Skip to content
شیطانِ اکبر اور شیطان اصغر کا ایران پر حملہ.
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج
ازقلم:عبدالعزیز
چند ہفتوں پہلے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ونیزوئیلا پر حملہ کرکے وہاں کے صدر کو پکڑ کر اپنے ملک لائے۔یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس سے ساری دنیا کو جاگ جانا چاہئے تھا۔ حقیقت میں کسی ایک ملک پر حملہ نہیں تھا۔ کسی ایک ملک کے صدر کو زبردستی اٹھاکر لے جانے کا معاملہ نہیں تھا۔ اگر گہرائی کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ دنیا کے ہر ملک پر اور ہر ملک کے سربراہ پر حملہ تھا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک طرح سے عندیہ دے دیا تھا کہ آج ونیزوئیلا کی باری ہے تو کل کسی اور ملک کی باری ہوسکتی ہے۔ نہ تو دنیا کو مجموعی طور پر اس سنگینی کا احساس پیدا ہوا ، نہ ہی مردہ اقوام متحدہ میں جان آئی۔ ڈونالڈ ٹرمپ کو اندازہ ہوا کہ وہ کچھ بھی کرلے، کچھ بھی کہہ دے ساری دنیا مل کر بھی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ یہ ہمت اور حوصلہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ میں کئی صدر آئے گئے ، کئی ملکوں پر حملے کرکے وہاں کی حکومتوں کو اپنی خواہش کے مطابق بنانے کی کوشش کی، لیکن کسی بھی ملک میں امریکہ اپنے موافق حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ عراق ہو، افغانستان ہو، لیبیا ہو یا کوئی اور ملک ہو ہر جگہ اس کی پشیمانی ہوئی۔
امریکہ کے کئی صدور بش ہوں، جونیئر بش ہوں، جوبائیڈن ہوں، کلنٹن ہوں یا اوبامہ ہوں سب نے ایران کو دھمکیاں دیں ، بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رکھا لیکن کسی کی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ ایران پر حملہ کرکے وہاں کی حکومت کو بدل دے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ دل و دماغ کے لحاظ سے ایک پاگل شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پہلی بار جب وہ امریکہ کے صدر ہوئے تو ایران پر حملہ کرنے کی بات بھی کرتے تھے اور مکالمہ بھی جاری رکھتے تھے۔ ان کی صدارتی مدت ختم ہوگئی لیکن وہ ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرسکے۔ دنیا میں ایک نئی صورت حال پیدا ہوگئی ہے اور وہ صورت حال اگر دیکھی جائے تو پیدا کرنے میں تین شخصیتوں کا کم و بیش ہاتھ ہے۔ ٹرمپ ، نیتن یاہو اور مودی تینوں قانون اور قاعدے سے بالاتر ہوکر کام کرنے کے قائل ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے جو کچھ غزہ میں کیا اور جس قدر ظلم و ستم کیا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ستر بہتر ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں زیادہ تر بچے تھے۔ پورا غزہ کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا۔ جہاں نہ اسکول ہے ، نہ اسپتال اور نہ سر چھپانے کے لئے گھر۔ پورے غزہ میں قحط کا سامنا ہے۔ جب اسرائیل نے امریکہ کے اشارے پر غزہ پر حملہ کیا تھا تو نریندر مودی پہلے شخص ہیں جنھوں نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جہاں تک امریکہ کی سرپرستی کا سوال ہے تو وہ ہر طرح سے جب تک غزہ تباہ و برباد نہیں ہوگیا ڈونالڈ ٹرمپ اپنے ظالم دوست نیتن یاہو کی سرپرستی کرتے رہے۔
ایران امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں برسوں سے کھٹکتا رہا۔ اس کی ایک وجہ تو واضح ہے وہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں کوئی ملک اسرائیل کے لئے خطرے کا سبب ہے تو وہ ایران ہے۔ غزہ کے جیالوں، مجاہدوں کی صرف ایران ہی حمایت کرتا رہا۔ ساری دنیا کے مسلم ممالک منہ دیکھتے رہے۔ تماشائی بنے رہے۔ اکا دُکا ملک محض مذمتی بیان پر ہی اکتفا کرتے رہے۔ کوئی مسلم ملک غزہ کے مظلوموں کی حمایت کے لئے میدان میں نہیں آیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ ایران کے علاوہ سارے مسلم ممالک اس کے سامنے سر نگوں ہیں اور ہر ملک مسلم ممالک کے اکثر و بیشتر ملکوں میں امریکہ کا فوجی اڈہ یعنی بیس قائم ہے جہاں سے وہ جس ملک پر چاہے ہوائی حملہ کرسکتا ہے۔ گزشتہ روز اامریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر دھاوا بول دیا۔ ایران پہلے بھی کہہ چکا تھا کہ وہ امریکہ کے سامنے مرجائے، کٹ جائے مگر سر نگوں نہیں ہوگا۔ دوسری بات یہ ایران نے کہی تھی کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو جہاں جہاں امریکی بیس ہے ایران وہاں حملہ کئے بغیر نہیں رہے گا۔ امریکہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ ایران پر حملہ آور ہے۔ خبر یہ آرہی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شہید ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ ان کا مرتبہ بلند کرے اور ان کی شہادت کو قبول فرمائے۔ یہ جنگ لمبی ہونے کا امکان ہے اور کئی مسلم ممالک اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
ہمارے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی جو نیتن یاہو کے یار غار ہیں۔ چند روز پہلے دونوں دوست گلے ملے، راز و نیاز کی باتیں کیں۔ ممکن ہے کہ نریندر مودی کو یاہو نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی جانکاری تفصیل سے دی ہو۔ نریندر مودی نے اسرائیل کی پارلیمنٹ کو خطاب کیا، حالانکہ جب وہ خطاب کر رہے تھے تو اپوزیشن کے ساتھ لیڈران واک آؤٹ کرگئے، جس سے مودی جی کی بڑی ہزیمت ہوئی اور نیتن یاہو کو بھی شرمندگی اٹھانی پڑی۔ مودی نے غزہ کے مظلوموں کے لئے ایک لفظ بھی نہیں بولا بلکہ اپنے ملک کو ’مدر لینڈ‘ اور اسرائیل کو ’فادر لینڈ‘ کہہ کر ایک طرح سے شاباشی دی۔ مودی اور ان کی پارٹی کے لئے تو اسرائیل ماں باپ ہوسکتا ہے لیکن دنیا کے لئے اور خاص طور پر فلسطین کے لئے نمرود اور فرعون ہے جو انسانیت کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ مودی کو اس لئے اسرائیل پیارا ہے کہ وہ نہ صرف انسانیت کا دشمن ہے بلکہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہی دشمنی کی وجہ سے اسرائیل مودی کے لئے جان سے پیاراہے۔
ایران کے سپریم لیڈر اگر خبر سچ ہے تو وہ دنیا کو خیرباد کہہ چکے ہیں، لیکن انھوں نے جیتے جی ہار نہیں مانا، جان سے دی۔ وہ کہتے بھی تھے کہ جان کی کوئی قیمت نہیں ہے ، وہ اللہ کی راہ میں جان دینا بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ ایران کو زندہ رکھنا، اس کو بچانا، اس کے تحفظ کے لئے مرمٹنا ضروری ہے۔ شہید آیت اللہ علی خامنی ای کی وصیت ایک ایک ایرانی یاد رکھیں گے اور ایران کو محفوظ و مامون رکھنے کے لئے جان کی بازی لگا دیں گے۔
خدا نخواستہ ایران میں اگر امریکہ فاتحانہ قدم رکھتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا کے کسی ملک کی خیر نہیں ہے، خاص طور پر مسلم ممالک کا۔ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی پیش گوئی تھی کہ امریکہ سب سے پہلے ایران پر حملہ کرے گا اور اگر ایران خدانخواستہ سر نگوں ہوگیا تو دوسرا نمبر پاکستان کا ہوگا۔ حالانکہ مسلم ممالک میں پاکستان واحد ایٹمی طاقت ہے۔ امریکہ کو پاکستان پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا۔
اسرائیل کی سب سے بڑی تمنا ہے ’گریٹر اسرائیل‘ کو حاصل کرنا۔ اس معاملے میں اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ اس کی راہ کا سب سے بڑا روڑا ایران ہے، اسی لئے بار بار وہ امریکہ پر دباؤ ڈالتا رہتا تھا کہ ایران پر حملہ کرکے ایران کو تہس نہس کردے۔ اسرائیل کی پہلی آرزو تو پوری ہوگئی جو بہت دیرینہ آرزو تھی۔ امریکہ نے ایران پر حملہ کردیا۔ چین اور روس کے بیانات امریکہ کے خلاف آ تو گئے ہیں۔ چین کے بارے میں یہ ہے کہ ایران کو چین جنگی اسلحہ سے مدد کر رہا ہے لیکن اگر یہ دو بڑی طاقتیں ایران کے ساتھ جنگ میں کود پڑتی ہیں تو عالمی جنگ کا بھی خطرہ ہوسکتا ہے یا یہ جنگ فوراً بند ہوسکتی ہے۔
گریٹر اسرائیل کے نقشے میں سعودی عرب کا بھی کچھ حصہ آتا ہے۔ بورڈ آف پیس کے اجلاس کے فوری بعد اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہاکبی نے امریکی صحافی ٹکر کالسن کے ساتھ ایک انٹرویو میں گریٹر اسرائیل کی حمایت کردی جس پر مشرق وسطیٰ سے افریقہ تک ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ مائیک ہاکبی نے کہا کہ اسرائیل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دریائے فرات سے دریائے نیل کے درمیان تمام عرب علاقوں پر قبضہ کرے۔ ٹکر کالسن نے پوچھا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل کو اُردن، شام ، عراق اور سعودی عرب کے کچھ علاقوں پر قبضہ کرنے کا حق ہے؟ مائیک ہاکبی نے بائبل کا حوالہ دیکر کہا کہ وہ ان سب علاقوں پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ آگے چل کر امریکی سفیر نے کہا کہ فی الحال تو اسرائیل صرف ان علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم رکھنا چاہتا ہے جن پر اس کا قبضہ ہے۔ ان علاقوں میں یروشلم بھی شامل ہے، گولان کی پہاڑیاں بھی شامل ہیں اور غزہ بھی شامل ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسرائیل بیت المقدس سمیت مشرقی یروشلم کے ان علاقوں کو خالی نہیں کرے گا جن پر 1967ء میں قبضہ کیا گیا اور غزہ پر بھی اسرائیل کا قبضہ برقرار رہے گا۔ مائیک ہاکبی کا انٹرویو ان تمام ممالک کی حکومتوں کے منہ پر زور دار طمانچہ تھا جو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہیں۔ ان ممالک میں صرف پاکستان اور سعودی عرب نہیں بلکہ برطانیہ اور فرانس سمیت کئی یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ مائیک ہاکبی کے انٹرویو سے عرب ممالک کی سب حکومتیں لرز کر رہ گئیں۔ سعودی عرب، مصر اور اردن سے لیکر یو اے ای تک تمام اہم عرب ممالک نے اسرائیل میں امریکی سفیر کے انٹرویو کی سخت الفاظ میں مذمت کر دی کیونکہ ہاکبی کوئی عام کیرئر ڈپلومیٹ نہیں بلکہ ٹرمپ کے قریبی دوست اور آرکنساس کے سابق گورنر بھی ہیں۔
مائیک ہاکبی نے پہلی دفعہ گریٹر اسرائیل کی حمایت نہیں کی۔ وہ 2008ء سے یہ بار بار کہتے چلے آ رہے ہیں کہ فلسطینی نام کوئی چیز موجود ہی نہیں ہے۔ 12 نومبر 2024ء کو سی این این نے ان کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ نشر کی تھی جس میں بتایا گیا کہ ٹرمپ ایک ایسے شخص کو اسرائیل میں امریکا کا سفیر بنا کر بھیج رہے ہیں جو فلسطین کو مانتا ہی نہیں۔ ٹرمپ واقعی غزہ میں امن قائم کرنا چاہتے تو مائیک ہاکبی کو اسرائیل میں امریکا کا سفیر نہ بناتے۔ مائیک ہاکبی کی کوششوں سے ہی فلسطینی باشندوں کو غزہ سے نکال کر صومالی لینڈ میں بسانے کے منصوبے پر کام شروع ہوا اور اسی لیے اسرائیل نے ٹرمپ کی تائید سے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ عرب ممالک کی حکومتیں مائیک ہاکبی کی مذمت سے فارغ نہیں ہوئی تھیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہندستان کے ساتھ مل کر شیعہ انتہا پسندوں اور سنی انتہا پسندوں کے خلاف ایک وسیع تر علاقائی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسرائیل کا خواب انشاء اللہ کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...