Skip to content
اختلافِ رائے، اعتدالِ فکر اور تہذیبِ اختلاف
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اسلام نے انسان کو محض ایک پیروکار نہیں بلکہ ایک صاحبِ شعور، صاحبِ فکر اور صاحبِ جواب دہی ہستی کے طور پر پیش کیا ہے۔ قرآنِ مجید کی اوّلین وحی ہی علم کے عنوان سے شروع ہوتی ہے، اور متعدد مقامات پر تدبّر، تعقّل اور تفکّر کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام جمود نہیں بلکہ بیداریِ فکر کا دین ہے؛ تقلیدِ جامد نہیں بلکہ شعوری وابستگی کا پیامبر ہے۔ اسلامی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرامؓ کے درمیان بھی اجتہادی مسائل میں اختلافات موجود تھے، مگر ان کے دلوں میں اخوت کی حرارت اور باہمی احترام کی فضا برقرار رہی۔ ائمۂ اربعہؒ کے مابین فقہی اختلافات نے اُمّت کو تقسیم نہیں کیا بلکہ علمی وسعت اور فقہی تنوع عطاء کیا۔ اس تنوع کو رحمت قرار دیا گیا، اس لیے کہ اس کی بنیاد اخلاص، علم اور خیر خواہی پر تھی، نہ کہ انا، تعصب یا گروہی عصبیت پر۔
اسلامی تعلیمات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ زبان ایک امانت ہے، قلم ایک ذمّہ داری ہے اور رائے ایک شہادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں عدل و انصاف پر قائم رہنے کا حکم دیتا ہے، خواہ معاملہ ہمارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، اور وہ بدگمانی، بہتان تراشی اور تحقیر و تذلیل سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ اسی اصولی بنیاد پر اختلافِ رائے کو تہذیب، دیانت اور اعتدال کے دائرے میں رکھنا ایک دینی فریضہ بن جاتا ہے۔ افسوس کہ عصرِ حاضر میں اختلاف کو دشمنی، اور تنقید کو بغاوت سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ اسلامی مزاج اس کے برعکس ہے: یہاں اختلاف کو علمی ارتقاء کا ذریعہ اور اصلاح کا دروازہ سمجھا جاتا ہے۔
جب اختلاف دلیل، حلم اور حسنِ اخلاق کے ساتھ ہو تو وہ اُمّت کی فکری قوت میں اضافہ کرتا ہے؛ اور جب وہ تکفیر، تحقیر اور تشنیع میں ڈھل جائے تو وہی اختلاف فتنہ بن جاتا ہے۔ اسی اسلامی تناظر میں ذیل کی سطور ایک ایسے تجربے اور مشاہدے کی عکاسی کرتی ہیں جو محض شخصی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں کا آئینہ ہے۔ مقصد نہ کسی کی دل آزاری ہے اور نہ کسی کی حمایت یا مخالفت؛ بلکہ یہ سمجھنا اور سمجھانا ہے کہ تہذیبِ اختلاف ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں فکری توازن، اخلاقی وقار اور دینی بصیرت عطاء کر سکتا ہے۔
فکر و نظر کی دنیا میں قلم اٹھانا کبھی بھی محض الفاظ کا کھیل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ذمّہ داری، امانت اور احتساب کا ایک مسلسل سفر ہے۔ جو شخص اپنے ضمیر کی روشنی میں حالاتِ حاضرہ پر گفتگو کرتا ہے، وہ دراصل ایک ایسے میدان میں قدم رکھتا ہے جہاں ستائش اور ملامت، تحسین اور تشنیع، دونوں اس کے مقدر کا حصّہ بن جاتے ہیں۔ عجیب صورتِ حال یہ ہے کہ جب اس بندۂ عاجز نے سعودیہ عرب کی بعض پالیسیوں پر تنقیدی مضمون لکھا تو "عاشقانِ سعودیہ” کی جانب سے لعن طعن اور الزام تراشی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا، جب کہ "عاشقانِ ایران” نے اسے حق گوئی کی دلیل قرار دے کر مبارک باد دی۔ لیکن جب قلم نے اسی بے لاگ انداز میں ایران کی بعض غلط کاریوں پر روشنی ڈالی تو منظر یکسر بدل گیا؛ ایرانی محبت کے دعوے داروں نے زبانِ ملامت دراز کی اور اس بار سعودیہ کے حامیوں نے مضمون کی تائید میں پیش قدمی کی۔
اسی طرح جب عالمی پس منظر میں افغانستان کے حالات پر لکھا گیا تو طالبان مخالف حلقوں نے تہمتوں کی بوچھاڑ کر دی، اور طالبان کے حامیوں نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا۔ پھر جب فلسطین کے حوالے سے سلسلہ وار مضامین تحریر کیے گئے تو ایک شدّت پسند طبقے نے "اخوانی” اور "رافضی” جیسے القابات سے نوازا، جب کہ راہِ حق میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے حامیوں نے اسے سراہا۔ یوں ہر موڑ پر تحسین و تنقیص کے پیمانے بدلتے رہے، مگر قلم کا زاویۂ نظر وہی رہا: حق کی تلاش، اصلاح کی تمنا اور اعتدال کی راہ۔
یہ واقعہ کسی ایک فرد کی داستان نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی مزاج کا آئینہ ہے۔ ہم نے اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا ہے اور تنقید کو ایمان پر حملہ تصور کر لیا ہے۔ حالانکہ اسلامی روایت میں اختلاف کوئی معیوب شے نہیں، بلکہ فکری ارتقاء کا ایک لازمی مرحلہ ہے۔ قرآنِ مجید نے انسان کو غور و فکر کی دعوت دی ہے، اور سیرتِ نبویؐ میں ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ سخت ترین مخالفت کے باوجود زبان اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا۔ اگر اختلاف کو تکفیر، کردار کشی اور گالی گلوچ کی سطح پر لے آیا جائے تو یہ نہ دینی مزاج سے ہم آہنگ ہے اور نہ اخلاقی اصولوں سے۔ کسی شخص کو محض ایک مضمون کی بنیاد پر دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا دراصل اپنے ہی ایمان کے فہم کی کمزوری کا اظہار ہے۔ ایمان کی گہرائی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کو برداشت کریں، دلیل کا جواب دلیل سے دیں، اور نیتوں کا فیصلہ خدا پر چھوڑ دیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہمیں عمومی نوعیت کے ایسے جملوں سے حتیٰ الامکان احتراز کرنا چاہیے جو کسی پوری قوم یا ملت کے بارے میں قطعی رائے قائم کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر قوم کے اندر مختلف مزاج، مختلف رویّے اور مختلف کردار موجود رہے ہیں۔ کسی ملک یا گروہ کے بعض اقدامات کی تنقید کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے ہر فرد کی نفی کر دی جائے۔ اسی تنوع میں اصلاح کی امید پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر ہم پوری قوم کو ایک لاٹھی سے ہانکنے لگیں تو نہ صرف انصاف مجروح ہوتا ہے بلکہ اصلاح کا دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے۔
صبح سے روزے کی حالت میں طعن و تشنیع اور تلخ جملے سننا یقیناً دل کو مغموم کر دیتا ہے، لیکن ایسے ہی مواقع انسان کے لیے تربیت اور تزکیہ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ صبر محض برداشت کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر حق پر قائم رہنے کا عنوان ہے۔
تنقید اور بدگمانی کا سامنا اگر حسنِ ظن اور تحمل کے ساتھ کیا جائے تو وہی چیز انسان کے درجات بلند کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ تاریخ کے مصلحین نے ہمیشہ مخالفت کا سامنا کیا، مگر انہوں نے اپنے لہجے کو متوازن اور اپنے مقصد کو خالص رکھا۔
اگر ہمارا مقصد خیر، اصلاح اور حق کی وضاحت ہے تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے الفاظ دلوں کو جوڑ رہے ہیں یا توڑ رہے ہیں۔ سخت جملے وقتی جذبات کو تو مطمئن کر سکتے ہیں، مگر دیرپا اثر اعتدال اور حکمت سے پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ محبت کسی ملک، گروہ یا شخصیت سے نہیں بلکہ اصول سے ہو۔ اصول اگر حق پر مبنی ہو تو وہی ہماری وفاداری کا مستحق ہے۔ شخصیات اور ریاستیں خطا سے مبرا نہیں ہوتیں، مگر حق کا معیار ہمیشہ ثابت رہتا ہے۔
یہ زمانہ اشتعال، تعصب اور جلد بازی کا ہے۔ ایسے میں اعتدال کی آواز بلند کرنا آسان نہیں، لیکن یہی سب سے زیادہ ضروری بھی ہے۔اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حسنِ ظن، اعتدالِ گفتار اور باہمی احترام کی توفیق عطاء فرمائے؛ ہمیں حق کہنے کا حوصلہ اور حق سننے کا ظرف عطاء کرے؛ اور ہمارے دلوں کو کینہ، تعصب اور تکفیر کی آلودگی سے پاک فرمائے۔ کہ اختلاف اگر رحمت بن جائے تو اُمّت کی قوت بڑھتی ہے، اور اگر زحمت بن جائے تو شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ ہماری ذمّہ داری ہے کہ ہم اختلاف کو رحمت بنانے کی کوشش کریں، نہ کہ اسے فتنہ بنا دیں۔ اختلاف اس وقت رحمت بنتا ہے جب اس کی بنیاد اخلاص، علم اور خیر خواہی پر ہو؛ جب مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ حق کو واضح کرنا ہو؛ جب لہجے میں تلخی کے بجائے وقار ہو اور دل میں عناد کے بجائے اصلاح کی تمنا۔ فتنہ تب جنم لیتا ہے جب اختلاف انا کی تسکین، گروہی تعصب یا وقتی جذبات کی تسکین کا ذریعہ بن جائے۔
اگر ہم دلیل کو دلیل سے اور بات کو بات سے جواب دینے کا حوصلہ پیدا کریں، اگر ہم نیتوں کا فیصلہ اپنے ربّ پر چھوڑ دیں اور اپنی زبان کو عدل و احسان کا پابند رکھیں، تو یہی اختلاف فکری وسعت، باہمی احترام اور اجتماعی بلوغت کا سبب بن سکتا ہے۔ ورنہ وہی اختلاف دلوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے، صفوں میں انتشار پیدا کر دیتا ہے اور خیر کے امکانات کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے طرزِ گفتگو کا احتساب کریں، اپنے الفاظ کو تول کر استعمال کریں اور ہر حال میں اس اصول کو پیشِ نظر رکھیں کہ سچائی کی خدمت نفرت سے نہیں بلکہ حکمت، صبر اور حسنِ اخلاق سے ہوتی ہے۔
دیکھا جائے تو ہر اختلاف، ہر تحریر اور ہر مکالمہ دراصل ہمارے ایمان، ہمارے اخلاق اور ہمارے باطن کا امتحان ہوتا ہے۔ ہم جو کہتے ہیں، جس انداز میں کہتے ہیں، اور جس نیت سے کہتے ہیں، یہ سب ہمارے نامۂ اعمال کا حصّہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر لفظ ادا کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ کیا یہ کلمہ رضائے الٰہی کے قریب لے جائے گا یا نفس کی تسکین کا ذریعہ بنے گا؟ اسلام ہمیں محاسبۂ نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ اپنا احتساب کرو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے۔ یہی اصول اختلافِ رائے پر بھی صادق آتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری تنقید اصلاح کے لیے ہے یا انتقام کے لیے؟ ہماری غیرت حق کے لیے ہے یا گروہی وابستگی کے لیے؟ اگر نیت میں اخلاص اور دل میں خیر خواہی ہو تو سخت بات بھی مؤثر نصیحت بن جاتی ہے، اور اگر دل میں کدورت ہو تو نرم جملہ بھی زہر آلود ہو جاتا ہے۔
آج اُمّت کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ فکری دیانت، اخلاقی شجاعت اور روحانی توازن ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ رہتے ہوئے بھی اختلاف کر سکتے ہیں؛ ہم اصول پر قائم رہتے ہوئے بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑتے؛ ہم حق بات کہتے ہوئے بھی اپنے لہجے کو نرم اور متوازن رکھ سکتے ہیں۔ یہی وہ اسلامی تہذیب ہے جس نے مختلف مکاتبِ فکر کو ایک اُمّت کی لڑی میں پروئے رکھا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دشمنی کا بیج اکثر زبان سے اگتا ہے اور دلوں میں نفرت کی فصل تیار کرتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے الفاظ کو قابو میں نہ رکھا تو ہم خود اپنے اجتماعی شیرازے کو کمزور کر دیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم نے صبر، حکمت اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنا لیا تو اختلاف بھی اتحاد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پس آئیے ہم اپنے ربّ کے حضور یہ عہد تازہ کریں کہ ہم حق کے طالب رہیں گے، مگر حق گوئی کو تہذیب اور دیانت کے سانچے میں ڈھال کر پیش کریں گے۔ ہم اختلاف کریں گے، مگر عدل کے ساتھ؛ ہم تنقید کریں گے، مگر خیر خواہی کے ساتھ؛ ہم ردّ کریں گے، مگر احترام کے ساتھ۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ایسا قلبِ سلیم عطاء فرمائے جو تعصب سے پاک ہو، ایسی زبان عطاء فرمائے جو عدل و احسان کی ترجمان ہو، اور ایسی بصیرت عطاء فرمائے جو اختلاف میں بھی خیر کا پہلو تلاش کر لے۔ اگر ہم نے اس روح کو پا لیا تو ہمارا اختلاف رحمت بن جائے گا، اور اگر ہم اس سے محروم رہے تو الفاظ کا ہنگامہ ہمارے دلوں کو مزید دور کر دے گا۔
بالآخر یہی اسلامی و اصلاحی پیغام ہے کہ اختلاف کو نزاع نہیں، مکالمہ بنائیں؛ مخالفت کو دشمنی نہیں، خیر خواہی میں بدلیں؛ اور اپنے کردار سے یہ ثابت کریں کہ ہم ایک ایسی اُمّت کے وارث ہیں جس کی بنیاد علم، عدل اور اخلاق پر رکھی گئی تھی۔
Like this:
Like Loading...