Skip to content
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل دورہ ان کے گلے کی ہڈی بن گیا۔ انہوں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کے لوٹتے ہی امریکہ و اسرائیل ایران پر بزدلانہ حملہ کرکے روحانی پیشوا ٓیت اللہ علی خامنہ ای کو مع اہل و عیال شہید کردیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی جی کو اپنے جال میں پھنسانے کی خاطر وہ لوگ حملے کو ٹال رہے تھے تاکہ حکومتِ ہند اپنے روایتی دوست ایران کی حمایت میں ایک لفظ نہ کہہ سکے ۔ ایران کی بابت مودی جی نے کہا تھا کہ ہماری دوستی انسانیت کی تاریخ جتنی قدیم ہے۔ ایران نے آپریشن سیندور سمیت ہر سرد و گرم میں ہندوستان کا ساتھ دیا ۔ پاکستان پہلگام حملے میں ملوث ہونے کا انکار کررہا تھا پھر بھی انتقام لیا گیا ۔ اسرائیل و امریکہ فخر سے اعتراف کررہے ہیں تو کیا اب ایران کوبدلہ لینے کا حق نہیں ہے۔ وہ اس کا استعمال کررہا ہے تو مودی جی اس کی حمایت کرنے کے بجائے اسرائیل و امریکہ سے یکجہتی کا اظہار فرما رہے ہیں۔ یہ احسان فراموشی نہیں تو کیا ہے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا اعلان دہلی نہیں تل ابیب سے ہواتھا ۔ سوال یہ ہے وہ کیا چیز تھی جس نے انہیں اچانک اسرائیل کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی ؟ اس ایک سوال کے کئی جوابات ان حالات کے اندر چھپے ہوئےہیں جن میں مو دی جی کو یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
یاد کیجیے اس وقت ایران پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے امریکی حملہ کے روشن امکانات کی صورت میں اسرائیل پر ردعمل لازمی تھا ۔ اس کے باوجود کرسی بچانے کے لیےجان کا خطرہ مول لے کر مودی جی نے ثابت کردیا ’جگ کل ریت سدا چلی آئی ، جان جائی پر کرسی نہ جائی‘ ۔ جنرل نرونے کی کتاب نے مودی جی کا جینا حرام کر رکھا تھا ۔ راہل گاندھی اسے لے کر سرکار کو منہ چڑھاتے پھر رہے تھے کیونکہ وزیر داخلہ ودفاع نے ایوانِ پارلیمان میں اس کی اشاعت کا انکار کردیا تھا۔ ایوان بالا میں جب وزیر اعظم کے خطاب کا موقع آیا تو یہ خطرہ لا حق ہوگیا کہ راہل گاندھی نہ صرف ان کی خدمت میں کتاب پیش کردیں گےبلکہ سوال بھی ہوگا ’میدانِ جنگ میں جو ٹھیک لگے سو کرو‘ کا کیا مطلب ہے؟ ‘ ایسا ہوجاتا تو وزیر اعظم کی چھپن ّ انچی ساکھ زمین بوس ہوجاتی ۔ جس رہنما کی سیاست کا مکمل دارو مدار صلاحیت یا کارکردگی کے بجائے میڈیا میں تشکیل شدہ جعلی شبیہ پر ہو اور اسی کو خطرہ لاحق ہوجائے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے مثلاً جان جوکھم میں ڈال کر اسرائیل بھی جا سکتا ہے۔
راہل گاندھی کو ایوان پارلیمان میں بولنے سے روکنے کے بعدوہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدےکو ’نریندر سرینڈر‘ کے نعرے سے جوڑ کر اعلان کردیا کہ وزیر اعظم نے ڈر کے مارے اس پر دستخط کیے ہیں اور انہیں بلیک میل کیا جارہا ہے ۔ اشارہ صاف طور ایپسٹِن فائلس کی جانب تھا جس میں مرکزی وزیر ہر دیپ سنگھ پوری کا نام اور اب تو ان کی بیٹی کو ملنے والی کثیر رقم بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ اس تناظر میں وہ الزام سچ لگنے تھا کہ وزیر اعظم نے اڈانی کو سمن سے بچانے اور پوری سمیت خود کو ایپسٹِن انکشافات سے محفوط رکھنے کی خاطر کسانوں کے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر دستخط کردئیے بلکہ ملک کو بیچ دیا ۔ سونے پر سہاگہ امریکی سپریم کورٹ نے جب ٹرمپ کے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا تو معاہدے کی جلد بازی پر سوال اٹھنے لگے اور اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اس طرح راہل گاندھی پوری طرح میڈیا پر چھا گئے اور گودی میڈیا بھی مودی و شاہ کو چھوڑ کر ’راہل راہل ‘ کرنے لگا۔ ایسے میں اپنے آپ کو خبروں میں لانے کی خاطر مودی کو اسرائیل جاکربدترین جنگی مجرم نیتن یاہو سے بغلگیر ہونا پڑا۔
اسرائیل جانے سے قبل ایوانِ پارلیمان میں وزیر اعظم کا وقار بچانے کی خاطر بی جے پی نے اپنے اسپیکر کو بلی کا بکرا بنا یا۔ اوم برلا سے کہلوایا گیا کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں سے یہ اطلاع ملی ہے ، پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں وزیر اعظم کو خواتین اراکین سے خطرہ لاحق ہے اس لیے وہ نہ آئیں۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہوگا کہ جب کسی حکمراں کے ایک درباری نے اسے اپنے دربار میں غیر محفوظ قرار دے کر آنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہو۔ وزیر اعظم کہہ سکتے تھے کہ ان کی لال آنکھوں سے تو دور دیس میں چین بھی تھر تھر کانپتا اس لیے خواتین ارکان پارلیمان کس کھیت کی مولی ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ مودی نے راہل گاندھی کے ڈر سے لوک سبھا میں خطاب کرنے کا ارادہ ترک کردیا ۔ ان کے اس فیصلے کا جوازپیش کرتے ہوئے حلیف ٹی ڈی پی کے رکن پارلیمان ریڈی نے ٹیلیویژن کے پردے پر کہہ دیا کہ وزیر اعظم کو خواتین ارکان پارلیمان کے دانتوں سے کاٹ کھانے کے ڈر نے روک دیا حالانکہ اس کے بعد جب وہ ایوانِ بالا میں خطاب کرنےگئے تو وہاں بھی حزب اختلاف کی خواتین موجود تھیں اور اسرائیلی پارلیمان میں خواتین کی موجودگی میں خطاب ہوا ۔ اس طرح ثابت ہوگیا کہ خواتین کا نہیں راہل گاندھی کا خوف انہیں تل ابیب کے اسرائیلی ایوانِ پارلیمان میں لے گیا۔
وزیر اعظم مودی کو توقع تھی کہ ہندوستان نہ سہی تو اسرائیل کی پارلیمانی ارکان میزبانی کا لحاظ کریں گے۔ حزب اختلاف مروت میں احتراماًبیٹھا رہے گا لیکن وہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔ اسرائیل کی روایت ہے کہ ایوانِ پارلیمان سے جب کوئی غیر ملکی مہمان خطاب کرتا ہے تو ایسے میں چیف جسٹس کو بھی بلایا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں چونکہ چیف جسٹس کوئی رعایت نہیں دے رہے ہیں اس لیے نیتن یا ہو انہیں دعوت نہ دے کر رسوا کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے خلاف حزب اختلاف نے نریندر مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کردیا ۔ یعنی ہندوستانی ایوان میں برپا ہونے والے جن ناپسندیدہ مناظر سے بچنے کے لیے نریندر مودی نے ہزاروں میل کا سفر کیاوہ رسوائی ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں بھی پہنچ گئی۔ اس طرح اپنے مہمان کے سامنے نیتن یاہوخود بھی ذلیل ہوگئے لیکن وہ ان کے اپنے ہاتھ کی کمائی تھی۔ ان کو یہ ثابت کرنا تھا کہ اکڑ فوں میں وہ مودی سے کم نہیں ہیں ورنہ چیف جسٹس کو دعوت دینے میں کوئی قباحت نہیں تھی لیکن اپنے حصے کی ذلت کا سامان کرنے کے ساتھ انہوں نے اپنے چہیتے دوست کو بھی ذلیل کیا اور حزب اختلاف کے سامنے تقریر کرنے کا خواب اسرائیل میں بھی ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل میں ہوائی جہاز سے ا ترتے ہوئے ایک طویل عرصے کے بعد کسی سربراہِ مملکت کو اپنے استقبال میں کھڑا دیکھا تو پھولے نہیں سمائے۔ انہوں نے دور سے’بی بی‘ کا نعرہ بلند کیا والہانہ انداز میں بغلگیر ہوگئے ۔ اس منظر نے ’یشودھا بین ‘ کو اداس کیا ہوگا کیونکہ اس طرح جوش و خروش کے ساتھ ’بی بی‘ کہہ کر تو مودی نے انہیں کبھی بھی پکارا نہیں ہوگا۔ یہ سن کر وہ اندھ بھگت بھی پریشان تھے جنھیں نہیں معلوم کہ نیتن یاہو کی عرفیت ’بی بی‘ ہے۔ خیر بابا اور بی بی کے اس مدھر ملن کے بعد یاہو نے مودی کا اپنی بیوی سارہ سے تعارف کرایا ۔وہ بیچاری مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا کر پھنس گئی کیونکہ مودی اسے چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھےگویا فیویکول کا جوڑ لگ گیاتھا۔ مشکل سے ہاتھ چھوڑنے کےبعد نیتن یاہو کو محسوس ہوا کہ مودی جی کلر بلائنڈ ہیں۔ اس لیے انہیں کہنا پڑا دیکھو اس نے (آپ کی خوشنودی کے لیے)زعفرانی لباس زیب تن کررکھا ہے۔ یہی ایپسٹِن والی ذہنیت ہے جو نیتن یاہو کے دماغ میں بھی کارفرما تھی ۔ اپنا کام نکالنے کی خاطر خواتین کا استعمال کرنا گویا اسرائیلیوں کا شعار بن چکا ہے۔ ایپسٹِن فائلس میں پوشیدہ رازوں کے برسرِ عام ہوجانے کا خوف اس التجا کے ساتھ کہ ’مائی باپ مجھے بچا لیجیے‘ مودی جی کو نیتن یاہو کی پناہ میں لے گیا ۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران بھی مودی کو عظیم دوست اور لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا، ’’وزیر اعظم مودی اسرائیل کے عظیم دوست ہیں، ان کا اسرائیل آنا فخر کی بات ہے۔ وزیر اعظم مودی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔‘‘ نیتن یاہو کی اس گرمجوشی کے پیچھے یہ رازپوشیدہ ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف نے اس کو نسل کشی کا مجرم ٹھہرا کر وارنٹ نکال رکھا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں وہ قدم نہیں رکھ سکتا ۔ اسی طرح غزہ کے جرائم نے اسے دنیا سے کاٹ دیا ہے۔ کوئی عزت دار ملک اس کے قریب نہیں آنا چاہتا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھی دنیا سے کٹ چکے ہیں ۔ وہ کسی ایسے اجلاس میں نہیں جاتے جہاں ٹرمپ موجود ہوں اس طرح نیتن یاہو اور مودی کی مجبوری ہے کہ باہمی ملاقات سے دل بہلائیں ۔ مودی اسرائیل سے اس طرح منہ بسور کے لوٹے جیسے کوئی دلہن میکے سے سسرال وداع ہوتی ہے لیکن جنگ شروع ہوتے ہی نیتن یاہو روپوش ہوگیا اور مودی جی حالت تنہائی کا شکاربیوہ کی سی ہوگئی۔ فراق کی آگ میں جلنے والے مودی اور نیتن یاہو کی عالمی خواری پر میاں داد خاں سیاح کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
Like this:
Like Loading...