Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رمضان راشن اور ہماری ترجیحات
تحریر: مفتی مقبول احمد مفتاحی
خطیب مسجد مصطفیٰ این ٹی آر نگر ،
ایل بی نگر ،حیدرآباد
نوٹ (۱): سال بھر رفاہی کاموں میں مصروف حضرات اس تحریر کے مخاطب نہیں ہیں!
نوٹ (۲) تحریر تھوڑی طویل ضرور ہے مگر اتنی زیادہ بھی طویل نہیں، ہوسکتا ہے اس تحریر کے ہر جملے سے اتفاق نہ ہو ، پھر پڑھنے کی زحمت ضرور گوارا کریں، جزاکم اللہ
رمضان المبارک میں غرباء و مساکین کو راشن اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنا بلاشبہ ایک نیکی اور باعثِ اجر عمل ہے، مگر یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ غربت صرف رمضان تک محدود نہیں ہوتی۔ غریب سال کے بارہ مہینے موجود رہتا ہے، اس کی ضرورتیں بھی مستقل ہوتی ہیں اور اس کے مسائل بھی۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ثواب کا تعلق محض کسی خاص مہینے سے نہیں، بلکہ ضرورت، وقت اور اجتماعی فائدے سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات غیر رمضان میں کیے جانے والے کچھ کام، اپنے اثرات اور افادیت کے اعتبار سے رمضان کے بہت سے اعمال سے زیادہ اجر کا سبب بن جاتے ہیں۔
ان بنیادی دو چار باتوں کے بعد عرض ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے یہ مشاہدہ ہے اور بہت سوں سے مسموع بھی ہے کہ رمضان راشن جس جذبہ کے تحت تقسیم کیا جاتاہے، تقسیم کرنے والوں میں تو وہ جذبہ نظر آتا ہے مگر لینے والوں میں وہ جذبہ نظر نہیں آتا۔ یعنی ’’غریب روزہ دار ‘‘ کی جہاں تک بات ہے تو مشاہدہ یہ ہے کہ راشن کی لائین میں کھڑے ہوکر لینے والے اکثر افراد وہ ہوتے ہیں جو عموماً روزہ دار نہیں ہوتے، اور اگر روزہ دار بھی ہوتے ہیں تو ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہےجن کے پاس چھلہ ،چھٹی،برتھ ڈے ، جمعہ گی اور دیگر رسوم و رواج کیلئے خوب پیسہ ہوتا ہے بلکہ ناچ گانوں اور لہو و لعب میں خرچ کرنے کیلئے روپیہ پیسہ کا نظم ہوجا تا ہے۔ بہت سے غیرت مند مستحق روزہ دار اس سے محروم بھی رہ جاتے ہیں،
سوال یہ ہے کہ اگر رمضان میں راشن تقسیم نہ کیا جائے تو کیا یہ افراد افطار اور سحری سے محروم رہ جائیں گے؟ جن کے گیارہ مہینے کسی نہ کسی طرح گزر جاتے ہیں، کیا وہ ایک مہینہ نہیں گزار سکتے؟ اور کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ راشن ملنے کے بعد وہ فکرِ معاش سے آزاد ہو کر واقعی رمضان کے تقاضے پورے کریں گے؟
اگرچہ یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ کچھ اہلِ خیر حضرات ماشاء اللہ ایسے بھی ہیں جو بلا تشہیر اور بغیر کسی دکھاوے کے براہِ راست مستحقین تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر مجموعی صورتِ حال تشویشناک ہے۔ ایک ہی خاندان کا مختلف تنظیموں سے بار بار راشن حاصل کرنا اب ایک عام بات بنتی جا رہی ہے۔ہم ہرگز یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ رمضان راشن کوئی خلاف شرع کام ہے یا بالکل بند کردینا چاہئے۔
چونکہ اب رمضان راشن کا چلن اب اتنا بڑھ گیا ہے کہ ایک بڑے شہر یا چار پانچ بڑے اضلاع میں راشن کی تقسیم کا اگر حساب لگایا جائے تو فی کس 2 ہزار روپئے کے حساب سے کم از کم ایک لاکھ راشن کٹس بھی جوڑلیں تو 20 کروڑ روپئے کی رقم بنتی ہے۔ اس لئے پورے دردِدل کے ساتھ مخلصانہ انداز میں عرض ہے کہ مسلم معاشرہ میں ’’رمضان راشن ‘‘سے بھی زیادہ اہم اور ضروری کام اتنے ہیں کہ ان کی طرف توجہ نہ ہونے کی وجہ سے امت اجتماعی مشکلات کا شکار ہے ۔کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہی دس بیس کروڑ ملت کے کسی ایسے کاموں پر خرچ کئے جائیں جن کا فائدہ دیر پا اور جن سے بڑی تعداد میں لوگ مستفید ہوں؟
ذیل میں ایسے بہت سے کاموں میں صرف دو تین کاموں کی نشاندہی کی جارہی ہے، پڑھ کر خود فیصلہ کریں اور ہوسکے تو کسی کام کو اپنے ذمہ لے لیں۔
*(۱) خدام دین اور علماء کرام کی کفالت *
اس وقت دنیا کا ہر متمول شخص معاشی حالات کی زد میں ہے تو سو چئے علماء کرام کا کیا حال ہوگا۔ گذشتہ زمانوں میں مسلم بادشاہان علماء کرام کی سرکاری خزانہ سے کفالت کیا کرتے تھے جس کے نتیجہ میں علماء کرام اور خدام دین اور خدام قوم پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے علمی اور اختراعی کاموں میں مصروف رہتے تھے۔ علم والے اپنے شاگردوں میں وہ کمال پیدا کرتے تھے کہ ایک استاذ کی محنت سے سینکڑوں علماء وجود میں آتے تھے اور ایک سائنس دان کے تجربات سے مسلم مملکتوں اور قوم کا بے شمار فائدہ ہوتا تھا۔ مگر جب سے یہ مسلم ریاستیں ختم ہوئیں اور علماء کی دست گیری اور سرکاری کفالت بالکل ختم ہوگئی تب سے اگرچہ اکثر علماء نے اپنا کام نہیں چھوڑا مگر دیگر معاشی ضروریات و مجبوریوں کی وجہ سے دینی کام کا معیار ضرور متأثر ہوا ، علماء نے الحمدللہ کبھی اپنی ذات کیلئے اجتماعی امداد یا کسی گرانٹ کا نہ کبھی حکومت سے مطالبہ کیا نہ عوام سے ، عوام سے بھی اگر مانگا تو صرف قرآن اور دین اسلام یا قوم کی خدمت کے نام پر مانگا ، عوام بھی الحمدللہ ساتھ دیتی رہی اور ابتک دے رہی ہے، مگر گذشتہ دو دہوں سے ( کچھ خود بعض علماء کی غلطیوں کی وجہ سے اور کچھ مخالف اسلام سازشوں کا شکار ہوکر)عوام نے مدارس کو چندہ دینا بہت کم کردیا ہے ، جس کے نتیجہ میں قرآن وسنت کی خدمت کا معیار بہت گھٹتا گیا، ہر سال بہت سے طلبہ عالم بن کر قوم کو مل تورہے ہیں مگر جو صلاحیتیں ان میں ہونی چاہئیں اکثروں میں وہ ندارد ہے، دینی خدمت پر فائز علماء کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن میں وہ صلاحیتیں نہیں جو ہونی چاہئیں۔ اور جو صلاحیت مند علماء ہیں ان ایک بہت بڑی تعداد اپنی گھریلو یا معاشی مجبوریوں کے مارے یا تو کسب معاش میں مصروف ہورہی ہے یا پھر نقل مقام کو ہی ترجیح دے رہی ہے۔
کرنے کا کام یہ ہے کہ ایک ریاست یا ضلع میں قابل ، بااعتماد اور خدمت دین کا جذبہ رکھنے والے حسب استطاعت دو چار دس علماء کو متنخب کرکےاور کچھ شرائط طے کرکے ان کی قابل لحاظ مالی کفالت کی جائے، مدرسہ سے انہیں جو تنخواہ مل رہی ہے وہ برقرار رکھی جائے ، البتہ تعاون کی رقم اتنی ہو کہ مدرسہ اور کفالت کی رقم دونوں ملاکر مجموعی رقم کم از کم 50 ہزار ماہانہ بن جائے ، معاونین کی ذہن سازی کرکے انہیں علماء کے تعاون پر آمادہ کیا جائے۔
شرائط سے مراد یہ ہے کہ مثلاً ان علماء سے یہ معاہدہ ہو کہ آپ کو جو تنخواہ مدرسہ سے مل رہی ہے وہ آپ لیتے رہیں مگر ہم جو آپ کا تعاون کررہے ہیں یہ اسی صورت میں رہےگا جب تک آپ دینی خدمات میں ہمہ تن مصروف رہیں گے، خارجی اوقات میں کوئی معاشی سرگرمیوں کی اجازت نہ ہو، جمعہ کی خطابت اگر کہیں ہو تو ٹھیک ہے ، نہیں تو معاوضہ کے ساتھ انہیں کسی قریبی مسجد یا قریبی محلہ یا دیہات میں مقرر کیاجاوے، ہفتہ میں ایک دن کسی پسماندہ علاقہ کی مسجد میں درس قرآن یا درس حدیث کیلئے طے کیاجائے، اس کیلئے سواری خرچ علاحدہ دیا جائے۔ نیز خدمات پر از خود یا ان علماء سے بڑے کسی عالم سے موقع بہ موقع ان کی خدمات کا جائزہ بھی لیاجاتا رہے ۔ اعتماد و شرائط کے باوجود اگر کوئی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرسکے تو اس کی جگہ پر کسی دوسرے کو مقرر کیاجائے، اور کسی کے چلے جانے سے ہرگز بددل نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نیتوں کے حساب سے عمل مقبول اور اجر عطا فرماتے ہیں۔
(۲) مکاتب کا قیام
اس وقت علماء کے حلقہ میںمکاتب کے قیام و نظام سے متعلق بہت کہنے اور سننے کو مل رہا ہے، صحیح بات ہے کہ مکاتب کا قیام و انتظام اس وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے، مگر مشکل یہ ہے کہ اکابر علماء کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ خود یہ کام کرسکیں، نوجوان علماء میں بہت سے ایسے ہیں جو یہ کام کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے پاس وسائل اور سرمایہ نہیں ہے۔ جتنے لوگ مکاتب کے جال پھیلانے کی بات کررہے ہیں وہ وسائل اور سرمایہ کیلئے اگرچہ فکرمند ہوں گے مگر ان کے اداروں اور کاموں کیلئے خود سرمایہ کم ہے ، نیز مکاتب کا کام ایک مستقل کام ہے، یہ کسی مدرسہ کے تحت ہو تو سکتا ہے مگر اتنا نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔ حالات و تجربات سب کے سامنے ہیں۔
ضرورت یہ ہے کہ معاونین و اہل خیر حضرات سے راشن کے نام پر رقم وصول کرنے کے بجائے پیارو محبت سے اہل خیر حضرات کو ان مکاتب کی اہمیت سمجھائیں اور ان سے اس کام کیلئے تعاون کی درخواست کریں۔ اور اس تعاون کو حسب گنجائش ایک مکتب ، دو مکاتب ، تین یا اس سے زائد مکاتب پر صرف کرے اور اس کام کیلئے مستقل ایک فرد کو متعین کرکے اس کی بھی مالی کفالت کریں۔ اور اس کیلئے بھی حسب صوابدید شرائط اور کام کی ترتیب طے کرلیں۔
(۳) دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ اسکولس کا قیام
ایک وقت تھا کہ آزادی کے بعد مسلمان عصری تعلیم میں بالکل پسماندہ ہوچکے تھے پھر رفتہ رفتہ اس میں کچھ بہتری آئی مگر جب عصری تعلیم کی طرف مسلمانوں کا رجوع بڑھ گیا تو پھر مسلم معاشرہ سے اسلامی تہذیب و ثقافت کے ختم ہوجانے اور مغربی تہذیب کے در آجانے کا خطرہ بڑھ گیا، بلکہ کئی مسلم گھرانے اس مغربی اور ہندوانہ تہذیب کے شکار ہوچکے، پھر ملت کے دردمند علماء و احباب نے عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کے لزوم کی آواز اٹھائی ، کچھ اسکولس قائم ہوئے اور ابتداء نتیجہ بھی حوصلہ افزاء رہا، مگر پھر جب ایسے اسکولس کی مانگ بڑھتی گئی تو انسان نماشیاطین بھی میدان میں کود پڑے ، پھر جس طرح عصری تعلیمی نظام ایک تجاری میدان میں تبدیل ہوا اسی طرح اسلام اور ملت کے نام پر قائم ہونے والے اسکولس بھی تجارتی بلکہ سرمایہ دارانہ مراکز میں تبدیل ہوتے چلے گئے ، الا ماشاء اللہ۔
بہرحال اس وقت ضرورت ہے کہ ہر محلہ میں نہ سہی دو چار محلوں کو ملا کر دینی تعلیم کے لزوم کے ساتھ عصری تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں، جس میں صرف اور صرف نرسری سے لے کر چھٹی اور ساتویں جماعت تک کی تعلیم ہو بس، اس دوران بچوں اور بچیوں پر اسلامی تربیت کے لحاظ سے اتنی محنت کی جائے کہ اگر یہ بڑے ہوکر دوسرے اسکول یا کالج میں جائیں تو کم از کم اپنے ایمان کا تحفظ تو کرسکیں۔ وقتی طور پر بلانکٹس تقسیم کرنے یا راشن بانٹنے سے بہتر ہے کہ ایک ایسی قوم تیار کی جائے جو بڑی ہوکر ایک ایک محلہ کے غرباء کی کفالت کرسکے۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ہیں ، مگر سردست مذکورہ تینوں کاموں میں سے ہر کام اپنی جگہ بہت اہم اور ضروری ہے۔ وقتی راشن یا کمبل تقسیم کرنے سے وقتی فائدہ تو ضرور ہوتا ہے، مگر ایک مضبوط تعلیمی و دینی نظام پوری نسلوں کو سنوار سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات پر ازسرِنو غور کریں اور جذباتی فیصلوں کے بجائے دور رس نتائج کو سامنے رکھیں۔یہ تحریر کسی فرد یا تنظیم پر تنقید نہیں، بلکہ ایک مخلصانہ فکری اپیل ہے کہ ہم رمضان کی خیرات کو بھی اجتماعی بصیرت کے ساتھ استعمال کریں، تاکہ ثواب کے ساتھ ساتھ ملت کا مستقبل بھی محفوظ ہو سکے۔
Like this:
Like Loading...