Skip to content
ایران اور امریکہ میں عارضی جنگ بندی — ایران کی فتح
ازقلم:شیخ سلیم
(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
اب سے کچھ دیر پہلے امریکا اور ایران کے بیچ پندرہ دنوں کی ایک عارضی جنگ بندی کا معاہدہ اسلام آباد کی کوششوں کے باعث عمل میں آیا ہے۔ اس سے پہلے امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر ایران کو انتہائی سخت الفاظ میں دھمکیاں دی تھیں اور کل ایران کے سبھی پلوں اور بجلی گھروں پر سخت حملے کی دھمکی دی تھی۔ کچھ ماہرین اسے نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی قرار دے رہے تھے جس کی وجہ سے پوری دنیا شدید تشویش میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اسلام آباد پچھلے ہفتے سے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحت کی کوشش کر رہا تھا اور اسے چین کی حمایت حاصل تھی۔ آج صبح شدید جنگ اور ایران پر شدید حملے کی توقع کی جا رہی تھی مگر امریکی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل واشنگٹن سے پندرہ روزہ سیزفائر کا اعلان ہو گیا اور پوری دنیا نے ایک طرح سے سکون کا سانس لیا۔ در اصل امریکی دھمکیوں کے باوجود ایران نے کوئی کمزوری نہیں دکھائی، اپنی شرطوں پر قائم رہے، فوج اور لیڈرشپ ثابت قدم رہے، ساتھ ہی عوام سڑکوں پر نکل آئی اور پلوں اور بجلی گھروں کے گرد انسانی زنجیر بنا کر کھڑے ہو گئے۔ تاریخ نے ایسی شجاعت اور بہادری شاید پہلی بار دیکھی ہے جب ایک سپر پاور کہتا ہے کہ ایران کو، ایرانی تہذیب کو مٹا دوں گا، پتھر کے دور میں بھیج دوں گا، مگر ایرانی عوام سڑکوں پر نکل آئی اور اپنے بجلی گھروں اور پلوں کی حفاظت کے لیے انسانی زنجیر بنائی۔ دنیا ایسی شجاعت اور بہادری دیکھ کر حیران ہوئی، امریکا اور اسرائیل بھی دہشت زدہ ہوئے۔ فوج اور عوام کے ایک ساتھ لڑنے کے نتائج سے امریکا اور اسرائیل واقف ہیں۔ امریکا کو کیا حاصل ہوا ؟ ابنائے ہرمز جنگ سے پہلے کھلی ہوئی تھی اب وہ ایران کی شرطوں پر کھلے گی ایران کی مرضی سے جہاز رانی ہوگی ۔
آئیے دیکھتے ہیں جنگ بندی کا منصوبہ کیا ہے۔ا
ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ایک دس نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں وہ عارضی نہیں بلکہ مستقل امن چاہتا ہے۔ کیونکہ امریکا اور اسرائیل کچھ دنوں کی جنگ بندی کرتے ہیں، پھر سے میزائل اور ہتھیار جمع کرتے ہیں اور دوبارہ جنگ شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے مطابق امریکہ کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ آئندہ ایران پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ اس پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں اور اس کے ایٹمی پروگرام، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ایٹمی اداروں کی طرف سے اس پر جو دباؤ یا پابندیاں ہیں وہ بھی ختم کی جائیں۔
ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اپنی فوج مشرق وسطیٰ سے نکالے یعنی فوجی اڈے ختم کرے اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران چاہتا ہے کہ اس کا اس پر کنٹرول برقرار رہے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر فیس لینے کا اختیار بھی اسے حاصل ہو۔ مزید یہ کہ اس پورے معاہدے کو اقوام متحدہ کی سطح پر قانونی تحفظ دیا جائے تاکہ مستقبل میں اس کی خلاف ورزی نہ ہو سکے۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ہوئی ہے۔ اس کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ امریکہ نے حملے روک دیے ہیں۔ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متوقع ہیں۔
اس جنگ بندی کے فوری اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بہتر ہوئی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی آ رہی ہے۔ اس کا فائدہ بھارت جیسے ممالک کو ہوگا، تیل اور گیس کی سپلائی بحال ہوگی، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے اور مہنگائی پر وقتی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ صورتحال ابھی بھی نازک ہے کیونکہ امریکہ نے ایران کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے جبکہ ایران اپنے اہم نکات پر قائم ہے۔ اگر یہ مطالبات مان لیے جاتے ہیں تو خطے میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا اور ایران ایک مضبوط پوزیشن میں آ سکتا ہے، علاقائی سپر پاور بن سکتا ہے، امریکہ کا اثر کم ہو جائے گا، چین اور روس نے ایران کی کھلم کھلا مدد کی، چین مضبوط ہو جائے گا۔
جہاز رانی اور عالمی تجارت میں بھی بہتری آ سکتی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کھلنے سے تیل اور دیگر سامان کی ترسیل بحال ہونا شروع ہو جائے گی۔ اس سے بھارت، چین اور یورپ سمیت کئی ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔
ایٹمی پروگرام کا مسئلہ اس پورے معاملے کا سب سے حساس اور اہم پہلو ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل اس کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
اگرچہ وقتی طور پر خطے میں کشیدگی کم ہوئی ہے، لیکن جنگ کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے اور کسی بھی وقت حالات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں۔ اگر پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں تو ایران کی معیشت بہتر ہو جائے گی اور وہ زیادہ تیل برآمد کر سکے گا جس سے عالمی قیمتیں مزید کم ہو سکتی ہیں۔اس سارے عمل میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
ایران کا یہ دس نکاتی منصوبہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاسی صورتحال کو ہمیشہ کے لیے بدلنے کی کوشش ہے۔ موجودہ جنگ بندی ایک وقتی وقفہ ہے، مستقل حل نہیں۔ آنے والے دو ہفتے انتہائی اہم ہیں کیونکہ انہی میں فیصلہ ہوگا کہ مستقل امن کی طرف پیش رفت ہوتی ہے یا دوبارہ جنگ شدت اختیار کرتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ جنگ بندی ایران، لبنان، یمن سبھی طرف لاگو ہوگی۔ اس میں ایک خطرہ موجود ہے، اسرائیل اس کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔ اسرائیل لمبی جنگ چاہتا ہے، اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران پر حملے، ایرانی تیل کی تنصیبات پر حملے، ایرانی عوام پر حملے جاری رکھے جائیں۔ ایران خلیجی ریاستوں پر جوابی حملے کرے گا اور تباہی مسلمانوں کی ہوگی، امن نہیں ہوگا۔ مگر امریکا میں اس جنگ کی مخالفت بڑھتی جا رہی تھی، امریکی کانگریس کے ارکان لگاتار جنگ کے خلاف ہوتے جا رہے تھے اور وہ صدر ٹرمپ کو ہٹانے کی تیاریاں اور کوششیں تیز کر رہے تھے۔ دیکھنا ہوگا اس جنگ اور جنگ بندی سے امریکی سیاست پر کیا اثر پڑے گا۔ تیل کی قیمتیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں، اسٹاک مارکیٹ بڑھنا شروع ہو گئی ہے، دنیا نے عارضی طور پر سکون کا سانس لیا ہے۔ امید ہے یہ عارضی جنگ بندی ایک مستقل جنگ بندی اور امن کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...