Skip to content
رمضان المبارک: خواتین کی بے مثال قربانیوں کا مہینہ
مطبخ سے مصلے تک: رمضان میں عورت کا روحانی سفر
(از قلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت)
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ امتِ مسلمہ کے لیے محض ایک روایتی عبادتی دورانیہ نہیں بلکہ یہ کائنات کے خالق کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے وہ عظیم ترین تحفہ ہے جو انسانی زندگی کے مادی اور روحانی پہلوؤں میں توازن پیدا کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اس ماہِ مبین کی فضیلت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسے شہر القرآن کہا جاتا ہے کیونکہ اسی مبارک مہینے میں انسانیت کی ہدایت کا آخری اور ابدی نسخہ یعنی قرآن مجید نازل ہوا۔ باری تعالیٰ نے اس مہینے کے روزوں کو تقویٰ کے حصول کا لازمی ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ "اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ” (البقرہ: 183)۔ اس قرآنی فرمان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روزے کا اصل مقصد محض بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ نفس کی پاکیزگی اور اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ اس پورے روحانی منظر نامے میں اگر ہم مسلم معاشرے کے ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو خواتین کا کردار ایک ایسے مرکزی ستون کی مانند نظر آتا ہے جس کے گرد پورے گھرانے کی عبادات، اخلاقیات اور خانگی انتظام کی عمارت قائم ہے۔ خواتین نہ صرف اپنی انفرادی عبادات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتی ہیں بلکہ وہ ایک ایسی خاموش مجاہدہ کا کردار ادا کرتی ہیں جو پورے خاندان کو بندگی کے راستے پر گامزن رکھنے کے لیے اپنی آرام و راحت قربان کر دیتی ہے۔
خواتین کے لیے رمضان المبارک کی روحانی تیاریوں کا آغاز درحقیقت شعبان المعظم کے چاند نظر آنے کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے، جہاں وہ اپنی انتظامی بصیرت کے ذریعے آنے والے مقدس مہینے کا ایک جامع خاکہ تیار کرتی ہیں۔ استقبالِ رمضان کا یہ عمل محض گھر کی صفائی ستھرائی یا کچن کے سامان کی خریداری تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا مذہبی شعور کارفرما ہوتا ہے کہ جب اللہ کے مہینے کی آمد ہو تو گھر کا ہر گوشہ پاکیزگی اور روحانیت کا نمونہ پیش کرے۔ اس مرحلے پر خواتین کی منصوبہ بندی کا ایک اہم پہلو یہ ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے گھریلو کاموں کو سمیٹیں تاکہ رمضان کے قیمتی لمحات میں وہ خود بھی اور ان کے اہلِ خانہ بھی زیادہ سے زیادہ وقت ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن کو دے سکیں (شعبان کے آخری ایام میں خواتین کا جوش و خروش دیدنی ہوتا ہے، جہاں وہ ایک مربی اور منتظم کی حیثیت سے گھر کے ماحول کو عبادت کے لیے سازگار بنانے میں دن رات ایک کر دیتی ہیں)۔ یہ ان کا خلوص ہی ہے جو گھر کے ہر فرد کے دل میں رمضان کی اہمیت اور عظمت کا بیج بو دیتا ہے، جس سے پورے معاشرے میں ایک مجموعی روحانی تبدیلی کی لہر محسوس کی جاتی ہے۔
جب رمضان کا ہلالِ مبارک طلوع ہوتا ہے تو خواتین کی زندگی میں ایک نئے اور کٹھن امتحان کا آغاز ہوتا ہے جو صبر، شکر اور مسلسل محنت سے عبارت ہوتا ہے۔ ایک مثالی مسلم خاتون کی سحر و افطار کی مصروفیات درحقیقت خدمتِ خلق اور عبادت کا ایک حسین امتزاج ہوتی ہیں۔ سحری کے وقت جب پوری دنیا نیند کی آغوش میں ہوتی ہے، خواتین اپنے آرام کو پسِ پشت ڈال کر مطبخ میں مصروف ہو جاتی ہیں تاکہ خاندان کا ہر فرد سکون سے روزہ رکھ سکے۔ ان کی یہ خدمت محض کھانا کھلانے تک محدود نہیں بلکہ وہ سحری کے دسترخوان پر ایک ایسی مربی کے طور پر سامنے آتی ہیں جو بچوں کو نمازِ فجر کی ادائیگی اور تلاوتِ قرآن کی ترغیب دیتی ہیں۔ اسی طرح افطار کا وقت جہاں اللہ کی رحمتوں کے نزول کا لمحہ ہوتا ہے، وہاں خواتین کی ان تھک محنت کا ثمر بھی دسترخوان پر سجی نعمتوں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ شدید پیاس اور بھوک کی حالت میں تپتے ہوئے چولہے کے سامنے کھڑے ہو کر دوسروں کے لیے افطاری تیار کرنا ان کے بلند پایہ صبر اور ایثار کا عملی نمونہ ہے، جس کا اجر اللہ کے ہاں کسی صورت ضائع نہیں ہوتا۔
خواتین کا یہ کردار صرف مطبخ یا دسترخوان تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ گھر کی پہلی درس گاہ کی حیثیت سے بچوں کی سیرت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران وہ اپنے عمل سے بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ روزہ صرف معدے کا نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان اور دل کا بھی ہوتا ہے۔ وہ بچوں کو غیبت، جھوٹ اور لغویات سے بچنے کی تربیت دیتی ہیں اور ان میں غریبوں کے دکھ درد کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ اس تربیتی عمل کے دوران خواتین خود کو ایک عملی نمونے کے طور پر پیش کرتی ہیں، جہاں ان کا صبر، ان کی دعا کی رقت اور ان کی تلاوت کی گونج بچوں کے کچے ذہنوں پر نقش ہو جاتی ہے۔ اس طرح خواتین رمضان کے ایک مہینے میں وہ کام کر جاتی ہیں جو سال بھر کے طویل اسباق سے ممکن نہیں ہوتا؛ یعنی ایک ایسی نسل کی آبیاری جو اللہ کے خوف اور مخلوق کی محبت سے سرشار ہو۔ یہ ان کی فکری اور اخلاقی تربیت ہی ہے جو اسلامی معاشرت کے تسلسل کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
عبادات کے میدان میں خواتین کا جذبہ اور استقامت مردوں سے کسی طور کم نہیں ہوتی، بلکہ بعض لحاظ سے وہ زیادہ مشقت جھیلتی ہیں۔ گھر کی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرنے کے باوجود وہ نمازِ تراویح، تہجد اور نوافل کا اہتمام نہایت خشوع و خذوع کے ساتھ کرتی ہیں۔ تلاوتِ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ اس کے ترجمہ و تفسیر پر غور و فکر کرنا ان کی علمی پیاس کا عکاس ہوتا ہے۔ ایامِ مخصوصہ کے دوران بھی وہ مایوس نہیں ہوتیں بلکہ ذکر و اذکار اور استغفار کے ذریعے اللہ سے اپنا تعلق جوڑے رکھتی ہیں، جو ان کی پختہ ایمانی حالت کی نشانی ہے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ تو ان کی ریاضتوں کا نقطہ عروج ہوتا ہے، جہاں وہ شبِ قدر کی تلاش میں راتوں کو جاگتی ہیں اور اپنے رب کے حضور آنسوؤں کے نذرانے پیش کرتی ہیں۔ گھروں کے مخصوص کونوں میں ان کا نفلی اعتکاف بیٹھنا درحقیقت دنیا سے کٹ کر خالق سے جڑنے کا وہ عمل ہے جو ان کی روح کو تازگی اور ایمان کو جلا بخشتا ہے۔
معاشی اور سماجی سطح پر بھی خواتین کا کردار رمضان میں انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے مال کی زکوٰۃ کا حساب کتاب کر کے اسے مستحقین تک پہنچاتی ہیں بلکہ وہ صلہ رحمی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے غریب رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی خبر گیری بھی کرتی ہیں۔ معاشرتی انصاف اور ہمدردی کے ان جذبات کی بدولت معاشرے کے پسماندہ طبقات خود کو تنہا محسوس نہیں کرتے۔ خواتین کا یہ جذبہِ انفاق دراصل معاشرے میں دولت کی گردش اور محبت کے فروغ کا باعث بنتا ہے۔ جب رمضان اپنے اختتام کی طرف بڑھتا ہے تو عید الفطر کی تیاریوں میں بھی خواتین ہی پیش پیش ہوتی ہیں۔ وہ لباس کی تیاری سے لے کر روایتی مٹھائیوں اور پکوانوں تک ہر چیز کا انتظام اتنی سلیقہ مندی سے کرتی ہیں کہ عید کی خوشیاں خاندان کے ہر فرد کے لیے یادگار بن جاتی ہیں۔ ان کی یہ محنت محض دنیوی نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ شکر گزاری کے اس جذبے کے تحت ہوتی ہے کہ اللہ نے انہیں رمضان کی برکتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائی۔
مختصر یہ کہ رمضان المبارک میں خواتین کا کردار کثیر الجہتی اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ ایک طرف اگر گھر کے نظام کو استواری عطا کرتی ہیں تو دوسری طرف اپنی عبادات اور اخلاقی تربیت کے ذریعے معاشرے کی روحانی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہیں۔ ان کی اس ان تھک محنت اور ایثار کو صرف گھریلو کام سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ بندگی کا وہ اعلیٰ درجہ ہے جہاں خدمت ہی عبادت بن جاتی ہے۔
اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کی ان کوششوں میں اہلِ خانہ ان کا بھرپور تعاون کریں تاکہ وہ بھی اپنی روحانی بلندی کے لیے خاطر خواہ وقت نکال سکیں پچاس فیصد سے زائد آبادی کا یہ طبقہ معاشرے کا اثاثہ ہے۔ بلا شبہ، ایک صالح مسلم معاشرے کی تعمیر تب ہی ممکن ہے جب خواتین کے اس مرکزی اور عظیم کردار کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھا اور سراہا جائے۔
Like this:
Like Loading...