Skip to content
یوگی کا ”دوسرا طریقہ“ قانون کے مجرموں کے لئے کیوں نہیں؟
✍️افتخاراحمدقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com
اترپردیش کی سیاست میں مذہب، طاقت، قانون اور ووٹ بینک ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہے ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہ تعلق پہلے سے کہیں زیادہ واضح، سخت اور جارحانہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست نے ریاست کے سیاسی مزاج کو ایک نئی سمت دی ہے جہاں انتظامیہ کی زبان، سرکاری بیانات اور سیاسی تقریروں میں ایک خاص قسم کی سختی نمایاں نظر آتی ہے۔ جب یوگی آدتیہ ناتھ یہ کہتے ہیں کہ اب سڑکوں پر نماز نہیں ہوگی شفٹوں میں نماز پڑھیں پیار سے مانیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ دوسرا طریقہ اپنایا جائے گا تو یہ انتظامی ہدایت نہیں رہ جاتی بلکہ ایک سیاسی پیغام بن جاتا ہے اور یہی پیغام آج پورے اتر پردیش کی سیاست کی بنیاد بنتا جا رہا ہے۔ اگر اس بیان کو صرف قانون و نظم کے تناظر میں دیکھا جائے تو شاید بہت سے لوگ اس سے اتفاق بھی کریں۔ ظاہر ہے کہ سڑکیں عام آمد و رفت کیلئے ہوتی ہیں اور کسی بھی مذہبی سرگرمی سے عوامی زندگی متاثر نہیں ہونی چاہئے۔ یہی اصول ہر مذہب پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہئے۔ لیکن کیا واقعی حکومت کا رویہ ہر معاملے میں یکساں ہے؟ کیا دوسرا طریقہ صرف نماز پڑھنے والوں کیلئے محفوظ ہے؟ کیا یہی سختی ان لوگوں کے خلاف بھی دکھائی جاتی ہے جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں، نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں، فرقہ وارانہ ماحول خراب کرتے ہیں یا ہجوم کی شکل میں تشدد برپا کرتے ہیں؟
یوپی کی سیاست کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں انتخابات صرف ترقیاتی منصوبوں پر نہیں لڑے جاتے بلکہ مذہبی جذبات، شناخت اور خوف کی سیاست پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ ایک دہائی میں جس سیاسی حکمت عملی کو اختیار کیا ہے اس کی بنیاد ہندو ووٹوں کے اتحاد پر قائم ہے۔ اس اتحاد کو مضبوط رکھنے کیلئے وقتاً فوقتاً ایسے بیانات دیے جاتے ہیں جن سے اکثریتی طبقہ خود کو طاقتور اور اقلیتی طبقہ خود کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کرے۔ کبھی لاؤڈ اسپیکر کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے، کبھی مدارس پر سوالات کیے جاتے ہیں، کبھی حلال مصنوعات پر بحث چھیڑی جاتی ہے، اور کبھی سڑکوں پر نماز کا معاملہ سیاسی موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اترپردیش میں مذہبی اجتماعات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ کئی مقامات پر سڑکوں پر کانوڑ یاترا نکلتی ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں، مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں اور بعض اوقات گھنٹوں ٹریفک معطل رہتی ہے۔ حکومت ان مواقع پر نہ صرف انتظامات کرتی ہے بلکہ کئی بار خصوصی سہولتیں بھی فراہم کرتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ان پروگراموں کی اجازت کیوں دی جاتی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ قانون کا پیمانہ ہر جگہ الگ کیوں ہو جاتا ہے؟ اگر سڑک عوام کی ہے تو اصول سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے لیکن جب ایک ہی معاملے میں مختلف رویے اپنائے جائیں تو پھر شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری ہیں۔
یوگی حکومت کی سیاست کا سب سے اہم پہلو اس کی علامتی طاقت ہے۔ بلڈوزر اس سیاست کی سب سے بڑی علامت بن چکا ہے۔ حکومت اسے جرائم کے خلاف کارروائی قرار دیتی ہے لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ یہ کارروائیاں اکثر مخصوص طبقوں تک محدود نظر آتی ہیں۔ کئی بار عدالتی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے ہی ملزمین کے گھروں پر بلڈوزر چل جاتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی قانون کی حکمرانی چاہتی ہے تو پھر عدالتی عمل سے پہلے سزا دینے کا اختیار کس نے دیا؟ اور اگر دوسرا طریقہ واقعی قانون نافذ کرنے کیلئے ہے تو پھر بڑے بڑے جرائم میں ملوث طاقتور افراد کے خلاف یہی سختی کیوں نہیں دکھائی دیتی؟ اترپردیش میں ایسے بے شمار واقعات ہوئے جہاں ہجومی تشدد، نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کھلے عام سامنے آئی لیکن حکومت کی زبان وہاں اتنی سخت نہیں سنائی دی۔ اگر کوئی نوجوان سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لکھ دے تو اس کے خلاف فوری کارروائی ہو جاتی ہے لیکن جب نفرت پر مبنی تقاریر جلسوں میں کی جاتی ہیں تو اکثر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ قانون اگر واقعی غیر جانبدار ہو تو پھر مجرم کا مذہب نہیں دیکھا جانا چاہئے لیکن جب کارروائیوں کا رخ ایک ہی طرف محسوس ہونے لگے تو انصاف پر اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔
یوپی کی سیاست میں اس وقت سب سے بڑی طاقت خوف اور جذبات ہیں۔ بی جے پی بخوبی جانتی ہے کہ معاشی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیمی بحران جیسے موضوعات پر مسلسل سیاست کرنا آسان نہیں۔ اس لیے مذہبی اور ثقافتی مسائل کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔ جب عوام کے سامنے یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ اکثریتی مذہب خطرے میں ہے تو اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انتخاب سے پہلے کسی نہ کسی مذہبی مسئلے کو ہوا ملتی ہے۔ کبھی لو جہاد، کبھی گھر واپسی، کبھی مذہبی تبدیلی اور کبھی سڑکوں پر نماز جیسے موضوعات سیاسی ماحول کو گرم رکھتے ہیں۔ اس سیاست کا سب سے زیادہ اثر سماجی ہم آہنگی پر پڑتا ہے۔ اترپردیش جیسی بڑی ریاست، جہاں مختلف مذاہب، زبانیں اور ثقافتیں صدیوں سے ساتھ رہتی آئی ہیں وہاں اگر حکومت کی زبان ہی تقسیم پیدا کرنے لگے تو معاشرہ آہستہ آہستہ نفسیاتی طور پر بٹنے لگتا ہے۔ مسلمان خود کو مسلسل نگرانی اور دباؤ میں محسوس کرتے ہیں جبکہ اکثریتی طبقے کے ایک حصے میں یہ احساس پیدا کیا جاتا ہے کہ حکومت صرف انہی کے مفادات کی محافظ ہے۔ اس ماحول میں اعتماد کمزور ہوتا ہے، فاصلے بڑھتے ہیں اور سیاست مزید طاقتور ہو جاتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ صرف ایک وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ ایک سیاسی برانڈ بن چکے ہیں۔ ان کی سخت گیر شبیہ بی جے پی کے ایک بڑے ووٹر طبقے کو پسند آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیانات اکثر انتظامی کم اور سیاسی زیادہ ہوتے ہیں۔ دوسرا طریقہ جیسی زبان دراصل طاقت کے مظاہرے کی زبان ہے اور سیاست میں طاقت کا یہ مظاہرہ ووٹ میں تبدیل ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت میں حکومت کا کردار خوف پیدا کرنا ہے یا اعتماد بحال کرنا؟ کیا عوام کو دھمکی دے کر قانون نافذ کیا جا سکتا ہے یا انصاف اور مساوات سے زیادہ بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں؟ اگر حکومت واقعی قانون کی بالادستی چاہتی ہے تو پھر اسے ہر معاملے میں یکساں رویہ اپنانا ہوگا۔ قانون صرف کمزوروں کیلئے سخت اور طاقتوروں کیلئے نرم نہیں ہونا چاہئے۔ اگر سڑکوں پر نماز پر پابندی ہے تو پھر ہر وہ سرگرمی بھی قانون کے دائرے میں آنی چاہئے جو عوامی نظام میں رکاوٹ بنے۔ اگر دوسرا طریقہ اختیار کیا جانا ہے تو پھر اسے ان لوگوں پر بھی لاگو ہونا چاہئے جو نفرت پھیلاتے ہیں، فساد بھڑکاتے ہیں یا قانون سے بالاتر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اترپردیش کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں عوامی مسائل اور مذہبی سیاست کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ نوجوان روزگار چاہتے ہیں، کسان بہتر قیمت چاہتے ہیں، تعلیم اور صحت کے شعبے اصلاح چاہتے ہیں لیکن سیاسی گفتگو کا محور اکثر مذہبی شناخت بن جاتی ہے۔ یہ صورت حال صرف ایک طبقے کیلئے نہیں بلکہ پوری ریاست کیلئے خطرناک ہے کیونکہ جب سیاست مسلسل تقسیم پر کھڑی ہو تو معاشرہ کبھی حقیقی ترقی کی طرف نہیں بڑھ پاتا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو نفرت کے بجائے انصاف کے اصولوں پر کھڑا کیا جائے۔ حکومت کی طاقت اس کی سخت زبان میں نہیں بلکہ اس کی غیر جانبداری میں ہوتی ہے۔ اگر ایک مسلمان یہ محسوس کرے کہ قانون اس کیلئے بھی اتنا ہی منصف ہے جتنا کسی اور کیلئے تبھی حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔ ورنہ دوسرا طریقہ جیسے جملے وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں لیکن سماجی اعتماد کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اترپردیش کی سیاست کا مستقبل اسی بات پر منحصر ہے کہ وہاں کی قیادت عوام کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے۔ اگر مذہبی تقسیم ہی سیاست کا مستقل ہتھیار بنی رہی تو سماجی خلیج مزید گہری ہوگی۔ لیکن اگر حکومت واقعی انصاف، مساوات اور قانون کی غیر جانبدار حکمرانی کو ترجیح دے تو یہی ریاست اتحاد، ترقی اور جمہوری طاقت کی مثال بھی بن سکتی ہے۔ مسئلہ صرف سڑکوں پر نماز کا نہیں، مسئلہ اس سوچ کا ہے جس میں قانون کی طاقت کا استعمال صرف ایک مخصوص طبقے کو دکھانے کیلئے کیا جائے اور جب تک اس سوال کا ایماندارانہ جواب نہیں دیا جاتا تب تک یہ سوال بار بار اٹھتا رہے گا کہ آخر یوگی کا دوسرا طریقہ قانون کے ہر مجرم کیلئے کیوں نہیں ہے؟
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 27