Skip to content
عقیدۂ ختم نبوتؐ اور ہماری ذمہ داریاں!
از قلم : محمد فرقان
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
8495087865,
mdfurqan7865@gmail.com
عقیدۂ ختم نبوتؐ اسلام کا وہ بنیادی، قطعی اور غیر متزلزل عقیدہ ہے جس پر پورے دین اسلام کی عمارت قائم ہے۔ یہ محض ایک فقہی یا جزوی مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کی اساس، نبوت کے سلسلے کی تکمیل اور شریعت محمدی ﷺ کی ابدیت کا اعلان ہے۔ ایک مسلمان اس وقت تک دائرۂ ایمان میں داخل ہی نہیں ہوسکتا جب تک وہ دل و جان سے اس بات پر ایمان نہ لائے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی، رسول، ظلی، بروزی یا کسی بھی قسم کا مدعی ٔنبوت نہیں آسکتا۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو نہایت واضح اور دو ٹوک انداز میں بیان فرمایا: مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَٰکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ (الأحزاب: 40) یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں۔ یہ آیت کریمہ عقیدۂ ختم نبوت کی قطعی بنیاد ہے، جس میں کسی تاویل، تشریح یا تحریف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
احادیث نبویہ میں بھی اس عقیدے کو نہایت صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِی وَلَا نَبِیَّ (ترمذی) یعنی رسالت اور نبوت ختم ہوچکی، اب میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: لَا نَبِیَّ بَعْدِی جو اتنی کثرت سے مروی ہے کہ امت کا ہر فرد اسے جانتا اور مانتا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین اور امت کے تمام ائمہ کا اس پر اجماع رہا ہے کہ ختم نبوت کا انکار کفرِ صریح ہے، اور اس میں شک کرنا بھی ایمان کے زائل ہونے کا سبب ہے۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ جب بھی اس عقیدے پر حملہ ہوا، امت نے اجتماعی طور پر اس کی حفاظت کی اور ہر دور میں اہلِ باطل کے فتنوں کو علمی، فکری اور عملی سطح پر ناکام بنایا۔
عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ شریعتِ اسلام کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اگر نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو ہر دور میں نئے مدعی پیدا ہوتے، نئی شریعتیں گھڑی جاتیں اور دین اسلام کا خالص اور محفوظ رہنا ممکن نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم فرما کر دین کو مکمل کردیا: الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ (المائدہ: 3)۔ اب قیامت تک آنے والے انسانوں کیلئے ہدایت کا واحد سرچشمہ قرآن و سنت ہیں، اور انہی کی اتباع میں نجات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ختم نبوت کا انکار دراصل قرآن کی تکذیب، رسول ﷺ کی تعلیمات سے انحراف اور امت کے اجماعی عقیدے سے بغاوت کے مترادف ہے۔ یہ عقیدہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب ہدایت کا کوئی نیا راستہ، کوئی نیا نبی اور کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا، بلکہ کامیابی صرف اور صرف اتباعِ محمد ﷺ میں ہے۔
ملت اسلامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عقیدے کو صرف زبانی دعوؤں تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے شعور، فکر اور عملی زندگی کا حصہ بنائے۔ آج کا دور فتنوں کا دور ہے، جہاں کھلے دشمنوں کے ساتھ ساتھ پوشیدہ انداز میں عقائد پر حملے کیے جارہے ہیں۔ کبھی نبوت کے نئے مفاہیم گھڑے جاتے ہیں، کبھی الہام اور کشف کے نام پر نبوت کے دعوے کو نرم الفاظ میں پیش کیا جاتا ہے، کبھی شخصیات کو اس حد تک تقدیس دی جاتی ہے کہ انہیں نبی کے برابر یا نبی سے بڑھ کر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض فتنہ پرور گروہ ختم نبوت کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی ایسی تاویلات پیش کرتے ہیں جو دراصل اس کے انکار کے مترادف ہوتی ہیں۔ یہ سب فکری یلغاریں ہیں جن سے امت کو ہوشیار رہنے کی شدید ضرورت ہے، کیونکہ دشمن اب تلوار سے نہیں بلکہ فکر، میڈیا اور پروپیگنڈا سے حملہ آور ہے۔
علماء کرام پر اس حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ انبیاء کے وارث ہیں اور دین کی حفاظت ان کے کندھوں پر ہے۔ علماء کا فرض ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کریں، نئی نسل کو اس کی اہمیت سمجھائیں، فتنوں کی نشاندہی کریں اور ان کے فکری و علمی رد میں کوتاہی نہ کریں۔ منبر و محراب، درسگاہیں، مدارس، خطبات جمعہ اور دینی اجتماعات اس کام کے اہم ذرائع ہیں۔ علماء کو چاہیے کہ وہ محض جذباتی نعروں پر اکتفا نہ کریں بلکہ مدلل، مستند اور حکیمانہ انداز میں بات کریں تاکہ عوام کے دل و دماغ دونوں مطمئن ہوں اور کسی قسم کے شبہات باقی نہ رہیں۔
عوام الناس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کیلئے علماء سے جڑے رہیں، مستند دینی مصادر سے علم حاصل کریں اور ہر اس فکر، لٹریچر یا شخصیت سے دور رہیں جو ختم نبوت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرے۔ آج سوشل میڈیا، یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے گمراہ کن مواد بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ بعض اوقات خوشنما نعروں، روحانیت کے دعوؤں اور اصلاح کے نام پر ایسے نظریات پیش کیے جاتے ہیں جو عقیدے کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ ہر پیغام کو بلا تحقیق آگے نہ بڑھائیں، ہر ویڈیو اور تحریر کو دین نہ سمجھیں بلکہ اہلِ علم سے رجوع کریں، کیونکہ غلط عقیدہ انسان کی ساری عبادات کو بھی ضائع کرسکتا ہے۔
جدید ذرائع ابلاغ اگرچہ فتنوں کا ذریعہ بن رہے ہیں، مگر یہی ذرائع اگر درست استعمال ہوں تو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا مضبوط ہتھیار بھی بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء، دینی ادارے اور باشعور افراد سوشل میڈیا پر مثبت، مدلل اور موثر مواد پیش کریں۔ مختصر ویڈیوز، مضامین، سوال و جواب کے سیشن، آن لائن دروس اور ڈیجیٹل کتابچوں کے ذریعے نوجوان نسل تک صحیح عقیدہ پہنچایا جائے۔ آج کا نوجوان اگر ان پلیٹ فارمز پر گمراہی کا شکار ہورہا ہے تو وہیں اس کی اصلاح کا سامان بھی موجود ہے، بس نیت، حکمت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے، تاکہ باطل کی آواز کے مقابلے میں حق کی آواز زیادہ مضبوط ہو۔
ملت کو فتنوں سے بچانے اور عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کیلئے ایک منظم، ہمہ گیر اور طویل المدت لائحہ عمل درکار ہے۔ گھروں میں والدین اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں، انہیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت، مقام اور عظمت سے روشناس کرائیں اور یہ بات دلوں میں راسخ کریں کہ ایمان کی سب سے بڑی حفاظت یہی عقیدہ ہے۔ مدارس، مکاتب اور عصری تعلیمی اداروں کے نصاب میں عقیدۂ ختم نبوت کو مضبوط دلائل اور سادہ انداز میں شامل کیا جائے تاکہ بچپن ہی سے ذہنوں میں یہ حقیقت پختہ ہوجائے۔ مساجد کو صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ دینی شعور، فکری بیداری اور ایمانی تربیت کے مراکز بنایا جائے، جہاں امت کو درپیش فتنوں پر رہنمائی دی جائے۔
آخر میں یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت دراصل رسول اللہ ﷺ کی ناموس، دین اسلام کی بقا اور اپنی آخرت کی نجات کی حفاظت ہے۔ یہ کوئی وقتی یا وقتی جذبات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر دور کا امتحان ہے، جس میں سرخرو وہی ہوگا جو ایمان پر ثابت قدم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح ایمان پر استقامت عطا فرمائے، فتنوں کی پہچان نصیب فرمائے اور عقیدۂ ختم نبوت پر جان و مال، فکر و عمل ہر چیز قربان کرنے کی توفیق دے، کیونکہ یہی ایمان کی علامت، اہل سنت والجماعت علماء دیوبند کی پہچان اور ملت اسلامیہ کی اصل قوت ہے۔
(مضمون نگارمرکز تحفظ اسلام ہند کے بانی و ڈائریکٹر ہیں)
Like this:
Like Loading...