Skip to content
حیدرآباد،8جنوری(ایجنسیز)سال 2025 کا اختتام ہو چکا ہے۔گذشتہ پورے سال کے دوران ملک میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر محروم دلت طبقات کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو تصویر خاصی تشویشناک نظر آتی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے ایسے واقعات سامنے آتے رہے جنہوں نے اقلیتوں ، دلتوں اور محروم طبقات میں خوف، عدم تحفظ اور بے چینی کو مزید گہرا کیا۔
ایک ایسا طبقہ سرگرم نظر آیا جو ملک کو ہندو راشٹر/برہمن راج بنانے کے نام پر تمام جمہوری اور آئینی حدیں پار کرتا چلا گیا۔ کبھی نام نہاد ہندو قوم پرستی کا سہارا لیا گیا تو کبھی جمہوری بھارت کو سناتن دھرم کا ملک قرار دے کر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں، حالانکہ آئینِ ہند ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی مکمل آزادی دیتا ہے۔
پورے سال ملک کے مختلف حصوں میں ہجومی تشدد، مآب لنچنگ، مذہب کے نام پر حملے، نفرت انگیز تقاریر اور بے قصور افراد کی گرفتاریاں ہوتی رہیں۔ افسوسناک امر یہ رہا کہ بیشتر معاملات میں متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں مل سکا، جبکہ ملزمان کو کھلے عام تحفظ حاصل رہا۔ بعض مقامات پر تو قصورواروں کی حوصلہ افزائی تک کی گئی، جس سے انصاف پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک مخصوص نظریہ رکھنے والا طبقہ کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی کرتا رہا۔ ان کے نزدیک اقلیتوں، چاہے وہ مسلمان ہوں، عیسائی ہوں یا ایس سی-ایس ٹی طبقات، پر ہونے والا ظلم بھی کم معلوم ہوتا ہے۔ اقتدار کی سیاست کے لئے نفرت انگیز بیان بازی، معاشی بائیکاٹ، مذہبی مقامات کی بے حرمتی اور بے بنیاد قانونی کارروائیوں کو معمول بنا دیا گیا۔ اگر یہ رویہ یونہی جاری رہا تو عالمی سطح پر بھارت کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی المیہ ہے کہ بھارت کے باہر مثلاً بنگلہ دیش / پاکستان وغیرہ میں اگر اقلیت پر تشدد ہوتا ہے تو بھارت کے اقلیتوں کو بھی اس کی آڑ میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ابھی حال ہی میںمغربی بنگال کے اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کے رکن ا سمبلی سوودیندو ادھیکاری نے بنگلہ دیش میں جاری تشدد کے حوالے سے اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سو کروڑ ہندئووں کا ملک ہے حکومت ہندوئوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہی ہے۔ان کے بیان سے شر پسند عناصر کو اشارہ مل گیا ہے جو ملک کی سالمیت کے لئے بڑا خطرہ ہے۔
اس کے علاوہ یتی نرسنگھا نند سرسوتی جو بار بار نفرت انگیز بیان بازی کرتے رہتے ہیں ایک بار پھر قابل اعتراض اور اشتعال انگیز تبصرہ کیا ہے۔ انہوںنے ہندوئوں کو اُکساتے ہوئے آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیم اور خود کش دستے بنانے کا مطالبہ کر ڈالا۔ نیز غازی آباد میں ہندوئوں میں تلواروں کی تقسیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ مہلک ہتھیار تقسیم کئے جانے چاہئیں۔
صرف اتنا ہی نہیں اس سال آسام میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے وہاں کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کاغیر ذمہ دارانہ بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ یہ انتخابات نہیں بلکہ تہذیب کی لڑائی (Civilization Fight) ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات نہیں ہوںگے بلکہ اب تہذیب کی لڑائی ہوگی۔ان کی اس بات کی چاروں طرف سے مذمت کی جارہی ہے۔
اسی طرح معروف ‘کتھاواچک’ دیوکنندن ٹھاکر نے جمعہ کو بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کی جانب سے بنگلہ دیشی کرکٹر کو خریدنے کے بعد تنقید کی،یقینا شاہ رخ خان کے نام اور شناخت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ دیوکنندن ٹھاکر، رام بھدراچاریہ اور بی جے پی کے کئی لیڈر اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔
ویسے تو یہ پورا سال ہی اور 2014کے بعد سے ہی جگہ جگہ ہجومی تشدد کے معاملے ہوتے آرہے ہیں لیکن سال ختم ہوتے ہوتے بریلی کا واقعہ بھی سامنے آیا جس نے پولیس اور انتظامیہ کی ناکامی کو صاف ظاہر کیا۔ بریلی میں ہندو طالبہ کی سالگرہ کی پارٹی کے دوران اس کے مسلم دوستوں کو کس قدر پریشان کیا گیا، ان پر لو جہاد کا جھوٹا الزام لگایا گیا جبکہ ہندو طالبہ نے خود ہی انہیں مدعو کیا تھا اور وہ اس کے مہمان تھے لیکن شر پسندوں نے محض مذہب کی بنیاد پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا،اور تو اور پولیس نے حملہ کرنے والوں پر فی الفور کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ مسلم نوجوانوں کو ہی گرفتار کر لیا۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے جہاں ایک طرفہ کارروائی کی گئی ہوبلکہ ایسے سینکڑوں واقعات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔
سالِ گذشتہ اور اس سے پہلے بھی جہاں جہاں بھی اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں وہ سب میڈیا کے ذریعہ منظر پر آگئے ہیں۔ سب کا ذکر کرنے کا موقع تو نہیں البتہ ابھی حال ہی میں مہاراشٹر میں ، بہار میں اور دہرہ دون میں جو واقعات ہوئے ہیں ان کے زخم ابھی تک بھرے نہیں ہیں۔
میڈیا کا کردار بھی اس پورے سال مایوس کن ہی نہیں بلکہ بہت ہی گھٹیا / نچلی سطح کا رہا۔پوری دنیا میں بھارتی گودی میڈیا کی جگ ہسائی ہو رہی ہے۔ بہت سے قومی چینل اقلیتوں کے اصل مسائل پر بات کرنے کے بجائے سنسنی اور نفرت کو ترجیح دیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب، آپس داری، بھائی چارگی کو کافی نقصان پہنچا اور معاشرے میں دوریاں مزید بڑھتی چلی گئیں۔
تعلیم اور روزگار کے میدان میں بھی اقلیتوں کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ سرکاری اسکالرشپ میں کٹوتی، سرکاری نوکریوں میں کم نمائندگی اور وقف املاک سے متعلق تنازعات نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ آئین سب کو برابر کا شہری مانتا ہے، مگر عملی طور پر اقلیتوں کو سوئم اور چہارم درجے کا شہری بنانے کی کوششیں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں جو لگاتار جاری ہیں۔
مذہبی تہواروں تک کو نفرت کا نشانہ بنایا گیا۔ کرسمس جیسے قومی تہوار پر وارانسی میں جاپانی سیاحوں کو محض سانتا کلاز کی ٹوپی پہننے پر ہراساں کیا جانا اور اس کے بعد عیسائیوں کے خلاف ملک گیر ہنگامہ آرائی ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔دیگر کئی شہروں اور قصبوںمیں جہاں جہاں مسیحی بھائی کرسچین سماج کرسمس تہوار منا رہا تھا کھلم کھلا غنڈہ گردی اور توڑ پھوڑ کی گئی جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت ہوئی جس سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے۔
قانون سازی کے ذریعے بھی اقلیتوں کو دباؤ میں رکھنے کی کوششیں جاری رہیں۔ سی اے اے، این آر سی، وقف ایکٹ، گاؤ رکھشا قانون، تبدیلیٔ مذہب قوانین اور یو اے پی اے جیسے قوانین کا استعمال اکثر امتیازی رویے کے طور پر سامنے آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ‘‘گھس پیٹھیے’’،‘‘لو جہاد’’،‘‘کٹوے’’اور‘‘جہادی’’جیسے نعرے سماج کو مزید تقسیم کرنے کا ذریعہ بنے اور یہ سب اب بھی بڑے زور شور سے جاری ہے۔ اگر اس نفرت انگیزی کواب لگام نہیں لگائی گئی تو یہ ہمارے ملک کے لئے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔
عدالتوں سے انصاف کی امید کے باوجود انصاف میں تاخیر اور بعض حساس معاملات میں خاموشی نے عام شہریوں کو بے چین کیا۔ جب قانون سب کے لئے یکساں نظر نہ آئے تو جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔عدلیہ بھی اب چہرے دیکھ کر فیصلہ کرنے لگی ہے۔
سال 2025 بہت سے سوالات چھوڑ کر گیاہے۔ اب وقت ہے کہ صرف شکایتوں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ آئندہ کے لئے ٹھوس لائحۂ عمل تیار کیا جائے۔ سب سے پہلے اقلیتوں کو اپنے آئینی حقوق سے واقف ہونا ہوگا اور پرامن، جمہوری طریقے سے ان کے لئے آواز بلند کرنی ہوگی۔ تعلیم کے ساتھ روزگار اور تحفظ کی گارنٹی سب سے اہم ہتھیار ہے؛ بچوں کی تعلیم اور نوجوانوں کی رہنمائی کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔
سیاسی حصہ داری بڑھانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ووٹ دینے کے ساتھ ساتھ نمائندگی کا مطالبہ کرنا اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہوگا۔ سوشل میڈیا، اخبارات اور مقامی پلیٹ فارمز کے ذریعے سچائی کے ساتھ اپنی بات رکھنے کے لئے اپنے مضبوط میڈیا پلیٹ فارمز تیار کرنا ہوں گے۔
انصاف کسی ایک مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام انصاف پسند شہریوں کا مشترکہ سوال ہے۔ نئے سال میں ہوش مندی، اتحاد اور مسلسل جدوجہد ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے بھارت کا ہر شہری خود کو محفوظ، باعزت اور برابر کا حصہ محسوس کر سکتا ہے۔
مختصراً یہ کہ سال 2025 نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ اگر اقلیتوں کا عدم تحفظ اسی طرح نظرانداز ہوتا رہا تو اس کا نقصان کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری جمہوری ساخت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ نفرت، امتیاز اور یکطرفہ قانون کے سہارے نہ تو ملک کی یکجہتی برقرار رہ سکتی ہے اور نہ ہی آئین کی روح محفوظ رہ سکتی ہے۔ جمہوریت کی اصل طاقت اسی میں ہے کہ اکثریت اپنی قوت کا استعمال کمزوروں کے تحفظ کے لیے کرے، نہ کہ انہیں خوف زدہ اور حاشیے پر دھکیلنے کے لیے۔
اب بھی وقت ہے کہ ملک کے تمام انصاف پسند شہری، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقے سے ہو، آئین، قانون اور انسانی قدروں کے دفاع کے لیے یکجا ہوں۔ اقلیتوں کا تحفظ دراصل بھارت کے مستقبل، اس کی جمہوری روایت اور گنگا جمنی تہذیب کا تحفظ ہے۔ اگر نفرت کی سیاست پر بروقت روک نہ لگائی گئی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ نئے سال میں یہی عزم ہونا چاہیے کہ بھارت صرف اکثریت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا محفوظ، باعزت اور برابر کا وطن بنے۔
Like this:
Like Loading...