Skip to content
نظم۔
زندگی کی ادھوری کہانی
از:راشدہ یاسمین ہاسن(کرناٹک)
میں وہ صفحہ ہوں
جو وقت نے جلدی میں پلٹ دیا،
کہانی شروع تو ہوئی
مگر مکمل ہونے کا موقع نہ ملا۔
بچپن خواب تھا،
جوانی ذمہ داری بن گئی،
اور خواہشیں
کسی فائل میں “بند کرکے” رکھ دی گئیں۔
میں نے سب کے لیے مضبوط رہنا سیکھا،
مگر کسی نے یہ نہیں سوچا
کہ میری خاموشی بھی
مدد مانگ رہی تھی۔
جن راستوں پر میرا نام ہونا تھا،
وہاں مجھے قربان کیا گیا ،
تالیاں کسی اور کو ملیں،
اور تھکن میرے حصے میں آئی۔
میں رکی نہیں،
بس بکھر کر چلتی رہی،
کیونکہ گرنے کی سوچ
میرے پاس کبھی تھی ہی نہیں۔
یہ کہانی ادھوری ہے،
کیونکہ میں ابھی زندہ ہوں،
اور شاید
میرا سب سے سچا باب
ابھی لکھا جانا باقی ہے۔
****
Like this:
Like Loading...