Skip to content
اہل اسلام کے لیے نفرتی ماحول میں غیر قانونی کام کا ارتکاب سم قاتل ہے
ازقلم:شفیع احمد قاسمی
خادم التدریس جامعہ ابن عباس احمد آباد
مدارس اسلامیہ کا عموما شوال سے آغاز ہوا کرتا ہے، اور شعبان کے پہلے عشرے میں تعلیمی سال کا اختتام ہوتا ہے بعضے مدارس شعبان کے دوسرے عشرے میں تعلیمی سال ختم کرتے ہیں جبکہ کچھ ادارے طلبہ حفظ کو ماہ مبارک میں روک کر تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہیں، اس بابرکت مہینے میں تعلیمی اوقات میں کسی قدر تبدیلی ہوتی ہے، چنانچہ بعد نماز فجر عموما لوگ آرام کی نیند لیتے ہیں بجز خدا رسیدہ اہل اللہ کے ، وقت اشراق تک وہ بیدار رہتے ہیں ذکر و اذکار اور یاد الہی میں مصروف ہوتے ہیں، پھر نماز اشراق سے ایک حج اور عمرہ کا ثواب اپنی جھولی میں درج کرالیتے ہیں،ذکر و اذکار اور تلاوت کا ثواب اس پر مستزاد ، بعدہ کچھ دیر کے لیے کمر سیدھی کرتے ہیں جب کہ سحر میں وہ عام لوگوں سے اٹھنے میں پہل کرتے ہیں، گویا خدائی فرمان ، كانوا قليلا من الليل ما يهجعون کے وہ سچے مصداق ہیں،
*طلباء کی شرارت و ناسمجھی*
اسی سال غالباً ماہ مبارک کی کوئی 22 تاریخ تھی، بیگو سرائے کی ایک خانقاہ سے راقم الحروف کی واپسی ہو رہی تھی، کھگڑیا اسٹیشن میں ٹرین کا انتظار تھا، کچھ ہی دیر گزرا تھا کہ اچانک کچھ سفید پوش مانوس چہرے نظر آئے ،جو خانقاہ سے متصل مدرسہ میں زیر تعلیم تھے، راقم کے لئے وہ چہرے شناسا تھے ، چونکہ خانقاہ میں معتکفین کی خدمت گزاری کا شرف ان کو حاصل تھا کثرت آمد و رفت سے وہ چہرے ناآشنا نہیں تھے، پلیٹ فارم پر نظر پڑتے ہی میں نے قریب بلایا، پوچھا ،لگتا ہے آپ حضرات سیر و تفریح کے لیے نکلے ہیں کافی دور نکل آئے، چونکہ خانقاہ سے یہاں تک کی مسافت تقریباً 35/30 کلومیٹر ہوگی، زبان سب کی بند رہی لیکن ان کی مسکراہٹ تصدیق کر رہی تھی ، میں نے ہمدردانہ درخواست کی، برائے خدا تفریح کے لیے اتنی لمبی مسافت طے نہ کیجئے، اور وہ بھی ریلوے اسٹیشن پر، اس وقت کا ماحول کس قدر پر خطر ہے، شاید آپ کو اس کا احساس نہیں، پوری پلاننگ کے ساتھ نفرت و عداوت کا اس درجہ پرچار کیا گیا ہے کہ اب اس کی جڑیں کسی قدر گہری ہو چکی ہیں آئے دن اس کے نتائج و ثمرات کھلی آنکھوں دکھ رہی ہیں، خیر بات آئی گئی ہو گئی،
ٹی ٹی کی گرفت میں
چھ طلبہ کی یہ جماعت تھی، سبھوں کی عمر قریبا 15/ 16 سال رہی ہوگی، یہ اپنے دھن میں آگے بڑھ رہے تھے ادھر میری نظر سے اوجھل ہوئے کہ ایک دم سے ٹی ٹی سے ان کا سامنا ہوا،
وہ حواس باختہ ہو گئے، ان سے کترا کر چلنے کی رفتار بڑھا دی، بس ٹی ٹی کا شبہ یقین میں بدلا ،اور انہیں دھر دبوچا، ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا، اسی حیرانگی میں ٹی ٹی نے ٹکٹ کا مطالبہ کیا، چونکہ ٹکٹ ان کے پاس تھا نہیں ، اتنا سننا تھا کہ پاؤں تلے زمین کھسک گئی، ٹی ٹی نے دھمکایا ہوگا، اتفاق سے پولیس ٹی ٹی کے ساتھ تھی ، اسی ہڑبڑاہٹ میں لڑکھڑاتی زبان سے انہوں نے میری طرف استاد ہونے کا اشارہ کر دیا، پولیس نے فوراً میری جانب کا رخ کیا اور کرخت لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوا کہنے لگا، کون ہے ان کا استاد؟ میں نے کہا، ان کا استاد نہیں ہوں، فرشتوں کی سی صورت دیکھ انہیں قریب بلایا تھا، پھر ٹی ٹی خود آیا ،یہی سوال اس نے بھی دہرایا، میں نے پھر کہا، ان کا استاد نہیں ہوں، وہ کہنے لگا بچے تو کہتے ہیں، میں نے کہا پوچھئے میں کیا پڑھاتا ہوں،
پھر وہ چلتا بنا، طلبہ کی گرفتاری سے میں اندر سے سہم گیا، بے چین ہوا کہ خدا معلوم ان بچوں کے ساتھ یہ کیا برتاؤ کرے؟ ،آنا فانا مدرسہ کے ذمہ داروں سے رابطہ کی کوشش کی لیکن معلوم ہے ماہ مبارک اور صبح آٹھ نو بجے کا وقت ہو تو فون ریسیو ہونا مشکل ہی نہیں بہت مشکل ہے چنانچہ تین چار لوگوں سے رابطہ کی انتھک سعی کی لیکن کہیں کامیابی نہیں ملی، حسن اتفاق پلیٹ فارم کی کرسی پر میرے بازو میں دو مسلم خواتین بیٹھی تھیں، ٹی ٹی کے اس کاروائی سے وہ بھی بے چین ہو اٹھیں، ایک معمر عورت مجھ سے لجاجت و اصرار کرنے لگی کہ آپ ٹی ٹی سے بات کیجئے میں نے کہا اگر میں نے بات کی تو معاملہ مزید بگڑے گا اسے یہ خیال ہوگا کہ جان بوجھ کر یہ لوگ نہ صرف بلا ٹکٹ سفر کرتے ہیں، بلکہ ایک جھنڈ کو بلا ٹکٹ سفر کراتے ہیں، خدانخواستہ اگر ان کے دماغ میں نفرت و عداوت کی گندگی پہلے سے پیوست ہوگی تو تل کو پہاڑ بنا دے گا، آپ خود جائیں اور ٹی ٹی سے منت سماجت کریں کہ یہ اسٹوڈنٹس ہیں غریب بچے ہیں نادانی میں ان سے کوتاہی سرزد ہو گئی ہے برائے مہربانی آپ انہیں رہا کر دیں بالاخر وہ( معمر عورت)اٹھی اور ٹی ٹی کے پاس جا کر لجاجت کرنے لگی،کہ یہ بچے ہیں ان معصوموں کو آپ رہا کریں، خدا معلوم اس خاتون نے کس قدر درد سے کہا تھا کہ بروقت خدائی مدد آئی، ٹی ٹی کے دل میں شفقت و نرمی اور محبت و رحم دلی نے جگہ بنالی ، چنانچہ اس نے بچوں کو چھوڑا اور انہیں صرف اتنا مکلف بنایا کہ تم واپسی کا ٹکٹ بناؤ پھر یہاں سے جاؤ ، خیر خدا خدا کر کے کسی طرح معاملہ نپٹ گیا، لیکن اگر خدانخواستہ ٹی ٹی نفرتی ذہنیت کا ہوتا تو ہم تصور کر سکتے ہیں کہ اس معاملے کو کس قدر خطرناک صورت دیتا اور نہ صرف طلبہ کے لیے پریشانی کھڑا کرتا بلکہ نفرت کے اس ماحول میں مزید نفرت کا گند پھیلاتا اور معاشرے کو مزید نفرت سے زہر آلود کرتا اللہ پاک ایسی صورتحال سے امت مسلمہ کو بچائے، ویسے تو ہمارا مذہبی و اخلاقی فریضہ ہے کہ غیر قانونی کام سے اجتناب کریں، لیکن اس نفرتی ماحول میں جبکہ نفرت کے پجاری تاک میں لگے ہیں ہر معاملے کو ہندو مسلم کی عینک سے دیکھتے ہیں ،خصوصا ہماری میڈیا اس نفرتی آگ میں تیل چھڑکنے کا کام کرتی ہے ،تب ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم اس طرح کا موقع فراہم نہ کریں،
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...