میں اگے بڑھ کر رول ادا کرنا چاہیے، اللہ تعالی نے نوجوانوں کے اندر بڑی صلاحیت رکھی ہے ضرورت ہے کہ ہمارے نوجوان میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں کی سمجھ پیدا کریں اور اپنے ذوق اور اپنی سہولت کے اعتبار سے اس میدان میں اگے بڑھیں، یہ میدان ملی اور دعوتی کاموں کے لیے تو ہے ہی ساتھ ہی معاشی نقطہ نظر سے بھی یہ بہت اہم ہے، مفتی منور سلطان ندوی نے میڈیا کے تنقیدی شعور کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں خبروں کے انبار میں صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہو گیا ہے، فیک نیوز اور جعلی خبریں کثرت سے اور پوری مہارت سے پھیلائی جا رہی ہے، موجودہ وقت میں قارحین تک وہی خبریں پہنچتی ہیں جو میڈیا والے پہنچانا اور دکھانا چاہتے ہیں، شہریوں کے اہم مسائل کو چھوڑ کر غیر اہم مسائل پر بریکنگ نیوز بنائی جاتی ہے، اس لیے میڈیا کا شعور بہت ضروری ہے، مذہبی مسائل میں نوجوان بہت جلد جذباتیت کے شکار ہو جاتے ہیں اور اپنا رد عمل ظاہر کرنے لگتے ہیں، سوشل میڈیا کے حوالے سے خاص طور پر جذباتی رد عمل پر کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے، پروفیسر مسعود عالم فلاحی نے کہا کہ اکثر ایک ہی واقعہ کو دو مختلف انداز سے پیش کیا جاتا ہے اور یہ بات میڈیا میں کوئی نئی نہیں ہے، مسلمانوں کے بارے میں میڈیا کا رویہ اکثر منفی رہا ہے اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی تعداد اس میدان میں بہت کم ہے، پروفیسر شافع انوار الحق نے میڈیا کی حقیقت حیثیت اور اس کے اقسام پر روشنی ڈالی اور خاص طور پر پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی خصوصیات کو بیان کیا، پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے مولانا مطیع الرحمن عوف ندوی نے کہا کہ احادیث کی جانچ اور پرکھ سے متعلق جو اصول و ضوابط موجود ہیں ان سے بہتر اصول میڈیا کے لیے نہیں بن سکتے، صحابہ نے دین کا پیغام امت تک پہنچایا یہ ترسیل کا بہترین عمل تھا، قران کریم میں ہر خبر کو پرکھنے کی ہدایت گئی ہے یہ میڈیا لٹریسی کا وہ بنیادی اصول ہے جو اج سے 1400 سال پہلے دیا گیا، اس پروگرام میں ادارہ کے اساتذہ کے ساتھ بڑی تعداد میں طلبا نے شرکت کی، پروگرام کے اختتام پر طلبا نے سوالات بھی کئے، نوشاد ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...