Skip to content
مالِ زکوٰۃ اور فوٹوگرافی و تشہیر
از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
توپران ضلع میدک تلنگانہ
اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی زندگی دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ عبادات میں اخلاص، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کی رضا بنیادی شرط ہے۔ انہی عبادات میں سے ایک عظیم عبادت زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور اس کا مقصد معاشرے میں فقراء و مساکین کی مدد، مال کی پاکیزگی اور دلوں کی صفائی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا
(ترجمہ) “آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ (زکوٰۃ) لیجیے جس کے ذریعے آپ انہیں پاک اور صاف کریں۔”
(سورۃ التوبہ: 103)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ دینے کا اصل مقصد نفس کی پاکیزگی اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، نہ کہ لوگوں کے سامنے شہرت حاصل کرنا یا اپنے احسان کو ظاہر کرنا۔
لیکن آج کے دور میں ایک نیا رجحان پیدا ہو گیا ہے کہ لوگ زکوٰۃ اور صدقات دیتے وقت فوٹوگرافی، ویڈیو بنانا اور سوشل میڈیا پر تشہیر کرتے ہیں۔ غریبوں کو قطار میں کھڑا کر کے تصاویر بنائی جاتی ہیں اور پھر انہیں نشر کیا جاتا ہے۔ یہ عمل بظاہر نیکی معلوم ہوتا ہے لیکن شریعت کی نظر میں اس کے اندر کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر تنبیہ فرمائی:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى
(ترجمہ) “اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور اذیت دے کر ضائع نہ کرو۔”
(سورۃ البقرۃ: 264)
مفسرین نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے کہ صدقہ دینے کے بعد اگر انسان احسان جتلائے یا کسی طرح فقیر کو تکلیف پہنچائے تو اس کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔
امام ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
“اللہ تعالیٰ نے صدقہ دینے والوں کو منع فرمایا کہ وہ اپنے صدقات کو احسان جتلا کر یا اذیت دے کر باطل نہ کریں کیونکہ اس سے صدقے کا اجر ختم ہو جاتا ہے۔”
(تفسیر ابن کثیر، ج1، ص712)
اسی طرح امام قرطبیؒ فرماتے ہیں:
“المنّ یہ ہے کہ دینے والا اپنے صدقہ کا ذکر بار بار کرے اور لینے والے پر احسان جتلائے، اور الاذیٰ یہ ہے کہ فقیر کو کسی طرح کی تکلیف پہنچائے، مثلاً اس کی بے عزتی کرنا یا اس کی حاجت کو لوگوں میں ظاہر کرنا۔”
(تفسیر قرطبی، ج3، ص308)
آج کل جب کسی غریب کو زکوٰۃ دی جاتی ہے اور اس کی تصویر لے کر نشر کی جاتی ہے تو اس میں اکثر فقیر کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ اسلام نے فقیر کی عزت کی حفاظت کا خاص اہتمام کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ
(ترجمہ) “اور اگر تم صدقات کو چھپا کر فقراء کو دو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔”
(سورۃ البقرۃ: 271)
مفسرین لکھتے ہیں کہ صدقہ چھپا کر دینا اس لئے افضل ہے کہ اس میں ریا اور دکھاوے کا خطرہ کم ہوتا ہے اور فقیر کی عزت بھی محفوظ رہتی ہے۔
(تفسیر طبری، ج5، ص408)
رسول اللہ ﷺ نے بھی اخلاص کے ساتھ صدقہ دینے کی فضیلت بیان فرمائی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا… ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو اس طرح صدقہ کرے کہ اس کا بایاں ہاتھ بھی نہ جانے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔”
(صحیح بخاری، حدیث نمبر 1423، صحیح مسلم، حدیث نمبر 1031)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خفیہ صدقہ اللہ کے نزدیک بہت محبوب ہے۔ جب انسان اپنا صدقہ اس طرح چھپا کر دیتا ہے کہ کسی کو خبر نہ ہو تو اس میں کامل اخلاص پایا جاتا ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔
حضرت جندبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی رسوائی ظاہر کر دے گا۔”
(صحیح بخاری، حدیث نمبر 6499)
لہٰذا اگر کوئی شخص صدقہ یا زکوٰۃ دے کر اس کی تشہیر کرتا ہے تاکہ لوگ اس کی تعریف کریں تو یہ عمل اخلاص کے خلاف ہے اور اس سے ثواب ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
علمائے کرام نے بھی اس مسئلے پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ امام غزالیؒ لکھتے ہیں:
“صدقہ میں اصل مقصود اللہ کی رضا ہے۔ اگر اس میں ریا شامل ہو جائے تو اس کا اجر ختم ہو جاتا ہے اور وہ عبادت نہیں رہتی بلکہ دکھاوا بن جاتی ہے۔”
(احیاء علوم الدین، ج3، ص307)
اسی طرح مفتی محمد شفیعؒ تفسیر معارف القرآن میں لکھتے ہیں کہ صدقہ دینے کے بعد فقیر کو شرمندہ کرنا یا اس کی محتاجی کو ظاہر کرنا بھی اذیت میں داخل ہے جس سے صدقہ کا اجر ضائع ہو جاتا ہے۔
(معارف القرآن، ج1، ص652)
اسی طرح تاریخ اسلام میں ہمیں ایسے بزرگوں کے بے شمار واقعات ملتے ہیں جنہوں نے اپنی نیکیوں کو ہمیشہ چھپا کر رکھا اور اخلاص کے ساتھ فقراء کی مدد کی۔ ان میں ایک عظیم مثال حضرت امام زین العابدین علی بن الحسینؒ کی ہے جو اہل بیت کے جلیل القدر بزرگوں میں سے ہیں۔
امام زین العابدینؒ رات کے اندھیرے میں مدینہ کے غریب گھروں تک آٹا اور کھانے کی چیزیں خود پہنچایا کرتے تھے۔ وہ اس کام کو اس قدر خفیہ رکھتے تھے کہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ مدد کرنے والا کون ہے۔ جب آپ کا وصال ہوا تو لوگوں کو اس وقت پتہ چلا کہ راتوں کو ان کے دروازوں پر رزق رکھنے والا شخص دراصل امام زین العابدینؒ تھے۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ مدینہ کے سو سے زیادہ گھروں کو آپ کی طرف سے خفیہ طور پر مدد پہنچتی تھی۔ جب آپ کا انتقال ہوا تو وہ مدد اچانک بند ہو گئی اور اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ خدمت امام زین العابدینؒ انجام دیتے تھے۔
(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم، ج3، ص135)
اسی طرح آپ کے جسم مبارک پر بوجھ اٹھانے کے نشانات دیکھے گئے، جس سے معلوم ہوا کہ آپ خود اپنے کندھوں پر آٹے کے تھیلے اٹھا کر غریبوں تک پہنچاتے تھے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی نیکی وہ ہے جو اخلاص کے ساتھ اور بغیر تشہیر کے کی جائے۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کا بھی ایک مشہور واقعہ ہے۔ وہ خفیہ طور پر بہت سے غریب طلبہ اور محتاج خاندانوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ لوگوں کو ان کے دنیا سے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ بہت سے گھرانوں کا خرچ وہی اٹھاتے تھے۔
(سیر اعلام النبلاء، ج8، ص406)
اسی طرح حضرت علی بن الحسینؒ کے علاوہ دیگر بزرگان دین جیسے حضرت سفیان ثوریؒ اور حضرت اویس قرنیؒ کے بارے میں بھی منقول ہے کہ وہ اپنی عبادات اور صدقات کو چھپا کر رکھتے تھے تاکہ ان میں ریا کا شائبہ بھی نہ آئے۔
(تذکرۃ الاولیاء، ص98)
ان بزرگوں کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نیکی کی اصل روح اخلاص ہے۔ جب نیکی صرف اللہ کی رضا کے لئے کی جاتی ہے تو وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہوتی ہے، چاہے دنیا کو اس کا علم نہ ہو۔
آج کے دور میں جب سوشل میڈیا عام ہو چکا ہے تو بہت سے ادارے اور افراد زکوٰۃ تقسیم کرتے وقت تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات اس کا مقصد لوگوں کو ترغیب دینا ہوتا ہے، لیکن اکثر صورتوں میں اس کے اندر ریا، شہرت اور فقیر کی بے عزتی کے پہلو شامل ہو جاتے ہیں۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہم نیکی کو اخلاص کے ساتھ کریں۔ فقیر کی مدد کرتے وقت اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں اور اسے اس طرح مدد دیں کہ اسے کسی کے سامنے شرمندگی نہ ہو۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:
“صدقہ کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ انسان اسے اس طرح دے کہ لینے والے کو بھی معلوم نہ ہو کہ کس نے دیا ہے۔”
(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 3368)
اس تعلیم میں ایک عظیم حکمت پوشیدہ ہے۔ جب صدقہ خفیہ طور پر دیا جاتا ہے تو دینے والے کے دل میں اخلاص بڑھتا ہے اور لینے والے کی عزت محفوظ رہتی ہے۔
لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ زکوٰۃ اور صدقات دیتے وقت فوٹوگرافی اور تشہیر سے بچیں۔ اگر کسی ادارے کو لوگوں کو ترغیب دینی ہو تو وہ عمومی رپورٹ یا تحریر کے ذریعے کام کی اطلاع دے سکتا ہے، لیکن غریبوں کی تصاویر اور ویڈیوز نشر کرنا مناسب نہیں۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ زکوٰۃ اللہ کی عبادت ہے اور عبادت کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہے، نہ کہ دنیا کی تعریف۔ اگر ہم نے زکوٰۃ دیتے وقت اخلاص کو قائم رکھا اور فقیر کی عزت کا خیال رکھا تو یہی عمل ہمارے لئے آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے گا۔ لیکن اگر ہم نے اس میں احسان جتلایا، اذیت دی یا دکھاوا کیا تو ممکن ہے کہ ہمارا ثواب ضائع ہو جائے۔
ذرا ایک لمحہ رک کر سوچئے…
کیا آپ کو یہ پسند ہوگا کہ آپ کا بیٹا کسی مجبوری کی وجہ سے غریبوں کی قطار میں کھڑا ہو اور کوئی شخص اس کی تصویر لے کر لوگوں میں پھیلا دے؟
کیا آپ یہ برداشت کر سکیں گے کہ آپ کی بیٹی کسی امدادی لائن میں کھڑی ہو اور کوئی اس کو پانچ سو یا ہزار روپے کا راشن دیتے وقت تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر نشر کر دے؟
یقیناً کوئی باعزت انسان یہ منظر اپنے خاندان کے لئے پسند نہیں کرے گا۔
تو پھر ہمیں یہ حق کس نے دیا ہے کہ ہم کسی اور کے بیٹے، کسی اور کی بیٹی یا کسی مجبور انسان کو قطار میں کھڑا کر کے اس کی مجبوری کی تصویر بنا دیں؟
یاد رکھئے!
فقیر کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ صرف روٹی نہیں بلکہ عزت بھی ہوتی ہے۔
لہٰذا زکوٰۃ، صدقات اور امداد دیتے وقت غریبوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھئے۔
نیکی کو تشہیر کا ذریعہ نہ بنائیے بلکہ اسے اللہ کے لئے خاموشی اور اخلاص کے ساتھ انجام دیجئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ زکوٰۃ اور صدقات ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ریاکاری اور دکھاوے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...