Skip to content
ممبئی میں قیدیوں کے لیے ایک منفرد افطار کا اہتمام
ممبئی،28فروری(پریس ریلیز)
28 فروری کو ممبئی میں اِنوسینس نیٹ ورک کی جانب سے اُن سیاسی قیدیوں کے ساتھ دعا، یکجہتی افطار اور عوامی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو خصوصاً دہشت گردی اور دیگر سخت گیر قوانین کے تحت مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات میں قید ہیں۔
یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اجتماع ہے۔ صحافی منیشا بھلا (دینک بھاسکر) کے سوا تمام مقررین یا تو سابق قیدی ہیں، یا اس وقت ضمانت پر رہا ہیں، یا پھر اہم مقدمات میں بری ہو چکے ہیں، جبکہ بعض دیگر ہائی پروفائل مقدمات میں نامزد رہے ہیں۔ شرکاء کی ایک بڑی تعداد بھی اسی پس منظر سے تعلق رکھتی ہے۔
اس پروگرام میں تمام مذاہب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔
رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے کے دسویں روزے کے موقع پر قیدی ایک بار پھر افطار کے لیے جمع ہوں گے۔ یہ محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ یاد اور شعور کی ایک علامت ہے۔ یہ سوگ کا دن نہیں بلکہ یکجہتی کا اظہار ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے اِنوسینس نیٹ ورک اس افطار کا اہتمام ایک خاموش مگر پُرعزم اقدام کے طور پر کرتا آ رہا ہے۔ اس موقع پر سابق قیدی، ان کے اہلِ خانہ، وکلاء اور وہ افراد جو اب بھی عدالتی کارروائیوں میں الجھے ہوئے ہیں، ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، روزہ افطار کرتے ہیں اور جیل کے جسم، ذہن اور امیدوں پر پڑنے والے اثرات پر کھل کر گفتگو کرتے ہیں۔
یہ دسترخوان گویا ایک تاریخ بن جاتا ہے، جس پر کہانیاں سفر کرتی ہیں—غلط مقدمات، من گھڑت الزامات، مسلسل تاریخوں کا التوا، تنہائی کی کوٹھڑیاں، طبی سہولیات کی کمی اور انتظار کی اذیت ناک طوالت کی داستانیں۔ ساتھ ہی استقامت کی کہانیاں بھی سنائی دیتی ہیں—قید میں ذہنی طور پر کیسے خود کو سنبھالا جائے، خاندان کس طرح معاشی و سماجی صدمے کو برداشت کرتے ہیں، اور قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیے جانے کے باوجود بعض لوگوں نے کس طرح جدوجہد کر کے انصاف کی راہ ہموار کی۔
اِنوسینس نیٹ ورک کا مقصد ہمیشہ سے غلط الزامات کو چیلنج کرنا اور یہ باور کرانا رہا ہے کہ انصاف سہل گرفتاریوں اور زبردستی گھڑی گئی کہانیوں پر قائم نہیں ہو سکتا۔ یہ اجتماع اسی جدوجہد کا حصہ ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ریاست کا الزام لگانے اور قید کرنے کا اختیار ناقابلِ خطا نہیں۔ یہ ایک پیغام ہے کہ جنہیں تنہا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ باہم جڑنے کے راستے تلاش کر لیتے ہیں، اور خوف کے باوجود یکجہتی ختم نہیں ہوتی۔
مذہب، ذات، زبان اور نظریہ—ریاست اکثر ان بنیادوں پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور انہیں محض فائلوں اور نمبروں تک محدود کر دیتی ہے۔ یہ افطار اس تقسیم کو چیلنج کرتا ہے۔ سابق قیدی ان تمام حدبندیوں سے بالاتر ہو کر ایک ساتھ بیٹھتے ہیں اور اُن دشمنیوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں جو اُن پر مسلط کی جاتی ہیں۔ اس مشترکہ فضا میں اختیار کو تشدد سے نہیں بلکہ یادداشت، برادری اور اجتماعی عزم کے ذریعے للکارا جاتا ہے۔
یہ ایک سادہ سا اجتماع ہے—غروبِ آفتاب کے وقت ایک دسترخوان۔ مگر اس کے اندر ایک بڑا پیغام پوشیدہ ہے: یہ کہ ناحق الزامات کا شکار افراد گمنام نہیں رہیں گے؛ یہ کہ ہمدردی اور تعاون کے نیٹ ورک سزا کے اداروں سے زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں؛ اور یہ کہ جب قیدی سرحدوں اور تفریق سے بالاتر ہو کر متحد ہوتے ہیں تو وہ صرف کھانا شریک نہیں کرتے بلکہ اُن طاقتوں اور ناانصافیوں پر سوال اٹھانے کا حوصلہ بھی بانٹتے ہیں جنہوں نے انہیں قید کیا۔
اس موقع پر نمایاں مقررین میں مولانا غلام یحییٰ، سابق امام حج ہاؤس ممبئی (جو ایک دہشت گردی کے مقدمے میں گرفتار ہوئے اور بعد ازاں بری قرار پائے)، محمد ساجد انصاری (جو 2006 کے 7/11 ممبئی لوکل ٹرین سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں 19 سال قید کے بعد حال ہی میں بمبئی ہائی کورٹ سے بری ہوئے)، رونا ولسن (بھیما کوریگاؤں کیس میں ضمانت پر رہا)، اور ایڈوکیٹ صادق قریشی (یو اے پی اے کیس میں گرفتار) شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بمبئی ہائی کورٹ کے نوجوان وکیل ایڈوکیٹ ونود پاٹل اور سینئر صحافی منیشا بھلا بھی اجتماع سے خطاب کریں گے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ یہ دعائیہ اور یکجہتی پروگرام بہت سے قیدیوں کی زندگی میں آزادی کی نوید ثابت ہوگا۔ سماجی کارکنان اور وکلاء سے اپیل ہے کہ اس اہم پروگرام میں شرکت کر کے اپنا تعاون پیش کریں۔
جاری کردہ:
اِنوسینس نیٹ ورک، ممبئی
رابطہ: 8108188098
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...