Skip to content
رَمَضان کی اصل روح اور افطار پارٹی کلچر
عبادت یا ایونٹ؟
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
رمضان المبارک جب اپنی پہلی سحر کے ساتھ انسانی ضمیر پر دستک دیتا ہے تو وہ محض ایام کی ایک گنتی نہیں ہوتا، بلکہ ایک گہرا وجودی سوال بن کر سامنے آتا ہے؟ ہم کون ہیں، اور ہمیں کیا ہونا چاہیے؟ یہ سوال انسان کو اس کے باطن میں اتارتا ہے، اس کے اعمال، نیتوں اور ترجیحات کا محاسبہ کرتا ہے۔ مگر عصرِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ وقت کی گرد نے اس سوال کی گونج کو دھندلا دیا ہے۔ اب ضمیر کی اس دستک کی جگہ افطار پارٹیوں کی رنگا رنگ تصویریں، جگمگاتے دسترخوان، اور سماجی نمائش کے شور نے لے لی ہے۔ وہ رمضان جو نفس کے احتساب، دل کی تطہیر اور معاشرتی اصلاح کا مہینہ تھا، آہستہ آہستہ تقریبات، دعوتوں اور رسمی سرگرمیوں کا عنوان بنتا جا رہا ہے۔ ایک ایسا عنوان جس میں معنی کم اور منظر زیادہ رہ گیا ہے۔
افطار، جو دن بھر کی بھوک اور پیاس کے بعد شکر، انکسار اور یادِ الٰہی کے جذبے کو تازہ کرنے کا لمحہ تھا، اب کئی مقامات پر ایک منظم "ایونٹ” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ قیمتی ہوٹلوں کے ہال، وسیع لانوں کی سجاوٹ، اور ترتیب سے رکھی ہوئی ڈشیں بظاہر باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں، مگر اس چمک دمک کے شور میں روزے کی وہ خاموش تربیت کہیں دب کر رہ جاتی ہے جو انسان کو ضبط، سادگی اور قناعت سکھاتی ہے۔ دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانوں کی فراوانی، موبائل کیمروں کی مسلسل آنکھ، اور سماجی حیثیت کے غیر محسوس مگر گہرے اظہار کے درمیان روزے کا وہ بنیادی سبق کہ کم میں بھی جینا سیکھا جائے، پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے افطار کو پیٹ بھرنے کے عمل تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ اس کا اصل مقصد دل کو شکر سے بھرنا تھا۔ ہم دن بھر بھوک کے ذریعے خود کو روکنے کی مشق کرتے ہیں، مگر شام ہوتے ہی اس مشق کا ازالہ اسراف اور نمود سے کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً روزہ ایک ہمہ گیر اخلاقی تربیت بننے کے بجائے محض ایک وقتی جسمانی مشقت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ رمضان جو انسان کو خاموشی میں خود سے ہم کلام ہونا سکھاتا تھا، اب شور میں خود کو بھلا دینے کا مہینہ بنتا جا رہا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا ہم رمضان کو اپنی ظاہری زندگی کی سجاوٹ تک محدود رکھیں گے، یا اسے اپنے باطن کی تشکیل کا ذریعہ بنائیں گے؟ کیونکہ رمضان کی اصل عظمت افطار کے پُرتعیش دسترخوان میں نہیں، بلکہ اس لمحۂ افطار میں پوشیدہ ہے جب ایک سادہ لقمہ انسان کو شکر، انکسار اور انسان دوستی کی طرف لوٹا دیتا ہے۔
رمضان کی اصل روح فاقہ کشی میں نہیں، بلکہ احساسِ فاقہ میں مضمر ہے۔ یہ مہینہ انسان کے جسم کو نہیں، اس کے ضمیر کو بھوکا رکھتا ہے تاکہ وہ دوسروں کی بھوک کو محسوس کر سکے۔ روزہ ہمیں بھوک کے تجربے کے ذریعے اُن انسانوں کے قریب لے آتا ہے جن کے لیے فاقہ کسی عبادت کا حصّہ نہیں، بلکہ زندگی کی روزمرّہ حقیقت ہے۔ یہ قربت وقتی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ دل میں اترنے والی ہمدردی کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔ مگر جب افطار کا تصور محض پیٹ بھرنے، ذائقوں کی کثرت اور لذتوں کے انتخاب تک محدود ہو جائے تو روزے کا یہ گہرا سماجی پیغام اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ ہم بھوک سہتے تو ہیں، مگر اس سے جنم لینے والی ذمّہ داری اور ہمدردی کو اپنے شعور کا حصّہ نہیں بننے دیتے۔
دیکھا جائے تو روزہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ ایک جامع اخلاقی نظامِ تربیت ہے۔ یہ انسان کو خواہشات پر قابو پانے کا شعور دیتا ہے، اسے سکھاتا ہے کہ ہر ممکن چیز ضروری نہیں، اور ہر خواہش قابلِ اتباع نہیں۔ روزہ زبان کو جھوٹ، غیبت اور لغو گوئی سے روکتا ہے، دل کو کینہ، حسد اور تکبر سے پاک کرنے کی دعوت دیتا ہے، اور نگاہ کو بے راہ روی سے بچا کر انسان کو باطنی وقار عطاء کرتا ہے۔ یہ وہ باطنی نظم و ضبط ہے جو اگر راسخ ہو جائے تو فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اخلاقی ساخت بھی بدل سکتی ہے۔
مگر افطار پارٹیوں کا بڑھتا ہوا رواج اکثر اس ہمہ گیر تربیت کو سطحیت کی نذر کر دیتا ہے۔ ہم دن بھر ضبطِ نفس کی مشق کرتے ہیں، مگر شام ڈھلتے ہی اس ضبط کا ازالہ اسراف، نمود اور غیر ضروری کثرت سے کر لیتے ہیں۔ یوں روزہ ضبط سکھانے کے بجائے ایک وقتی محرومی بن جاتا ہے، جس کا مداوا صرف زیادہ کھا لینے میں سمجھا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل میں روزہ ایک روحانی تجربہ بننے کے بجائے جسمانی مشقت تک محدود ہو جاتا ہے۔ ایسی مشقت جو سحر سے افطار تک تو محسوس ہوتی ہے، مگر افطار کے بعد اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔
رمضان دراصل انسان کو یہ سکھانے آتا ہے کہ بھوک کا اصل فائدہ پیٹ کے خالی ہونے میں نہیں، بلکہ دل کے بھرنے میں ہے۔ احساس سے، شکر سے اور ذمّہ داری سے۔ اگر افطار ہمارے اندر اس احساس کو جگا دے کہ کسی اور کا پیٹ بھی بھرنا ہے، کسی اور کی ضرورت بھی ہماری توجہ چاہتی ہے، تو تب روزہ اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہو جاتا ہے۔ ورنہ اندیشہ یہی رہتا ہے کہ ہم پورا مہینہ روزہ رکھ کر بھی اس مقصد سے دور رہ جائیں جس کے لیے یہ عبادت فرض کی گئی تھی۔
رمضان دراصل ایک خاموش انقلاب کا نام ہے۔ ایسا انقلاب جو نعروں، ہجوموں اور ظاہری تبدیلیوں سے نہیں، بلکہ انسان کے اندر برپا ہوتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں فرد اپنے باطن کے شور کو آہستہ آہستہ خاموش کر کے ضمیر کی نازک مگر سچی آواز سننے کی کوشش کرتا ہے۔ سحر کی تنہائی، دن کی خاموش بھوک، اور افطار سے پہلے کے لمحے اسی داخلی مکالمے کے مواقع ہوتے ہیں۔ مگر جب افطار کے وقت بھی شور غالب آ جائے، قہقہوں کا، بے مقصد گفتگوؤں کا، موبائل فون کی گھنٹیوں اور اسکرینوں کی روشنی کا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خاموش انقلاب آخر برپا کیسے ہو؟ جس لمحے کو شکر، سکوت اور خود سپردگی کا ہونا چاہیے، وہ اگر ہنگامہ بن جائے تو رمضان کا باطنی پیغام کمزور پڑ جاتا ہے۔
رمضان کی اصل خوبصورتی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ سادگی محض کم کھانے یا سادہ لباس کا نام نہیں، بلکہ خواہشات کی تہذیب اور ترجیحات کی درستی کا عمل ہے۔ یہی سادگی وہ آئینہ ہے جس میں انسان خود کو بلا تصنع اور بلا واسطہ دیکھ سکتا ہے۔ اپنی کمزوریوں کے ساتھ، اپنی ذمّہ داریوں کے ساتھ، اور اپنے ربّ کے سامنے اپنی اصل حیثیت کے ساتھ۔ جب یہ آئینہ گرد آلود ہو جائے، جب سادگی کی جگہ نمائش لے لے، تو پہچان کا یہ عمل بھی دھندلا جاتا ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اجتماعی افطار یا دعوتیں بذاتِ خود قابلِ اعتراض نہیں۔ انسانی معاشرہ تعلقات سے بنتا ہے، اور رمضان ان تعلقات کو مضبوط کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ اصل مسئلہ نیت اور ترجیح کا ہے۔ اگر افطار دوسروں کو شامل کرنے، تنہائی بانٹنے، اجنبیت کو قربت میں بدلنے، اور خصوصاً ضرورت مندوں کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھنے کا ذریعہ بن جائے تو یہ عمل رمضان کی روح سے پوری طرح ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ ایسی افطاریں دلوں کو جوڑتی ہیں اور روزے کے سماجی مفہوم کو زندہ رکھتی ہیں۔
لیکن جب افطار محض سماجی نمائش، تعلقات کی غیر اعلانیہ سیاست، یا معاشرتی حیثیت کے اظہار کا وسیلہ بن جائے تو افطار پارٹی اور روزے کے درمیان ایک خاموش مگر گہرا فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ فاصلہ آہستہ آہستہ روحانیت کو کمزور کر دیتا ہے، روزے کو رسم میں بدل دیتا ہے، اور رمضان کے اس خاموش انقلاب کو محض ایک شور زدہ روایت بنا کر چھوڑ دیتا ہے۔ رمضان ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم شور کم کریں، اپنے گھروں میں بھی اور اپنے دلوں میں بھی۔ کیونکہ جب شور کم ہوتا ہے، تبھی ضمیر کی آواز سنائی دیتی ہے، اور جب ضمیر بیدار ہوتا ہے، تبھی رمضان اپنے مقصد کو پہنچتا ہے۔
رمضان ہمیں افطار پارٹیوں کی چکاچوند سے آگے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ایسی دعوت جو ظاہری اہتمام سے زیادہ باطنی توجہ کی طالب ہے۔ یہ مہینہ ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ اصل دعوت کسی دسترخوان پر نہیں، بلکہ نفس کے ساتھ ہے؛ وہ نفس جو سال بھر خواہشات، عجلت اور غفلت کے ہجوم میں بکھرا رہتا ہے۔ رمضان اسے یکجا کرنے، اس سے مکالمہ کرنے اور اس کی اصلاح کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح اصل محفل کسی سجے ہوئے ہال میں نہیں، بلکہ ضمیر کی خلوت میں برپا ہوتی ہے، جہاں انسان اپنے ربّ، اپنے آپ اور اپنے اعمال کے درمیان کھڑا ہو کر سچائی کا سامنا کرتا ہے۔ اور اصل جشن بھی کھانوں کی کثرت یا تقریبات کی رونق میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں ہے۔ اس لمحے میں جب انسان دوسروں کے لیے نرم، اپنے لیے محتسب اور اپنے ربّ کے لیے جھکا ہوا ہو۔
اگر ہم اس مہینے میں اپنے دسترخوان مختصر اور اپنے دل وسیع کر لیں تو رمضان اپنی کھوئی ہوئی معنویت دوبارہ پا سکتا ہے۔ مختصر دسترخوان اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ہم نے ضرورت اور خواہش کے فرق کو سمجھ لیا ہے، اور وسیع دل اس بات کا اعلان کہ ہم نے دوسروں کی جگہ اپنے احساس میں بنا لی ہے۔ جب سادگی ہمارے معمول کا حصّہ بنتی ہے اور ہمدردی ہمارے رویّے میں جھلکتی ہے، تب رمضان محض ایک مذہبی فریضہ نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی تجربہ بن جاتا ہے۔ ایسا تجربہ جو انسان کے دیکھنے، سوچنے اور برتاؤ کرنے کے انداز کو بدل دیتا ہے۔
درحقیقت رمضان ہر سال ایک وعدہ لے کر آتا ہے؛ انسان کو انسان بنانے کا وعدہ۔ یہ وعدہ اسی وقت پورا ہوتا ہے جب ہم بھوک کو صرف جسم تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے ضمیر کی بیداری کا ذریعہ بنائیں؛ جب ہم عبادت کو محض اعمال تک محدود نہ کریں، بلکہ اسے اخلاق میں ڈھال دیں؛ اور جب ہم افطار کو صرف کھانے کا وقت نہیں، بلکہ شکر، اشتراک اور احساس کا لمحہ بنا دیں۔ سوال یہی ہے کہ ہم رمضان کو کس صورت میں یاد رکھنا چاہتے ہیں؟ کیا وہ ہمیں تصویروں میں قید افطار پارٹیوں، سجی ہوئی میزوں اور لمحاتی خوشیوں کی شکل میں یاد آئے گا، یا ایک ایسی خاموش مگر گہری تبدیلی کے طور پر جو ہمارے رویّوں، ترجیحات اور انسانوں سے تعلق کے انداز کو بدل گئی؟ یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں رمضان کی اصل روح پوشیدہ ہے اور شاید اسی جواب پر ہمارے روزوں کی قبولیت بھی موقوف ہے۔
🗓 (05.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...