Skip to content
تقدیس و تکفیر کے حصار میں سیاست
مشرقِ وسطیٰ کا بحران
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
عالمی سیاست کے موجودہ ہنگامہ خیز عہد میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، بلکہ ذہنوں اور دلوں کے میدان میں بھی برپا ہوتی ہیں۔ توپ و تفنگ کی گھن گرج سے پہلے بیانیوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے، اور گولی چلنے سے قبل لفظ چلائے جاتے ہیں۔ خبر، تجزیہ اور تبصرہ اب محض معلومات نہیں رہے؛ یہ رائے سازی کے ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایسے میں سچ اور تاثر، تحقیق اور پروپیگنڈا، خبر اور بیانیہ ان سب کے درمیان خطِ امتیاز دھندلا ہوتا جارہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا حالیہ منظرنامہ اسی پیچیدہ صورتِ حال کا عکاس ہے۔ علاقائی رقابتیں، عالمی طاقتوں کے مفادات، انٹیلی جنس سرگرمیاں اور سوشل میڈیا کی تیز رفتار ترسیل یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے رہے ہیں جس میں ہر واقعہ فوری طور پر نظریاتی خانوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ کوئی بھی خبر سامنے آتے ہی اس پر عقیدت اور عداوت کے رنگ چڑھ جاتے ہیں، اور یوں ایک سیاسی معاملہ مذہبی تقدیس یا تکفیر کا عنوان اختیار کر لیتا ہے۔
اس تحریر کا مقصد نہ کسی فریق کی وکالت ہے اور نہ کسی کی مذمت؛ بلکہ یہ دعوت ہے کہ موجودہ کشیدگی کو جذباتی وابستگیوں کے بجائے سیاسی حکمت، تاریخی شعور اور تحقیقی دیانت کی روشنی میں سمجھا جائے۔ کیونکہ جب قومیں بیانیوں کے جال میں الجھتی ہیں تو اصل حقائق پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں، اور وہ قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں جو خاموشی سے بساط بچھا رہی ہوتی ہیں۔
یہ مضمون اسی پس منظر میں ترتیب دیا گیا ہے تاکہ واقعات، دعوؤں اور الزامات کے شور میں ایک سنجیدہ، متوازن اور معروضی زاویۂ نظر سامنے آسکے؛ اور قاری جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے شعور کی روشنی میں حالات کا جائزہ لے سکے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا "Force Multiplier” کا کردار ادا کرتا ہے۔ جذباتی ویڈیوز، ادھوری خبریں، اور یک طرفہ تجزیے لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس طرح مذہبی جذبات کو ابھار کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوگیا ہے۔ سیاسی بحران کو تقدیس اور تکفیر کے پیمانوں میں نہ تولنا۔ کیونکہ جیسے ہی کوئی ریاست یا نظام مقدّس بنا دیا جاتا ہے، تنقید کفر اور حمایت ایمان بن جاتی ہے اور یہی تقسیم کسی بھی معاشرے کو فکری طور پر مفلوج کرسکتی ہے۔
موجودہ منظرنامہ محض عسکری یا سفارتی کشاکش کا نام نہیں، بلکہ بیانیوں کی ایک ایسی جنگ بھی ہے جس میں الفاظ بارود کا کام دے رہے ہیں۔ ایک طرف وہ گروہ ہے جو عمومی طور پر "مدخلی” کہلاتا ہے؛ ایک ایسا فکری دھارا جو اپنی تعبیرِ سیاست کو دینی اطاعت کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرتا ہے اور خلیجی ریاستوں پر ہونے والے ہر حملے کو ایک مخصوص زاویۂ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کے نزدیک ان ریاستوں پر کوئی ضرب دراصل پورے خطے کے استحکام پر ضرب ہے، اور اس پر اضطراب فطری امر ہے۔ دوسری طرف ایک حلقہ ایسا ہے جو ایرانی نظام کو ایک خاص تقدّس کے ہالے میں پیش کرتا ہے، گویا وہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریۂ مقدّس ہے۔ اس گروہ کے ہاں سیاسی اختلاف محض اختلاف نہیں رہتا بلکہ عقیدت و عداوت کی دو انتہاؤں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جو بھی تنقید کرے وہ "دشمنِ مقاومت” قرار پاتا ہے، اور جو دفاع کرے وہ "حامیِ حق” کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔
یہ دونوں انتہائیں ایک خالص سیاسی بحران کو مذہبی رنگ دے کر سوشل میڈیا کی فضا کو مزید مکدر کررہی ہیں۔ جذبات کی یہ آتش فشانی حقائق کے سنجیدہ مطالعے کو دھندلا دیتی ہے۔ حالانکہ اگر اس پورے قضیے کو سیاسی بصیرت، علاقائی مفادات اور بین الاقوامی طاقتوں کی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر کہیں زیادہ واضح اور قابلِ فہم نظر آتی ہے۔ آج ایک چونکا دینے والی خبر منظرِ عام پر آئی کہ قطر اور سعودی عرب میں سیکورٹی فورسز نے موساد کے ایجنٹوں کو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتار کیا۔ وہ اگر درست ہے تو خطے کی سیاست میں ایک نہایت سنگین موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ عناصر شہری مراکز میں بم دھماکے کرکے اس کا الزام ایران پر ڈالنے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ اگر ایسا ہے تو یہ محض ایک تخریبی کارروائی نہیں بلکہ "پرچمِ دروغ” (False Flag) حکمتِ عملی کا شاخسانہ ہے یعنی ایک فریق کی کارروائی کو دوسرے کے سر منڈھ کر جنگ کے دائرے کو وسیع کرنا۔
بین الاقوامی سیاست میں "False Flag Operations” کوئی نیا تصور نہیں۔ اس کی کلاسیکی مثال 1939ء کا Gleiwitz Incident ہے، جب نازی جرمنی نے پولینڈ پر حملے کا جواز پیدا کرنے کے لیے خود ساختہ کارروائی کا ڈرامہ رچایا۔ اس واقعے کو بعد میں متعدد مؤرخین نے منظم ریاستی فریب کاری قرار دیا۔ عصرِ حاضر میں بھی انٹیلی جنس جنگ (Intelligence Warfare) کا دائرہ وسیع ہوچکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی نیٹ ورکس، سائبر حملے، ڈرون آپریشنز اور میڈیا لیکس کے ذریعے بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں اگر کسی واقعے کی فوری نسبت کسی مخصوص ملک سے جوڑی جائے تو ایک محقق کے لیے لازم ہے کہ وہ "Cui Bono?” (کسے فائدہ؟) کا سوال اٹھائے۔
اسی تناظر میں کل سعودی آرامکو کی ریفائنری بیس پر ہونے والا ڈرون حملہ بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ فوری طور پر انگلیاں ایران کی طرف اٹھانا سیاسی عجلت تو ہوسکتی ہے، مگر تحقیقی دیانت نہیں۔ خود ایران نے باقاعدہ اعلان کیا کہ آرامکو پر اس کی جانب سے کوئی حملہ نہیں کیا گیا، اور الزام تراشی کے بجائے دیگر امکانات کی بھی چھان بین کی جائے۔ سفارتی زبان میں یہ بیان نہ صرف دفاعی ہے بلکہ ایک دعوتِ تحقیق بھی ہے۔ سعودی آرامکو پر 2019ء میں ہونے والے حملوں کے بعد بھی ذمّہ داری اور تکنیکی شواہد پر عالمی سطح پر بحث ہوئی تھی۔ امریکہ اور سعودی عرب نے ایران کو موردِ الزام ٹھہرایا، جب کہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی بعض ابتدائی رپورٹس میں اسلحہ کے ماخذ پر مکمل حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا تھا۔ یہ مثال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جدید جنگ میں Attribution (یعنی کسی حملے کی ذمہ داری کا تعین) ایک پیچیدہ تکنیکی و سیاسی عمل ہے، جس میں انٹیلی جنس، سیٹلائٹ ڈیٹا، اور سفارتی مفادات سب شامل ہوتے ہیں۔
موساد مشرقِ وسطیٰ کی سب سے فعال خفیہ ایجنسیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کی کارروائیوں پر متعدد تحقیقی کتب اور رپورٹس شائع ہوچکی ہیں، مثلاً رونن برگمین کی کتاب Rise and Kill First، جس میں اسرائیلی خفیہ آپریشنز کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اسرائیلی اسٹریٹجک فکر میں "Periphery Doctrine” کا تصور بھی اہم رہا ہے یعنی عرب ریاستوں کے اندرونی تضادات سے فائدہ اٹھانا اور غیر عرب قوتوں یا اقلیتی گروہوں کے ساتھ روابط رکھ کر اپنے لیے اسٹریٹجک گنجائش پیدا کرنا۔ اگر خطے کی بڑی طاقتیں براہِ راست ٹکرا جائیں تو اسرائیل کو اس سے سفارتی اور اسٹریٹجک فائدہ پہنچ سکتا ہے، کیونکہ عالمی توجہ ایران۔خلیج تصادم پر مرکوز ہوجائے گی۔ اس پورے کھیل میں موساد کا نام سامنے آنا کسی معمولی بات کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ خطے کی سیاست میں اسرائیلی حکمتِ عملی کا ایک معروف پہلو یہ رہا ہے کہ وہ براہِ راست تصادم کے بجائے بالواسطہ کشیدگی کو بڑھاوا دے، تاکہ مخالفین آپس میں الجھ جائیں اور وہ پسِ منظر میں رہ کر اپنے مقاصد حاصل کرے۔
اگر خلیجی ریاستیں اور ایران براہِ راست تصادم میں الجھ جائیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ اسی فریق کو ہوگا جو خود میدان سے باہر رہ کر شطرنج کی بساط بچھا رہا ہے۔ ایران اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات 1979ء کے انقلاب کے بعد سے نظریاتی اور جغرافیائی سیاست (Geopolitics) کے امتزاج سے متاثر رہے ہیں۔ انقلابِ ایران کے بعد خطے میں طاقت کے توازن (Balance of Power) کا سوال شدّت اختیار کرگیا۔ اسی طرح سعودی عرب خود کو خلیجی اور عرب دنیا کی قیادت کا فطری امیدوار سمجھتا ہے، جب کہ قطر نے پچھلے دو عشروں میں اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے ذریعے ایک الگ شناخت قائم کی ہے۔ ان باہمی رقابتوں کے بیچ کوئی تیسرا فریق کشیدگی کو ہوا دے تو اس سے خطہ فوری طور پر عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔
یہ طریقۂ کار نیا نہیں۔ عراق کی جنگ کے دوران بھی اس نوع کے واقعات منظر عام پر آئے تھے، جب عربی جبے پہن کر دھماکہ خیز مواد کے ساتھ افراد کی گرفتاریوں کی خبریں آئیں، مگر کچھ ہی عرصے بعد وہ خبریں خاموشی کے دبیز پردوں میں گم ہوگئیں۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جنگ صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی؛ بیانیوں، افواہوں اور میڈیا کی سرخیوں میں بھی اس کی دھار چھپی ہوتی ہے۔ عراق کی 2003ء کی جنگ سے قبل "Weapons of Mass Destruction” کا بیانیہ عالمی سطح پر پیش کیا گیا۔ بعد میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا، مگر اس وقت تک جنگ ہوچکی تھی۔ یہ واقعہ جدید تاریخ میں انٹیلی جنس معلومات کے سیاسی استعمال کی ایک بڑی مثال سمجھا جاتا ہے۔ اسی پس منظر میں اگر کسی خطے میں اچانک تخریبی کارروائیاں ہوں اور فوراً کسی ایک ملک کو ذمّہ دار ٹھہرایا جائے تو ایک سنجیدہ محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ شواہد کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
اس بحث کو منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھانے کے لیے چند بنیادی سوالات کو ایک فکری تسلسل کے ساتھ ترتیب دیا جانا چاہیے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کسی بھی حملے کی ذمّہ داری کے تعین میں بین الاقوامی سطح پر کون سے معیارات اور طریقۂ کار اختیار کیے جاتے ہیں؟ کیا محض سیاسی بیانات کافی ہوتے ہیں، یا تکنیکی شواہد، انٹیلی جنس رپورٹس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور آزادانہ تحقیقات کو بھی فیصلہ کن اہمیت دی جاتی ہے؟ اس مرحلے پر "الزام” اور "ثبوت” کے درمیان فرق کو واضح رکھنا ناگزیر ہے۔ دوسرا اہم پہلو خطے میں طاقت کے توازن (Balance of Power) کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ میں کن قوتوں کا اثر و رسوخ بڑھا ہے اور کن کا کم ہوا ہے؟ علاقائی اتحاد، دفاعی معاہدے، معاشی روابط اور عسکری تیاریوں نے اس توازن کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟ اس سوال کا جواب موجودہ کشیدگی کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
تیسرا نکتہ اسرائیل، ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان جاری بالواسطہ یا پراکسی کشمکش سے متعلق ہے۔ کیا مختلف ممالک میں سرگرم مسلح گروہوں، سائبر حملوں، ڈرون کارروائیوں اور خفیہ آپریشنز کو اس بالواسطہ جنگ (Proxy Conflict)کے شواہد کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے؟ اگر ہاں، تو ان واقعات کی نوعیت اور تسلسل کیا بتاتا ہے؟ چوتھا اور نہایت اہم سوال میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار کا ہے۔ روایتی ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کس حد تک ریاستی بیانیوں کی توسیع بن چکے ہیں؟ کیا اطلاعات کی ترسیل غیر جانب دارانہ ہے، یا مخصوص مفادات کے تحت بیانیہ سازی (Narrative Building) کا عمل جاری ہے؟ عوامی رائے کی تشکیل میں ان ذرائع کا اثر کس قدر گہرا اور فوری ہوچکا ہے؟
ان سوالات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ محض ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ سیاسی حکمتِ عملی، علاقائی طاقت کے توازن، خفیہ سفارت کاری اور بیانیاتی جنگ کا پیچیدہ مجموعہ ہے۔ یہی جامع زاویۂ نظر ہمیں جذباتی ردِّعمل سے نکال کر سنجیدہ اور معروضی تجزیے کی طرف لے جاتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک سیاسی بحران کو تقدیس اور تکفیر کے پیمانوں سے ناپنے لگتے ہیں۔ سیاست مفادات کی دنیا ہے، جہاں ریاستیں نظریات سے زیادہ اپنے قومی مفاد کے تابع فیصلے کرتی ہیں۔ ریاستیں مفادات کے تابع چلتی ہیں، تقدیس کے تابع نہیں۔ ایران ہو یا سعودی عرب، قطر ہو یا کوئی اور ملک سب اپنی سلامتی، بقاء اور اثر و رسوخ کے تناظر میں اقدامات کرتے ہیں۔ انہیں مقدّس یا مطلق شیطانی قرار دینا حقیقت کی پیچیدگیوں سے آنکھیں بند کرلینا ہے۔
لہٰذا ناگزیر ہے کہ ہم اس کشمکش کو مذہبی تعصبات کی عینک سے نہیں، بلکہ سیاسی بصیرت اور تاریخی شعور کی روشنی میں دیکھیں۔ اسے جذباتی وابستگیوں کے بجائے معروضی حقائق اور سنجیدہ تجزیے کی بنیاد پر پرکھا جائے، یہی علمی دیانت کا تقاضا ہے۔
جذبات کی آگ کو ہوا دینے کے بجائے تحقیق، توازن اور اعتدال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ جب قومیں بیانیوں کے جال میں الجھ جاتی ہیں تو اصل کھلاڑی خاموشی سے اپنی چالیں چل چکے ہوتے ہیں۔ اور جب بیانیہ حقیقت پر غالب آجاتا ہے تو تاریخ کے اوراق اکثر لہو کی سیاہی سے رقم ہوتے ہیں۔
موجودہ حالات کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ خطے میں کشیدگی ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ کشیدگی کو سمجھنے کے بجائے اسے نعرہ بنا دیا گیا ہے۔ بیانیوں کے اس ہجوم میں سنجیدہ آوازیں دب جاتی ہیں اور تحقیق جذبات کے شور میں کھو جاتی ہے۔ ایسے میں سب سے پہلی ذمّہ داری اہلِ قلم، اہلِ دانش اور باشعور طبقات پر عائد ہوتی ہے کہ وہ لفظ کو بارود نہ بننے دیں بلکہ روشنی بنائیں۔ سیاسی اختلاف کو مذہبی عقیدت یا عداوت کا درجہ دینا کسی بھی معاشرے کے فکری توازن کو تباہ کر دیتا ہے۔ جب ہم ریاستوں کو مقدّس اور مخالفین کو مطلق شیطان قرار دے دیتے ہیں تو دراصل ہم اپنے تجزیاتی شعور کو محدود کر لیتے ہیں۔ سیاست مفادات، توازنِ قوت اور حکمتِ عملی کی دنیا ہے؛ اسے ایمان و کفر کے خانوں میں تقسیم کرنا نہ تاریخ سے انصاف ہے اور نہ حال سے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جدید جنگیں کثیر الجہتی ہوتی ہیں۔ ایک طرف عسکری طاقت، دوسری طرف سفارت کاری؛ ایک جانب انٹیلی جنس آپریشنز، تو دوسری جانب میڈیا اور سوشل میڈیا کی یلغار۔ ایسے میں ہر خبر کو فوری یقین یا فوری انکار کی عینک سے دیکھنا دانشمندی نہیں۔ تحقیق، شواہد اور معروضی تجزیہ ہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو جذباتی انتشار سے بچا سکتا ہے۔ ہمیں یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں، اور تنقید غداری نہیں۔ اگر معاشرے میں سوال اٹھانے کی روایت ختم ہوجائے تو غلط بیانیہ آسانی سے سچ کا لباس اوڑھ لیتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم ہر دعوے کو دلیل کے ترازو پر تولیں، ہر الزام کو ثبوت کی کسوٹی پر پرکھیں اور ہر تجزیے کو وسیع تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جو قومیں بیانیوں کے سحر میں گرفتار ہو جاتی ہیں، وہ اکثر حقیقت کے میدان میں پسپا ہو جاتی ہیں۔ اور جب جذبات شعور پر غالب آجائیں تو فیصلے وقتی تسکین تو دیتے ہیں، مگر طویل المدت نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا اس تمام بحث کا حاصل یہی ہے کہ ہم سیاسی بحرانوں کو مذہبی تعصبات کے آئینے میں نہیں بلکہ عقل، توازن اور تاریخی آگہی کی روشنی میں دیکھیں۔ یہی علمی دیانت ہے، یہی فکری ذمّہ داری ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں شور سے نکال کر شعور کی سمت لے جا سکتا ہے۔
🗓 (04.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Like this:
Like Loading...