Skip to content
سیرتِ سیدنا امام حسن رضی الله عنہ اور اصل محبت کا معیار!
(۱۵/ رمضان المبارک یومِ ولادت پر خاص)
ازقلم:(حافظ) افتخاراحمدقادری
پندرہ رمضان المبارک کی وہ نورانی ساعت جب مدینہ منورہ کی فضاؤں میں ایک نئی بشارت کی مہک پھیلی، دراصل تاریخِ اسلام کے ایک نہایت تابندہ باب کا آغاز تھا۔ یہ صرف ایک عظیم ہستی کی ولادت کا دن نہیں بلکہ اس سیرتِ کاملہ کے ظہور کا لمحہ ہے جس نے امتِ مسلمہ کو حلم، بردباری، سخاوت، تقویٰ اور اتحاد کا وہ عملی درس دیا جس کی مثال رہتی دنیا تک پیش کی جاتی رہے گی۔ اسی روز جگرِ رسول ﷺ، گلشنِ بتول کے پہلے پھول اور شیرِ خدا کے نورِ نظر حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی الله عنہ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ مدینہ منورہ کی سر زمین اس گھرانے سے پہلے ہی شرف پا چکی تھی جس پر وحی نازل ہوتی تھی اور جس کی طہارت کی گواہی خود قرآن نے دی۔ ارشادِ ربانی ہے:
﴿اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَیُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا﴾
مفسرینِ کرام اس آیت کے ذیل میں اہلِ بیت کی شانِ طہارت کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ اسی پاکیزہ آغوش میں پندرہ رمضان المبارک سن ۳ ہجری کو وہ فرزند پیدا ہوا جس کے وجود سے بیتِ نبوت میں خوشیوں کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ ابنِ سعد نے الطبقات الکبریٰ میں اور امام طبری نے اپنی تاریخ میں ولادتِ باسعادت حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا کہ رسولِ خدا ﷺ کو اس ولادت پر غیر معمولی مسرت ہوئی۔ آپ امیر المومنین علی بن ابی طالب اور سیدۃ النساء العالمین فاطمہ زہراء کے پہلے فرزند تھے۔ نسب کی یہ پاکیزگی اور روحانی عظمت آپ کی شخصیت میں ابتدا ہی سے نمایاں تھی۔ ولادتِ باسعادت کے فوراً بعد سرکارِ دو عالم ﷺ نے آپ کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی۔ یہ روایت امام احمد بن حنبل نے مسند احمد میں نقل کی ہے۔ پھر آپ کا نام حسن رکھا گیا حالانکہ یہ نام عرب میں اس سے قبل معروف نہ تھا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ نام بذریعہ وحی تجویز ہوا جس سے اس نام کی معنوی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ سے محبت ایک نانا جان کی محبت نہ تھی بلکہ نبوت کی نگاہ میں آپ کی امامت و قیادت کا اعلان تھی۔ صحیح بخاری (کتاب المناقب) میں روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: اِبْنِي هَذَا سَيِّدٌ یعنی میرا یہ بیٹا سید ہے۔ اسی حدیث میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ الله تعالیٰ اس کے ذریعے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ یہ پیش گوئی بعد ازاں حرف بہ حرف پوری ہوئی جب حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ نے مسلمانوں کے خون کو بچانے کے لیے صلح کا راستہ اختیار کیا۔ صحیح مسلم (کتاب فضائل الصحابہ) میں روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ اے الله! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما۔ جامع ترمذی میں ہے کہ حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ (اسدالغابہ:۳) اور الاصابہ جلد ۲) میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کبھی انہیں کندھوں پر بٹھاتے، کبھی نماز میں سجدہ طویل کر دیتے تاکہ بچہ خوشی سے اترے اور کبھی خطبہ روک کر منبر سے اتر آتے تاکہ گرنے والے نواسوں کو اپنی آغوش میں لے سکیں۔
محترم قارئین! یہ مناظر جذباتی واقعات نہیں بلکہ اس بات کا عملی اعلان تھے کہ اہلِ بیت کا مقام امت میں کیا ہے۔ امام نسائی نے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول الله ﷺ نمازِ عشاء میں سجدہ میں طویل ٹھہرے، بعد میں فرمایا کہ میرا بیٹا میری پشت پر سوار تھا، میں نے ناپسند کیا کہ اسے جلدی اتار دوں۔ یہ شفقت دراصل اس تربیت کا حصہ تھی جس نے حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ کی طبیعت میں نرم خوئی، حلم اور محبت کو راسخ کیا۔ آپ کے القاب میں سبطِ اکبر، سید، مجتبیٰ، زکی، تقی اور کریم اہلِ بیت مشہور ہیں۔ مجتبیٰ کے معنیٰ ہیں منتخب اور برگزیدہ۔ تاریخِ یعقوبی اور ابنِ عساکر کی روایات کے مطابق آپ نے کئی مرتبہ اپنا سارا مال راہِ خدا میں تقسیم کر دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے تین بار اپنا کل سرمایہ اور دو بار نصف مال الله کی راہ میں دے دیا۔ یہ فیاضی اس حد تک تھی کہ دروازے سے کوئی سائل خالی ہاتھ نہ لوٹتا۔ عبادت و زہد میں بھی آپ یگانہ تھے۔ ابنِ کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ آپ جب وضو کرتے تو رنگ متغیر ہو جاتا اور فرماتے کہ میں اس ذات کے حضور کھڑا ہونے جا رہا ہوں جس کے سامنے بادشاہوں کے دل کانپتے ہیں۔ آپ کے خطبات اور دعائیں توحید، تقدیسِ الٰہی اور اپنی عاجزی کے اعتراف سے لبریز ہیں۔ آپ کی مناجات میں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ اے پروردگار! میں نے کوتاہی کی مگر تیری رحمت سے ناامید نہیں ہوں۔ یہ انداز بندگی کا اعلیٰ نمونہ ہے جو قرآن کی تعلیمات کا عملی عکس ہے۔ سیاسی زندگی میں آپ کا سب سے بڑا کارنامہ وہ صلح ہے جس کے ذریعے آپ نے امت کو تباہ کن خانہ جنگی سے بچایا۔ اس وقت کے حالات نہایت نازک تھے۔ اختلافات شدت اختیار کر چکے تھے اور تلواریں نیام سے باہر آ چکی تھیں۔ ایسے میں حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ نے وقتی اقتدار کو قربان کر کے دائمی امن کو ترجیح دی۔ امام بخاری کی روایت کردہ حدیث اِبْنِي هَذَا سَيِّدٌ اسی تاریخی اقدام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اہلِ سنت و شیعہ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کی صلح نے ہزاروں جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا اور اسلامی ریاست کو مکمل انتشار سے محفوظ رکھا۔ آپ کی شہادت بھی صبر و استقامت کی لازوال مثال ہے۔ ابنِ سعد نے نقل کیا ہے کہ آپ کو زہر دیا گیا جس سے آپ شدید علیل ہوئے اور بالآخر شہید ہوگئے۔ مگر اس کٹھن گھڑی میں بھی آپ نے صبر کا دامن نہ چھوڑا اور کسی کے خلاف بغاوت یا انتقام کی تعلیم نہ دی۔ یہ رویہ اس بات کی علامت تھا کہ آپ کی زندگی کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ اصلاحِ امت تھا۔ امام حسن مجتبیٰ رضی الله عنہ کی سیرت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل عظمت غصے میں نہیں بلکہ ضبط میں ہے، طاقت میں نہیں بلکہ معافی میں ہے اور فتح میں نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے میں ہے۔ پندرہ رمضان المبارک کا دن اسی پیغام کی یاد دہانی ہے۔ جب یہ تاریخ آتی ہے تو دلوں میں محبتِ اہلِ بیت کی شمع روشن ہوتی ہے، آنکھوں میں عقیدت کے چراغ جلتے ہیں اور زبانوں پر درود و سلام کے نغمے جاری ہو جاتے ہیں۔ آج کے پُر آشوب دور میں جب امت اختلافات اور انتشار کا شکار ہے حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ کی سیرتِ طیبہ ایک روشن مینار کی طرح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اگر ہم ان کے حلم، صبر، سخاوت اور بصیرت کو اپنا لیں تو نفرتوں کی جگہ محبت لے سکتی ہے اور تفرقے کی جگہ وحدت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہی اس عظیم نواسہ رسول ﷺ کی ولادت کا اصل پیغام ہے اور یہی پندرہ رمضان المبارک کی حقیقی خوشخبری۔ الله تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اہلِ بیتِ اطہار کی سچی محبت نصیب فرمائے۔
یاد رکھیں کہ پندرہ رمضان المبارک ایک یادگار نہیں بلکہ زندہ پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔ جب ہم حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ کی ولادتِ باسعادت کا تذکرہ کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اس کردار، حلم اور اس اخلاقی عظمت کو یاد کر رہے ہوتے ہیں جس نے امت مسلمہ کو یہ سکھایا کہ اختلاف کے اندھیروں میں بھی صلح کی شمع جلائی جا سکتی ہے۔ محبت کا دعویٰ آسان ہے مگر محبت کی راہ قربانی مانگتی ہے اور یہی وہ معیار ہے جس پر سچی محبت کو پرکھا جاتا ہے۔ اصل محبت یہ نہیں کہ انسان صرف جذباتی نعروں میں اہلِ بیت کا نام لے، آنسو بہا دے اور پھر اپنی عملی زندگی میں ان کی تعلیمات سے دور رہے۔ اصل محبت اطاعت میں پوشیدہ ہے، اتباع میں جلوہ گر ہے اور کردار میں نمایاں ہوتی ہے۔ جس محبت کے نتیجے میں دل نرم نہ ہو، زبان شائستہ نہ ہو، معاملات میں دیانت پیدا نہ ہو اور اختلاف کے وقت صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے، وہ محبت محض دعویٰ رہ جاتی ہے۔ حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ محبت کا پہلا ثمر یہ ہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو پانا سیکھ لے۔ انہوں نے اقتدار کو ٹھکرا کر امت کی جانوں کو بچایا حالانکہ وہ چاہتے تو جنگ کا راستہ اختیار کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے ثابت کیا کہ اصل بہادری تلوار چلانے میں نہیں بلکہ تلوار روک لینے میں ہے جب اس کے چلنے سے امت کا شیرازہ بکھرنے کا اندیشہ ہو۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم محبت کو صرف جذباتی وابستگی سمجھ بیٹھے ہیں حالانکہ محبت ایک ذمہ داری ہے۔ اگر ہم واقعی اہلِ بیت سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں میں صبر کو زندہ کرنا ہوگا، اپنے معاشرے میں برداشت کو فروغ دینا ہوگا اور اپنے دلوں سے کینہ و حسد کو نکالنا ہوگا۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم زبان سے کسی کی دل آزاری نہ کریں، قلم سے نفرت نہ پھیلائیں اور اپنے عمل سے اتحاد کا پیغام دیں۔ جب کوئی ہمیں تکلیف دے تو ہم بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے کی ہمت پیدا کریں کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ نے دکھایا۔ سچی محبت انسان کو جھکنا سکھاتی ہے توڑنا نہیں، جوڑنا سکھاتی ہے۔بکھیرنا نہیں۔ اگر ہماری محبت ہمیں غرور، تعصب یا نفرت کی طرف لے جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم نے محبت کے مفہوم کو نہیں سمجھا۔ محبت وہ ہے جو دلوں میں نور بھر دے، آنکھوں میں حیا پیدا کرے اور کردار میں وقار پیدا کرے۔ محبت وہ ہے جو اختلاف کے باوجود احترام کو قائم رکھے اور مخالفت کے باوجود عدل کا دامن نہ چھوڑے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو حضرت سیدنا امام حسن رضی الله عنہ کی سیرتِ طیبہ میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
محترم قارئین! پندرہ رمضان ہمیں یہ عہد کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم اہلِ بیت کی محبت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ ہم اپنے دلوں کو کینہ سے پاک کریں گے، اپنی زبانوں کو بدگوئی سے محفوظ رکھیں گے اور اپنے اعمال کو اخلاص سے مزین کریں گے۔ اگر ہم نے صبر، حلم، سخاوت اور اتحاد کو اپنا شعار بنا لیا تو یہی ہماری محبت کا ثبوت ہوگا۔ کیونکہ اصل محبت وہی ہے جو محبوب کی رضا کو اپنی خواہش پر مقدم کر دے، محبوب کے طریقے کو اپنی زندگی کا راستہ بنا لے اور محبوب کی تعلیمات کو اپنے کردار کا آئینہ بنا دے۔ الله تعالیٰ ہمیں یہ شعور عطا فرمائے کہ ہم محبت کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا عملی عنوان بنائیں۔ وہ ہمیں اس نورانی ہستی کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جس نے امت کو صلح، صبر اور سلامتی کا راستہ دکھایا اور ہمیں ایسی سچی محبت نصیب فرمائے جو ہمارے باطن کو بھی بدل دے اور ہمارے معاشرے کو بھی سنوار دے۔ آمین یارب العالمین
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت، مغربی اترپردیش
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...