Skip to content
تلنگانہ سے راجیہ سبھا کیلئے کانگریس مسلم امیدوار کونامزد کرے : محمدحسام الدین صدیقی
حیدرآباد22فروری(راست)ریاست تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کی جانب سے راجیہ سبھا میں کسی بھی مسلمان کی نمائندگی نہ ہونا نہایت افسوسناک اور تشویشناک امر ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مہر آرگنائزیشن محمد حسام الدین صدیقی نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں کم از کم ایک مسلمان کو راجیہ سبھا میں نمائندگی دی جاتی رہی ہے، تاہم بی آر ایس کی سابق حکومت نے بھی مسلمانوں کو اس ایوان میں بھیجنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی، اور موجودہ کانگریس حکومت بھی اقتدار میں آئے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس روایت کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔
محمد حسام الدین صدیقی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس خود کو ایک سیکولر جماعت قرار دیتی ہے، لیکن تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ تنگ نظری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ نہ تو کارپوریشنوں میں مناسب نمائندگی دی گئی، نہ ہی کونسل میں مسلمانوں کو ان کا جائز حق ملا۔ دو سال بعد جا کر سابق رکن پارلیمنٹ محمد اظہرالدین کو نامزد کیا گیا، وہ بھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی مہم کے دوران کانگریس کی جانب سے اقلیتوں کے لیے بڑے وعدے کیے گئے تھے اور مائناریٹی ڈکلریشن بڑے زور و شور سے جاری کیا گیا تھا، لیکن وہ تمام وعدے سرد خانے کی نذر ہو چکے ہیں۔
صدر مہر آرگنائزیشن نے کہا کہ اب جبکہ راجیہ سبھا کی دو نشستوں کیلئے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، کانگریس ہائی کمان کو چاہیے کہ کم از کم ایک نشست کیلئے کسی موزوں اور اہل مسلمان امیدوار کو ٹکٹ دے۔ اس سلسلے میں تنظیم کی جانب سے وزیراعلیٰ ریونت ر یڈی سے بھی پُرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہائی کمان سے کسی مسلمان امیدوار کے نام کی سفارش کریں۔محمد حسام الدین صدیقی نے خبردار کیا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو مسلمان ووٹرس میں کانگریس سے دوری مزید بڑھے گی، جس کا نقصان آنے والے انتخابات میں پارٹی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو چاہیے کہ مسلمانوں اور پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے، ورنہ حالات پارٹی کے حق میں نہیں رہیں گے۔
Like this:
Like Loading...