Skip to content
رمضان کی ساعتوں میں استقامت کا استعارہ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر
ہمیں اُن صفوں میں تلاش کر
یہ صدا تاریخ کے اوراق میں گونجتی رہی ہے کہ جب بھی حق و باطل کا معرکہ برپا ہوا، اہلِ ایمان نے عافیت کی راہوں کے بجائے عزیمت کی شاہراہ اختیار کی۔ ایسے ہی ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر ایران کے بزرگ رہبر، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے آخر دم تک قیادت و استقامت کی مثال قائم کی۔ اگر یہ خبر درست ہو کہ انہوں نے رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں اپنے دفتر ہی میں جامِ شہادت نوش کیا، تو یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ تاریخِ معاصر کا ایک عمیق اور معنی خیز باب ہے! جس میں قیادت، مزاحمت اور ایثار ایک نقطے پر مجتمع نظر آتے ہیں۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
رمضان، جو صبر و تقویٰ، جہد و احتساب اور قربانی کا مہینہ ہے، اسی مہینے میں اگر کوئی قائد اپنی ذمّہ داری کے مقام پر ثابت قدم رہتے ہوئے رخصت ہو، تو یہ اس کے نظریاتی التزام اور عزمِ پیہم کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی قائد وہی ہوتا ہے جو محاذ کو خطبوں سے نہیں بلکہ اپنی موجودگی، اپنی استقامت اور اپنی عملی وابستگی سے زندہ رکھتا ہے۔ شہادت اہلِ ایمان کے نزدیک محض موت نہیں، ایک شعوری انتخاب ہے؛ ایک ایسا انتخاب جس میں انسان اپنی ذات کو ایک اعلیٰ مقصد کے تابع کر دیتا ہے۔
یہ تصورِ شہادت دراصل اس ایمانی فلسفے سے جڑا ہوا ہے جس میں غلبۂ حق، عدلِ اجتماعی اور وقارِ اُمّت بنیادی اقدار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی رہبر اپنی قوم کے درمیان کھڑا ہو کر، تمام تر دباؤ، دھمکیوں اور عالمی سیاسی جبر کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہے، تو وہ ایک نظریے کی علامت بن جاتا ہے۔
ہم اہلِ ایران کے ساتھ اس عظیم سانحے کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ دکھ کی اس گھڑی میں تعزیت کے الفاظ محض رسمی نہیں بلکہ قلبی ہمدردی کا اظہار ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ اس سانحۂ عظمیٰ پر صبرِ جمیل عطاء فرمائے، دلوں کو سکینت بخشے اور اُمّت کو افتراق و اضطراب سے محفوظ رکھے۔
رہبرِ انقلاب کی جدوجہد اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ نظریاتی قیادت کا اصل سرمایہ عسکری ساز و سامان نہیں بلکہ ایمانی قوت، فکری وضاحت اور عوامی اعتماد ہوتا ہے۔ ایسے رہنماؤں کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تاریخ کا دھارا طاقت کے بے مہار مظاہروں سے نہیں بلکہ اصولوں کی پاسداری سے بدلتا ہے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ ملّتِ ایران کو ایک ایسا جانشین عطا فرمائے جو حکمت و بصیرت، جرات و استقامت اور عدل و اعتدال کی صفات سے متصف ہو؛ جو اپنے اسلاف کی روشن روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے قوم کی وحدت، خطے کے امن اور اُمّت کی عزّت کا پاسبان بنے۔ قیادت کا تسلسل ہی اقوام کی بقاء کا ضامن ہوتا ہے، اور یہ تسلسل شخصیات سے زیادہ اصولوں کے ساتھ وابستگی سے قائم رہتا ہے۔
آیت اللّٰہ علی خامنہ ای 1939ء میں مَشہَد (ایران) میں پیدا ہوئے۔ وہ شیعہ اسلامی فقہ کے ماہر عالم اور اسلامی انقلابِ ایران (1979ء) کے فعال کارکنوں میں شامل رہے۔ انقلاب سے پہلے شاہی حکومت کے خلاف سرگرم تھے اور بار بار جیل بھی گئے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی اور مذہبی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کرنے لگے۔ 1989ء میں آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی کی وفات کے بعد خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔ یہ عہدہ ملک میں سب سے زیادہ طاقتور حکومتی اور مذہبی مقام ہوتا ہے، جو تمام حکومتی، فوجی اور عدالتی طاقتوں پر حتمی کنٹرول رکھتا ہے۔
ایران کے آئین (1979ء، ترمیم شدہ 1989ء) کے مطابق سپریم لیڈر ریاست کا سب سے بااختیار منصب ہے، جس کے پاس ملکی اقتدار کی اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ سازی کا اختیار ہوتا ہے۔ یہ منصب محض علامتی نہیں بلکہ عملی اور انتظامی قوت کا مرکز ہے۔
سپریم لیڈر افواجِ ایران کے سپریم کمانڈر ہوتے ہیں اور مسلح افواج، پاسدارانِ انقلاب اور دیگر دفاعی ادارے براہِ راست ان کے تابع ہوتے ہیں۔ اسی طرح وہ عدلیہ کے سربراہ کی تقرری کا اختیار رکھتے ہیں، جس کے ذریعے عدالتی نظام کی بالادستی اور سمت کا تعین ہوتا ہے۔ سرکاری نشریاتی اداروں کی نگرانی بھی ان کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، جس سے ریاستی بیانیے اور ابلاغی حکمتِ عملی پر اثر پڑتا ہے۔ مزید برآں، جنگ و امن کے فیصلے، مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کی تقرری، اور قومی سلامتی سے متعلق بنیادی امور بھی سپریم لیڈر کے اختیار میں شامل ہیں۔ اس طرح ریاستی ڈھانچے کے اہم ستون "دفاع، عدلیہ، ابلاغ اور سلامتی” بالآخر اسی منصب سے مربوط ہو جاتے ہیں۔
1979ء کے انقلابِ ایران میں آیت اللّٰہ روح اللّٰہ خمینی کی قیادت مرکزی اور فیصلہ کن حیثیت رکھتی تھی، تاہم اس تحریک کی کامیابی محض ایک فرد کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ اُن متعدد علماء اور کارکنان کی مسلسل محنت اور قربانیوں کا حاصل تھی جو پسِ منظر میں منظم انداز سے سرگرم تھے۔ انہی قریبی رفقاء میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے، جنہوں نے انقلابی فکر کو عوامی سطح پر مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مساجد، دینی مدارس اور مذہبی اجتماعات کو محض عبادت گاہوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں سیاسی و فکری بیداری کے مراکز میں تبدیل کیا۔ خطبات اور دروس کے ذریعے انہوں نے شاہی نظام کے خلاف شعور بیدار کیا اور اسلامی حکومت کے تصور کو عوامی مباحث کا حصہ بنایا۔
اسی دوران وہ محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت کے خلاف تحریکی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ یہ اس دور کی وہ آزمائشیں تھیں جنہوں نے ان کی سیاسی بصیرت اور عزم کو مزید پختہ کیا۔
ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ 1981ء میں آیا جب ان پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا ایک بازو مستقل طور پر متاثر ہوا۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کے سیاسی سفر کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہوا، کیونکہ اس کے بعد وہ ایرانی انقلابی قیادت میں مزید نمایاں اور مضبوط حیثیت کے ساتھ سامنے آئے۔ یوں انقلابِ ایران کے پس منظر میں ان کی جدوجہد محض معاون کردار نہیں بلکہ ایک ایسی مسلسل فکری اور عملی کاوش تھی جس نے انہیں بعد کے برسوں میں ملکی قیادت کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچنے کی بنیاد فراہم کی۔
اہم بات یہ ہے کہ سپریم لیڈر براہِ راست عوامی ووٹ سے منتخب نہیں ہوتے، بلکہ ان کا انتخاب مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ یہ مجلس خود عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے علما پر مشتمل ہوتی ہے۔ یوں انتخاب کا یہ نظام بالواسطہ عوامی نمائندگی پر قائم ہے، جس میں عوام پہلے مجلسِ خبرگان کو منتخب کرتے ہیں اور وہ مجلس آئینی تقاضوں کے مطابق سپریم لیڈر کا تقرر کرتی ہے۔ اس پورے آئینی ڈھانچے سے واضح ہوتا ہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کا منصب نہ صرف مذہبی و نظریاتی حیثیت رکھتا ہے بلکہ ریاستی اقتدار کا مرکزی محور بھی ہے، جس کے گرد ملکی سیاسی و انتظامی نظام گردش کرتا ہے۔
محترم رہبر نے اگر واقعی اپنی ذمّہ داری کے مقام پر جان دی، تو یہ اس پیغام کی تجدید ہے کہ اہلِ عزم راہوں کی دشواریوں سے مرعوب نہیں ہوتے۔ وہ جانتے ہیں کہ باطل کی ظاہری ہیبت وقتی ہوتی ہے، جب کہ حق کی معنوی طاقت دیرپا۔ اسی حقیقت کو علامہ اقباؔلؒ نے یوں بیان کیا تھا:
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی
سلام ہو تمام شہیدانِ ایران پر!
سلام اُن اہلِ استقامت پر جو اپنے یقین کی حرارت سے تاریخ کے سرد لمحوں کو گرماتے رہے!!
اور دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اُمّتِ مسلمہ کو تفرقہ و اضطراب سے نکال کر عدل، حکمت اور باہمی احترام کی راہ پر گامزن فرمائے۔
وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ
مسعود محبوب خان (ممبئی)
01؍ مارچ 2026ء
Like this:
Like Loading...