Skip to content
اسرائیلی وزیراعظم کا ایرانی سپریم لیڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰ، حملے جاری رکھنے کا عزم
دبئی،یکم مارچ(ایجنسیز)
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا ہے، اس جنگ کا سب سے بڑا اور سنسنی خیز موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ایرانی حکام کی جانب سے اس کی مسلسل تردید کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، لیکن اسرائیلی وزیراعظم کے اس باضابطہ بیان نے عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا بیان
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں ان کی رہائش گاہ پر کیے گئے میزائل حملے "کامیاب” رہے اور سپریم لیڈر اب زندہ نہیں رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کا آپریشن ‘روئرنگ لائن’ تب تک جاری رہے گا جب تک ایران کی عسکری صلاحیتیں مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتیں۔ انہوں نے ایرانیوں کو سڑکوں پر نکلنے اور ان کے بقول اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔
انہوں نے دھمکی دی کہ آنے والے دنوں میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ "ہم حملے جاری رکھیں گے”۔نیتن یاھو نے اپنے خطابات میں ہمیشہ دہرایا جانے والا جملہ پھر دہرایا کہ: "ہم مشرق وسطیٰ کا چہرہ بدل دیں گے”۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایرانی نظام کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ضروری ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی کہ ایرانی تردید کے باوجود اندازے بتاتے ہیں کہ خامنہ ای مارے گئے ہیں۔
چینل 12 نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی فوج نے خامنہ ای کی رہائش گاہ پر 30 بم گرائے۔واضح کیا کہ علی خامنہ ای زیر زمین تھے، لیکن "یہ ممکن ہے کہ وہ اپنی مخصوص پناہ گاہ میں موجود نہ ہوں”۔
چینل نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ایران پر پہلے حملے میں 30 دیگر ایرانی حکام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران کی تردید
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سوال پر کہ کیا خامنہ ای اور صدر مسعود پزیشکیان زندہ ہیں، جواب دیتے ہوئے کہا کہ "جی ہاں، جہاں تک مجھے علم ہے، وہ دونوں زندہ ہیں، عدلیہ کے سربراہ، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور تمام اعلیٰ حکام زندہ ہیں اور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں”۔
ایرانی میڈیا نے بھی اطلاع دی ہے کہ’’خامنہ ای‘‘ کرائسز مینجمنٹ ہیڈ کوارٹر میں موجود ہیں اور خود فوجی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں، جیسا کہ سنہ 2025 کی گرمیوں کی جنگ کے دوران صورتحال تھی۔
ایران کی تردید اور جوابی پوزیشن
• ایرانی وزارتِ خارجہ اور سپاہِ پاسداران (IRGC) نے اس دعوے کو’’ نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا ہے۔
Like this:
Like Loading...