Skip to content
شہرِ حیدرآباد میں بڑھتا ہوا قتل و قتال
از قلم : شیخ امیرالدین رحمانی
امام وخطیب مسجد امام ٹولی چوکی
حالیہ دنوں شہرِ حیدرآباد میں قتل و قتال اور خون ریزی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ معمولی تنازعات، وقتی غصّہ اور چھوٹی باتیں اس حد تک بڑھ جاتی ہیں کہ انسانی جان لے لی جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف سماجی بگاڑ کی علامت ہے بلکہ اخلاقی و دینی زوال کا بھی واضح ثبوت ہے۔
اسلام نے انسانی جان کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ یہ اصول اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کسی فرد کی جان لینا صرف ایک شخص کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے امن اور انسانی اقدار کو مجروح کرنا ہے۔ احادیثِ نبویہ میں بھی ناحق قتل کو انتہائی سنگین جرم قرار دیا گیا ہے اور اسے دنیا کی ہلاکت سے بھی بڑا نقصان بتایا گیا ہے۔
قتل و قتال کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بنیادی وجوہات میں غصّے پر قابو نہ رکھ پانا، صبر و برداشت کی کمی، دینی تعلیمات سے دوری اور اخلاقی تربیت کا فقدان شامل ہیں۔ جب اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا جائے اور قانون و شریعت کے بجائے ذاتی انتقام کو ترجیح دی جائے تو اس کے نتائج معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ بیشتر قتل کے واقعات وقتی اشتعال اور جذباتی فیصلوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، جن پر بعد میں شدید پچھتاوا بھی بے سود ثابت ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے طاقت کی حقیقی تعریف کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو زیر کر لے، بلکہ وہ ہے جو غصّے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ یہ تعلیم آج کے حالات میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اگر صبر و برداشت کو اپنایا جائے تو بہت سے المناک واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔
قتل کے اثرات صرف مقتول کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتائج پورے خاندان اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایک قتل سے ایک خاندان معاشی، نفسیاتی اور سماجی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مقتول کے اہلِ خانہ عدم تحفظ اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ قاتل خود قانونی گرفت، سماجی نفرت اور آخرت کی سخت باز پرس کا سامنا کرتا ہے۔ اس طرح ایک جرم کئی زندگیاں برباد کر دیتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں فساد پھیلانے اور امنِ عامہ کو نقصان پہنچانے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہ ہدایت اس امر کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ معاشرے میں امن، عدل اور برداشت کو فروغ دیا جائے اور اختلافات کو صلح، اور قانونی دائرے میں حل کیا جائے۔
موجودہ حالات میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ سماج کے تمام طبقات اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ والدین گھروں میں بچوں کی اخلاقی و دینی تربیت پر خصوصی توجہ دیں، تعلیمی ادارے کردار سازی کو نصاب کا حصہ بنائیں، اور علماء و ائمہ مساجد صبر، برداشت اور انسانی جان کے احترام کا شعور اجاگر کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی تنظیموں کو بھی امن و امان کے قیام میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قتل و قتال کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ ایک پُرامن، مہذب اور محفوظ معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب اختلاف کو برداشت، غصّے کو صبر اور انتقام کو عدل کے تابع کیا جائے۔ یہی طرزِ فکر شہرِ حیدرآباد کے امن اور بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
طالبِ دعا: شیخ امیرالدین رحمانی
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...