Skip to content
بنگلادیش : اسلامی شورائیت اور مغربی جمہوریت کا فرق
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
اسلامی شورائیت کو جزوی طور پر اپنا کر مغرب نے ایسے چلایا کہ وہ اس کی اپنی ایجاد لگنے لگی۔ آج دنیا بھر میں مغربی جمہوریت کا غلغلہ ہے لیکن اسلامی شورائیت اس سے کس طرح مختلف ہے اس کا مظاہرہ بنگلہ دیش نے میں ہوا ۔ حالیہ انتخاب میں بنگلادیشی عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے الیکشن منعقد ہوا۔ اس میں پچاس سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔ یہ وہی جماعتیں جنھوں پچھلے انتخاب کا بائیکاٹ کیا تھا ۔ اس انتخاب میں صرف ایک جماعت نے اپنے حواریوں کے ساتھ مل کر الیکشن کا ڈھونگ رچایا تھا۔ اس کے بعد ایک متنازع فیصلے کے خلاف عوام نے احتجاج کیا تو افہام تفہیم کے بجائے ڈنڈے اور گولی کی مدد سے اسے دبانے بلکہ کچلنے کی کوشش کی گئی ۔ ان مظاہروں میں 1400 سے زیادہ لوگ شہید ہوگئے اوربالآخر جب وہ شاہی محل کی جانب نکلے تو فوج کو حکم دیا گیا کہ خون خرابے سے بے نیاز ہوکر انہیں ہر حال میں روکاجائے۔ فوج نے اس ظالمانہ حکم کو ماننے سے انکار کیا مگر سفاک حکمراں کو ملک سے نکل جانے کا محفوظ راستہ دے دیا ۔
بنگلا دیش میں عوامی انقلاب کے بعد طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا آغاز ہوگیا۔ لوگ باگ کہنے لگے بیرونی قوتوں کی مدد سے اقتدار میں آنے والی فوج اب ہمیشہ اقتدار پر فائز رہے گی۔ ان اندیشوں کے برخلاف حالات کو قابو میں کرنے کے بعد فوج حسبِ وعدہ عوام کی مرضی کے مطابق منتخب حکومت قائم کرکے اپنی چھاونی میں لوٹ گئی ۔ یہ حسن اتفاق ہے انتخاب جیت کر برسرِ اقتدار آنے والی حکومت نے تو کبھی آزادنہ الیکشن نہیں کرائے کیونکہ وہ کرسی سے چپکی رہنا چاہتی اس کے برعکس فوج نے وہ کارنامہ انجام دے دیا۔ ساری دنیا نے اعتراف کیا کہ 17؍ سال بعد غیر جانبدارانہ انتخابات ہوئے اس لیے عوام نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ اس میں حصہ لیا ۔ پچھلی مرتبہ 28 فیصد لوگوں نے حق رائے دہندگی استعمال کیا تھا مگر اس بار وہ تناسب بڑھ کر 68 فیصد پر پہنچ گیا۔ الیکشن کمیشن بنگلادیش کے مطابق 299 نشستوں میں سے بی این پی نے 209 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ جماعت اسلامی کے حصے میں 68 نشستیں آئیں ۔ ووٹ فیصد کے لحاظ سے بی این پی کو 53 اور جماعت کو 40 فیصد ووٹ ملے مگر کسی نے کسی جماعت نے دھاندلی کا الزام نہیں لگایا ۔
مغربی جمہوریت اور اسلامی شورائیت کا اصل فرق ان نتائج کے بعد اس طرح سامنے آیا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھنے کے بجائے معاون و مددگارکے طور پر پیش کیا ۔ وزیر اعظم طارق رحمان نے انتخاب کے بعد غرور کے نشے میں چور ہوکر ’جماعت مکت بنگلادیش‘ کا خواب دیکھنے کے بجائے کمال خاکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حلف برداری سے قبل جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی۔ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے مستقبل کے وزیر اعظم طارق رحمان کو پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی آمد کوقومی سیاست کا اہم لمحہ اور سیاسی سفر میں مثبت قدم قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ایسے بنگلادیش کا خواب دیکھتے ہیں جو خودمختار ہو اور عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم ہو۔ اسلامی ریاست اور دین کے قیام کا یہ مختصر ترین تعارف ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر کے مطابق طارق رحمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد اور اپوزیشن کارکنوں و اقلیتی برادریوں پر حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شہری خوف یا عدم تحفظ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی کو بی جے پی کا ہم پلہ قرار دینے والوں کو اس بیان میں اقلیت، حملہ، خوف اور تحفظ پر غور کرکے اپنی رائے درست کرلینی چاہیے۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی قومی مفاد کے معاملات میں منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی، تاہم بطور حزب اختلاف اپنے آئینی کردار کی ادائیگی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ مضبوط اور اصولی اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے عوامی مفاد کے کام میں حکومت کی حمایت کی جائے گی ۔ وہ بولے عوام کو مستحکم اور با اعتماد پارلیمنٹ درکار ہے۔ امریکہ کی عظیم ترین اور ہندوستان کی وسیع ترین جمہوریت کا حال یکسر مختلف ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پسندیدہ مشغلہ بائیڈن پر کیچڑ اچھالنا ہے۔ ہندوستان کے اندر حزب اختلاف کے رہنما کا مائک بند کردیا جاتا ہے۔ کبھی تو رکنیت ختم کرنے کی سازش کی جاتی ہےاور کبھی عدم استحقاق کی( Privilege motion) تجویز کے ذریعہ تاحیات پابندی لگانے کا خواب دیکھا جاتا ہے۔ ایوان پارلیمان کے اندر کوئی ووٹ چوری کا الزام لگاتا ہے اور کوئی پشتینی نام چور کے لقب سے نواز کر مخالف پر بہتان طرازی کرتا ہے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان 17 سال کی جلاوطنی کے بعد دسمبر 2025 میں لندن سے واپس آ کر انتخابی کامیابی کے بعد وزیراعظم بن گئے۔ ان کے والد ضیاء الرحمن بی این پی کے بانی تھے اور والدہ خالدہ ضیاء وزیر اعظم تھیں۔ 2008 میں بدعنوانی کا الزام لگا کر شیخ حسینہ نے انہیں پہلے جیل میں ڈالا اور پھر ملک چھوڑنے پر مجبور کیا لیکن حالیہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے انہوں نے تاریخ رقم کردی۔ 2024 کی طلبہ تحریک کے ذریعہ شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد پہلے الیکشن میں غیر معمولی جیت کرانے والے رحمان نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت، امن و امان اور معاشی استحکام کو مضبوط کریں گے۔ حلف برداری کے تاریخی لمحات کو یادگار بنانے کی خاطر عبوری حکومت کے صلاح کار پروفیسر محمد یونس نے چین، پاکستان، ہندوستان ، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کرکے ہندوستانی میڈیا کے اس نفرت انگیز پروپگنڈے پر خاک ڈال دی جو حسینہ کی محبت میں ان کے خلاف کیا جاتا تھا۔
بی این پی رہنما اے این ایم احسان الحق ملن نے پارٹی کی خارجہ پالیسی ایک جملے میں اس طرح بیان کی کہ "سب کے ساتھ دوست، کسی سے بدگمانی نہیں” ۔ طارق رحمان کا موقف ہے کہ وہ کسی ایک ملک پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہیں کریں گے، بلکہ وسیع بین الاقوامی شراکت داری قائم کی جائے گی ۔ بی این پی نے ہمیشہ ہندوستان کے ساتھ متوازن تعلقات پر زور دیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اگر اس طرح کی حکمتِ عملی اختیار کریں تو نہ صرف بنگلا دیش بلکہ چین اور امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات سدھر سکتے ہیں۔ طارق رحمان کی تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم نریندر مودی اپنی مصروفیت کے سبب شرکت نہیں کرسکیں گےاس لیے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری کے ساتھ اسپیکر اوم برلا بنگلہ دیش گئے۔ حیرت ہے کہ مودی کو اپنی نمائندگی کےلیےوہ اسپیکر ملا جس کے خلاف ہندوستانی ایوان پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوچکی ہے ۔ ویسے اگر برلا وہاں کی شورائیت سے کوئی خوشگوار سبق سیکھ کر آئیں تو وہ ہندوستانی سیاست کے لیے باعثِ خیر و برکت ہوگا ۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بیرون ملک دورے کے باعث حلف برداری میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے اپنی نمائندگی کے لیے منصوبہ بندی کےوفاقی وزیر احسن اقبال کوروانہ کیا۔موصوف دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے سیاسی، معاشی اور اقتصادی شعبوں میں ترقی کی نئی راہیں ہموارکریں گےتاکہ تعاون کے فروغ اور مستقبل میں سیاسی و اقتصادی پیش رفت کے امکانات کو روشن کیا جاسکے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جلد ہی بنگلہ دیش کا دورہ کر کے نئے وزیراعظم طارق رحمان کو مبارکباد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے 22سال بعد بنگلادیش الگ ہوا مگر وہ دونوں ماضی کو بھول کر مستقبل تعلقات کو مضبوط کررہے ہیں جبکہ ہمارے حکمراں ہنوز قدیم غم میں گھلے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے فون پر(13 فروری) کے دن طارق رحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے جمہوریت کے تحفظ کی خاطر دی جانے والی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے 55؍ سال پرانے زخموں کو تازہ کرنے کی کوشش کی مگر بھول گئے کہ ڈیڑھ سال قبل بنگلادیشیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی شیخ حسینہ ان کی پناہ میں دہلی کے اندر بیٹھ کر ریشہ دوانیاں کررہی ہیں۔
بنگلادیش کے نوجوان نسل کو اپنے ماضی سے زیادہ حال کا خیال اور مستقبل کی فکر ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے طارق رحمان کو مبارکباد دے کر دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا اور ہمسایہ ممالک کے بیچ تاریخی اور ثقافتی روابط کی مضبوطی پر زور دیا ۔ انہوں نے دونوں ممالک اور عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے بھارت کی مستقل وابستگی کو دہرایا۔ انہوں نےبنگلہ دیش کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کی کوششوں میں اپنی نیک تمنائیں اور حمایت کا اظہار کیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس شیخ حسینہ کے ہندوستان میں قیام کے باوجود یہ ممکن ہےجس کے خلاف اپنے ملک میں عوام پر مظالم کرنے کے مقدمات ہیں؟ کیا آئے دن بنگلادیشی دراندازی کا شور مچا کر مغربی بنگال اور آسام کا صوبائی الیکشن جیتنے کا خواب دیکھنے والے اپنے ہم سایہ ملک سے خوشگوار تعلقات قائم کرسکیں گے؟ آج دنیا ایک گاوں بن چکی ہے اس لیے سرحد کے اس طرف بنگلا دیشیوں سے نفرت اور اس جانب محبت کی منافقت مودی سرکار کے کسی کام نہیں آئے گی۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...