Skip to content
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے خلیجی ممالک اور اردن کے حکمرانوں سے حالیہ رابطے اس خطرناک علاقائی صورتحال میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب کا یہ اقدام خطے میں ایک "متحدہ محاذ” کی تشکیل کی علامت ہے۔
سعودی ولی عہد کے سفارتی رابطے اور اہم پیغامات
اظہارِ یکجہتی: شہزادہ محمد بن سلمان نے قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور اردن کے سربراہان سے فون پر رابطہ کر کے ایرانی میزائل حملوں کے خلاف مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
کھلی مذمت: سعودی ولی عہد نے ایرانی حملوں کو "ظلم پر مبنی اقدام” اور "کھلی جارحیت” قرار دیا، جس کا مقصد پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔
عملی تعاون کا یقین: انہوں نے برادر ممالک کو یقین دلایا کہ سعودی عرب ان کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی ضرورت اور مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
کویت اور قطر سے خصوصی گفتگو: امیر کویت اور امیر قطر سے گفتگو میں ولی عہد نے واضح کیا کہ ان ممالک کی آزادی اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
موجودہ صورتحال کا تناظر
ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر اس پر امریکی حملہ ہوا تو وہ خطے میں موجود تمام امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ اتوار کی صبح (یکم مارچ 2026) جیسے ہی آپریشن ’ایپک فیوری‘ شروع ہوا، ایران نے ان تمام عرب ممالک پر میزائل داغے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں۔
Like this:
Like Loading...