Skip to content
’’میرا نام ’محمد دیپک‘ ہے‘‘
’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانہ سے‘
ازقلم:عبدالعزیز
اترا کھنڈ کے علاقہ کوٹ دوار کے ایک وائرل ویڈیو کا ایک جملہ ہر کسی کی زبان پر ہے۔ جس میں ایک لحیم شحیم شخص کا تعارف ملک کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ ویڈیو نے ’محمد دیپک‘ کو مرکز توجہ بنا دیا ہے۔ یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب ’بجرنگ دَل‘ کے شرپسند عناصر ایک مسلمان دکاندار محمد شعیب سے اس کی دکان کا نام تبدیل کرنے پر زور دے رہے تھے، مگر محمد دیپک (دیپک راج کمار) نے مداخلت اور مزاحمت کی۔ جب شرپسندوں نے مداخلت کرنے والے کا نام دریافت کیا تو انھوں نے اپنا نام بغیر کسی توقف کے کہا کہ ’’میرا نام محمد دیپک ہے‘‘۔ محمد دیپک نے تکرار کے بعد ایسی مزاحمت اور مداخلت کی کہ شرپسندوں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا۔ اس واقعہ کے بعد اب محمد دیپک کی شکل میں نمودار ہونے والے نوجوان دیپک کمار کی متعدد ویڈیو سامنے آئی ہیں ، جن میں اس پورے واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔ اس دوران ان کے ایک دوست وجے راوت بھی دیپک کمار کی حمایت میں آگئے۔ دونوں نے مل کر شرپسندوں کو کھدیڑا۔ سڑک پر تکرار اور ہاتھا پائی کے دوران بھی انھیں بالکل بے خوف انداز میں شرپسندوں سے دو دو ہاتھ کرتے دیکھا گیا۔
یہ واقعہ 26جنوری 2026ء کا ہے جب بجرنگ دل کے کارکن بدمعاش کارکن ایک دکان میں گھس آئے اور دکان کے مالک سے کہاکہ ‘‘ہم نے پہلے بھی تم سے دکان کا نام بدلنے کے لئے کہا تھا لیکن دکان کا نام نہیں بدلا‘‘۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ ایک شخص دکاندار کو دھمکی دے رہا ہے۔ جیسے ہی بحث اور تکرار بڑھی تو ایک مقامی باشندہ دیپک کمار نے مداخلت کی اور شرپسند گروہ کے رویے کو کھلے عام چیلنج کیا۔ سوال کیا کہ ’’کیا مسلمان اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ جو دکان تقریباً تیس برس سے قائم ہے تو اسے نام بدلنے پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے‘‘۔ جب شرپسندوں نے دیپک کمار سے سوال کیا کہ تم کون ہو اور تمہارا کیا نام ہے؟ تو انھوں نے فوراً کہا ’’میرا نام محمد دیپک ہے‘‘۔ یہ جملہ آن لائن کافی موضوع بحث بنا کیونکہ اس سے فرقہ وارانہ ذہن کی سوچ پر روک لگتی ہے۔ اس کے بعد مزید مقامی لوگ دیپک کے ساتھ شامل ہوگئے جو کچھ دیر کے لئے ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ تاہم بعد میں صورت حال پر قابو پالیا گیا۔
بجرنگ دل والوں نے بعد میں اپنے دیگر شرپسند دوستوں کے ساتھ دکان کے پاس آئے اور ساتھ میں پولس کو بھی لے آئے۔ پولس نے شرپسندوں سے سوال کرنے کے بجائے دیپک کمار اور اس کے دوست وجے راوت سے سوال کرنا شروع کردیا اور دونوں کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن جب لوگوں کا جمگھٹا ہوگیا تو پولس دونوں دوستوں کو تھانہ میں طلب کرکے چلی گئی۔ بعد میں دیپک کمار کے خلاف تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کیا گیا اور ایف آئی آر میں کئی دفعات درج کئے گئے۔
دیپک کمار کی زبانی: دیپک کمار کے مطابق جو کہ جم انسٹرکٹر کنسلٹنٹ ہیں چھبیس جنوری کو وہ دوست کی دکان پر بیٹھے تھے،اسی دوران کچھ لوگ آئے اور ایک بزرگ دکاندار سے بدتمیزی کرنے لگے اور ان سے دکان کا نام بدلنے کو کہا۔ دکاندار نے بتایا کہ چالیس برس سے یہی نام ہے۔ تب میں نے کہا کہ پیر بابا بھی سب کے ہوتے ہیں اور ہر مذہب میں بابا کا تصور ہے۔ اس پر بحث ہوئی اور مجھ سے نام پوچھا گیا تو میں نے فوراً کہا میرا نام محمد دیپک ہے۔ میرا مقصد یہ تھا کہ میں انسان ہوں اور انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے- دیپک نے کہا کہ ویڈیو کے بعد ملک بھر سے فون آ رہے ہیں کچھ تعریف کر رہے ہیں کچھ تنقید۔ پولیس نے بلایا اور پورا واقعہ سنا۔ ہم نے بتایا کہ ہم نے صرف انسانیت کا پیغام دیا۔
نمسکار، السلام علیکم …: نہ میں ہندو ہوں نہ میں مسلمان ہوں، نہ میں سکھ ہوں نہ میں عیسائی ہوں سب سے پہلے میں ایک انسان ہوں کیونکہ مرنے کے بعد مجھے جواب خدا کو دینا ہے انسانیت کو دینا ہے نہ کہ کسی مذہب کو دینا ہے۔ کچھ وقت سے آپ ایک بات محسوس کر رہے ہوں گے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جو ہندو مسلم سے متعلق ہے۔ کسی ایک انسان کو نشانہ بنانا میرے خیال میں غلط ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے چاہے وہ ہندو ہو چاہے وہ مسلمان ہو۔ آپ لوگوں سے اپنے بھائیوں بہنوں اور دوستوں سے میں بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کو محبت کی ضرورت ہے پیار کی ضرورت ہے نہ کہ نفرت کی۔ نفرت تو آپ جتنی چاہیں پھیلا سکتے ہیں اس میں کوئی مشکل نہیں لیکن محبت بانٹنا بہت بڑی بات ہے۔ اس لیے براہ کرم اپنے ملک کو اور اپنے ملک کے لوگوں کو محبت سے دیکھئے۔ شکریہ۔
دکاندار نے کہاکہ واقعے کے بعد دکاندار شعیب احمد نے ایک مقامی نیوز پورٹل کو بتایا کہ علاقے میں اب حالات پرسکون ہیں اور انہیں فی الحال کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔وکیل احمد نے تصدیق کی کہ پولیس میں شکایت درج کرائی گئی تھی مگر معاملہ بڑھنے سے بچنے کے لیے اسے آگے نہیں بڑھایا گیا۔ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے ہر مذہب کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے خاندان کی حمایت کی۔
پہلی بات جو بہت ہی قابل ذکر ہے کہ ایک شخص بے خوف و خطر شرپسندوں کے گروہ کے خلاف کھڑا ہوگیا اور ایک مسلمان دکاندار کو نہ صرف بچانے کی کوشش کی بلکہ شرپسندوں کو کھلا چیلنج دیا اور کہاکہ برسوں سے جونام ہے اسے بدلنے کی کیا ضرورت ہے۔ دوسری بات جو اس سے کم قابل ذکر نہیں ہے وہ یہ ہے کہ جب شرپسندوں نے اس سے اس کا نام پوچھا تو اس نے اپنا نام ‘محمد دیپک‘ بتایا اور اس انداز سے اس کے منہ سے نکلی جیسے اسے اللہ کی طرف سے مدد اور نصرت مل رہی ہے اور اس سے کہا جارہا ہے کہ تم اپنے نام کے ساتھ وہ نام جوڑ دو جو بلا شبہ ’حبل اللہ‘ ہے۔ یہی آواز تھی جو آج پوری دنیا میں شہرت، عزت ، قوت کا سبب بنی اور دیپک کمار کو دنیا کی تاریخ میں وہ جگہ مل گئی جو مشکل سے کسی ہیرو یا کسی شخص کو ملتی ہے۔
مہاتما گاندھی ایک بات کہا کرتے تھے جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ وہ بات یہ تھی ’’جب میں سنتا ہوں کسی فرقہ وارانہ فساد میں کچھ لوگ مارے گئے یا زیادہ لوگ مارے گئے تو مجھے افسوس صد افسوس ہوتا ہے لیکن یہ جان کر مزید افسوس ہوتا ہے کہ شرپسندوں سے بچانے کے لئے کسی کی جان نہیں گئی، کوئی مارا نہیں گیا‘‘۔
دیپک کمار نے گاندھی جی کی اس تمنا کو پوری کرکے دکھایا، لیکن جس شخص نے گاندھی جی کی تمنا ہی نہیں پوری کی بلکہ شہادت کے درجے کو بھی حاصل کیا۔ یہ وہ درجہ ہے جس کا ہر سچا مومن خواب دیکھتا ہے، دعا گو ہوتا ہے، طلب گار ہوتا ہے۔ جگرؔ مراد آبادی نے بہت ہی سچی اور اچھی بات کہی ہے ؎ ’’وہ قطرے کتنے مبارک ہیں جو صرفِ بہاراں ہوتے ہیں‘‘۔ افسوس کہ آج جس طرح محمد دیپک کو آفاقی شہرت حاصل ہوئی اور پورے ملک میں ان کو گن گایا جانے لگا اس طرح سید عادل حسین شاہ جنھوں نے پہلگام سانحہ کے دوران غیر مسلم بھائیوں کی جان بچاتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایاان کی عالمی شہرت نہیں ہوئی اور نہ ملک بھر میں اس کا چرچا ہوا۔ بہر حال چرچا ہو یا نہ ہو، شہرت ملے یا نہ ملے لیکن سید عادل حسین شاہ ایسے لوگوں میں شامل ہوگئے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا ہے کہ ’’انھیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں، اگر چہ تمہیں ان کی زندگیوں کا شعور نہیں ہے‘‘۔
دیپک کمار سے جب ان کے نئے نام کے بارے میں مشہور اینکر اور صحافی اجیت انجم نے پوچھا تو انھوں نے کہاکہ ’’محمدؐ‘‘ ایک ایسا نام ہے جو بہت ہی عظیم ہے۔ کہاں محمدؐ اور کہاں میں‘‘۔ دیپک کمار کے نام میں نئے لفظ کا اضافہ دیپک کو رہتی دنیا تک زندہ و جاوید رکھے گا اور ان کے اس کارنامے کو بھی جب تک دنیا رہے گی زندہ و جاوید رہے گا کہ ایسا کارنامہ بہت کم لوگ انجام دیتے ہیں۔ یہ مثالی کارنامہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد دیگر لوگوں کو حوصلہ ملتا ہے کہ وہ شرپسندوں سے ٹکرا سکیں اور حق کا ساتھ دے سکیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو لوگ حق کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ان کا جینا مرنا کسی کام کا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے سچ کہا ہے کہ ’’جو لوگ حق کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے وہ حجروں میں رہیں یا طوائف کے کوٹھوں پر، کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے بھی سچ بات کہی ہے کہ ’’اگر کوئی مسلمان کسی کو تڑپتے ہوئے دیکھے، دکھ اور پریشانی میں دیکھے اور اس کے اندر بے چینی پیدا نہ ہو اور اس کے دکھ درد میں کام نہ آئے تو وہ سب کچھ ہوسکتا ہے مسلمان نہیں ہوسکتا‘‘۔
ضرورت ہے کہ سید عادل حسین شاہ یا محمد دیپک نے جو مثالی کارنامہ آج کے ہندستان کے سنگین حالات میں پیش کیا ہے دیگر لوگ بھی ایسے کارنامے پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ نفرت کا جواب یقینا محبت ہے لیکن اگر نفرت کرنے والوں سے لڑا نہ جائے، ان کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو نفرت اپنے آپ ختم نہیں ہوسکتی۔ اس وقت ملک میں نفرت کے خلاف جو لڑ رہے ہیں وہ راہل گاندھی ہیں۔ انھوں نے بھی دیپک کمار کو داد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایسے لوگ ہندستان کے ہیرو ہیں، ہندستان اور اس کے دستور، انسانیت اور انصاف کو بچانے کے لئے مزید ’دیپکوں‘ کی ضرورت ہے‘‘۔ کاش راہل گاندھی پہلگام سانحہ کے بعد یہ کہا ہوتا کہ ’’سید عادل حسین شاہ جیسے مردِ مجاہد کی زیادہ سے زیادہ آج کے حالات میں ضرورت ہے‘‘۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...