Skip to content
عمر خالد اور شرجیل امام : مودی اور شاہ کی آنکھ کا کانٹا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کیمپس میں 5؍ جنوری 2020 کو ایک تشدد پھوٹ پڑا تھا کیونکہ زعفرانی نقاب پوش افراد کے ایک ہجوم نے تین ہاسٹلوں کے طلباء پر حملہ کردیا ۔ سرکار کی سرپرستی میں پلنے والے غنڈوں نے لاٹھیوں، پتھروں اور لوہے کی سلاخوں سے ہاسٹل کے طلباکو مارا پیٹا اور کھڑکیوں، فرنیچر کے ساتھ ان کا ذاتی سامان بھی توڑ دیا۔ یہ ہنگامہ دو گھنٹے تک برپا رہا مگر امیت شاہ کے تحت کام کرنے والی جانبدار پولیس غائب تھی بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ موقع دے رہی تھی ۔ سرکاری تحفظ کے بغیر زعفرانی شیر بلی بن جاتے ہیں۔ مذکورہ بالا افراتفری میں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کی صدر آئشی گھوش سمیت کم از کم 28 افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ ہر سال اس زیادتی کو یاد کرکے 5 جنوری 2020 کے حملے کی مذمت میں احتجاج کیا جاتا ہے۔ امسال اگر یونیورسٹی کے سابق طلبا شرجیل امام اور عمر خالد کو بھی دیگر بے قصور ملزمین کے ساتھ ضمانت مل جاتی تو یہ موقع ایک جشن میں بدل سکتا تھا لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا اس لیے طلبا کا غم و غصہ پھوٹ گیا اور خوب جم کر نعرے بازی ہوئی ۔
گودی میڈیا کا معاملہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر مظالم کی یاد دلا کر طلباء کا تعاون کرنے کے بجائے ان کو بدنام کرنے کا موقع ڈھونڈلیا جاتا ہے۔ جے این یو کے مظاہرے میں بھی میڈیا کو کانگریس کے رام لیلا میدان کی طرح ’ مودی اور شاہ کے قبر‘ سےمتعلق ایک نعرہ مل گیا اور پھر کیا تھا ہنگامہ ہوگیا۔ اس سے متعلق موجودہ یونین کے صدر مشرا نے وضاحت کی کہ ، "احتجاج کے دوران لگائے گئے تمام نعرے نظریاتی تھے اور انہوں نے ذاتی طور پر کسی پر حملہ نہیں کیانیز کسی خاص فرد کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا تھا۔‘‘ یہ دراصل خوف کا اثر ہے ورنہ ایسی کیسی صفائی کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ قبر کھودنا ایک محاورہ ہے جس کے معنیٰ اختتام کے ہوتے ہیں اور ویسے بھی مودی و شاہ کی جانب اشارہ کرکے نعرہ لگانا کوئی جرم تھوڑی نا ہے؟ اس لیے انہیں قابل اعتراض اور متنازعہ نعرہ کہنا درست نہیں ہے۔یہ ظالم سرکار تو اپنے خلاف بولنے والے سارے لوگوں کو زندہ درگور کرنے کی عملاً کوشش کرتی ہے۔ انہیں اپنے کرتوتوں کے سبب اس طرح کی مخالفت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ وہ لوگ اگر اشارہ کرکے شرجیل امام اور عمر خالد کو بھی عدالت سے چھڑوا دیتے تو یہ نوبت ہی نہ آتی ۔ اس لیے کارروائی کے بجائے اصلاح درکار ہے۔
۶؍ سال قبل جے این یو پر حملے کی وجہ امریکی صدر کے خلاف متوقع احتجاج کی حوصلہ شکنی تھا اور اب بھی ضمانت نہ دینے کے پیچھے یہی پیغام دینا مقصود ہے کہ جو سرکار کی مخالف جتنا زیادہ کرے گا اس کو اتنا ہی ہراساں کیا جائے گا۔ ایسے میں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر جے این یو کے اوپر حملہ کیوں کیا گیا تھا ۔ یہ دراصل ڈیڑھ ماہ بعد صدر ٹرمپ کی آمد کے موقع پر ہونے والے متوقع احتجاج کو پہلے ہی ڈرا دھمکا کر کچلنے کی ایک سازش کا حصہ تھی۔ اس زمانے میں پورے ملک کے اندر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف زور و شور کے ساتھ تحریک چل رہی تھی۔ ملک بھر میں تقریباً دو سو مقامات پر شاہین باغ بنے ہوئے تھے اور اس کی قیادت میں یہ ساتوں لوگ پیش پیش تھے۔ ٹرمپ کی موجودگی میں احتجاج کو دبانے کی سرکاری خواہش پر اس کے اپنے کپل مشرا کی حماقت نے پھیر دیا۔ اس نے دہلی میں فسادیوں کو ایک اسکول میں لاکر ٹھہرایا تاکہ ٹرمپ کی واپسی کے بعد فرقہ وارانہ فساد کرکےشاہین باغ کو بدنام کیا جاسکے مگر انہوں نے ٹرمپ کی آمد کے ایک دن پہلے ہی دنگا فساد شروع کردیا ْ ۔
صدر ٹرمپ 24 اور 25 فروری کو آنے والے تھے مگر شمال مشرقی دہلی میں فساد کی ابتداء ایک دن قبل 23 فروری کو ہوگئی اور یہ سلسلہ 29 فروری تک جاری رہا۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس فساد کو برپا کرنے والے کپل مشرا کو بی جے پی نے ریاستِ دہلی کا وزیر قانون بنا کر اپنی فساد نوازی کا ثبوت پیش کیا۔ اس کے برعکس تشدد کا الزام الٹا سی اے اے کی تحریک چلانے والے عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاءالرحمن ، شاداب احمد، اور محمد سلیم خان پر جڑ دیا۔ 2020 کے دہلی فسادات کو بھڑکانے کی سازش کے الزام میں پانچ سال سے زیادہ عرصے سے قبل ان سب کو جیل بھیج دیا گیا ۔ ان لوگوں نے دہلی کے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ میں ضمانت کی گہار لگائی انکار کر دیا گیا۔ مجبور ہوکر ان بے قصور ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ۔
عامی سطح پر زیر بحث اس قدر مشہور قضیے میں بھی سپریم کورٹ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجریا کی بنچ نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوے کہہ دیا کہ مقدمے کی سماعت میں تاخیر کوئی "ٹرمپ کارڈ” نہیں ہے اس لیے خود بخود قانونی اور تحفظات کو نظرانداز کر نا ممکن نہیں ہے۔سوال یہ ہے ایک ہی قانون کے تحت دو عدالتیں ضمانت دینے سے انکار کرتی ہیں مگر تیسری قبول کرلے تو اس تاخیر کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ سپریم کورٹ میں دلائل کے دوران طویل قید اور آئین کے آرٹیکل 21 سے متعلق دلائل دیئے گئے تو عدالت نے کہہ دیا کہ ٹرائل سے قبل قید کو سزا نہیں سمجھا جا سکتا۔ سوال یہ ہے اگر وہ سزا نہیں تو کیا ہے؟ سپریم کورٹ کے خیال میں شرجیل امام کے خلاف پہلی نظر میں معاملہ بنتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پہلی نظر پانچ سال سے بعد بھی پہلی ہی کیوں ہے ؟
عدالت نے اپنے فیصلے میں عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت مسترد کر کے پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دیتے ہوے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے کردار کا دیگر ملزمان سے موازنہ نہیں کیا جا سکتااس لیے ان پریو اے پی اےکے تحت مقدمہ چلتا رہے گا۔ جج صاحبان نے جس فرق کا ذکر کیا اسے بتانے کیوں احتراز کیا گیا؟ سپریم کورٹ کی دلیل ہے کہ کہا کہ آئین کا آرٹیکل 21 (زندگی کا حق) اہم ہے لیکن یہ حق قانونی دفعات سے باہر نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کس قانون کے تحت یہ تفتیش اس قدر طویل ہورہی ہیں۔ کیااس طرح تو تحقیق کے بہانے ملزمین کو ساری عمر قید میں رکھا جاسکتا ہے؟ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی نے عدالت عظمیٰ کے اس مشاہدے کے بارے پوچھا کہ کیا جہد کاروں کو پانچ سال سے زائد عرصے تک بغیر کسی مقدمے کے قید میں رہنا "آئینی جواز” سے تجاوز نہیں ہے؟ وہ بولےعدالت کا یہ بیان کہ ‘مسلسل نظربندی ان کے خلاف قانونی پابندی کو ختم کرنے کی آئینی اجازت سے تجاوز نہیں کرتی ہے’ انصاف کا دھوکہ ہے۔ کیا پانچ سال تک جیل میں رہنا، مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے بغیر، زندگی اور آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں؟‘‘۔یہ سوال بہت اہم ہے۔
بیبی نے صاف کہا کہ یہ حکم بی جے پی حکومت کے "اختلاف رائے کی آوازوں کود بانے کے جابرانہ ہتھکنڈوں” کو مؤثر طریقے سے نافذ کرتا ہے۔انہوں نے جنسی مجرم گرمیت رام رحیم سنگھ کو عدالت کے ذریعہ 15ویں بار پیرول کی مثال دے کر عدلیہ کو آئینہ دکھایا۔ سی پی ایم نے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ بغیر کسی مقدمے کے پانچ سال سے زیادہ جیل میں رہنا انصاف نہیں ہے، یہ بغیر فیصلے کے سزا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضمانت سے انکار ملک کے فوجداری نظام انصاف میں پریشان کن دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس فیصلے کو انصاف اور آئینی آزادی کے تصور کی صریح نفی قرار دیا۔راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمان منوج جھا نے ٹرائل میں تاخیر کو حیران کن اور غیر آئینی بتایا۔
عدالت نے اس بار کم از کم یہ تحدید ضرور کی ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے محفوظ گواہوں کی جانچ اگر ایک سال کی مدت میں ختم نہ ہو درخواست گزار کوضمانت کے لیے دوبارہ درخواست کرنے کا حق ہے۔ اس میں امید کی ایک کرن ہے کہ ایک سال کے اندر وہ بھی رہا ہوجائیں گے۔عدالت کی اس ناانصافی کے باوجود عمر خالد کو سلام ہے کہ وہ کہتا ہے، "میں ان دیگر لوگوں کے لیے بہت خوش ہوں جنہیں ضمانت مل گئی ہے! مجھے راحت محسوس ہو رہی ہے۔ ” سپریم کورٹ سے اپنے بیٹے عمر خالد کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر بھی عظیم المرتبت باپ سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ’’بڑی راحت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کو ایک سال بعد ضمانت کی درخواست دینے کی آزادی دی ہے، عدالت نے پولیس اور ٹرائل کو ہدایت کی ہے کہ تفتیش کو تیزی سے نمٹایا جائے، اور ایک سال کے اندر تمام گواہوں پر جرح مکمل کرلی جائے‘‘۔ اس بار پانچ لوگوں کو انصاف ملنے کی خوشی کے ساتھ دو افراد کی محرومی کا قلق ہے لیکن یہ امید بھی ہے کہ ذکی کیفی کے مطابق ؎
مہ و خورشید کو بھی لگ ہی جاتا ہے گہن اک دن پھر اس کے بعد پیہم نور برسایا ہی کرتے ہیں
Like this:
Like Loading...