Skip to content
مودانی سرکار اور کاکروچ جنتا پارٹی ؟ ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورے نے فلم دشمن کی ایک قوالی یاد دلادی جس کا مکھڑا تھا ’سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے، کہ خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے‘۔ کاغذ کے پھولوں سے خوشبو تو نہیں آتی مگر بدبو بھی نہیں آتی جبکہ اس دورے کا تعفن تو چار دانگ ِ عالم میں پھیل گیا ہے۔ اس دورے کی ابتداء متحدہ امارات سے ہوئی اور اختتام اٹلی میں ہوا۔ (ان دونوں دوروں کے اغراض و مقاصد پر بات کل ہوچکی)۔ پہلے دورے سے فارغ ہوکر وزیر اعظم نریندر مودی نیدر لینڈز پہنچے ۔ وہاں پر میزبا ن وزیر اعظم روب جیٹن نے بذاتِ خود وزیر اعظم نریندر مودی سے صحافتی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق پر خدشات کا اظہار کردیا جو معمولی بات نہیں ہے۔ اس بند کمرے میں ہونے والے اعتراض کو بہ آسانی دبایا جاسکتا تھا ۔ یہ خبر اگر کسی طرح لیک ہوجاتی تو اس کی تردید بھی ہوسکتی تھی لیکن ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان صوبی نے اس پراپنے ردعمل کا اظہار کرکے گویا اس کی تصدیق کردی ۔ ویسے یہ تردید اس قدر مضحکہ خیز تھی کہ گویا علاج بیماری سے زیادہ تکلیف دہ ہوگیا۔ بقول مضطر خیرا آبادی؎
مضطرؔ اس نے سوال الفت پر
کس ادا سے کہا خدا نہ کرے
دی ہیگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبی نے کہا کہ اس قسم کے سوالات اکثر ہندوستان کے بارے میں کم فہمی کے باعث اٹھائے جاتے ہیں۔ وہ بھول گئے کہ فی الحال پوری دنیا ایک گاوں بن چکی ہے اس لیے حقائق کا انکار آسان نہیں رہا ۔ انہوں نے ہندوستان کے مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی بڑے مذاہب نے ہندوستان میں پناہ پائی اور ترقی کی۔ یہودیت دو ہزار پانچ سو برس سے زائد عرصے تک ہندوستان میں موجود رہی اور یہ دنیا کے چند ممالک میں شامل ہے جہاں یہودی برادری کو کبھی ظلم و ستم کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسی طرح عیسائیت حضرت عیسیٰؑ کے بعد بہت جلد ہندوستان پہنچی اور اسلام بھی تاریخی طور پر بہت پہلے یہاں آیا اور پھلا پھولا۔ گجرات اور منی پور کے تناظر میں یہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ صوبی کے مطابق ہندوستان ہمیشہ ان لوگوں کے لیے پناہ گاہ رہا ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔کیا اسی لیے روہنگیا مسلمانوں کےآنکھوں پر پٹی باندھ کر انہیں سمندر میں اتار دیا گیا ؟ یہاں پردیسیوں تو دور خود اپنے ملک کے دلتوں اور قبائل کے ساتھ صدیوں سے غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ کیا دنیا بھر کے لوگ ان حقائق سے واقف نہیں ہیں ؟ کیا وہ واٹس ایپ یونیورسٹی کے اندھ بھگت ہیں ۔ایسی وکالت پر برق وارثی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
ہر اک ادا کو تری لا جواب کہتے ہیں
ستم کو بھی کرم بے حساب کہتے ہیں
صوبی نے ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں تقریباً 900؍ ملین اسمارٹ فون استعمال کیے جا رہے ہیں اور ہر شہری کو اظہارِ خیال اور پریس کی آزادی حاصل ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا فون کا استعمال بجائے خود آزادیٔ اظہار کا پیمانہ ہے؟ ہندوستان کے اندر ایوان پارلیمان میں حزب اختلاف کے رہنما کا مائک بند کردیا جاتا ہے۔ گودی میڈیا کسی اور ملک میں نہیں ہندوستان ہی میں پایا جاتا ہے۔ یہ لوگ کو ہیلی لنگ کو پہلے تو غیر ملکی جاسوس کہہ کر ان کی کردار کشی کرتے ہیں پھر اس دلیر صحافیہ کا اکاونٹ بھی بند کروا دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں صحافتی آزادی کی جانچ پڑتال کرنے والے معتبر ادارے رپورٹرس بیونڈ بارڈر کی ہندوستان سے کیا دشمنی ہے جو اس نے 180ممالک کی فہرست میں پاکستان اور بنگلہ دیش سے نیچے6پائیدان گراکر بھارت کو157؍پر رکھا؟ اس دور میں حقائق کا انکارآسان نہیں ہے۔ وہاں سے جب مودی جی ناروے پہنچے تو ہیلی لنگ کے سوال کا جواب دینے سے انکار کرکے خود وزیر اعظم نے صوبی کے سارے دفاع کی قلعی کھول دی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کے سب سے آزاد میڈیا میں مودی جی کو تیل کے پائپ کو قابو میں کرنے والے سپیرے کے طور پر پیش کردیا گیا ۔ ویسے مودی جی پر منیر نیازی کی معروف نظم سپیرا کے یہ اشعار صادق آتے ہیں؎
میں ہوں ایک عجیب سپیرا،ناگ پالنا کام ہے میرا
پیلے پیلے کالے کالے،رنگ برنگے دھبوں والے
شعلوں سی فنکاروں والے،زہریلی مہکاروں والے
نئے لہو سے لال زبانیں، جیسے موت کی رنگیں تانیں
ناروے میں ہیلی لنگ کے شور شرابے نے اس اہم مقصد پر پردہ ڈال دیا جو مودی جی کو وہاں لے کر گیا تھا ۔ اس کی وضاحت ناروے کے مرکزی بینک’’نورجیس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ‘‘کے اعلان میں سامنے آئی۔ مرکزی بینک کا گورنمنٹ پنشن فنڈ گلوبل دنیا کی لسٹڈ کمپنیوں میں تقریباً 5.1؍ فیصد شیئرز کا مالک ہے۔ اس کا شمار دنیا کے سب سے بڑے فنڈز میں ہوتا ہے اور اس کی تقریباً۹؍ ہزارکمپنیوں میں ہولڈنگز ہیں۔ یہ صرف منافع خوری کے بجائےاپنی شراکت دار کمپنی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔ اس نےاڈانی پورٹس اور اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ کو اپنے خودمختار دولت فنڈ سے خارج کرنے کا اعلان کردیا کیونکہ اڈانی کی کمپنی کے جنگ اور تنازعات کے علاقوں سے مبینہ تعلقات ہیں۔ اڈانی پورٹس کو خارج کرنے کا فیصلہ21؍ نومبر کو ایتھکس کونسل نے مالیاتی آلات میں سرمایہ کاری ویلتھ فنڈ کے اخلاقی رہنما خطوط کی روشنی میں سفارش پر کیا گیا۔ اڈانی پورٹس پر کونسل نے مارچ2022ء سےمیانمار میں مسلح افواج کے ساتھ کاروباری وابستگی کی وجہ سے زیر نگرانی کر رکھی تھی۔
مئی2023ء میں اے پی ایس ای زیڈ (اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ)نے انکشاف کیا کہ اس نے میانمار میں اپنے بندرگاہ سے متعلق آپریشنز سولر انرجی لمیٹڈ کو فروخت کر دیئے ہیں ۔ اے پی ایس ای زیڈ نے کہا ہے کہ وہ رازداری کی بنیاد پر ایسی کسی بھی معلومات کا اشتراک نہیں کر سکتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ناروے کے اس فنڈ نے میانمار کے معاملے کو اس قدر سنگین کیوں سمجھا؟ وہاں پر فروری 2021ء میں بغاوت کے بعدایک فوجی آمریت دوبارہ اقتدار میں آگئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2023ءکے آخر تک تنازع نے65؍لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کیا ہے۔اس لیے ایسی سفاک حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنی ناروے میں اخلاقی معیار پر پورا نہیں اترتی ۔اپنے ہندوستان میں سب چلتا ہے بلکہ پسندکیا جاتا ہے۔ اب لوگ باگ 43؍ سال بعد کسی ہندوستانی وزیر اعظم کے دورے کو اڈانی کی خلاصی سے جوڑ رہے ہیں۔ پچھلے بارہ سالوں میں دنیا بھر کی سیر کرنے والے مودی جی کو ناروے کا خیال نہیں آیا لیکن جیسے اڈانی پھنسے تو مودی کو ناروے کی یاد آگئی اور جھولا اٹھا کر نکل کھڑے ہوئے کیونکہ مودی اور اڈانی کی دوستی پر آتش کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
تو اور ہم اے دوست تھے یک جان دو قالب
تھا غیر سوا اپنے جو تھا یار ہمیں تھے
وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کا آخری پڑاو سب سے بھیانک تھا ۔ وہاں انہوں نے اپنے خفیہ ایجنڈے پر میلونی کے ساتھ سیلفی و تفریح اور میلوڈی چاکلیٹ میں چھپانے کی کامیاب کوشش کی ۔ پچھلے مضمون میں اسرائیل کے اندر اسلحہ سازی کے لیے بھیجے جانے والے فوجی گریڈ کے اسٹیل بیان ہوگئی فی الحال وزیر خارجہ جئے شنکر کے دلال والے تبصرہ توجہ طلب ہے۔ وزیر خارجہ سے کل جماعتی اجلاس میں امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے نہایت حقارت سے کہا تھا کہ ہم پاکستان کی مانند دلالی کرنے والے نہیں ہیں۔ ہم مصالحت نہیں کرواتے۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہواتھا کہ کیا وہ آپریشن سیندور کے بعد مصالحت کرانے والے امریکہ کو بھی دلال کے لقب سے نوازنے کی جرأت کریں گے؟ اب سوال یہ پیدا ہوگیا کہ اگر مصالحت نہیں کراتے تو کیا کرتے ہیں ؟ اس کا یہ جواب سامنے آیا کہ ہم جنگ کی آگ میں تیل ڈال کر اس آگ پر اپنی معاشی روٹیاں سینکتے ہیں۔ اسرائیل جیسے نسل کش ملک کو اسلحہ بناکر عام فلسطینیوں کا قتل غارت گری میں تعاون کرتے ہیں ورنہ اٹلی کے راستے آٹھ ٹن سے زیادہ فوجی گریڈ کے اسٹیل کا بھیجنے کے کیا مطلب ہے؟
وزیر اعظم کے نزدیک یہ اس حکمت عملی کا شکر آلود نام ’آپدا میں اوسر‘ یعنی مشکل میں موقع ہے۔دو سال قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا ’’پوری دنیا یدھ (جنگ) میں نہیں،(گوتم) بدھ میں حل تلاش کرے گی۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ وہ بدھ سے سیکھیں، جنگ کو ختم کریں، امن کا راستہ ہموار کریں کیونکہ مہاتما بدھ کہتے ہیں کہ امن سے بڑی کوئی خوشی نہیں ہے‘‘۔ دوسروں کو امن کی نصیحت کرنے والے وزیر اعظم کا نسل کشی کے مجرم کو سینے سےلگانا اور اسلحہ سازی کےلیے لوہا بھجوانا جنگ کی راہ ہے یا امن کی؟مودی جی نے آگے کہا تھا’’میں گجرات کے وڈ نگر میں پیدا ہوا، جو کبھی بدھ مت کا ایک بڑا مرکز تھا‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اب کیوں نہیں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے مودی جی کے آباو واجداد نے بودھ مذہب کے پیروکاروں کا دیس نکالا کردیا۔ وہ مذہب چین، جاپان، میانمار اور سری لنکا میں پھلا پھولا مگر ہندوستان سے مٹاد یا گیا۔ آج بھی وہ لوگ گوتم بدھ کا نام تو لیتے ہیں مگر اسرائیل جیسے بدترین امن کے دشمن کی حمایت کرتے ہیں۔ اس بڑی منافقت اور کیا ہوسکتی ہے؟
Post Views: 44