Skip to content
مدھو کشور: گھر کا بھیدی ، ڈھائے مودی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایران کے حملوں نے ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کی عوام کو نیتن یاہو و ٹرمپ کے خلاف میدان میں اتار دیا، دوسری جانب سبرامنیم سوامی اور مدھوکشورکے سنگین الزامات نے مودی کا جینا حرام کردیا۔ اس طرح ان تینوں دوستوں کے ستارے گردش میں آچکے ہیں ۔ ان میں سے ایک اِپسٹین فائل بنوانے والا ہے دوسرا اس کے شکنجے میں پھنسنے والا لیکن تیسرا خود اپنی ہی ہوس کا شکار ی کے جال میں پھنس کر پھڑ پھڑانے والا ۔ مودی جی سوچ رہے ہوں گے کہ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ سنگھ پرچارک وزیر اعظم نے بھری جوانی میں اپنی زوجہ کو ملک و قوم کی خدمت کے لیے ’تیاگ (قربان کر)دیا‘ اور جنگلوں میں تپسیا کے لیے نکل گئے ۔ مودی نامہ لکھنے والی وزیر اعظم کی مداح کا بیان سن کر گمان گزرتا ہے کہ مودی جی شیلاجیت تلاش بیابان کی جانب گئے تھے تاکہ جنگل میں منگل منا سکیں ۔ یہ انکشاف بھی ہو چکا ہے کہ موصوف وزیر اعلیٰ بنے تو چین تک جاکر رنگ رلیاں منائیں ۔ وزیر اعظم بننے کے بعد مزید ترقی ہوئی تو عیش و عشرت کا دائرۂ کار امریکہ تک پھیل گیا لیکن وہاں پر انہیں ٹرمپ سمیت یہودیوں نے اپنے اپسٹین فائلس میں پھنسا لیا۔ اب تو یہ حال ہے کہ ’ہرہر مودی گھر گھرمودی ‘کا نعرہ لگانے والوں کے گھر پر موصوف جھولا اٹھا کرپہنچ جائیں تو وہ بھگت اپنی خواتین کے تحفظ کی خاطر دروازہ بند کرلیں گے ۔
پروفیسر مدھو کشور اب دھُرندر ۲ کی مانند مودی نامہ ۲ لکھنے جارہی ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مودی کی جنسی بے راہ روی صنعتی سطح پر ہے ۔ انہیں پہلی کتاب لکھنے کے بعد کئی سابق آرا ایس اور بی جے پی کے لوگوں نے بتایا تھا کہ کیا تم اس شخص کے بارے میں کچھ جانتی بھی ہو ؟ وہ کہتی ہیں کہ لوگ انہیں خبردار کررہے ہیں کہ مودی بڑا خطرناک آدمی ہے۔ وہ ہرین پنڈیا یا وجئے روپانی کی مانند کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ مدھو کشور نے اپنے حالیہ ویڈیو میں مودی بھگتوں کی گالی گلوچ کا نہایت شرمناک اشتراک کیا ہے ۔ ان پر ایک غائر نظر ڈال لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زعفرانی اگر خود اپنے ہی خاندان کی ایک معزز خاتون کے ساتھ اتنا برا سلوک کرسکتے ہیں تو دیگر ہُما شُما کی کیا بساط ؟ مدھو اپنے چہیتے رہنما کو مخاطب کرکے فرماتی ہیں ’’مودی جی، جیسے جیسے آپ کے فریبوں اور بداعمالیوں کے سبب آپ سے نفرت بڑھنے لگی، ویسے ویسے آپ پر ترس بھی آنے لگا۔ آپ نے پچھلے 11 برسوں سے ایک معمولی سی مدھو کشور کو ڈرانے، دھمکانے اور دہشت زدہ کر کے خاموش کروانے کے لیے بی جے پی آئی ٹی سیل کے لاکھوں تنخواہ دار ٹرولز کی بریگیڈ چھوڑ رکھی ہے‘‘۔ مدھو کشور پروفیسر رہی ہیں اس لیے وہ ناصحانہ انداز میں کہتی ہیں’’جس طرح کسی شخص کی پہچان اس کی صحبت سے ہوتی ہے۔ اسی طرح لیڈر اس کے پیروکاروں کے کردار سے پہچانا جاتا ہے‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں وہ بھدی گالیاں شیئر کردیں جو بی جے پی آئی ٹی سیل کے پیڈ ٹرولز نے انہیں دی ہیں۔
2014جون میں ان کو پیغام ملا ’’اس مقام پر آنے کے تم نے کس کے ساتھ ہم بستری کی اور نکاح کے باہر کتنے بچے پیدا کیے؟‘‘جولائی ( 2014) تم کتنے مردوں سے تعلق رکھتی اور کیا یہ درست ہے اے بوڑھی عورت تم دولت سے متاثر ہوجاتی ہو؟ ستمبر 2014’’وہ دولت کی حریص کتیا پیسے کے لیے اپنے بیٹے بیٹی بھی بھیج دے گی۔ دسمبر 12، 2025’’ کتیا کو جلاب لگے ہیں وہ بھی منہ سے‘‘۔ 27 مارچ 2026’’غیر ملکی عورت ، اسلامی جہادی ‘‘27 مارچ 2026’’ لُچی ہے یہ ایم سی (ماں کی گالی)27 مارچ 2026’’ کوٹھے کی عورت کا اس سے زیادہ احترام ہے‘‘۔ 28 مارچ 2026’’ بڈھی ہو گئی ہے یہ کتیا، سُسو سوامی کا سُسو پی کے‘‘۔ 27 مارچ 2026’’یہ عورت ایک بکی ہوئی کتیا ہے‘‘۔28 مارچ’’ ہزاروں لوگوں کا بستر گرم کر چکی ہے یہ کتیا‘‘۔ اس کے علاوہ کئی ٹویٹس میں گندی گالیاں دی گئی ہیں۔ مدھو کشور نے ایسے ہزاروں فحش ٹویٹس کو ڈاؤن لوڈ کر کے محفوظ رکھاہے تاکہ لوگ مہامانَو کا اصل روپ دیکھ سکیں۔ مدھو کے مطابق انہوں نے کبھی نہ تو وکٹم کارڈ کھیلا نہ ہی ان گالیوں سےان کی حوصلہ شکنی ہوئی ۔
مدھو کشور اپنی ویڈیو میں مودی جی کو مخاطب کرکے کہتی ہیں:’’ آپ کے چاپلوس یہ دلیل ضرور دیں گے کہ یہ ٹویٹس مودی جی نے تھوڑی ہی لکھے ہیں، یہ تو ادھر ادھر کے لوگ لکھ رہے ہیں۔ یہ سچ نہیں ہے۔ ایسی فحش گالیاں دلووانے کا کام بی جے پی آئی ٹی سیل کے انچارج ہیرن جوشی اور امیت مالویہ نے وزیرِ اعظم کے اشاروں پر ہی کیا ہے۔ اپنے فالوورز کو منضبط رکھنا ہر عوامی رہنما کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ ہر عورت کو شاید اسی نظر سے دیکھتے ہیں، ورنہ امیت مالویہ جیسے پیشہ ور فحش مواد پھیلانے والے کو آپ آئی ٹی سیل کے ساتھ ساتھ اوورآل میڈیا مینجمنٹ کا انچارج کیوں بناتے؟ امیت مالویہ کو اس لقب سے تو بی جے پی کے سخت ترین دشمن نے بھی نہیں یاد کیا ہوگا؟وہ ملک کےوزیر اعظم کو کھلے عام چیلنج کرتی ہیں کہ ’’آپ میں اتنی ہمت نہیں کہ سیدھے میدان میں آ کر ایک اکیلی عورت سے خود نمٹ لیں۔ اس لیے مدھو کشور نام کی ایک چھوٹی سی چڑیا کو شکست دینے کے لیے آپ نے لاکھوں خونخوار گِدھوں یعنی ٹرولز کی پوری بریگیڈ سوشل میڈیا پر تعینات کر دی۔ افسوس، آپ کو ایک بھی باز نہ مل سکا۔ ‘‘
مدھو کشور نے بی جے پی آئی ٹی سیل پر ازام لگایا کہ وہ گِدھوں کی فوج ہی کھڑی کر پایا۔ان کا مودی جی سیدھا سوال ہے کہ :’’شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ گدھ اور باز میں کیا فرق ہوتا ہے؟باز زندہ شکار کرتا ہے، جبکہ گدھ مردار خور ہوتے ہیں، یعنی مرے ہوئے جانور کھاتے ہیں۔ آپ جیسے بزدل کے پاس بہادر باز کہاں سے آئیں گے؟ آپ تو گدھوں کو پال کر انہیں باز کے طورپر پیش کرنے کی نوٹکی کرتے ہیں۔ کرائے کے ٹرولز کو میں گدھ اس لیے مانتی ہوں کیونکہ ان احمقوں نے مان لیا کہ جب ان کا مہامانَو مدھو کشور سے دشمنی رکھتا ہے تو یہ عورت ڈر کے مارے مرنے کے قریب ہوگی، اب گدھوں کی طرح اس کی بوٹی بوٹی نوچ ڈالو‘‘۔مودی بھگتوں کا یہ ناروا سلوک ان کی ایک ایسی نڈر سابقہ مداح سے ساتھ ہے جو کہتی ہے :’’مودی جی، میں آپ سے ڈر کر خاموش ہونے والی نہیں ہوں کیونکہ میرے ماں باپ نے مجھے ڈر اور بزدلی کے جینز دیئے ہی نہیں۔ جس خدائی طاقت نے مجھے جنم دیا ہے اسی نے طے کیا ہے کہ اس زمین پر میری کتنی سانسیں لکھی ہیں اور کون کون سے کام مجھ سے کروانے ہیں۔ میرا جینا یا مرنا نہ میرے ہاتھ میں ہے نہ کہ آپ کے۔ اس لیے میں موت سے بھی نہیں ڈرتی۔ مجھے یقین ہے کہ ماں درگا، جس نے مجھے آپ جیسے کالنیمیوں (راون کا شیطان) سے لڑنے کی طاقت دی ہے، وہ مجھے آپ جیسے بدروح کے ہاتھوں مرنے نہیں دے گی‘‘۔
ڈاکٹر سبرامنیم سوامی عرصہ ٔ دراز مودی پر لب لشائی کرتے رہتے ہیں لیکن مدھو کشور جیسا تیکھا حملہ انہوں نے کبھی نہیں کیا۔ وہ سنگھ پریوار کے اندرونی راز فاش کرتے ہوئے مودی سے کہتی ہیں کہ:’’آپ کے لیے شرم کی بات ہونی چاہیے کہ آپ ہی کی پارٹی کے لوگ مجھے خبردار کر رہے ہیں کہ مودی بڑا خطرناک ہے، تمہیں ہیرن پانڈیا کی طرح مروا دے گا۔ بی جے پی کے بڑے لیڈر سبرامنیم سوامی کا کہنا ہے کہ ہیرن پانڈیا کے قتل کے پیچھے مودی اور شاہ کا ہاتھ تھا۔آپ کے بچاؤ میں تو ماں بہن کی بھدی گالیاں دینے والے ٹرولز اور بکاؤ صحافی کھڑے ہوئے ہیں۔ میرے تحفظ میں آپ کے ہاتھوں ستائے گئے ہندو سماج کے لاکھوں لوگ ازخود کھڑے ہو گئے ہیں کیونکہ آپ نے ہندو سماج کے ساتھ بے رحمی سے دھوکہ کیا ہے اور ہمیں جلادوں کے حوالے کرنے کا منصوبہ آپ ابلیسی طریقوں سے نافذ کر رہے ہیں‘‘۔ مدھو کشور مودی پر الزام لگاتی ہیں کہ ’’ آپ کے ٹرولز ہمیں یہ کہہ کر ڈراتے رہے کہ مودی گیا تو اسلامی، اشتراکی اور کانگریسی مل کر ہندوؤں کو مارڈالیں گے۔ اب یہ حکمتِ عملی کام نہیں کرے گی، مہامانَو جی(عظیم انسان ) ۔ اب اس کی مدت کارختم ہو چکی ہے۔
آر ایس ایس بڑے فخر سے صدسالہ تقریبات منارہا ہے جبکہ مدھو کشور نےیہ پیشنگوئی کرکے دل جیت لیا کہ ’’اب وہ وقت دور نہیں جب وہ تمام ہندو جنہوں نے آپ کو اس یقین کے ساتھ ووٹ دیا تھا کہ آپ ان کا درد سنیں گے، ڈیموگرافک اِنویژن روکیں گے، ہندوؤں کے خلاف امتیازی پالیسی ختم کریں گے، ہمارے مندر ہمیں واپس دلائیں گے، تعلیمی نصاب کو صاف کریں گے، کنورژن مافیا کی سازشوں کو بے نقاب کریں گے۔وہ سب خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور اب آپ کے ہی مرید آپ کو اقتدار سے محروم کریں گے ‘‘ مدھو کشور خود ایک زمانے میں مرید تھیں اور ان کے ’موہ بھنگ‘ کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موجودہ حالات میں مدھو کشور کی شکوہ شکایت راون کے بھائی ’ گھر کے بھیدی‘ کی یاد دلاتی ہے اور داغ کا شعر بھی صادق آتا ہے’اس گھر آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ‘۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...