Skip to content
ڈونلڈٹرمپ: بربادامریکہ کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایران کو ننگی گالی دے کر صدر ٹرمپ نے امریکی سیاست کو عظیم بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ ایک زمانے میں بھانڈ عوام کی تفریح کا سامان کیا کرتے تھے ۔ عصرِ حاضر میں انہیں ’اسٹینڈ اپ کامیڈین‘ کہا جاتا ہے۔ ویسے ان میں کنال کامرا جیسے دلیر لوگ بھی موجود ہیں جو بلا خوف و خطر اقتدار پربراجمان لوگوں پر طنز و مزاح کے تیر چھوڑتے ہیں لیکن بیشتر مسخرےفحش لطیفوں سے ناظرین کو متوجہ کرنے اور یو ٹیوب پر اپنی مقبولیت بڑھاکر روپیہ کمانا چاہتے ہیں ۔ اس گھٹیا جمیعت میں سرِ فہرست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ وہ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا شوشا چھوڑ کر ذرائع ابلاغ پر چھا جاتے ہیں اور دن بھر عالمی ذرائع ابلاغ میں اس پر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کے ان کا نیا لطیفہ وارد ہوجاتا ہے۔ اس طرح گویا حالیہ امریکی ’ڈون‘ نے اپنےآپ کو ’سُپر پاور ‘ سے ’سُپر جوکر ‘ بنا دیا ہے۔ امریکہ کے مختلف شہروں میں پچھلے دنوں 3300 جلوسوں میں تقریباً 90لاکھ لوگوں نے میدان میں اتر کر اپنے صدر کا دماغ درست کرنے کی کوشش کی مگر وہ ’مرد ناداں پر کلام نرم نازک بے اثر ‘ کی مصداق رائیگاں گئی ۔ یہ مصیبت چونکہ امریکی عوام کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اس لیے وہ اس چھٹکارہ پانے کی خاطر ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ ایسے میں امریکہ کے اندر جاری کھیل تماشے پر غالب کا یہ مشہور شعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
بازیچۂ اطفال ہے ڈونلڈ مرے آگے
کرتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
ایران پر اوٹ پٹانگ تبصروں سے قطع نظر ٹرمپ کےفرانسیسی صدر میکرون پر گھٹیا تبصرے نے پوری دنیا کو چونکا دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ موصوف کس سطح تک جاسکتے ہیں ؟ ٹرمپ کی متنازع ویڈیو میں وہ ایک نجی ظہرانہ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’میں نے فرانس کو فون کیا، میکرون کو، جن کے ساتھ ان کی بیوی بہت برا سلوک کرتی ہیں، اور وہ ابھی تک اس جھٹکے سے سنبھل رہے ہیں بلکہ دایاں جبڑا سہلا رہے ہیں ۔‘‘ یہ کوئی اے آئی سے بنی مزاحیہ کلپ نہیں ہے بلکہ اسے کچھ وقت کے لیے وائٹ ہاؤس کے یوٹیوب چینل کی زینت بننے کا بھی شرف حاصل ہوا، تاہم بعد میں شرم آئی تو اس کو ہٹا دیا گیا مگر اس وقت تک تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔ ایمانوئل میکرون نے اس پراپنے ردعمل میں کہا کہ ٹرمپ حد سے زیادہ بولتے ہیں اور ان کی گفتگو نہ تو شائستگی کے تقاضے پورے کرتی ہے اور نہ ہی عالمی سفارتی معیار پر پورا اترتی ہے۔ عالمی سطح پرایسے بیانات منفی تاثر پیدا کرتے ہیں۔فرانسیسی صدر کے مطابق عالمی رہنماؤں کو محتاط، متوازن اور باوقار اندازِ گفتگو اپنانا چاہیے کیونکہ ان کے الفاظ نہ صرف دو طرفہ تعلقات بلکہ بین الاقوامی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات اکثر ان بنیادی اصولوں سے منحرف ہوتے ہیں، جس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
مغرب کی سفید فام اقوام اپنے آپ کو سب سے زیادہ مہذب اور دیگر لوگوں کو اپنے سے حقیر سمجھتی ہیں لیکن ٹرمپ کا تبصرہ اور اس پر میکرون کا ردعمل ’جمہوری نیلم پری‘ پردے میں میں چھپے دیو استبداد کوبے نقاب کردیتا ہے۔ ٹرمپ اگر اپنی نسل کے حلیفوں کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک کرتےہیں تو معاندین یا دشمنوں کے تئیں کیسارویہ اختیار کرتے ہوں گے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ٹرمپ کے بقول ان کی ناراضی اس لیے ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر میکرون سے خلیج میں جاری جنگ کے دوران فوجی مدد کی درخواست کی تھی، لیکن فرانس نے فوری طور پر تعاون سے انکار کر دیا۔ اپنی اس بے عزتی پر کھسیانی بلی کی مانند وہ کہتے ہیں ’’ہمیں ان کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے پھر بھی کہا کہ ہمیں خلیج میں کچھ مدد چاہیے،حالانکہ ہم پہلے ہی دشمنوں کو ختم کرنے اور میزائل گرانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔‘‘ اس بیان میں ٹرمپ کا جھوٹ چھپا ہوا ہے۔ کوئی اگر کامیاب ہورہا ہو تو دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے زحمت کیوں کرے؟ اس کے بعد ایک کامیڈین کی مانندمیکرون کے جواب کی نقل اتارتے ہوئے ٹرمپ کہتے ہیں ’’نہیں، ہم ابھی ایسا نہیں کر سکتے، جنگ جیتنے کے بعد کریں گے۔‘‘اس پر ٹرمپ کا جواب ہوتا ہے’’مجھے جنگ کے بعد مدد نہیں چاہیے۔‘‘ یعنی ابھی فوراً چاہیے ۔ یہی تضاد بیانی کہ مدد’چاہیے بھی اور نہیں بھی چاہیے ‘ ٹرمپ کے جھوٹ کی چغلی کھاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس ذاتی رسوائی کو قومی مسئلہ بنا دیا یعنی اس واقعہ کو بنیاد بنا کر نیٹو اتحاد کی افادیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا ’’اگر کوئی بڑی جنگ ہوئی تو نیٹو ہمارے ساتھ نہیں ہوگا۔ وہ بولے امریکہ کے بغیر نیٹو ایک کاغذی شیر ہے ۔ ایران سے جنگ نے ثابت کردیا ہے کہ بظاہر طاقتور نظر آنے والا امریکہ بھی نہایت کمزوربھوکا بھیڑیا ہے اور اسرائیل تو بس ایک بھیگی بلی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ آئے دن اس پربمباری ہوتی ہے اور وہ ’میاوں میاوں ‘ سے زیادہ کچھ بھی نہیں کرپاتا۔ نیٹو سے متعلق ٹرمپ کے منفی جذبات اظہر من الشمس ہیں ۔ ان کے مطابق وہ پچیس سال سے اس کی افادیت کی بابت مشکوک ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اسے سوویت یونین کے خلاف بنایا گیا تھا ۔ اب چونکہ سوویت یونین ہی ختم ہوگیا تو اس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اپنی گزشتہ مدت کار میں بھی وہ کھلے عام اس سے نکلنے کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں کیونکہ اس پر خرچ ہونے والی امریکی رقم کو وہ جائز نہیں سمجھتے۔ اس لیے اپنی حصے داری بچانے کے لیے نکلنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ٹرمپ کی تاجرانہ ذہنیت ہر کام میں نفع نقصان سوچتی ہے ۔ ٹرمپ ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ ناٹو کسی بڑی جنگ میں ان کا ساتھ نہیں دے گا اور ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں یہ ثابت ہوگیا۔
ٹرمپ نہیں جانتے کہ ناٹو کی دفع ۵ کے مطابق اگر کوئی دشمن کسی بھی رکن ملک پر حملہ کرے تو اسے تمام ہی ممالک پر حملہ سمجھا جائے گا اور وہ ۳۳ ؍ ممالک متحد ہوکر اس کا مقابلہ کریں گے ۔ اس میں حملہ کرنے کی بات نہیں کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جارج ڈبلیوبش نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کو افغانستان سے جوڑ کر انتقام لینے کا عزم کیا تو سارے نیٹو ممالک اس کے ساتھ کھڑے تھے مگر عراق کی فوج کشی کے وقت برطانیہ کے سوا کوئی نیٹو ملک ساتھ نہیں آیا۔ اس لیے کہ صدام نے تو کویت پر حملہ کیا تھا جو نیٹو میں شامل نہیں تھا ۔ ایران پر امن بات چیت کے دوران اچانک دھوکے سے امریکہ نے اسرائیل کی مدد سے حملہ کردیا ۔ وہ جارح ہے اس لیے برطانوی وزیر اعظم کہتے ہیں کہ یہ ان کی جنگ ہی نہیں ہے تو وہ اس میں کیوں شرکت کریں ۔ ویسےٹرمپ کو شکایت کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اس نے یوکرین اور روس کی جنگ میں نیٹو حلیف کے خلاف دشمن روس سے بات چیت شروع کردی اور گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی بھی دی ۔ ایسے میں بھلا نیٹو ممالک اس کے ساتھ کیوں آئیں گے وہ کھلے عام کینیڈا کو اپنی ریاست بنانے کا خواب ہی نہیں دیکھتا بلکہ اعلان بھی کردیتا ہے۔ اس تناظر میں ٹرمپ کا نیٹو ممالک سے حمایت کی توقع کرنا شیخ چلی کا خواب تھا جو بجا طور پر ٹوٹ کر بکھر گیا ۔
موجودہ جنگ کے حوالے سے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے دو اہداف تھے ۔ پہلا اپنی مقبولیت بڑھا کر آئندہ پارلیمانی انتخاب میں اس کا فائدہ اٹھانا اور دوسرےمسلم ممالک کو آپس میں لڑا کر ہتھیاروں کی تجارت کو فروغ دینا ۔ اب حالت یہ ہے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے ان کی گھٹتی ہوئی مقبولیت پر مہر لگا رہے ہیں اور مسلم دنیا کو لڑاکر ڈالر کمانے کا خواب دیکھنے والے خود آپس میں لڑ پڑے ہیں۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ مغرب کی لاکھ اکساہٹ کے باوجود کسی بھی مسلم ملک نے ایران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جبکہ غزہ کی نسل کشی میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے فرنگی آپس میں دست و گریباں ہوگئے۔ایک طرف نیٹو کے تار بکھر رہے ہیں اور دوسری جانب سعودی اور پاکستان ایک اتحاد قائم کرچکے ہیں جس میں عنقریب ترکیہ بھی شامل ہوجائے گا۔ جہاں تک امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات کا سوال ہے انہوں نے جب یکم اپریل کو یہ دعویٰ کیا کہ ایران مصالحت کے لیے گڑگڑا رہا ہے تو ایران نے یاد دلایا کہ یہ اپریل فول سے بھی زیادہ بھونڈا مذاق ہے۔ اسے’نہلے پہ دہلا‘کہتے ہیں ۔ نیٹو جیسے اتحاد کو برباد کرنے سے روکنے کے لیے خود سرامریکی صدر کو کوئی اور تو سمجھا نہیں سکتا مگر ان کے قر یبی وزیر خارجہ مارکو روبیو یہ کام کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے بھی اشارہ دے دیا ہے کہ ایران جنگ کے بعد امریکہ نیٹو کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کر سکتا ہے ۔ اب بھلا ایسے میں کس سے امید کی جائے؟ کیونکہ یہ تو پوری کی پوری جماعت ہی سرپھری ہے۔ ایسے میں شوق بہرائچی کا یہ شعر (مع ترمیم) یاد آتا ہے؎
بربادامریکہ کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...