Skip to content
مسلم ممالک کا حالِ زار
ٹرمپ اور یاہو کی وجہ سے ایران کے ساتھ کھڑے ہونے سے خوفزدہ
ازقلم:عبدالعزیز
1924ء تک خلافت دنیا بھر میں قائم و دائم تھی۔ اگر چہ خلافت میں مسلم ملکوں کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے وہ طاقت اور حوصلہ نہیں تھا جو پہلے رہا کرتا تھا۔ خلافت نے تمام مسلم ملکوں کو بہر حال جوڑے رکھا۔مسلمانوں اور مسلم ملکوں کی ایمانی کمزوریوں کی وجہ سے اور جو خلافت کو سنبھالے رہے ان کی اسلام سے بغاوت کی وجہ سے خلافت ختم ہوگئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم ملک ایک ایک کرکے بڑی طاقتوں کے غلام ہونے لگے۔ کسی نے امریکہ کی غلامی پسند کی اور کوئی روس کا غلام ہوگیا۔ آج حالت یہ ہے کہ سعودی عرب، یو اے ای، کویت، اردن، عراق، مصر سب کے سب امریکہ کے غلام ہیں۔ ان کی غلامی کا حال یہ ہے کہ ان تمام ملکوں میں ان کی حفاظت امریکی فوج کر رہی ہے۔ اور ان تمام ملکوں میں امریکہ کا ملٹری بیس موجود ہے۔ یہ امریکہ بیس اس لئے موجود ہے کہ وہاں سے امریکہ آسانی سے ایران یا جس ملک کو بھی چاہے تہ و بالا کرسکتا ہے۔
اس وقت جو امریکہ، اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے اس حملے کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ ایران میں اپنی من پسند حکومت قائم کرسکے اور دیگر مسلم ملکوں میں جس طرح امریکہ کا ملٹری بیس ہے وہاں بھی وہ بیس بنا سکے۔ امریکہ اور ایران میں امن کے لئے گفت و شنید جاری تھی جس میں خلیجی ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بات چیت سے صلح اور امن کا امکان پیدا ہوچکا تھا لیکن بات چیت کے دوران ہی اسرائیل کے ساتھ امریکہ ایران پر اچانک حملہ کردیا۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو ایران مجبور ہوگا کہ اس کے تمام امریکی بیسس پر حملہ کرے گا اور نیست و نابود کرنے کی کوشش کرے گا۔ ایران تمام مذکورہ ممالک کے امریکی فوجی اڈے پر حملہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے ان ممالک کے تیل کے کنویں بھی زد میں آگئے ہیں۔ ’آرامکو کمپنی‘جو تیل کی کمپنی ہے اس کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ امریکن ہونے کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگیا۔ مسلم ممالک منتشر اور غیر منظم ہونے کی وجہ سے خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان کی کمزوری اور بزدلی اس حد تک ہے کہ اسرائیل جیسے چھوٹے ملک کا بھی وہ مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اسرائیل کا وجود 1947ء سے ہے۔ جبکہ عرب ممالک یا خلیجی ممالک ہزاروں سال سے ہیں۔ اسرائیل ان ممالک کو پست کرنے کے لئے ہر طرح کی تیاری کرتے رہے مگر مسلم ممالک امریکہ کے سہارے ہی زندہ رہنے کا عزم دہراتے رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج وہ سارے ممالک اپنے برادر ملک کی زد میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے۔ یہ سارے ممالک امریکہ کے دوست ہیں۔ ایران کے ساتھ کیسے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ یہ سارے ممالک امریکہ کے اشارے پر بسر اوقات کر رہے ہیں۔
1979ء میں امریکہ کی پسندیدہ حکومت رضا شاہ پہلوی کو علامہ آیت اللہ علی خمینی کی قیادت میں تخت و تاراج کر دیا گیا۔ رضا شاہ پہلوی کو امریکہ فرار ہونے سے بچا نہیں سکا۔ اس وقت سے لے کر آج تک امریکہ کئی بار ایران واسطہ بالواسطہ حملہ کیا۔ جب صدام حسین نے امریکہ کے اشارے پر ایرانی انقلاب کے چند سالوں بعد حملہ کیا تھا تو سارے خلیجی ممالک ایران کو تباہ کرنے کے لئے عراق اور امریکہ کا ساتھ دے رہے تھے۔ یہ جنگ 8سال تک چلی۔ 8لاکھ سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ کئی شہر تباہ ہوگئے۔ بالآخر عراق کو سر نگوں ہونا پڑا۔ امریکہ اور تمام مسلم ممالک جو امریکہ کا ساتھ دے رہے تھے وہ شرمسار ہوئے۔ اس کے بعد بھی ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے کئی چھوتے بڑے حملے ہوتے رہے۔ ہر حملہ میں ایران عزم و استقامت کا پہاڑ بنارہا۔ اس سے پہلے کے حملے میں بھی امریکہ اور اسرائیل ایران کو سر نگوں کرنا چاہتا تھا لیکن ایران نے اعلان کر دیا تھا کہ حملہ اسرائیل اور امریکہ نے کیا ہے اسے ختم ہم کریں گے۔ اسرائیل کی پسپائی جب بڑے پیمانے پر ہونے لگی تو نیتن یاہو نے گڑگڑاتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ سے جنگ بندی کی اپیل کی۔ دنیا کو یاد ہے کہ وہ جنگ بندی ایران کی شرائط پر ہوئی تھی۔ ایران نے دوحہ پر حملے اور اسرائیل پر چار گھنٹے متواتر حملے کی شرط رکھی تھی اور کہا تھا کہ کسی قسم رد عمل نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی شرط مان لی۔ یہ زیادہ دنوںکی بات نہیں ہے چند مہینے کی بات ہے۔ یہ وہ سب حقائق ہیں جن سے عرب ممالک بہت کچھ سیکھ سکتے تھے کہ ایک اکیلا ایران میدان جنگ میں امریکہ اور اسرائیل سے مقابلہ کرتا ہے لیکن کبھی بھی ہار ماننے کے تیار نہیں ہوتا۔ نہیں سیکھنے کی وجہ سے آج مسلم ممالک صرف سنیّت کے نام پر شان بگھارتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ایمان اور اسلام سے محروم ہیں۔ آج کی جنگ میں ان بے ایمان ملکوں کی حالت حد سے زیادہ بگڑتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ان کے لئے نہ جائے پناہ ہے اور نہ جائے امان ہے۔ امریکہ بھی ان کو بچانے سے قاصر ہے۔ ہر ملک میں تراویح پڑھی جارہی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ کَفیٰ بِاللّٰہِ وَکِیْلًا (سہارے کے لئے اللہ کافی ہے)۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِآعْدَآئِکُمْ وَ کَفیٰ بِاللّٰہِ وَکِیْلًا وَکَفیٰ بِاللّٰہِ نَصِیْراً۔ (اوراللہ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور اللہ کافی ہے اور والی اور اللہ کافی ہے مددگار)۔ (القرآن، سورۃ النساء،آیت:45)
یہ سب پڑھنے، تلاوت کرنے، حفظ کرنے اور بار بار دہرانے سے یہ ایمان کہاں پیدا ہورہا ہے کہ اللہ سہارے کے لئے یا مدد کے لئے کافی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معنوی اعتبار سے مذکورہ آیتوں کا انکار ہو رہا ہے۔ جب اللہ یہ کہتا ہو کہ ’’لَم یَخشی اِلا اللہ‘‘ (اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرو)۔ شرک کی نفی کے لئے یعنی ان کے اندر کسی غیر اللہ کا خوف نہ پایا جاتاہو۔ ظاہر ہے یہاں خوف سے مراد وہ خوف ہے جو کسی غیر اللہ کی بذات خود نفع بخش یا ضرر رساں ہونے یا سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ خوف شرک ہے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی نیکی نہیں رہ جاتی کیونکہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا بالکل اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ اس آیت کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ سارے ممالک شرک کر رہے ہیں۔ ان کی ساری نیکیاں شرک کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہیں۔ آج بھی ایسے لوگ ہیں جو ایران کو اپنی نام نہاد سنّیت کی وجہ سے برا بھلا کہنے سے نہیں چوکتے۔غور کرنا چاہئے کہ جب ان ممالک نے اللہ کا سہارا چھوڑ دیا ہے ، امریکہ کا سہارا پکڑ لیا ہے تو کیا ان کو بچانے کے لئے کون آئے گا؟ اگر مسلم ممالک ہوش کے ناخن نہیں لیتے اور از سر نو اسلام میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کرتے اور پورے کے پورے داخل نہیں ہوتے تو شیطان کی پیروی کرتے رہیں گے اور شیطان انھیں بچانہیں سکے گا، اس لئے کہ اس وقت شیطان خود زد میں ہے اور شیطان کی ناجائز اولاد اسرائیل بھی زد میں ہے۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت انشاء اللہ بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ہوگا۔ ایران سے ایک ایسی خبر آرہی ہے ’جوقلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے‘ ۔ خبر یہ ہے کہ جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو آیت اللہ خامنہ ای کو محفوظ مقام پر لے جانے کے لئے سیکوریٹی عملے نے گزارش کی لیکن خامنہ ای نے ان کی ایک نہ سنی اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ’’عام لوگ اپنے گھروں اور آفسوں میں رہیں، ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ میں کسی محفوظ جگہ پر چلا جاؤں یا بینکرمیں جاکر پناہ لوں۔ یہ میرے ایمان کے منافی ہے۔ میں چھیاسی سال کا ہوں مجھے زندگی سے کہیں زیادہ شہادت عزیز ہے۔ اگر میں شہید ہوتا ہوں تو انشاء اللہ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا۔‘‘یہ سچ ہے کہ ’’وہ قطرے کتنے مبارک ہوتے ہیں جو صرفِ بہاراں ہوتے ہیں‘‘۔ کیا عرب ممالک خامنہ ای کی شہادت سے اور ایران کی قیادت کی استقامت اور ایمان سے سبق لیں گے؟ اور اپنے آپ کو ایمان اور اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے؟ ٹرمپ اور یاہو جیسے مردود پر لعنت بھیجیں گے؟ اگر ایسا نہیں کریں گے تو ہر مسلم ملک کا وہی حال ہوگا جو ونیزوئیلا اور اس کے صدر کا ہوا۔
علامہ اقبالؒ ایسے مسلمانوں کو بہت پہلے تنبیہ کرچکے ہیں جو اللہ کا دامن چھوڑ کر غیر اللہ کا دامن تھام لیتے ہیں ؎
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خداسے نو میدی … مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...