Skip to content
علی گڑھ ایم پی کے مذہبی تفریق والے بیان کیخلاف اسپیکر اوم برلا کے نام مکتوب
علی گڑھ ،13اگست ( آئی این ایس انڈیا)
عالمی شہرت یافتہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ایگزیکٹو کونسل (ای سی) کے چاروں منتخب اراکین پروفیسر محمد شمیم، پروفیسر معین الدین، ڈاکٹر مصور علی اور ڈاکٹر مراد احمد خان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے نام ایک خصوصی خط 7 اگست کو لکھا تھا جس کی نقل وزیراعظم،وزارت صحت،لیڈر آف اپوزیشن،وائس چانسلر اے ایم یو،پی آر او اے ایم یو کو بھی بھیجی گئی تھی، جو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔حالانکہ اس خط کو 7 تاریخ کو ہی میڈیا میں آنا چاہیے تھا لیکن ذرائع کے مطابق کسی ایک ایگزیکیٹو کونسل (ای سی) ممبر کے اس خط پر شروع میں دستخط نہیں کرنے کے سبب یہ خط میڈیا اور سوشل میڈیا پر نظر نہیں آیا۔
اس خط میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو لکھا گیا ہے کہ اے ایم یو کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج و اسپتال (جے این ایم سی ایج) کے ڈاکٹروں اور عملے کے خلاف 2 اگست کو لوک سبھا میں ستیش گوتم کی جانب لگائے گئے بے بنیاد الزامات سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے ؛کیونکہ بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے ہیں،ہم مریض کا علاج مرض پوچھ کر کرتے ہیں، مذہب نہیں۔اے ایم یو ایگزکیٹو کونسل (ای سی) ممبر ڈاکٹر مصور علی نے بتایا کہ علی گڑھ رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم کا بیان اے ایم یو کے تعلق سے وزیر اعظم کے خیالات کے منافی ہیں۔ وزیراعظم نے اے ایم یو کی صد سالہ تقریب میں آن لائن خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو کو مینی انڈیا کہا تھا۔
بطور منتخب اراکین ایگزیکٹو کونسل اے ایم یو اساتذہ زمرہ سے ہم درخواست کریں گے کہ علی گڑھ کے رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم کو برائے مہربانی آپ کے ذریعہ متنبہ کیا جائے کہ وہ لوک سبھا میں دیئے گئے جے این ایم سی کے ڈاکٹروں پر اپنے توہین آمیز جملوں کو واپس لیں اور ساتھ ہی انھوں نے جے این ایم سی کے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کیخلاف جو کچھ بھی کہا ہے اسے برائے مہربانی ایوان کی کارروائی سے خارج کر دیا جائے۔دیگر ایگزیکیٹو کونسل (ای سی) ممبر و میڈیکل کالج میں ڈاکٹر شمیم احمد نے خط کے حوالے سے کہا کہ اگر علیگڑھ میں کوئی اسپتال کو AIIMS کا درجہ ملتا ہے تو یہ ہمارے لئے خوشی کی بات ہوگی کیونکہ اس سے میڈیکل میں علاج کے لئے آنے والے مریضوں کی تعداد کم ہوگی اور ہمارا بوج کم ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ڈاکٹر مریض کا مرض جان کر علاج کرتے ہیں مذہب نہیں،یہاں آج تک کسی غیر مسلم مریض نے علاج کے دوران مذہبی تفریق کا الزام ڈاکٹر یا میڈیکل انتظامیہ پر عائد نہیں کیا۔ اس لئے رکن پارلیمنٹ کے الزامات بے بنیاد ہے اسی لئے ہم نے اسپیکر اوم برلا اور وزیراعظم سے اس کی شکایت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کا بیان کو رکارڈ سے خارج کر دیا جائے۔
واضح رہے ضلع علی گڑھ سے تیسری بارمنتخب بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے 2 اگست کو پارلیمنٹ میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ جواہر لال نہرو میڈیکل کالج اے ایم یو کا ہونے کی وجہ سے وہاں خصوصی مذہب (مسلم) ڈاکٹرس زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے وہاں ہندو مریض جانے سے مبینہ طور پر کتراتے ہیں، ، اس لیے دین دیال اپادھیائے اسپتال کو AIIMS کا درجہ دیا جائے تاکہ علی گڑھ سمیت اس پاس کے علاقوں کے بھی مریض علاج کروا سکے۔
Like this:
Like Loading...