Skip to content
اعتکاف ۔۔۔۔۔۔فضائل اور مسائل !
ازقلم:مفتی احمد عبدالحسیب تنویر قاسمی
لغوی معنی: اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے، جم جانے اور خود کو کسی چیز پر روک لینے کے ہیں۔
جیسے کوئی شخص کسی ذمہ دار یا عہدہ دار شخص کے پاس اپنے کسی کام کو بنانے کے لیے مسلسل لگا رہے اس کے پاس جا کر چپک کر بیٹھ جائے کہ جب تک میرا کام نہیں ہو جاتا اسی کام میں لگا رہوں گا اور اپنے اپ کو اسی کام میں مصروف رکھوں گا ۔۔۔۔اور تجربے کی بات یہ ہے کہ دنیا داروں کے پاس جن میں سے اکثر و بیشتر بڑے ظالم اورجابر ہوتے ہیں ان کے پاس بھی نہ ہونے والے کام ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔
شرعی اصطلاح: اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی اور عبادت کے لیے نیت کے ساتھ روزے رکھتے ہوۓ مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف کہلاتا ہے۔
اللہ تعالی تو یہی چاہتے ہیں کہ بندے اپنی ساری ضرورتوں کے لیے اللہ تعالی سے رجوع کریں ۔۔۔اعتکاف کسی بھی طرح کا ہو اللہ سے امید لگا کر بیٹھ جانا کہ میرا یہ کام ہوگا اللہ ہی سے۔۔۔۔ یہ ادا اللہ تعالی کو بہت زیادہ پسند اتی ہے ۔۔۔۔۔
حضرات فقہاء کرام نے اعتکاف کی قسمیں بیان فرمائی ہیں
اعتکاف نفل :اس کے لیے نہ رمضان کی قید ہے نہ زیادہ دیر تک مسجد میں رہنے کی قید ہے جتنی بھی دیر مسجد میں رکنے کا موقع مل جائے نیت کر لے کہ میں نفل اعتکاف کے ارادے سے مسجد میں رکتا ہوں اس کا مسجد میں داخل ہونے سے باہر نکلنے تک کا وقت اعتکاف نفل کہلاتا ہے جیسے کوئی مسجد میں داخل ہوتے وقت میں یوں دعا پڑھ لے بسم اللہ دخلت وعلیہ توکلت ونویت سنت الاعتکاف کہ میں اللہ کے نام سے مسجد میں داخل ہوتا ہوں اور میں بھروسہ اللہ تعالی کی ذات پر کرتا ہوں اور میں نے سنت (نفل )اعتکاف کی نیت کی ہے ۔۔۔۔۔۔
اعتکاف واجب : کسی شخص نے اپنے کسی کام کے ہونے کی نذر مانتے ہوئے اللہ تعالی سے یوں کہا کہ میرا یہ کام ہو جائے گا تو میں اعتکاف بیٹھوں گا ایک دن دو دن تین دن یا اس سے زیادہ کا ۔۔۔۔ یہ اعتکاف واجب کہلاتا ہے اس کے لیے بھی رمضان کی قید نہیں ہے غیر رمضان میں بھی یہ اعتکاف ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ اعتکاف واجب سے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا احادیث میں مذکور ہے
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:” يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْفِ نَذْرَكَ فَاعْتَكَفَ لَيْلَةً”.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا، یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات کا مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنی نذر پوری کرو۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات بھر اعتکاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتكاف/حدیث: 2042
اعتکاف مسنون :رمضان المبارک کے اخری عشرے میں مرد حضرات اس مسجد میں جس میں پانچوں نمازیں جماعت کے ساتھ ہوتی ہوں اور عورتیں اس کمرے میں جس میں پاکی اور صفائی کا زیادہ اہتمام ہوتا ہو جس میں روزانہ کی نمازیں پڑھتی ہوں اس کمرے میں اعتکاف کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
حضرات علماء کرام نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ نفلی اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں ہے۔۔۔۔ اعتکاف واجب اور اعتکاف مسنون کے لیے روزہ شرط ہے بغیر روزے کے یہ اعتکاف صحیح نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔
اعتکاف واجب کا وقت :کسی شخص نے نذر مانی کہ میرا یہ کام ہو جائے گا تو ایک دن دو دن یا اس سے کچھ زیادہ کا اعتکاف کروں گا جیسے ہی وہ کام ہو جائے فی الفور اس پر اعتکاف میں بیٹھنا واجب ہو جائے گا جتنا جلد ہو سکے واجب اعتکاف کے لۓ بیٹھ جانا چاہیے ۔۔۔۔
اعتکاف مسنون کا وقت:سنت اعتکاف کا وقت رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو سورج غروب ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے، اس لیے معتکف کو بیسویں روزے کا سورج غروب ہونے سے پہلے نیت کرکے اعتکاف کی جگہ میں داخل ہونا ضروری ہے ۔۔۔۔
اعتکاف مسنون پوری بستی والوں پر کفایہ ہے کہ پوری بستی والوں میں سے کوئی بھی اعتکاف کر لے سب کی طرف سے وہ ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے اور کوئی بھی شخص پوری بستی والوں میں سے اعتکاف کے لیے نہیں بیٹھتا تو ساری بستی والے گنہگار ہوں گے ۔۔۔۔۔
اعتکاف مسنون کرنے والا زبان حال سے یوں کہتا ہے اللہ تعالی سے کہ میرے سارے حالات اپ کے سامنے ہیں وہ سارے حالات کو بدل دیجئے میری ضرورتوں کی تکمیل کر دیجئے میری اور میرے ماں باپ کی مغفرت فرما دیجئے اخرت کی ذلت اور رسوائی سے بچا لیجئے اور میرے کاروبار میں خیر و برکت ڈال دیجئے بیوی بچوں کو انکھوں کی ٹھنڈک دل کا سکون بنا دیجئے صحت سلامتی عافیت کی زندگی نصیب فرمائیے جب تک زندہ رہوں ایمان پر اسلام کی حالت میں اعمال کے شوق کے ساتھ زندہ رکھیے اور جب بھی موت کا وقت ائے کلمہ طیبہ زبان پر جاری فرمائیے عافیت کی موت نصیب فرمائیے وغیرہ ۔۔۔۔
جیسا کہ اپ جانتے ہیں دنیا کے ظالم اور جابر عہد دار شخص کے پاس مسلسل چپک جائے کہ میرا کام جب تک ہوگا نہیں میں نہیں جاتا تو دنیا کے ظالم اور جابر بادشاہ یا ذمہ دار، عہدہ دار کسی سے پیچھا چھڑانے کے لیے اس کا وہ کام کر دیتے ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ۔۔۔۔۔اور اللہ تعالی احکم الحاکمین ہیں بندوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اللہ کی محبت کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی بندوں کے معاملے میں دنیا میں ویسی محبت اور ہمدردی کی کوئی نظیر نہیں پیش کی جا سکتی اس سے زیادہ محبت اللہ تعالی بندوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔۔۔۔کوئی شخص اللہ کے در پر بیٹھ گیا اس امید کے ساتھ کہ میرا کام تو اللہ ہی بنانے والے ہیں۔۔۔ اور مسلسل چپکا ہوا ہے چوکھٹ پر اللہ کے۔۔۔۔ دس دن تک مسلسل بیٹھا ہوا ،افطار کر رہا، سحری کر رہا ،نمازیں پڑھ رہا ایک کیفیت ہے اس کے دل میں کہ میں اعتکاف میں ہوں تو اللہ تعالی کو کیا رحم نہیں ائے گا ؟ اس بندے کی ان اداؤں پر ۔۔۔۔ضرور بالضرور رحم ائے گا اور اس کی ساری مرادوں کو اللہ تعالی اپنے فضل سے عافیت کے ساتھ پورا فرمائے گا ۔۔۔۔
وہ اللہ تو ایسا ہے جب بندہ مانگتا ہے اس کو خوشی ہوتی ہے نہیں مانگتا اللہ تعالی غصے میں ا جاتے ہیں ناراض ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
حدیث شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ لَمْ يَسْأَلْهُ يَغْضَبْ عَلَيْهِ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوتا ہے۔“ ۔۔۔۔۔
اعتکاف کے معاملے میں حد درجے کوتاہی……
کاموں کو بنانے کے لیے اپنی دنیا سنوارنے کے لیے اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے ہم کیا کچھ نہیں کرتے ہر وہ کام کرتے ہیں جو کام ناممکن جیسےہوتے ہیں ان کاموں کو بھی کرتے ہیں اپنی دنیا سنوارنے کے لیے۔۔۔۔ اور پھر ضروری نہیں ہے اتنی ساری تدبیروں کے بعد بھی ہمارا کوئی کام ہماری مرضی کے مطابق ہوجاے ۔۔۔یہ بھی طے ہے کہ کوئی دنیا میں کسی کا ہمدرد اور خیر خواہ عام طور پر نہیں ہوتا اپنے افیسر کو منانے اپنے علاقے کے ایم پی کو منانے اپنے علاقے کے ایم ایل اے کو منانے اپنے علاقے کے کونسلر کو منانے مالدار کو منانے نہ جانے کن کن کو منانے کی کیا کیا تدبیریں ہم لوگ نہیں کرتے۔۔۔۔ اور اگر نہیں کرتے ہیں تو اللہ کو منانے کی تدبیریں نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔ اور ہر وقت یہی شکوہ ہوتا ہے کہ ہمارے کام نہیں بنتے کب ہوںگے ہمارے کام۔۔۔۔ اپ اللہ سے مانگ کر تو دیکھیں ۔۔۔پھر دیکھیں اللہ تعالی کیا کیا کرتے ہیں اور کیسے کیسے کرتے ہیں وہ سارے کام۔۔۔۔۔ مرادوں ارزوؤں تمناؤں اور خواہشوں کو پوراکرنے والے صرف اللہ ہیں ۔۔۔۔اپ کے رکے ہوئےجتنے کام ہیں جس کے بارے میں اپ کی امیدیں ہیں کہ میرا یہ کام ہوگا تو یہ ہوگا اور یہ کام نہیں ہوگا تو میرا نقصان ہوگا ۔۔۔۔۔یاد رکھیں دنیا والا کوئی اپ کا کام نہیں بناتا بنانے والی ذات تو صرف اللہ تعالی کی ہے۔۔۔۔ُ
اعتکاف میں جب بندہ بیٹھ جاتا ہے امید لگا کر تو اللہ تعالی اس کی امید کے اعتبار سے فیصلے فرماتے ہیں ۔۔۔۔بہت سارے لوگ اعتکاف بیٹھتے ہیں اس میں بھی ان کی نیتوں میں کھوٹ ہوتا ہے اس لیے ان کے کام نہیں بنتے ورنہ اللہ تعالی تو کام بنانے والے ہیں ۔۔۔اعتکاف سے اللہ خوش ہوتے ہیں پھر کسی کا کام اگر نہیں بن رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اس کی نیت میں کھوٹ اور نقص ہے
اعتکاف بیٹھنے والے کی یہ سوچ ہونی چاہیے کہ
اعتکاف میں اللہ تعالیٰ کے گھر میں قیام کرکے باری تعالیٰ کے تقرب کے حصول کا موقع ہے،دنیا سے منہ موڑنا اور رحمتِ خداوندی کی طرف متوجہ ہونا اور باری تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کی حرص کرنا ہے ۔ اور معتکف کی مثال ایسے بیان فرمائی گئی ہے گویا کوئی شخص کسی کے در پر آکر پڑجائے کہ جب تک مقصود حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک نہیں لوٹوں گا، معتکف اللہ کے در پر آکر پڑجاتاہے کہ جب تک رب کی رضا اور مغفرت کا پروانہ نہیں مل جاتا وہ نہیں جائے گا، ایسے میں اللہ کی رضا ومغفرت کی قوی امید بلکہ اس کے فضل سے یقین رکھنا چاہیے۔۔۔۔۔
چنانچہ اعتکاف کے بارے میں علامہ خراسانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ
ومواظبة النبي صلى الله عليه وسلم عليه دليل كونه سنة في الأصل؛ ولأن الاعتكاف تقرب إلى الله تعالى بمجاورة بيته والإعراض عن الدنيا والإقبال على خدمته لطلب الرحمة وطمع المغفرة، حتى قال عطاء الخراساني: مثل المعتكف مثل الذي ألقى نفسه بين يدي الله تعالى يقول: لا أبرح حتى يغفر لي؛ ولأنه عبادة لما فيه من إظهار العبودية لله تعالى بملازمة الأماكن المنسوبة إليه.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر مستقل عمل اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اصل میں سنت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلوت اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے اس کے گھر کے قریب رہ کر، دنیا سے منہ موڑ کر، اور اس کی بندگی پر توجہ مرکوز کرکے رحم حاصل کرنے اور بخشش کی امید رکھ کر۔ عطاء خراسانی رحمہ اللہ نے کہا: تنہائی اختیار کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اور کہتا ہے: میں اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک وہ مجھے معاف نہ کر دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک عبادت ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالی کی طرف منسوب جگہوں پر رہ کر اس کی بندگی کا مظاہرہ کرنا شامل ہے۔
اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں اور ميں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے۔
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُ، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا، اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً».
[صحيح مسلم: 2675]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق کام کرتا ہوں اور ميں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے جی میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی مجلس میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں ایسی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو اس سے بہتر ہوتی ہے۔ جو ایک بالشت میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ اُس کے قریب آتا ہوں، جو ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے میں دو ہاتھ اُس کے قریب آتا ہوں، اور جب وہ ميری طرف چلتا ہوا آتا ہے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں“
رمضان المبارک کے دس دن کا اعتکاف دو حج دو عمروں کے برابر کا ثواب رکھتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِی رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَيُنِ وَ عُمْرَتَيُنِ.
’’جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔‘‘
بيهقی، شعب الإيمان، باب الاعتکاف، 3: 425
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہتمام کے ساتھ رمضان کے اخری عشرے کا اعتکاف فرمایا
«أن النبي صلى الله عليه وسلم، كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله
نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنو ں کااعتکاف کیاکرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کووفات دے دی۔
صحيح البخاري (3/ 51):
ایک اور حدیث شریف میں ہے
كان النبي صلى الله عليه وسلم «يعتكف في كل رمضان عشرة أيام، فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوماً»”.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہررمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے ،لیکن جو آپ کی وفات کاسال تھا توآپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔۔۔۔۔
اعتکاف کرنے والا بہت سارے گناہوں سے بچ جاتا ہے اور بہت ساری نیکیاں حاصل کر لیتا ہے حدیث شریف میں ہے
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في المعتكف: «هو يعكف الذنوب، ويجرى له من الحسنات كعامل الحسنات كلها»”.
نبی کریم ﷺ کاا رشاد ہے : کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لیے نیکیاں اتنی ہی لکھی جاتی ہیں جتنی کہ کرنے والے کے لیے ۔۔۔۔
اعتکاف کا حقیقی مقصد شب قدر کو تلاش کرنا ہے اس لیے کہ شب قدر میں عبادت کی توفیق کا مل جانا ایک ہزار مہینوں سے زیادہ عبادت کرنے کے ثواب کا مستحق ہونا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اعتکاف سے متعلق ارشاد فرمایا
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعتكف في العشر الأوسط من رمضان، فاعتكف عاماّ، حتى إذا كان ليلة إحدى وعشرين، وهي الليلة التي يخرج من صبيحتها من اعتكافه، قال: «من كان اعتكف معي، فليعتكف العشر الأواخر، وقد أريت هذه الليلة ثم أنسيتها، وقد رأيتني أسجد في ماء وطين من صبيحتها، فالتمسوها في العشر الأواخر، والتمسوها في كل وتر»، فمطرت السماء تلك الليلة وكان المسجد على عريش، فوكف المسجد، فبصرت عيناي رسول الله صلى الله عليه وسلم على جبهته أثر الماء والطين، من صبح إحدى وعشرين”.
حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں :کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کے پہلے عشرہ میں اعتکاف فرمایا اور پھر دوسرے عشرہ میں بھی ، پھر ترکی خیمہ سے جس میں اعتکاف فرمارہے تھے، سر باہر نکال کرارشاد فرمایا :کہ میں نے پہلے عشرہ کااعتکاف شبِ قدر کی تلاش اور اہتمام کی وجہ سے کیا تھا ،پھر اسی کی وجہ سے دوسرے عشرہ میں کیا ، پھر مجھے کسی بتلانے والے (یعنی فرشتہ )نے بتلایا کہ وہ رات اخیر عشرہ میں ہے ۔ لہٰذا جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف کررہے ہیں وہ اخیر عشرہ کا بھی اعتکاف کریں ۔ مجھے یہ رات دکھلا دی گئی تھی پھر بھلا دی گئی ،(اس کی علامت یہ ہے کہ) میں نے اپنے آپ کو اس رات کے بعد کی صبح میں گیلی مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا، لہٰذا اب اس کو اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔ راوی کہتے ہیں :کہ اس رات میں بارش ہوئی اور مسجد چھپر کی تھی وہ ٹپکی اور میں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کی پیشانی مبارک پر کیچڑ کا اثر اکیس(۲۱ویں ) کی صبح کو دیکھا ۔
معلوم ہواکہ اعتکاف کی عبادت کے ذریعے شبِ قدر کا حصول متوقع ہے۔۔۔۔۔
اعتکاف کرنے والے کے لیے اللہ تعالی جنت کا مستحق بناتے ہیں اور جہنم سے اس شخص کے درمیان تین خندقیں بناتے ہیں ۔۔حدیث شریف کے الفاظ اس طرح ہیں
عن ابن عباس
عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من مشى في حاجة أخيه كان خيراً له من اعتكاف عشر سنين، ومن اعتكف يوماً ابتغاء وجه الله جعل الله بينه وبين النار ثلاث خنادق، كل خندق أبعد مما بين الخافقين»”
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اپنے بھائی کے کسی کام میں چلے پھرے اور کوشش کرے اس کے لیے دس برس کے اعتکاف سے افضل ہے ، اور جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کی رضا کے واسطے کرتا ہے تو حق تعالیٰ شانہٗ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرمادیتے ہیں جن کی مسافت آسمان اور زمین کی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے۔بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 108)
حقیقت اعتکاف: اعتکاف کی حقیقت اپنے رب کے ساتھ خلوت نشیں (تنہائی میں وقت گزارنا) ہونا ہے۔
جو لوگ اعتکاف بیٹھنے کا معمول بنائے ہوئے ہیں ان سے معلوم کیجئے اعتکاف کی لذت ۔۔۔۔رات کے سناٹے میں روز مرہ کی غیر ضروری الجھنوں سے ازاد ہو کر رب کریم کی چوکھٹ کو پکڑ کر دس دن میں کیا کچھ نہیں مانگ سکتے اور کیا کچھ اللہ کو نہیں منوا سکتے ؟۔۔۔۔۔
دنیا کی مصروفیات سے نکلنے میں شیطان حائل ہوتا ہے شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ کسی طرح اپ دنیا کی ہماہمی میں مشغولیات میں مرتے دم تک رہیں کبھی اپ کو اپنی مغفرت مانگنے کے لیے اور اللہ کو منانے کے لیے وقت ہی نہ نکلے ۔۔۔۔یہ دنیا اور دنیا کی مصروفیات سے اپنے اپ کو نکالنا چاہیے ۔۔۔۔۔اپنی دنیا اور اپنی اخرت کو سنوارنے کے لیے سال میں اگر دس دن کا وقت نکالا گیا اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی کے لیے بہت ممکن ہے ہمارے رکے ہوئے کام بھی اللہ تعالی انجام دے دیں اور بہت ممکن ہے ہماری مغفرت کے فیصلے ہو جائیں اور اللہ کے مقرب بندوں میں ہمارا شمار ہو جائے ۔۔۔۔
اعتکاف سے متعلق کچھ اہم اور ضروری مسائل ۔۔۔۔۔
ہر محلہ کی مسجد میں اعتکاف کرنا اہلِ محلہ کے ذمے سنتِ مؤ کدہ علی الکفایہ ہے، اگر تمام محلہ والوں میں سے کوئی بھی اس سنت کو ادا نہ کرے تو سب اس سنت کے چھوڑنے والے اور گناہ گار ہوں گے۔۔۔۔۔
سنت اعتکاف کا وقت رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو سورج غروب ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے، اس لیے معتکف کو بیسویں روزے کا سورج غروب ہونے سے پہلے نیت کرکے اعتکاف کی جگہ میں داخل ہونا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص بیس رمضان کو سورج غروب ہوتے ہی اعتکاف میں نہ بیٹھ سکا، بلکہ اگلے دن یعنی اکیسویں رمضان سے اعتکاف کرتاہے تو یہ مسنون اعتکاف نہیں کہلائے گا، بلکہ یہ نفلی اعتکاف ہوگا۔
معتکف وضو كرنے كے ليے مسجد سے باهر نكلے تو اس کے لیے وضو سے پہلے يا اس كے دوران هي جلدی سے صابن سے هاتھ، منہ دھولینے کی گنجائش ہے، البتہ خاص ہاتھ ، منہ دھونے کے لیے باہر نکلنا یا وضو کرنے کے بعد اس کے لیے رکنا جائز نہیں ہوگا، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
اگر معتکف پر غسلِ جنابت واجب ہوجائے تو اس کے لیے مسجد سے باہر نکل کر مسجد ہی کے حمام میں غسل کرنا ضروری ہے۔ لیکن صرف گرمی کی وجہ سے یا جمعہ کے غسل کے لیے مسجد سے باہر نکل کر معتکف کے لیے غسل کرنا جائز نہیں ہے، اس سے اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔
درج ذیل امور سے واجب اور مسنون اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے:
١۔ کسی طبعی یا شرعی عذر کے بغیر مسجد سے باہر نکلنا۔
٢-روزہ نہ رکھنا یا توڑدینا۔
٣۔ حالتِ اعتکاف میں مباشرت کرنا۔
٤۔ عورت اعتکاف میں ہو تو حیض و نفاس کا جاری ہو جانا۔
٥۔ کسی عذر کے باعث اعتکاف گاہ سے باہر نکل کر ضرورت سے زیادہ ٹھہرنا۔۔۔۔۔
# بعض جگہ دیکھا گیا کہ کسی غریب شخص کو یا کسی ضرورت مند شخص کو کچھ پیسے دے کر اعتکاف کے لیے بٹھاتے ہیں یوں سمجھتے ہوئے کہ پوری بستی والوں کی طرف سے یہ شخص مسنون اعتکاف ادا کر دے گا اور اس کے عوض میں کچھ پیسے دے دیں گے اس طرح بٹھانے سے پوری قوم پر جو کفایہ اعتکاف واجب تھا وہ باقی رہے گا اور اعتکاف کا حقیقی ثواب ہرگز کسی کو بھی نہیں مل سکتا ۔۔۔۔۔۔
# ضروری نہیں ہے کہ وہی شخص رمضان المبارک کے اخری دس دن کا اعتکاف بیٹھے جس نے شروع مہینے سے روزے رکھے ہوں کسی وجہ سے چاہے وہ مسافر رہا یا بیمار رہا یا اور کوئی شرعی عذر کی وجہ سے روزے اس نے نہیں رکھے اور پھر 20 رمضان المبارک سے روزے رکھتے ہوئے اعتکاف بیٹھنے کی خواہش رکھتا ہے تو اس کو شرع نے اجازت دی ہے ایسے شخص کا اعتکاف کے لیے بیٹھنا صحیح ہے ۔۔۔۔۔
# خالص اعتکاف کے ارادے سے کسی دور کی مسجد میں جا کر بیٹھنا ضروری نہیں ہے اس میں گھر والوں کے لیے دشواری ہے افطار اور سحر کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے ۔۔۔۔البتہ کسی جگہ اکابر علماء بزرگان دین یا اللہ والے اعتکاف بیٹھ رہے ہیں ان کے ساتھ اجتماعی اعتکاف کا موقع مل جائے اور وہاں پر کھانے پینے کی ضرورتوں کا نظم اسانی کے ساتھ ہو رہا ہو تو ضرور بالضرور ان اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھ کر اعتکاف میں کچھ چیزیں سیکھ لینا چاہیے اس کو نعمت سمجھنا چاہیے اپنے لیے۔۔۔۔
# عام دنوں میں مسجد میں کھانے پینے ارام کرنے سے منع کیا گیا ہے اس لیے کہ کھانا پینا اور دیگر باتیں بشری تقاضے ہیں ۔۔۔۔مگر اعتکاف کی اہمیت کے پیش نظر اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ معتکف اعتکاف کے دوران مسجد میں کھائے گا پیے گا سوئے گا ۔۔معتکف کی ذمہ داری ہے کہ مسجد کو پاک اور صاف رکھنے کی فکر کرے ۔۔۔کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تو دسترخوان ضرور بچھائے ۔۔۔۔لیٹنے یا سونے کی طبیعت چاہے تو اپنا بستر اپنی کوئی چادر بچھا کر اس پر لیٹے ۔۔۔۔جہاں تک ہو سکے خوب عبادتوں میں لگا رہے ذکر و اذکار قران پاک کی تلاوت چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا ۔۔اللہ تعالی کے سامنے ندامت توبہ اور استغفار ۔۔عاجزی اور انکساری کا مجسمہ بن جائے ۔۔۔جو موقع اللہ تعالی نے عطا فرمایا پھر دوبارہ زندگی میں ملے یا نہ ملے اس لیے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ تعالی کو بہرحال کسی طرح منانے کی فکر میں جٹا رہے ۔۔۔۔
# ضرورت کے تحت اپنے بیوی بچوں سے ماں باپ بھائی بہنوں سے خیر خبر کے لیے فون پر گفتگو کرنے کی اجازت ہے مگر لمبے لمبے فونوں پر نہ رہنا اچھا ہے ۔۔۔۔
# اگر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کامسنون اعتکاف ٹوٹ جائے کسی عذر کی وجہ سے جیسے عورت کو ناپاکی دن شروع ہوگۓ یا مرد کی طبعیت خراب ہو گئی علاج کے لیے دوا خانے کو جانے کی غرض سے مسجد سے نکلا یا ایسی کوئی ہنگامی صورتحال پیش اگئی کسی مرد یا عورت کے ساتھ تو صرف اُس ایک دن کی قضا واجب ہوتی ہے جس دن کا اعتکاف ٹوٹا ہے، پھر ایک دن کی قضا چاہے رمضان میں کرے یا رمضان کے بعد روزے کے ساتھ کرے دونوں صورتیں صحیح ہیں، ایک دن کی قضا میں رات اور دن دونوں کی قضا لازم ہوگی۔۔۔۔
# ویسے عورت کو اپنی ناپاکی کے ایام کا اندازہ ہوتا ہے اگر ناپاکی کے ایام اعتکاف کے دنوں میں ارہے ہیں تو بہتر یہ ہے کہ وہ اعتکاف ہی نہ بیٹھے چونکہ اس کی نیت درست ہے۔۔۔ اعتکاف نہ بیٹھنے کے باوجود امید ہے اللہ تعالی کی ذات سے ثواب عطا فرما دیں گے ۔۔۔۔اسی طرح مرد بھی اگر صحت اس کی درست نہیں ہے تو صحت کا خیال رکھتے ہوئے اعتکاف نہ بیٹھے اس لیے کہ اعتکاف بیٹھنے کے بعد اعتکاف توڑنا اچھی بات نہیں ہے ۔۔۔۔
اعتکاف کا حقیقی مقصد ہی یہ ہے کہ دنیا کی دیگر الجھنوں سے، مسائل سے ازاد ہو کر اللہ تعالی کے در پر پڑے رہنا کہ مجھے جو لینا ہے یہیں سے لے کر رہوں گا یہ اعلی درجے کا اعتکاف ہے ۔۔۔۔
# بعض کاروباری لوگوں کے کاروبار میں سے 10 دن تک مسلسل غیر حاضر رہنے سے کاروبار کے نقصانات کا امکان ہوتا ہے ایسے لوگوں کے لیے فقہاء کرام نے سہولت دی ہے کہ
اعتکاف کی حالت میں ضروری اشیاء (کھانا، کپڑے وغیرہ) کی خرید و فروخت مسجد میں لائے بغیر زبانی طور پر کرنا جائز ہے۔ البتہ، تجارتی مقاصد کے لیے خرید و فروخت کرنا یا سامان مسجد میں لانا مکروہِ تحریمی (ناجائز) ہے۔ اعتکاف کا مقصد اللہ کی عبادت کے لیے یکسوئی ہے، اس لیے دنیاوی تجارت سے اجتناب لازم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اعتکاف میں کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔
مسنون اعتکاف میں روزہ رکھنا بھی شرط ہے، معتکف کو چاہیے کہ اعتکاف میں پنج وقتہ فرض نمازیں باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادائیگی کا اہتمام کرے، تراویح اور وتر کی جماعت میں از اول تا آخر شریک رہے، قرآنِ کریم کی تلاوت، استغفار اور درود شریف کی کثرت کرے، دیگر اذکار، نوافل (تہجد، اشراق، چاشت اور صلاۃ التسبیح وغیرہ)، دعا کا بھی اہتمام کرے، فضول گوئی سے اجتناب کرے، ضرورت کی یا دینی باتیں کرے، دینی احکام سیکھنے سکھانے میں وقت صرف کرے، اور اگر ذمے میں قضا نمازیں ہوں تو انہیں ادا کرنے میں وقت صرف کرے۔
یاد رہے کہ اعتکاف کی حالت میں مستقل طور پر کوئی ایک عمل مخصوص یا زیادہ فضیلت والا نہیں ہے، تاہم رسول اللہ ﷺ نے حدیث مبارک میں اعتکاف کی ایک وجہ شبِ قدر کی تلاش بھی ارشاد فرمائی ہے، اس لیے مسنون اعتکاف کے دوران راتوں کی عبادت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ نیز اعتکاف کا دوسرا بڑا مقصد اللہ کے در پر پڑ کر اپنے گناہوں کی معافی اور آئندہ زندگی اس کی رضا کے مطابق گزارنے کا عزم بھی ہے؛ لہٰذا گناہوں (مثلاً غیبت وغیرہ)، لایعنی (بے مقصد کاموں) وغیرہ سے اجتناب کرتے ہوئے نیک اعمال میں مشغول رہے، استغفار کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ طلبِ صادق کو دیکھ کر ضرور رحمت و مغفرت کا پروانہ عطا فرمائیں گے۔۔۔۔
جیسا کہ یہ بات معلوم ہے کہ شب قدر رمضان المبارک کی اخری طاق راتوں میں اتی ہے ۔۔۔۔بہت اعلی درجے کی بات یہ ہے کہ شب قدر کو پانے کے لیے اخری دس دن کا مکمل اعتکاف کیا جائے ۔۔۔
اس لیے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے
أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان.
ویسے اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالی دین کی ہر بات کو واضح طریقے سے بتا دیتے ہیں اورشب قدر کی مقررہ تاریخ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے بتا دی ۔۔۔۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لے ائے تاکہ صحابہ کو شب قدر کی مقررہ تاریخ بتا دیں مسجد میں دیکھا دو لوگ اپس میں کسی بات پر جھگڑ رہے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور الٹے قدم اپنے حجرہ مبارکہ میں تشریف لے گئے اور پھر کچھ دیر بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے ائے اور فرمایا کہ دو لوگوں کے اپس میں لڑنے کی وجہ سے شب قدر کی مقررہ تاریخ مجھ سے بھلا دی گئی ۔۔۔۔
معلوم ہوا کہ دو لوگوں کے لڑنے کی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اتنا بڑا بوجھ تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن سے شب قدر کی مقررہ تاریخ نکل گئی ۔۔اور اج مسلمانوں کا حال یہ ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنا دھمکی دینا گالی دینا جھگڑنا یہ معمول ہو گیا ُ۔ ۔۔۔قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر قتل کیا جاتا ہے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے عزت نفس کا بھی خیال نہیں رہا خدانخواستہ کسی سے لڑائی ہو گئی تو اس کی بیوی کی اس کی بچیوں کی اس کے بچوں کی اس کے افراد خاندان کی بہت ساری باتوں کو کھوج کرنے میں لگ جاتے ہیں اور اس کے عیبوں کو تلاش کرتے ہیں تاکہ اس کے عیبوں کو اچھال کر اس کو پریشان کیا جائے ۔۔۔۔۔کتنی شرم کی بات ہے ۔۔۔۔دو لوگوں کے اپس میں لڑنے کی وجہ سے اللہ کی رحمتیں رک جاتی ہیں اور اج دو لوگ نہیں لڑتے دو خاندان لڑتے ہیں دو علاقے والے لڑتے ہیں دل صاف کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے ہر ایک کے دل میں بغض بھرا ہوا ہے دشمنی بھری ہوئی ہے ۔۔۔۔یہ بھی کوئی اسلام ہے ؟ یہ بھی کیسے مسلمان ہیں کہ اللہ تعالی کے ماننے والے ہیں مگر اللہ کے احکامات پر عمل نہیں کرتے کیسے مسلمان ہیں یہ ؟ فیا للاسف
جن لوگوں کے پاس مجبوریاں ہیں جیسے ماں باپ ضعیف ہیں ان کی خدمت کی ضرورت ہے یا بیوی کی طبیعت صحیح نہیں ہے یا بچوں کی طبیعت خراب ہے یا خود اس شخص کی طبیعت خراب ہے علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے ایسے لوگوں کے لیے سہولت والا معاملہ یہ ہے کہ چونکہ شب قدر اخری طاق راتوں میں اتی ہے ہر طاق رات میں سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مسجد کو ا جائے مغرب میں انے کے بعد فجر تک مسلسل مسجد میں عبادتوں میں لگا رہے امید ہے اللہ تعالی کی ذات سے اس کی مجبوریوں کے پیش نظر اللہ تعالی عفو و درگزر کا معاملہ فرما کر شب قدر اس کو نصیب فرما دیں ۔۔۔۔
یہ الگ بات ہے لوگ اعتکاف کی اہمیت کو نہیں سمجھتے مگر اعتکاف کی اہمیت اللہ تعالی کی نظر میں بہت زیادہ ہے اللہ کو منانے کے جتنے ذرائع ہیں ان ذرائع میں بہت زیادہ موثر ذریعہ اعتکاف ہے کسی بھی طرح سے اس عبادت سے غفلت نہیں برتنا چاہیے چاہے وہ مرد ہوں یا چاہے وہ عورتیں ہوں اس عبادت کو اپنے لیے نعمت سمجھیں اور اعتکاف میں بیٹھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔۔
اللہ تعالی اپنے فضل سے اعتکاف بیٹھنے کی توفیق نصیب فرمائے اور اپنے فضل سے ہمارے اعتکاف کو قبول اور منظور فرمائے
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...