Skip to content
زکوٰۃ کی ادائیگی میں بصیرت کیوں ضروری ہے؟
ازقلم:(حافظ) افتخاراحمدقادری
رمضان المبارک کی ساعتیں جب اپنی نور افشانی کے ساتھ اہلِ ایمان کے قلوب پر نزول کرتی ہیں تو ہر سمت ایک روحانی ارتعاش محسوس ہوتا ہے۔ سحر کی خاموشی میں دعاؤں کی سرگوشیاں، افطار کی ساعت میں لبوں پر شکر کی لرزش اور تراویح کی صفوں میں آنکھوں کی نمی! یہ سب مناظر اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ مہینہ صرف ایام کا مجموعہ نہیں بلکہ ربانی انوار کا سیلاب ہے۔ اسی مہینے میں فریضہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا رجحان اپنے نقطہ عروج کو پہنچتا ہے اور اہلِ ثروت اپنے اموال کو تطہیر باطن کا وسیلہ بناتے ہیں۔ لیکن اسی نورانی فضا میں ایک عجیب اضطراب بھی جنم لیتا ہے۔ گلی گلی، کوچہ کوچہ، بازار بازار زکوٰۃ کے سفیروں کی ایک ہجوم آفرینی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی مدرسے کی توسیع کے نام پر دستِ سوال دراز کیے کھڑا ہے، کوئی یتیم خانہ کی کفالت کا حوالہ دے کر دلوں کو موم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، کوئی مسجد کی تعمیر کا خاکہ دکھا کر رقّت انگیز اپیل کر رہا ہے اور کوئی کسی فلاحی تنظیم کا کارڈ گلے میں ڈالے گھر گھر دستک دے رہا ہے۔ ایک ہی شہر میں ایک دو نہیں بلکہ بیسیوں افراد زکوٰۃ کے نام پر رجوع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک حساس مسلمان کا دل واقعی شش و پنج میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ آخر کس کی پکار پر لبیک کہا جائے اور کس کی عرضداشت کو مؤخر کیا جائے؟
زکوٰۃ کوئی معمولی صدقہ نہیں کہ جسے جذبات کی رو میں بہہ کر کہیں بھی صرف کر دیا جائے۔ یہ وہ فریضہ ہے جسے قرآنِ مجید نے صلوٰۃ کے ساتھ مقرون فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ”۔ یہ اقامتِ دین کا ایک بنیادی ستون ہے۔ مزید برآں سورہ توبہ میں مصارفِ زکوٰۃ کی تعیین کر کے واضح کر دیا گیا کہ یہ مال کن طبقات کا حق ہے: "إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ…”۔ گویا یہ مال دراصل ان محتاجوں کا حق ہے جو ہمارے اموال میں الله تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے۔
آج مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ زکوٰۃ دینا نہیں چاہتے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کثرتِ مطالبات نے ذہنوں میں انتشار پیدا کر دیا ہے۔ ہر شخص اپنی اپیل کو سب سے زیادہ مستند اور سب سے زیادہ مستحق ثابت کرنے کی سعی میں ہے۔ رقت انگیز بیانات، دل دہلا دینے والی داستانیں، تصاویر اور ویڈیوز سب کچھ پیش کیا جاتا ہے تاکہ دل نرم ہو اور جیب کھل جائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر اپیل واقعی تحقیق کے معیار پر پوری اترتی ہے؟ کیا ہر ادارہ جس کے نام پر چندہ لیا جا رہا ہے امانت و دیانت کا پیکر ہے؟ کیا ہر رسید درحقیقت اطمینان کا پروانہ ہے؟ ایک صاحبِ ایمان کے لیے لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں جذبات کا اسیر نہ بنے بلکہ شرعی بصیرت اور تحقیقی شعور کو اپنا رہنما بنائے۔ زکوٰۃ الله تعالیٰ کا حق ہے اور الله کے حق میں کوتاہی محض مالی لغزش نہیں بلکہ روحانی خسارہ ہے۔ اگر کسی غیر مستحق کو زکوٰۃ دے دی گئی تو فقہی اعتبار سے اس کی ادائیگی محلِ نظر ہو سکتی ہے اور یوں انسان اپنے فریضے سے بری الذمہ ہونے کے باوجود عند الله جواب دہ رہ سکتا ہے۔
آج ہمیں اپنے گرد و پیش میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ بسا اوقات ہمارے پڑوس میں ایسے سفید پوش گھرانے موجود ہوتے ہیں جن کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہوتے ہیں مگر خودداری انہیں سوال کرنے سے روکتی ہے۔ ان کے بچے تعلیمی اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں مگر زبان پر شکوہ نہیں آتا۔ ان کی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے مگر ہونٹ خاموش رہتے ہیں۔ کیا ہماری زکوٰۃ کا پہلا حق ان ہی لوگوں کا نہیں؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اپنے محلے کی غربت کا سروے کیا ہے؟ کیا ہم نے کبھی خاموش ضرورت مندوں کی دہلیز پر دستک دی ہے؟ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بعض افراد نے زکوٰۃ کو موسمی مہم بنا لیا ہے۔ رمضان المبارک آتے ہی اپیلوں کا سیلاب امڈ آتا ہے اور عید گزرنے کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے۔ حالانکہ غربت کوئی موسمی عارضہ نہیں بلکہ ایک مستقل ابتلا ہے۔ اگر زکوٰۃ کے نظام کو منظم اور مربوط انداز میں ترتیب دیا جائے، اہلِ علم اور معتبر شخصیات کی نگرانی میں مستحقین کی فہرست تیار کی جائے، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے تو نہ صرف کنفیوژن کم ہو سکتا ہے بلکہ زکوٰۃ کی برکتیں بھی دو چند ہو سکتی ہیں۔ ایک اور پہلو نہایت تکلیف دہ ہے اور وہ ہے تشہیر و نمائش کا رجحان۔ زکوٰۃ دیتے وقت تصاویر بنانا، ویڈیوز نشر کرنا اور سوشل میڈیا پر اعلان کرنا! یہ سب اس عبادت کی روح کے منافی ہے۔ قرآنِ حکیم میں تنبیہ فرمائی گئی: "لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَى”۔ احسان جتا کر اور اذیت دے کر اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو۔ اگر مستحق کی عزتِ نفس مجروح ہوگئی تو ہماری زکوٰۃ کا نور ماند پڑ جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ زکوٰۃ کا اصل مقصد معاشرے میں توازنِ معاشی قائم کرنا، دلوں میں اخوت و مواسات کی فضا پیدا کرنا اور طبقاتی خلیج کو کم کرنا ہے۔ یہ صرف مال کی منتقلی نہیں بلکہ دلوں کی تطہیر اور روحوں کی تسکین ہے۔ جب ایک مالدار شخص اخلاص کے ساتھ اپنا حقِ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور ایک محتاج کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو دراصل دونوں کے درمیان ایک روحانی رشتہ قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جو اسلامی معاشرے کو استحکام بخشتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم زکوٰۃ کی ادائیگی کو سنجیدہ، منظم اور ذمہ دارانہ عمل بنائیں۔ جذباتی اپیلوں کے بجائے تحقیق کو معیار بنائیں، موسمی جوش کے بجائے مستقل منصوبہ بندی اختیار کریں اور ذاتی شہرت کے بجائے رضائے الٰہی کو مقصود بنائیں۔ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو نہ صرف ہمارا مال پاک ہوگا بلکہ ہمارا دل بھی اطمینان سے لبریز ہوگا اور ہمارا معاشرہ بھی فقر و فاقہ کی شدت سے کسی حد تک محفوظ ہو سکے گا۔ رمضان المبارک ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ہم اپنے اندر کے اضطراب کو شعور میں بدلیں، کنفیوژن کو بصیرت میں ڈھالیں اور زکوٰۃ کو ایک زندہ اور مؤثر نظام کے طور پر اپنائیں۔ جب ہم تحقیق، دیانت اور اخلاص کے ساتھ زکوٰۃ ادا کریں گے تو یقیناً ہمارے اموال میں برکت، ہمارے گھروں میں سکون اور ہمارے معاشرے میں اعتدال پیدا ہوگا۔ یہی ایک بیدار ضمیر مسلمان کی پہچان ہے اور یہی اس ماہِ مقدس کا حقیقی پیغام۔
اس تمام اضطراب ذہنی انتشار اور جذباتی ہجوم کے درمیان ایک سنجیدہ اور باوقار راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ یہ راستہ نہ تو اندھی تقلید کا ہے اور نہ ہی بدگمانی کی انتہا کا بلکہ یہ شعور، دیانت اور اخلاص کا راستہ ہے۔ اگر ہم نے زکوٰۃ کو ایک رسمی ادائیگی سمجھ لیا تو ہم اس کے حقیقی جوہر سے محروم رہ جائیں گے اور اگر ہم نے اسے ایک زندہ امانت جان کر ادا کیا تو یہی فریضہ ہمارے لیے نجات کا وسیلہ بن جائے گا۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر یہ یقین راسخ کرنا ہوگا کہ زکوٰۃ کوئی احسان نہیں بلکہ حق ہے۔ یہ وہ حق ہے جسے رب کائنات نے ہمارے مال میں مستحقین کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ ہم صرف واسطہ، امین اور تقسیم کار ہیں۔ جب یہ احساس دل میں اتر جاتا ہے تو انسان کا رویہ بدل جاتا ہے۔ پھر وہ دینے والا نہیں رہتا بلکہ حق پہنچانے والا بن جاتا ہے۔ اسی احساس کی روشنی میں ہمیں ہر مطالبے کو پرکھنا ہوگا۔ جذباتی تقاریر، رقت انگیز تحریریں اور اشک بار اپیلیں دل کو متاثر ضرور کرتی ہیں مگر زکوٰۃ کی ادائیگی کا معیار صرف تاثر نہیں بلکہ استحقاق ہے۔ استحقاق کی پہچان کے لیے علم ناگزیر ہے۔ جب تک انسان مصارفِ زکوٰۃ کی حقیقی روح کو نہیں سمجھے گا اس کا فیصلہ متزلزل رہے گا۔ فقرا اور مساکین کے مفہوم کو سمجھنا، غارمین کی کیفیت کو جاننا، ابن السبیل کی حالت کا ادراک کرنا اور فی سبیل الله کے مصرف کو اس کے شرعی دائرے میں دیکھنا ضروری ہے۔ یہ فہم پیدا ہو جائے تو پھر ہر آواز کو اسی کسوٹی پر جانچا جا سکتا ہے۔ جو اس معیار پر پورا اترے وہی زکوٰۃ کا مستحق ہے اور جو اس سے خارج ہو اس کے لیے صدقہ و خیرات کے دیگر ابواب کھلے ہوئے ہیں مگر زکوٰۃ کا مصرف محدود اور متعین ہے۔ پھر تحقیق کا مرحلہ آتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جو کنفیوژن کو یقین میں بدل دیتا ہے۔ اگر کوئی ادارہ زکوٰۃ کا طالب ہو تو اس کی ساکھ، دیانت، شفافیت اور اس کے عملی کردار کا جائزہ لینا عین ذمہ داری ہے۔ معتبر اہلِ علم سے مشورہ، بااعتماد شخصیات سے رہنمائی اور اجتماعی سطح پر مشاورت انسان کو انفرادی غلطی سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اگر مساجد اور محلوں کی سطح پر اہلِ تقویٰ و دیانت پر مشتمل کمیٹیاں مستحقین کی نشاندہی کریں تو زکوٰۃ کی تقسیم ایک منظم اور باوقار عمل بن سکتی ہے نہ کہ منتشر اور جذباتی اقدام۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے قرب و جوار کی دنیا کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے آس پاس کتنے ہی گھرانے ایسے ہوتے ہیں جو سفید پوشی کی چادر میں اپنی غربت کو چھپائے بیٹھے ہیں۔ ان کے گھروں میں ضرورت کی دھیمی آنچ جل رہی ہوتی ہے مگر وہ سوال کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے۔ ایسے افراد کی تلاش دراصل زکوٰۃ کی روح تک رسائی ہے۔ جب ہم خود ان کی دہلیز تک پہنچتے ہیں، ان کی عزتِ نفس کو محفوظ رکھتے ہوئے ان کی مدد کرتے ہیں تو نہ صرف ایک معاشی ضرورت پوری ہوتی ہے بلکہ ایک انسانی رشتہ بھی قائم ہوتا ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جو معاشرے میں اخوت، ہمدردی اور اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔ مزید یہ کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کو وقتی جوش تک محدود کرنا اس فریضے کے وقار کے منافی ہے۔ غربت ایک لمحاتی کیفیت نہیں بلکہ مسلسل آزمائش ہے۔ اگر صاحبِ استطاعت افراد منصوبہ بندی کے ساتھ مستحق خاندانوں کی کفالت کا نظام قائم کریں، ان کی ضروریات کا سال بھر خیال رکھیں، تعلیم، علاج اور بنیادی اخراجات میں معاونت کریں تو زکوٰۃ ایک عطیہ نہیں رہے گی بلکہ ایک پائیدار سہارا بن جائے گی۔ اس طرزِ فکر سے کنفیوژن کی جگہ استحکام اور بے یقینی کی جگہ اطمینان پیدا ہوگا۔
نیت کی پاکیزگی بھی اس پورے عمل کی اساس ہے۔ اگر دل میں نمود و نمائش کا شائبہ ہو تو عبادت کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔ زکوٰۃ کا حسن اس کی خاموشی میں ہے، اس کی برکت اس کے اخلاص میں ہے۔ جب انسان صرف رضائے الٰہی کو پیشِ نظر رکھ کر دیتا ہے تو اسے نہ ستائش کی طلب رہتی ہے اور نہ شہرت کی خواہش۔ اس کا دل اس یقین سے مطمئن ہوتا ہے کہ اس نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی ہے اور اپنے مال کو تطہیر کا وسیلہ بنایا ہے۔ یوں اس سارے ہجوم، اس کثرتِ اپیل اور اس ذہنی انتشار کے باوجود اگر ہم علم، تحقیق، مشاورت اور اخلاص کو اپنا رہنما بنا لیں تو کوئی اضطراب باقی نہیں رہتا۔ دل میں سکون اتر آتا ہے کہ ہم نے جذبات کے بجائے بصیرت کو اختیار کیا، ہجوم کے بجائے معیار کو اپنایا اور وقتی تاثر کے بجائے دائمی حق کو پہچانا۔ یہی وہ کیفیت ہے جو زکوٰۃ کی ادائیگی کو ایک بامعنی اور بابرکت عمل بنا دیتی ہے۔
آخرکار جب رمضان المبارک کی ساعتیں رخصت ہوں گی اور عید کی صبح طلوع ہوگی تو ہمارے چہروں پر صرف ظاہری مسرت نہیں بلکہ باطنی اطمینان کی روشنی بھی ہوگی۔ ہمیں یہ یقین ہوگا کہ ہم نے اپنے مال کا وہ حصہ اس کے حقیقی مستحقین تک پہنچایا جو دراصل انہی کا حق تھا۔ ہمارے اموال میں برکت کی نمو ہوگی، دلوں میں طمانیت کی بہار اور معاشرے میں مواسات کی ایک سنہری لہر دوڑ جائے گی۔ زکوٰۃ کی ادائیگی اگر شعور، دیانت اور اخلاص کے ساتھ ہو تو وہ محض ایک مالی فریضہ نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ انقلاب بن جاتی ہے، جو فرد کے باطن کو بھی منور کرتی ہے اور معاشرے کے افق کو بھی روشن کر دیتی ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...