Skip to content
زکوٰۃ کے چند اہم مسائل
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اسلام کے پانچ بنیادی چیزوں میں سے زکوۃ ایک بنیادی فریضہ ہے ، ایک مسلمان کے لئے ان بنیادی چیزوں کا ماننا لازمی ہے اور ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرنا کفر ہے اور ایسا شخص اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ، زکوۃکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں ستر سے زائد مقامات پر زکوٰۃ اور نماز دونوں کا اکھٹا ذکر کیا گیا ہے،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کا درجہ ایک دوسرے کے مساوی اور برابر ہے، جس طرح ہر مسلمان پر پنجوقتہ نمازیں فرض ہیںجسے ہر صورت میں ادا کرنا لازمی ہے اسی طرح ہر صاحب نصاب مسلمان پر سال میں ایک مرتبہ زکوٰۃ کی ادائیگی بھی فرض ہے ،مالداری کے باوجود زکوۃ سے اعراض کرنا یا ٹھیک ٹھیک زکوۃ نہ نکالنا مجرمانہ حرکت ہے ،جس طرح نماز چھوڑنے والا سخت گناہگار ہے اسی طرح استطاعت کے باوجود زکوٰۃ نہ نکالنے والا بھی سخت گناہگار ہوگا،جس طرح نماز اور دیگر عبادات اللہ تعالیٰ کی قربت ،نزدیکی اور خوشنودی کا ذریعہ ہیں اسی طرح زکوۃ بھی اللہ تعالیٰ کی قرب اور تقرب کا وسطہ اور وسیلہ ہے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ورضامندی کا بہترین ذریعہ بتایا گیا ہے۔
زکوٰۃ کا مقصد : اپنے مال میں سے شریعت کے قاعدہ کے مطابق متعین کردہ مال کو فقراء ،مساکین اور مستحقین کو دینا ہے تاکہ ان کی ضروریات پوری ہو سکے ،زکوٰۃ سے جہاں ایک طرف مال کی محبت کم کرنا ہے ،دوسری طرف مسکینوں کی اعانت ہے وہیں تیسری طرف مال کو پاک صاف کرنا ہے جس کے بعد مال میں زیادتی ،خیر وبرکت اور پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔
زکوٰۃ کی افادیت :زکوٰۃ میں نیکی وثواب کے علاوہ افادیت کے بہت سے پہلو ہیں جس پر علماء نے تفصیلی روشنی ڈالی ہے ، ہندوستان کے معروف،معتبر، بلند پایہ ،بزرگ عالم مولانا محمد منظور نعمانی ؒ نے زکوٰۃ کی افادیت کے بنیادی تین پہلو ؤں کا کچھ اس طرح ذکر کیا ہے ، لکھتے ہیں کہ’’ایک یہ کہ مومن بندہ جس طرح نماز کے قیام اور رکوع وسجود کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنی بندگی اور تذلل ونیازمندی کا مظاہرہ جسم وجان اور زبان سے کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا ورحمت اور اس کا قرب حاصل ہو اسی طرح زکوٰۃ ادا کر کے وہ اس کی بارگاہ میں اپنی مالی نذر اسی غرض سے پیش کرتا ہے اور اس بات کا عملی ثبوت دیتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسے اپنا نہیں بلکہ خدا کا سمجھتا اور یقین کرتا ہے اور اس کی رضا اور اس کا قرب حاصل کر نے کے لئے وہ اس کو قربان کرتا اور نذرانہ چڑھاتا ہے،دوسرا پہلو زکوٰۃ میں یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ کے ضرورت مند اور پریشان حال بندوں کی خدمت واعانت ہوتی ہے ،اس پہلو سے زکوٰۃ اخلاقیات کا نہایت ہی اہم باب ہے،اور تیسرا پہلو اس میں افادیت کا یہ ہے کہ حب مال اور دولت پرستی جو ایک ایمان کُش اور نہایت مہلک روحانی بیماری ہے ،زکوٰۃ اس کا علاج اور اس کے گندے اور زہریلے اثرات سے نفس کی تطہیر اور تزکیہ کا ذریعہ ہے(معارف الحدیث ۴؍۲۰) ۔
زکوٰۃ کی فرضیت ونصاب زکوۃ:زکوٰۃ کی فرضیت کے لئے مالدار شخص یعنی صاحب نصاب کا مسلمان ،آزاد،عاقل ،بالغ اور زکوٰۃ کی فرضیت کا علم رکھنا ضروری ہے ،سونا ساڑے سات تولہ یعنی ۸۷؍ گرام ۴۸۰؍ ملی گرام اور چاندی ساڑھے باون تولہ یعنی ۶۱۲؍گرام ۳۶۰ملی گرام یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت موجود ہو ، اگر کسی کے پاس تھوڑا سونا ،تھوڑا چاندی ہے اور دونوں کو ملانے سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت بن جاتی ہے تو اس پر بھی زکوٰۃ فرض ہے ،یا کسی کے پاس کچھ سونا ،چاندی اور روپئے ہیں اور ان سب کو ملانے سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی رقم بن جاتی ہے تب بھی اس پر زکوٰۃ فرض ہے(ایضاح المسائل)۔
زکوٰۃ کے واجب ہونے کی شرطیں :نصاب کے بقدر مال کا ہونا،ضرورت اصلی سے زائد ہونا،قرض سے خالی ہونا،مال نامی کا ہونا(یعنی ایسا مال جس میں بڑھنے کی صلاحیت کا ہونا چاہے اپنی خلقت کے اعتبار سے ہو جیسے سونا چاندی یا پھر فعلی اعتبار سے جیسے مال تجارت وغیرہ)۔
وہ مال جن پر زکوٰۃ فرض ہے: روپئے پیسہ ،سونا چاندی اور مال تجارت۔
زکوٰۃ کی مقدار:کل مال کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصہ دینا ضروری ہے(شامی)۔
زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت:اگر صاحب نصاب پر پورا ایک سال گزرجائے تو اس کی زکوٰۃ کی ادائیگی واجب ہوجاتی ہے(ہندیہ)۔
درمیانی سال نصاب کے گھٹ جانے کا حکم:اگر شروع اور اخیر سال میں نصاب پورا تھا مگر درمیان سال میں اس کی مقدار میں کمی ہوتی رہی تب بھی سال کے اختتام پر جتنا مال موجود رہے ان سب پر زکوٰۃ واجب ہے ،درمیانی سال میں کمی زیادتی کا اعتبار نہیں ہوگا (مرقی الفلاح)۔
زکوٰۃ کے وجوب کے لئے ہجری کیلنڈر کا اعتبار : اداء زکوٰۃ کے وجوب کے لئے قمری سال کا اعتبار ہوگا نہ کہ شمسی سال کا (ہندیہ)۔
مال ِقرض پر زکوٰۃ کا حکم : اگر قرض لینے والا قرض سے انکار کردے اور قرض دینے والے کے پاس کوئی شرعی ثبوت نہ ہو تو ایسی صورت میں اس مال پر زکوٰۃ واجب نہیں ،اگر قرض کے واپسی کی قوی امید ہے تو پھر اس پر زکوٰۃ واجب ہے البتہ اختیار ہے کہ زکوٰۃ اداکردے یا پھر رقم ملنے کے بعد زکوٰۃ ادا کرے (ہندیہ)۔
قرض کی رقم میں زکوۃ کی نیت کا حکم: پہلے سے چڑھے قرضہ کو مقروض پر سے زکوۃ کی مد میں کاٹ لینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے وقت یازکوۃ میں دئے جانے والے مال کو جدا (الگ) کرتے وقت زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے ،کوئی مال کسی کو دینے کے بعد نیت کا اعتبار نہیں( دارالافتاء بنوری ٹاؤن)۔
گروی رکھے ہوئے زیورات کا حکم: گروی(رہن) رکھے ہوئے زیورات کی زکوۃ نہ تو راہن(گروی رکھوانے والے) کے ذمہ واجب ہے اور نہ ہی مرتہن(جس کے پاس زیور گروی ہے) کے ذمہ ،کیونکہ زکوۃ کے وجوب کے لئے مال زکوۃ کی ملکیت اور اس مال پر قبضہ دونوں حاصل ہونا شرط ہے ( ہندیہ)۔
زکوۃ کی رقم کسی ایک مستحق کو دینے کا حکم: زکوۃ دینے والے کو اختیار ہے چاہے تو ایک ہی مستحق کو اپنی زکوۃ کی پوری رقم دے یا زکوۃ کی رقم کو متعدد مستحق میں تقسیم کرے البتہ کسی ایک مستھق کو بلاضرورت زکوۃ کی اتنی رقم دینا کہ وہ خود صاحب نصاب بن جائے مکروہ ہے۔
زکوۃمیں کس مقام کی قیمت کا اعتبار ہوگا: زکوٰۃ کی ادائیگی میں مال زکوٰۃ کی وہ قیمت معتبر ہوگی جہاں مال ہے( شامی)۔
زکوٰۃ کا حکم :زکوٰۃ مسلمان مالدار سے لی جائے گی اور مسلمان غریب ہی کو دی جائے گی(ترمذی:۶۴۹)۔
زکوٰۃ کے مصارف:قرآن مجید میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں ،ارشاد باری تعالیٰ ہے:إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوبُہُمْ وَفِیْ الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّہِ وَاللّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (توبہ :۶۰)’’ خیرات (زکوٰۃ ) کا مال تو صرف فقیروں اور مسکینوں اور زکوٰۃ کی وصولی کرنے والوں اور جن کا دل ملانا مقصود ہے اور غلاموں اور قرابت دا روں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور مسافروں کے لئے ہے اور یہی اللہ کا قانون ہے بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا حکیم ہے ۔‘‘ زکوٰۃ کے جملہ یہ آٹھ مصارف ہیں ، مالِ زکوٰۃ ان میں سے کسی ایک یا چند پر خرچ کرنا ضروری ہے ،چونکہ ’’غلام ‘‘ کا اب وجود باقی نہیں نیز حنفیہ کے یہاں ’’ مؤلفۃ القلوب‘‘ بھی منسوخ ہے،ان دونوں کو چھوڑ کر اب کل چھ مصارف باقی رہ جاتے ہیں ،وہ یہ ہیں (۱)’’ فقیر‘‘ وہ شخص جو بالکل نادار ہو۔ (۲)’’ مساکین‘‘جس کے پاس سامان ِ کفایت کا کچھ حصہ ہو ،لیکن پورا نہیں اور ابھی اس کی حاجت باقی ہو۔(۳)’’عاملین‘‘ جن کو زکوٰۃ وعشر وغیرہ کی وصولی کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔(۴)’’ مقروض ‘‘ جو صاحب نصاب ہو لیکن اس پر لوگوں کے اتنے قرض ہوں کہ ان کو ادا کرے تو صاحب نصاب باقی نہ رہے۔(۵) ’’ فی سبیل اللہ ‘‘ احناف کے یہاں اس سے خصوصیت کے ساتھ وہ اہل حاجت مراد ہیں جو جہاد،دینی تعلیم کے حصول میں لگے ہوئے ہو ں ۔(۶)’’ مسافر ‘‘ وہ لوگ جو اصلاً زکوٰۃ کے حقدار نہ ہوں ،لیکن سفر کی حالت میں ضرورت مند ہو گئے ہوں ،یہ اتنا ہی لیں جتنا کہ کام چل جائے (کتاب الفتاویٰ :۳؍۲۸۴ تا ۲۸۶)۔
سعادات کیلئے زکوٰۃ کاحکم :رسول اللہ ؐ نے بنوہاشم یعنی سادات پر زکوٰۃ حرام قرار دیا ہے ،آپ ؐ نے فرمایا’’ان الصدقۃ لا تحل لنا‘‘ (ترمذی :۶۵۷) اس لئے سادات کو زکوٰۃ نہیں دی جائے گی، البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ واقعتاً خاندان سادات سے ہو، اگر کسی شخص کے پاس شجرہ نسب محفوظ ہے یا پر کھوں سے اس کا خاندان سید خاندان کے طور پر مشہور ہے تو یہ بھی قرینہ سادات میں سے ہونے کا ہے،رہے وہ لوگ جن کے پاس نہ تو شجرہ ہے اور نہ ہی قدیم سے ان کا خاندان سید خاندان کے طور پر مشہور ہے تو پھر انہیں سید نہیں کہاجائے گا اس طرح کے لوگ اگر سید کہیں یا لکھیں ،لہذا اگر کوئی شخص انہیں زکوۃ کی رقم دے تو شرعاً یہ ممنوع نہ ہوگا بہ شرطے کہ وہ غریب اور مستحق ہوں ، عظیم فقیہ ومحدث استاذ محترم حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری ؒ سابق شیخ الحدیث وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند نے تحفۃ الالمعی میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مشکوک سیدوں کو زکوۃ دینا جائز ہے سب کو نہیں( جلد۳ص ۵۷۴) ۔
اپنےخاندان میں زکوۃ دینے کا حکم :اپنے اصول( والدین،دادا ،دادی، نانا،نانی وغیرہ) اور فروع (اولاد اور ان کی نسل یعنی پوتا،پوتی،نواسہ ،نواسی وغیرہ ) کو اور اسی طرح میاں بیوی کا ایک دوسرے کو زکوۃ دینا جائز نہیں ہے،اس کے علاوہ دیگر رشتہ دار مثلا بھائی ،بہن،چاچا، پھوپی،ماموں ،خالہ وغیرہ اور ان کی اولاد کو زکوۃ دینا جائز ہے (بشرطیکہ زکوۃ کے مستحق ہوں) (دارالافتاء بنوری ٹاؤن)۔ بلکہ محتاج رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا زیادہ بہتر ہے ،اس صورت میں دوہرا اجر حاصل ہوگا ،ایک زکوٰۃ کی ادائیگی کا ،دوسرے صلہ رحمی کا،لیکن بعض لوگ زکوٰۃ کو صرف اپنے رشتے داروں تک ہی محدود کر لیتے ہیں یہ نا مناسب اور اسلامی اخوت کے خلاف ہے ۔
گداگری کا پیشہ اختیار کرنے والوں کو زکوٰۃ دنیا : غرباء ومساکین میں بعض تو وہ ہیں جنہوں نے گدا گری کو پیشہ بنالیا ہے ، صحت مند وتندرست ہیں اورقوت بازو سے کماکر کھا نے کی قوت رکھتے ہیں پھر بھی بھیک مانگتے رہے ہیں ،ایسے لوگوں کے لئے زکوٰۃ حلال نہیں،رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا:زکوٰۃ حلال نہیں ہے غنی( مالدار) اور تندرست وتوانا کے لئے(ترمذی:۶۵۴) اور دوسرے وہ فقیر اور مسکین ہیں جو شرم وحیا کی وجہ سے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرتے ہیں ،در اصل یہی حقیقی فقیر ومسکین ہیں اور امداد کے صحیح حقدار بھی ہیں ،رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا’’اصل مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس سائل بن کر جاتا ہے اور ایک دو لقمے یا ایک دو کھجور لے کر لوٹتا ہے بلکہ حقیقی مسکین وہ ہے جس کے پاس ضرورت پوری کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں اور لوگ اس کے حال کو جانتے بھی نہیں اور اس کا حال یہ ہے کہ غیرت وشرم کی وجہ سے لوگوں سے سوال بھی نہیں کرتا (بخاری:۱۴۷۹) ۔
حقیقی مستحق تک زکوٰۃ کا پہنچانا ضروری :مالدار اور صاحب نصاب لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ رشتہ داروں،پڑوسیوں ، محلہ کے مستحق لوگوں پر نظر ڈالیں ساتھ ہی ان محلوں کا جائزہ لیں جہاں باضمیر مستحق غرباء ومساکین رہتے ہیں اور ان تک امداد پہنچانے کی کوشش کریں، سہولت کی خاطر کسی بھی فرد کو زکوٰۃ دے دینا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے ،اس سے حقیقی مستحق محروم ہوجاتے ہیں ،اگر تلاش کے باوجود حقیقی مستحق تک رسائی ممکن نہ ہو تو پھر ان دینی ،فلاحی اور رفاہی تنظیموں کے حوالے کر سکتے ہیں جن کی امانت داری ودیانت داری پر آپ کو اطمینان حاصل ہے،چونکہ یہ حضرات محلہ محلہ سروے کر تے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں حقیقی مستحقین کا بخوبی علم رہتا ہے۔زکوٰۃ دے کر احسان نہ جتائیں: زکوٰۃ دے کر ہر گز احسان نہ جتائیں بلکہ لینے والے کا احسان مانیں کہ اس کی وجہ سے آپ کا ایک اہم فریضہ ادا ہوا ہے، زکوٰۃ دے کر احسان جتانا گویا مال کماکر دریا میں ڈالنا ہے ،بعض لوگ بڑا شور شرابہ کر کے زکوٰۃ تقسیم کرتے ہیں ، یہ غریبوں کے ساتھ ایک طرح کا مذاق ہے ،گرچہ صدقات واجبہ علانیہ دینے کی بھی اجازت ہے ،اس سے دوسروں کو ترغیب اور حوصلہ ملتا ہے، بد گمانی دور ہوتی ہے ، لیکن زکوٰۃ دیتے وقت کوئی ایسا طریقہ اپنا نا نہیں چاہیے کہ جس سے ریا ونمود کی بو مہکنے لگے ،اس سے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں ،دراصل اعمال کی قبولیت کا مدار اخلاص وللہیت پر ہی موقوف ہے۔
زکوۃ کی رقم تھوڑی تھوڑی ادا کرنے کا حکم:سال مکمل ہونے پر زکوۃ کا حساب کرنے کے بعد جلد ازجلد زکوۃ ادا کر دینی چاہئے البتہ یک مشت زکوۃ ادا کرنا چوں کہ شرعاً ضروری نہیں ہے اس لئے تھوڑی تھوڑی کرکے ادا کرنے کی اجازت ہے لیکن زکوۃ ادا کرنے میں بلاعذر تاخیر کرنا مکروہ ہے،اگر سال سے زیادہ بلاعذر تاخیر کی تو ایک قول کے مطابق گناہگار ہوگا ،یاد رہے کہ زکوۃ ایک دینی فریضہ ہے اس سے جلد سبکدوشی افضل ہے،نیز زکوۃ کا مقصد غریب کی ضرورت پوری کرنا ہے جو کہ فوری ہے اس لئے زکوۃ بھی فوری ادا کر دینی چاہئے تاکہ غریب کی حاجت بروقت پوری ہوسکے۔( دارالافتاء بنوری ٹاؤن)۔
دینی مدارس کو زکوٰۃ دینا دوہرا ثواب : اسی طرح مصارف زکوٰۃ میں مدارس دینیہ بھی شامل ہیں ، مدارس دینیہ کی اہمیت ،ضرورت اور افادیت سے امت مسلمہ اچھی طرح وقف ہے ،یقینا مدارس کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے اور رہے گی ، مدارس دینیہ کی بڑی خوبی ہے کہ وہ بے حد کم وسائل اور نہایت قلیل آمدنی کے باوجود ان کالجس اور یونورسیٹیوں سے کہیں زیادہ بہتر خدمات انجام دے تے ہیں جن کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں،مدارس دینیہ اور ان میں پڑھنے ،پڑھانے والوں کو ملک کی سرحدوں اور اس کی حفاظت پر مامور سپاہیوں سے تشبیہ دی گئی ہے ،مدارس اور ان میں پرھنے ،پڑھانے والے دینی سر حدوں کے محافظ اور امین ہیں، یہ حضرات دین متین کی حفاظت میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیںاور دشمنان اسلام کا ہر محاز پر مقابلہ کر تے ہیں،آج ہر طرف اسلام دشمن طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں، جدید وسائل کی کنجی ان کے ہاتھوں میں ہے ،اسلام پرہر روز نیاوار کیا جا رہا ہے ،ان حالات میں تو مدارس دینیہ اور علماء کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، امت کو ان مدارس اسلامیہ اور علماء کے شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ اتنی بڑی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لئے ہوئے ہیں ،یہ تعلیم دین، تبلیغ دین کے ساتھ حفاظت دین کا اہم فریضہ انجام دے رہیں ،یقینا غرباء ،مساکین،مستحقین اور دینی ضروریات میں مال ودولت کا خرچ کرنا بہت بڑی سعادت اور دنیا وآخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے ،خدا کی راہ میں اور اس کے حاجت مند بندوں پر خرچ کرنے والوں کے لئے خدا ئے بزرگ وبرتر کی طرف سے مسرت کا پیغام ہے ،رسول اللہؐ نے فرمایاکہ ’’ ہر بندے کو اللہ تعالیٰ کا پیغام ہے کہ اے آدم کے بیٹے !تو (میرے ضرورت مند بندوں پر) اپنی کمائی خرچ کر ،میں اپنے خزانہ سے تجھ کو دیتا رہوں گا( بخاری:۵۰۳۷)۔
رمضان میں زکوٰۃ کا حکم: چونکہ رمضان المبارک جسے نیکیوں کا سیزن کہا جاتا ہے ،ماہِ مبارک میں خدا ئے رحمن کی طرف سے بندوں کو نیکیاں کمانے کے خوب مواقع فراہم کئے جاتے ہیں، اعلان ہوتا ہے نفل پر فرض کا ثواب اور فرض پر ستر فرضوں کا ثواب دیا جائے گا ، ماہ مقدس میںاہل ایمان کے لئے روزہ اور نماز تراویح ،دیگر نوافل ، ذکر واذکار، تلاوت قرآن، مناجات کے علاوہ خیر خیرات کرتے ہوئےغریبوں ،مسکینوں اور بے کسوں وبے بسوں کی مددکے ذریعہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کما ئی جاسکتی ہیں اور اس کے ذریعہ خدا کو راضی کیا جاسکتا ہے ۔
وضاحت:واضح رہے کہ زکوۃ کے واجب ہونے کا تعلق زکوۃ کا سال مکمل ہونے سے ہے نہ کہ رمضان المبارک سے،یعنی جس شخص کی ملکیت میں پہلی مرتبہ جس وقت نصاب کے برابر مال آئے ،چاند کی تاریخوں کے اعتبار سے ٹھیک اس کے ایک سال بعد اگر اس کے پاس نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال موجود ہو تو زکوۃ واجب ہوجاتی ہے ،خواہ وہ کوئی بھی مہینہ ہو، لہذا حسابات میں اس کا لحاظ رکھنا چاہئے ،البتہ رمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں زکوۃ کا سال پورا ہونے کے باوجود رمضان میں ادائیگی کی جا سکتی ہے (دارالافتاء بنوری ٹاؤن)۔
رمضان میں زکوٰۃ ادا کرنے کے فائدے : اکابر امت نے رمضان المبارک میں زکوٰۃ نکالنے کے بہت سے فوائد بیان کئے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں (۱) چونکہ یہ مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے ،ہر سو رحمتوں وعنایتوں کی ہوائیں چلتی رہتی ہیں ،جس میں صاحب ایمان کے لئے نیکیوں کی طرف بڑھنا دیگر مہینوں کے مقابلہ میں زیادہ سہل ہوجاتا ہے ، اور پھر مسلمان کے لئے ایک فرض (روزہ)کی ادائیگی کے ساتھ دوسرا فرض(زکوٰۃ) ادا کرنا بھی آسان ہوجاتا ہے ، (۲) زکوٰۃ کے سلسلہ میں سال متعین کرنے کے لئے یگر مہینوں کے مقابلہ میںرمضان المبارک زیادہ موضوع اور مناسب ہے ،کیونکہ اس مہینہ میں لوگ فرائض ،واجبات اور نوافل پر کثرت سے عمل پیرا ہوتے ہیں ،(۳) دیگر مہینوں کے مقابلہ میں اس ماہ میں زکوٰۃ کا ثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے ۔ایک اہم گزارش: جن اشخاص کو اللہ تعالیٰ نے صاحب حیثیت ، صاحب ثروت بنایا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ انہیں دینے والوں میں سے بنایا ہے نہ کہ لینے والوں میں سے ،سال گزرنے پر سونا ،چاندی ،نقدی رقم یا جن مالوں میں تجارت کی نیت کی ہے اور اگر تاجر ہیں تو سامان تجارت کا مکمل حساب لگاکر اس کی زکوٰۃ اداکریں ،بعض لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے ،بعض لوگ اندازے سے زکوٰۃ مکالتے ہیں یہ عمل بھی درست نہیں ہے ،بعض لوگ زکوٰۃ میں معمولی قسمکی چیزیں دیتے ہیں یہ بھی نامناسب ہے ،زکوٰۃ میں رقم دے دی جائے تو بہتر ہے کیونکہ اس سے ضرورت مند اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکتا ہے اور اگر سامان کی شکل میں دیں تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ایسی چیزیں دی جائے جو ان کے لئے زیادہ ضروری ہو اور اس میں عمدہ چیزوں کا خیال رکھیں ،بعض لوگ ایسی چیزیں دیتے ہیں جس سے اس کی فی الفور ضرورت پوری نہیں ہوپاتی اور اس کے باوجود اس کی محتاج گی باقی رہتی ہے ۔
Like this:
Like Loading...