Skip to content
یہ سناٹا سا کیسا ہے صاحب جی کچھ تو بولو
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای شہادت پر ان کے دوستوں بلکہ دشمنوں تک نے کچھ نہ کچھ کہا مگر بڑبولے وزیر اعظم کی زبان پر قفل لگارہا۔ 2016؍ میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ ہندوستان کا ایران سے تعلق تاریخ جتنا قدیم تاریخ ہے ۔ اس وقت ہندوتان کو ایران نہ صرف سستا بلکہ ہندوستانی کرنسی میں خام تیل بیچتا تھا ۔ وہ ہندوستان کے اشتراک سے چابہار بندرگاہ بنانے پر راضی ہوگیا تھا جو پاکستان اور چین کی گوادر بندرگاہ کا جواب تھا لیکن پھر وقت بدلا۔ امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں لگا کر ہندوستان کو تیل خریدنے سے منع کردیا ۔ نریندر مودی سرینڈر ہوگئے ۔ امریکہ نےخود کو وشو گرو سمجھنے والے فرمانبردار شاگرد کو اپنی پانہ میں لے کر پنجرے میں بند کردیا۔ امریکہ نے 2026 میں چابہار بندر گاہ سے نکلنے کے لیے کہاتو مودی جی نے بلا چوں چرا کنارہ کش ہوگئےمگر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر امریکہ و اسرائیل کی ناراضی کے ڈر سے ایک تعزیتی پیغام بھیجنے کی ہمت بھی نہیں جٹا سکے ۔ چھپّن انچی سینہ اورچین کو ڈرانے والی لال لال آنکھوں والے وزیر اعظم پر پرویز رحمانی کے یہ دومصرعے صاد ق آتے ہیں ؎
آج قلم کا روزہ ہے کیا یا کاغذ تقوے سے ہے
یہ سناٹا سا کیسا ہے صاحب جی کچھ تو بولو
ہندوستان کے پرانے دوست روس کے صدر پوتن نےا ٓیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے شہادت پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’سنگ دلانہ قتل‘‘قرار دیا۔ ایرانی قیادت سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئےپوتن نے امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائی پر سخت تنقید کی۔ ایرانی صدر مسعود بزشکیان کو ارسال کردہ خط میں پوتن نے آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ براہِ کرم اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے قتل پر میری دلی تعزیت قبول کیجیے۔ اس کا ارتکاب انسانی اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کی تمام حدود کی سنگ دلانہ خلاف ورزی ہے۔چین کی وزارت خارجہ نے خطے میں حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ۔ اس کے بیان میں ایران کی قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا ہر صورت احترام کرنے کی تلقین کی۔ اس بیان میں تمام فریقین کو مزید کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے تحمل کے مظاہرے اور مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتی ذرائع کو دوبارہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ ترکیہ اور نائیجیریا نے بھی تعزیت کے بعد جنگ بندی اور بات چیت پر زور دیا کاش کے اس طرح کا کوئی پیغام وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی آتا لیکن ان کی پر اسرار خاموشی پر اسی غزل کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
مجبوری سے مختاری تک دوری سے نزدیکی تک
آخر یہ کیسا پردہ ہے صاحب جی کچھ تو بولو
پاکستان کو امریکہ کا بغل بچہ کہا جاتا ہے مگر وہاں کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ۔ موصوف نےاپنے بیان میں کہا کہ حکومت پاکستان اور عوام غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر حکومت اور عوام کی جانب سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔وزیراعظم نے آگے بڑھ کر یہ بھی کہا کہ پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے، روایات کے مطابق ریاستوں کے سربراہان کو ہدف نہیں بنایا جاسکتا۔ امریکہ و اسرائیل نے چونکہ عالمی قوانین کو پامال کیا ہے اس لیے یہ جملہ ان کی مذمت کے مترادف ہے۔ شہباز شریف نے پیغام کا اختتام میں کہا کہ ہم سید علی خامنہ ای کی روح کے لیے دعا گو ہیں، اللہ پاک ایرانی عوام کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس سے قبل پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی کہا تھا کہ ایران پر حالیہ حملے انتہائی افسوسناک اور اس پر دلی رنج ہے۔ پاکستان نے ہرممکن سفارتی، اخلاقی طریقے سے ایران کی حمایت کی، اقوام متحدہ میں بھی پاکستان نے ایران پر حملے کی مذمت کی لیکن وطن عزیز میں وزیر اعظم سے لے کر وزیر دفاع، وزیر خارجہ یا وزیر داخلہ کوئی کچھ نہیں بولا اس لیے پوچھنا پڑتا ہے؎
ہر کوئی کیوں چپ بیٹھا ہے صاحب جی کچھ تو بولو
خاموشی کا کیا قصہ ہے صاحب جی کچھ تو بولو
مودی سرکار کی پر آشوب خاموشی نے دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی ساکھ پر جو کلنک لگایا تھا اس کو مٹانے کی خاطر حزب اختلاف کو آگے آنا پڑا۔ کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کے اصولوں پر براہِ راست حملہ قرار دے دیا ۔ اپنے تفصیلی بیان میں کھڑگے نے کہا کہ بغیر کسی باضابطہ اعلان جنگ کے کسی خودمختار ملک کے سربراہ کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس لیے انڈین نیشنل کانگریس اس کارروائی کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوے اس مشکل گھڑی میں ایرانی عوام، مرحوم رہنما کے اہل خانہ اور دنیا بھر کی شیعہ برادری سے اظہارِ تعزیت کرتی ہے۔پرینکا گاندھی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کسی خود مختار ریاست کی قیادت کا ٹارگٹڈ قتل اور بڑی تعداد میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتیں خواہ اس کے پیچھے جو بھی وجوہات بیان کی گئی ہوں، قابل مذمت ہیں اور ان کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب کئی ممالک اس تنازعہ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ دنیا کو مزید غیر ضروری جنگوں کی نہیں، بلکہ امن کی ضرورت ہے۔ جو لوگ اس کے فیصلے لے رہے ہیں، انہیں مہاتما گاندھی کے الفاظ یاد رکھنے چاہئیں کہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ پوری دنیا کو اندھا بنا دیتی ہے‘۔ان بیانات کے بعد بھی ایپسٹن کی فائل نے مودی جی کو کیسے چپ کردیا ملاحظہ فرمائیں؎
جو دروازہ ایپسٹن کے نام پہ مجھ پر بند رہا
کیا فائل وہ بند پڑی ہے صاحب جی کچھ تو بولو
ایران میں قتل و غارتگری سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو ان کی زوجہ سمیت اغوا کرلیا تھا ۔ اس وقت مودی جی نے حالات کی سنگینی کا ذکر کرکے ان پر نظر رکھنے کی بات کہی تھی لیکن وہ معاملہ بہت جلد رفع دفع ہوگیا کیونکہ نئی حکومت ٹرمپ کے آگے سرینڈر ہوگئی۔ اس نے اپنے تیل وسائل پر امریکہ کو اختیار دے دیا اور مودی جی کچھ کہہ کرٹرمپ کو ناراض کرنے سے بچ گئے لیکن ایران کا معاملہ مختلف ہوگیا ۔ اس نے نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ حملے شروع کردئیے بلکہ سائپرس میں برطانوی اڈے کو بھی نہیں بخشا۔ عرب ممالک کے اندر ایرانی میزائلوں کو گرانے کی کوشش میں اس کا کچھ ملبہ آبادیوں میں بھی گرا۔ مشرق وسطیٰ میں چونکہ تقریباً ایک کروڈ ہندوستانی رہتے ہیں اس لیے ان کا بہانہ بناکر وزیر اعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زائد النہیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پر حالیہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مشکل گھڑی میں مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ وزیر اعظم کو یہ نہیں معلوم کہ امارات میں عوام پر نہیں بلکہ فوجی ٹھکانوں حملہ ہوا اس لیے حملے کی مذمت ہی غلط ہے لیکن بلاواسطہ یہ احتجاج بھی امریکہ کے حق میں اور ایران کے خلاف ہے۔ اس بزدلانہ بیان کےساتھ ہاتھ آنے والی رسوائی لوگوں نے سوچاان کی خاموشی ہی بہتر تھی۔
اس دنیا سے اس دنیا تک رسوا کر دینے کے بعد
اب لوگوں کا کیا کہنا ہے صاحب جی کچھ تو بولو
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت ہر طرح کی دہشت گردی اور تشدد کے خلاف ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ ۷؍ اکتوبر کے حملے کو دہشت گردی قرار دینے والا وزیر اعظم سے یہ نہیں کہا گیا کہ رہبر معظم کی شہادت ایک کھلی جارحیت کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ اماراتی قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والا خود ساختہ ’وشو گرو( عالمی قائد) نے ایسے ملک کے اندر حملوں میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت پیش کی جہاں اس طرح کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔ مودی جی نے فرمایا ایسے حملے نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں اور ان کا فوری خاتمہ ضروری ہے لیکن جہاں سے اس کی ابتدا ہوئی اس پر تو کچھ بول ہی نہیں سکے ۔ وزیر اعظم نے روس کے صدر کو یوکرین کی جنگ کے تناظر میں کہا تھا کہ ’یہ جنگ نہیں امن کا دور ہے۔ افسوس کہ کم از کم یہی بات اپنے خاص دوست نیتن یاہو یا ہو ڈونلڈ ٹرمپ سے نہیں کہہ سکے۔ ویسے ان دونوں سے مودی جی کی ملاقات ہوجائے تو اس شعر میں ترمیم کے ساتھ کہیں گے ؎
کل تک تم کو جان سے پیارا دل کا سہارا لگتا تھا
اب مودی کیسا لگتا ہے صاحب جی کچھ تو بولو
Like this:
Like Loading...