Skip to content
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت تصدیق کی تو عالمِ اسلام سمیت پوری انصاف پسند دنیا میں غم و اندوہ کا سیلاب آگیا کیونکہ موصوف ظالم و جابر امریکہ و اسرائیل کے خلاف بے خوف مظلومین کی سب سے زیادہ طاقتور آواز تھے ۔ غزہ کی جنگ میں انہوں نے سارے تحفظات کو بالائے طاق رکھ کر زور دار حمایت کی اور اسرائیل کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔ آیت اللہ علی خامنہ اس دورِ استبداد میں مغربی جبر کے خلاف سب سے بلند اور توانا علامت تھے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے ایران کے سپریم لیڈر کی موت پر 40 دن کے عوامی سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا الزام براہِ راست امریکہ اور اسرائیل پر لگاتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای کی ’شہادت‘ ظالموں کے خلاف جدوجہد میں ایک بغاوت‘ کا آغاز ہوگی۔ مولانا محمد علی جوہر نے اپنے ضرب المثل شعر میں کیا خوب کہا ہے؎
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ٹرمپ نے بزدلانہ اعلان کیا کہ’یہ صرف ایرانیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام امریکیوں کے لیے بھی انصاف ہے۔‘ سوال یہ ہے کہ بدترین دہشت گردی کےسہارے کسی ملک کے مقبول رہنما کو شہید کردینا بھلا قاتل و مقتول کے ممالک کی عوام کے ساتھ انصاف ہے یا ناانصافی؟ ٹرمپ اسے ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس حاصل کرنے کا واحد سب سے بڑا موقع قرار دیتا ہے۔ ٹرمپ شاید ایران کو اپنے قبضے میں سمجھتا ہے ایسا ہوتو عوام کو امریکہ کے خلاف جنگ آزادی چھیڑ دینی چاہیے لیکن ایسا ہے نہیں اور نہ کوئی امکان ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے کی جانے والی دہشت گردی سے یہ امید جتائی کہ ’محبِ وطن عوام‘ کے ساتھ مل کر ایرانی سکیورٹی فورسز ملک کو دوبارہ عظمت کی طرف لے جائیں گی۔ ایسا ضرور ہوگا لیکن ایران کی وہ عظمت ٹرمپ کے لیے زحمت بن جائے گی ۔ امام خامنہ ای کی موت کے ساتھ ایران کے تباہ ہونے کی خوش فہمی کا شکار ٹرمپ پر یہ شعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
نور خدا ہےٹرمپ کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
بنیامین نیتن یاہو نے اس دہشت گردی کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے بڑی صفائی سےایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا "ہمارا مقصد نظام کا خاتمہ ہے”۔ یعنی یہ کسی فردِ خاص سے لڑائی نہیں اسلامی نظام سلطنت کو تبدیل کرنے کی مذموم کوشش ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جس طرح اسرائیل کے نظام سیاست کا انتخاب ایرانی حکومت نہیں بلکہ اسرائیلی عوام ہی کرسکتی ہے اسی طرح ایران کے مناسب ترین سیاسی نظام کافیصلہ بھی اسرائیل کی حکومت نہیں بلکہ ایرانی عوام ہی کریں گے ۔ تاریخ اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی حیات شاہد ہے کہ اس طرح کی دہشت گردی سے ملک کااسلامی نظام ختم تو نہیں بلکہ مضبوط تر ہوجاتا ہے۔ ایران کی قریبی تاریخ دیکھیں کہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایران کے اندر اسلامی انقلاب کی جدوجہد کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوا اور وہ پیرس کی جلاوطنی سے لوٹے ان کا استقبال کرنے والوں میں امام خامنہ ای پیش پیش تھے۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امام خمینی نے آیت خامنہ ای کو انقلابی کونسل کا رکن نامزد کرنے کے بعد نائب وزیر دفاع کی ذمہ داری سونپی بلکہ کچھ عرصے کے لیے موصوف کوآئی آر جی سی کے کمانڈر بھی رہے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب انقلاب کے بعد نوزائیدہ اسلامی حکومت امریکی یرغمالوں کے بحران سے دوچار ہوئی۔ اس وقت کے مذاکرات میں خامنہ نے اہم کردار ادا کیا۔ جون 1981 میں مسجد ابوذر کے اندرخطبۂ جمعہ دیتے وقت آیت اللہ خامہ ای کے پاس ٹیپ ریکارڈ میں بم رکھ کر انہیں شہید کرنے کی کوشش کی گئی جس سے ان کا بایاں ہاتھ تا حیات مفلوج رہا۔ اس واقعہ کے دو ماہ بعد ایران میں انتخاب ہوا تو سابق وزیر اعظم محمد علی رجائی الیکشن میں کامیاب ہوگئے ۔ اس سے قبل وہ ایرانی انقلاب کے پہلے صدر ابوالحسن بنی صدر کے تحت وزیر اعظم اور وزیر خارجہ تھے۔ انہیں چار ہفتوں کے اندر 30؍ اگست 1981ء کو شہید کردیا گیا۔ ان کے ساتھ ایران کے وزیر اعظم محمد جواد باہنر بھی بم دھماکے میں شہید ہے۔
ایسے بحرانی ماحول میں امام علی خامنہ ای پر ایران کے صدارت کی ذمہ داری آئی ۔ اپنے پیشرو کی شہادت کےعلاوہ خود اپنے آپ پر جان لیوا حملہ سہنے والے امام خامنہ ای نے ۹؍ برسوں تک صدارت سنبھالی۔ یہ ایسا زمانہ تھا جب تاریخ میں پہلی بار سویت یونین اور امریکہ نے مشترکہ طور پر صدام حسین کو ایران پر چڑھائی کی دعوت دی تاکہ اسلامی انقلاب کو کچل دیا جائے لیکن اس کوشش میں تینوں ناکام ہوگئے۔ یہ معاملہ ختم ہوا تو امام خمینی وفات پاگئے اور ان کی جگہ آیت اللہ خامنہ ای کو روحانی پیشوائی سونپی گئی۔اس کے بعد انہوں اگلے 36؍ سالوں تک ایران کی قیادت کی اور ایران کو نہ صرف جوہری توانائی سے متصف کیا بلکہ تمام تر معاشی پابندیوں کے باوجود ایسے دور مارکر نےوالے میزائل بنوا دئیے کہ بقول ٹرمپ ان سے یوروپ کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا۔
امام خامنہ ای کی قیادت میں امریکہ کے سامنے ایران ڈٹا رہا اور جھکنے یا دبنے کے بجائے فلسطین کاز کی خاطر ایک مزاحمت کا محور بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ پچھلے سال جون میں اسرائیل پر حملہ کرکے انہوں نے نیتن یاہو کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ دنیا میں رہنماوں کی شہادت سے اسلامی تحریک متاثر نہیں ہوتی بلکہ طاقتور ہوجاتی ہے۔ حماس کے بانی شیخ یاسین اور ان کے شریک کارعبدالرحمٰن رنتیسی کو اسرائیل نے 2004شہیدکردیا مگر بیس سال بعد اسی حماس نے غزہ کے حصار کو توڑ دیا۔تحریک مزاحمت ختم ہونے کے بجائے طاقتور ہوگئی ۔ جان ایف کینیڈی کی موت نے ڈیموکریٹک پارٹی کو ریپبلکن نگل نہیں سکی بلکہ وہ زیادہ مضبوط ہوگئی۔ اندرا گاندھی کی ہلاکت نے ان کے ناتجربہ کار بیٹے راجیو گاندھی کو آزادی کی جدوجہدمیں گیارہ سال جیل کے اندر رہنے والے نانا یعنی جواہر لال نہرو سے زیادہ نشستوں پر کامیابی ملی۔ اس طرح کی حرکت سے عوام کے اندر مظلوم کے تئیں ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور نظام حکومت مضبوط تر ہوتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای اپنی شہادت کے وقت دفتر میں موجود تھے یعنی اپنی آخری سانس تک انہوں نے اسلامی انقلاب کی خدمت میں لگائی اور اپنی جان جانِ آفرین کے حوالے کر گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) نے ایک بیان میں خامنہ ای کی شہادت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے خراج عقیدت میں ان کی موت کو ایک ’باعزت شہادت‘ قرار دیتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے راستے پر رختِ سفر جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔تنظیم نے اپنے میں بیان میں امریکہ اور ’صیہونی حکومت‘ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا انتباہ دے کر عوام سے قومی اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی بھی اپیل کی ۔ اس اندوہناک خبر نے جہاں دنیا بھر کو سوگوار کیا وہیں تہران کی سڑکوں پر سناٹا اور دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا لیکن امام علی خامنہ ای چاہنے والوں کو صبر کے ماہِ قرآن یعنی رمضان میں ان آیات میں سکون تلاش کرنا چاہیے ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔
مذکورہ بالا آیت کے بعد ارشادِ قرآنی ہے :’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مُردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا ‘‘۔ موت ایک حقیقت ہے اور ہر فرد بشر کے لیے لازم ہے مگر نبیٔ کریم ﷺ کی بشارت ہے کہ شہید اپنی دائمی زندگی کو کامیابی سے ہمکنار کرکے وہ لذت پاتا ہے کہ پھر سے دنیا میں آکر شہید ہونا چاہتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے دوماہ قبل اپنی شہادت کے اندیشے کا اظہار کردیا تھا اس کے باوجود وہ کسی بنکر میں جاکر نہیں چھپے آخری سانس تک اپنا فرضِ منصبی ادا کرتے ہوئے اس دارِ فانی سے کوچ کیا ۔ اس لیے ان کا قرآن مجید کی اگلی آیت پر ایمان تھا:’’اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ: "ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘۔ یہی وہ آیت ہے جو ہرکسی کے انتقال پر دوسرے پڑھتے ہیں مگر جو خود اپنی حیات میں یہ پڑھے تو انہیں رب کائنات کی جانب یہ خوش خبری دی گئی ہے کہ :’’ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں‘‘۔ رہبر معظم علی خامہ ای کی شہادت کو سلام ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر یہ شعر صادق آتا ہے؎
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہوجو ہے شہید کا وہ قوم کی زکٰوۃ ہے
Like this:
Like Loading...