Skip to content
ظریفانہ: دشمنِ اعظم کون ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن رامپوری نے کلن کانپوری سے پوچھا یار ہمارے ملک میں یہ نیتن یاہو کا راج تلک کرکے اس کا ہون کرنے والا جگت گرو پرم ہنس کون پیدا ہوگیا؟
تم تپسوی چھاونی کے پیٹھادھیشور کو نہیں جانتے ۔ اسی نے شنکراچاریہ سے کہا تھا کہ اگر یوگی سے معافی نہیں مانگی تو ایودھیا میں گھسنے نہیں دیں گے ۔
للن نے کہا اچھا اب سمجھا ۔ سرکاری سادھو ہے ۔ اب جیسی سرکار ویسا اس کا سوامی ۔ تو کیا شنکر اچاریہ اوی مکتیشور آنند نے معافی مانگ لی؟
کلن بولا کیا بکتے ہو؟ انہوں نے تو یوگی کے خلاف دھرم یدھ چھیڑ دیا ۔ ۱۱؍ مارچ کو وہ یوگی کی لنکا لگانے کے لیے لکھنو پہنچ رہے ہیں۔
للن نے پھر سوال کیا اچھا ایک بات بتاو ہمارے یوگی مہاراج کا سب سے بڑ ادشمن کون ہے؟
کلن بولا یہ سوال جمن گورکھپوری پوچھتا تو بات سمجھ میں آتی لیکن ایک رامپوری کی زبان سے اسے سن کر حیرت ہے۔
بھائی ایسا ہے کہ میں بھی اعظم خان کوہی ان کا عظیم ترین حریف سمجھتا تھا لیکن اپنے یوپی کے نئے جہاد نے مجھے شک و شبہ میں مبتلا کردیا ہے۔
بلڈوزر بابا کے ہوتے کس کی مجال ہے جو یہاں جہاد کرے ؟
ارے بھیا کسی اور کی جرأت نہ ہو تب بھی خود ان کو کون روک سکتاہے ۔ انہیں روکنے کی مجال تو امیت شاہ میں بھی نہیں ہے۔
مجھے پتہ ہے کہ شاہ کی شہنشاہی یوپی میں نہیں چلتی مگر یوگی بابا کا جہاد نہیں ہاں دھرم یُدھ ضرور ہوسکتاہے ۔ ویسے تم کس جہاد کی بات کررہے ہو؟
وہی ’ڈبکی جہا د‘ جو شنکر آچاریہ اویمکتیشور آنند نے چھیڑ رکھا ہے۔ میں اسی کی بات کررہا ہوں ۔
یار کلن ایک بات بتاو کیا تم کو ڈبکی جہاد کی اصطلاح کچھ اٹ پٹی سے نہیں لگتی؟
جی نہیں، ابھی نہیں لگتی کیونکہ ’لوجہاد ‘ اور ’تھوک جہاد‘ جیسی بے شمار اوٹ پٹانگ اصطلاحات نے ہمیں ہر طرح کے جہاد کا عادی بنادیا ہے ۔
جی ہاں مگر شنکر آچاریہ کی جدوجہد کو بھی ہمیں جہاد کے بجائے دھرم یُدھ کا نام دینا چاہیے۔
دیکھو بھیا کلن تم جو چاہے نام دے دو لیکن اس سے کام نہیں بدلتا ۔ میری تو سوچ یہ ہے کہ ہمارے خلاف ہونے والا ہر کام جہاد ہے۔
وہ بھی درست ہے اس لحاظ سے شنکر آچاریہ کا احتجاج بھی جہاد ہی ٹھہرے گا لیکن شنکرآچاریہ کو پریاگ راج میں ’ڈبکی‘ لگانے سے روکاکس نےتھا ؟
اچھا تو پھر انہوں نے ماگھ میلے کے مقدس موقع پر ڈبکی لگا کر اپنے پاپ دھونے کے بجائے یوگی کے خلاف یہ مہا پاپ کیوں کردیا؟
ارے بھیا کلن تم نے بھی ان کی عقیدت میں انہیں مہاپاپی بنا دیا ۔
گودی میڈیا کی طرح اپنے الفاظ میرے منہ میں نہ ڈالو ۔ میں انہیں مہاپاپی نہیں مہا پرتاپی (بڑی جلال والا) سمجھتا ہوں ۔
اچھا تو پھر یہ کیوں کہہ رہے ہو کہ انہوں نے مہاپاپ کردیا ؟ انتظامیہ تو انہیں پالکی کے بجائے پیدل چل کر اشنان کو جانے کے لیے کہہ رہا تھا۔
ارے بھائی طنز بھی نہیں سمجھتے خیر، ان کا الزام ہے کہ انہیں قتل کرنے کی خاطر پالکی سے اتارا جارہا تھا ۔
یار وہ کچھ بھی بولتے ہیں اور تم اس کو دوہرانے کا پاپ کرتےرہتے ہو۔ یوگی جیسا مہا پوروش ایک شنکر آچاریہ کو کیسے قتل کروا سکتا ہے ؟
دیکھو بھیا ہرین پنڈیا اور جسٹس لویا کے بعد تو لوگ کہنے لگے ہیں کہ ہر کسی کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔
کلن بھائی میں تو سمجھتا ہوں کہ قتل و غارتگری کی واردات کسی بڑے اور ٹھوس فائدے کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ تو اس میں کس فائدہ ہے؟
اتر پردیش کے اندر یوگی کے خلاف زبان کھولنے سے بڑا پاپ کوئی اور نہیں ہے اور جو کوئی اس کی جرأت کرے چاہے وہ شنکر آچاریہ ہی کیوں نہ ہو۰۰۰
تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟ اتر پردیش کے رام راجیہ میں مذہب پر سیاست غالب آچکی ہے؟ کیا اب سناتن دھرم راج دربار کی لونڈی بن گیا ہے؟
کلن گھبرا کر بولا ایسی بات نہیں میرے کہنے کا مطلب ہے شنکر آچاریہ جی کو غلط فہمی ہوگئی ۔ اس سنگین الزام کے لیےکیا ان کے پاس کیا کوئی ثبوت ہے؟
ارے بھائی کیا تم نے ان کے ساتھ والے بچوں کی چوٹی پکڑ کر پٹائی اور بوڑھوں کو بری طرح زدو کوب کرنےوالی ویڈیو نہیں دیکھی ؟
جی ہاں بھائی سچ بتاوں وہ دیکھ کر میرا دل بھی بہت رویا مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ خود شنکر آچاریہ کے ساتھ بھی بدسلوکی ہو سکتی تھی ؟
ارے بھیا انہیں سادے لباس میں انتظامیہ کے لوگ گھیرے ہوئے تھے اور کچھ اونچ نیچ کرکے عقیدتمندوں کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہتے تھے۔
یہ ناممکن ہے۔ یوگی کی زندگی سناتن کے لیے وقف ہے ان کے ہوتے کوئی شنکر آچاریہ کا بال بیکا نہیں کرسکتا ۔
اچھا ! تو ان کے ساتھیوں پر حملہ کیوں ہوا؟ اور جنھوں نے یہ حرکت کی ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ کیاوہ سب سرکار کے ایماء پرہوا؟
دیکھو للن سمجھتے کیوں نہیں؟ انتظامیہ کی حوصلہ شکنی سے بچنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔
اچھا مگر شنکر آچاریہ پر ان کے جعلی ہونے کا الزام اور سرکاری نوٹس کیا ان کی توہین نہیں ہے؟کیا اس سے بچنا ضروری نہیں ہے؟؟
کلن بولا یارمگر اس گرفتاری سے ہندو دھرم کی کتنی بے عزتی ہوگی ۔
للن نے تائید میں کہا ہاں بھیا پہلے ہی آسا رام باپو سے لے کر رام رحیم تک کئی لوگ جنسی الزامات میں جیل کے اندر ہیں۔
اب یار جیسی کرنی ویسی بھرنی کا تو قدرتی قانون ہے ۔ اس سے کوئی کیسے بچ سکتا ہے؟
ارے بھیا یہی سلسلہ چلتا رہا تو ہر بھگوا دھاری سادھو کو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھیں گے ۔ سناتنی کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے ۔
بھائی اگر کوئی اپنے چہرے پر خود ہی کالک پوت لے تو اس کاکیا جائے ؟ قانون کی حکمرانی سے ملحدین یا مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
قانون کا یکساں اطلاق بھی تونہیں ہوتا۔ کسی کے خلاف پانچ سال تک فرد جرم نہیں آتی اور کسی کو آئے دن پیرول پر ضمانت مل جاتی ہے۔ یہ کیا چکر ہے؟
یار بال کی کھال نہ نکالو کیا سمجھے؟ جج ونود کمار چورسیا نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی تقاضوں کے مطابق جانچ کا حکم دیا ہے۔
مگر سرکار نے مخالفت نہیں کی ۔ اس کا مطلب ہے یوگی ان دونوں کو جیل بھیجنا چاہتے ہیں ۔ ایسی بھی کیا رقابت؟
بھائی کچھ کہا نہیں جاسکتا میں تمہارے پہلے سوال کی جانب آتا ہوں ۔ یوگی بابا نے اعظم خان پر ذاتی طور کے مقدمے لگائے اور خوب پریشان کیا ۔
جی ہاں یونیورسٹی کے لیے سستی زمین لینا ، پیدائش سرٹیفکیٹ پر غلط تاریخ اور بھینس چوری وغیرہ ۔ یہ ناقابلِ یقین معمولی نوعیت کے الزامات ہیں ۔
وہی میں کہہ رہا تھا کہ ان الزامات کے سبب مسلمانوں یا اسلام کا کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ اعظم خان مذہبی رہنما نہیں ہیں ۔
ہاں بھیا اس نئی لڑائی میں تو سناتن دھرم کی بدنامی ہورہی ہے جو نہایت خطرناک ہے۔ ویسے اعظم خان تو کئی مقدمات سے بری بھی ہوگئے ۔
جی ہاں وہ تو اگلے الیکشن میں سماجوادی کی حکومت آتے ہی بری ہوجائیں گے مگر کیا ان گھناونے الزامات میں شنکر آچاریہ جیل میں سڑیں گے ؟
بھیا اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا سنگھ پریوار اور آر ایس ایس خاموش تماشائی بنا رہے گا ؟
دیکھو بھائی مانو یا نہ مانوبی جے پی کی بلا شرط حمایت اب آر ایس ایس کی مجبوری بن گئی ہے اور وہ یوگی یا مودی کے خلاف زبان نہیں کھولے گا ؟
یار سو برس کی محنت پر ایسے پانی پھرے گا ۔ ایسا کس نے سوچا تھا؟
خیر یہ بتاو کہ تمہیں اپنے سوال کا جواب ملا کہ نہیں ۔ یوگی بابا کا دشمن اعظم کون ہے ؟
بھیا مجھےتو ڈر لگ رہا ہے اگر شنکر آچاریہ کے آشرم پر خواتین کے جنسی استحصال کے بدلے یوگی کا بلڈوزر چل گیا تو ہم کیسے کسی کو منہ دکھا پائیں گے ۔
ہاں یا ر لوگ اگر یہ پوچھیں گے پوسکو معاملے سے برج بھوش کو تو بچا لیا گیا اور شنکر آچاریہ کو پھنسا دیا گیا تو ہم کیا جواب دیں گے؟
ہم کیوں جواب دیں ؟ اس کا جواب تو یوگی بابا کو دینا پڑے گا۔ وہ جو بولیں گے ہم دوہراتے رہیں گے۔
ارے وہ کیا بولیں گے ۔ وہ تو شنکر اچاریہ کے آشرم پر پولس کو بھیج کر غیر ملکی دورے پر بھاگ کھڑے ہوئے بزدل کہیں کے؟
ایسا ہے تو انہوں نے جنگ سے پہلے ہار مان لی ہے ۔ وہ اس دھرم یدھ میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔
جی ہاں اگلے انتخاب میں انہیں ایک برہمن ووٹ نہیں ملے گا۔ اسی لیے برجیش مشرا پر امید ہوگئے ہیں ۔
ارے بھیا جب کمل ہی نہیں کھلے گا تو یوگی سمیت پاٹھک اور موریہ سب کا ڈبہ گُل ہوجائے گا۔
تب تو ہمارے حالات بنجامن نیتن یاہو سے بھی خراب ہونے والے ہیں اس لیے پرم ہنس کو یوگی کے لیے ہون کرنا چاہیے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...
1 thought on “ظریفانہ: دشمنِ اعظم کون ؟”