Skip to content
جماعت اسلامی ہند مہاراشٹرکےامیر مولانا الیاس خان فلاحی نے رام گیری کی گرفتاری کا مطالبہ کیا
ممبئی:17اگسٹ( ایجنسیز)
جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے امیرمولانا الیاس خان فلاحی نے رام گیری کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔میڈیا کو جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے امیرنے کہا،ہندو مذہبی رہنما رام گیری نے ناسک ضلع کے شاہ پنچالے گاؤں میں ایک مذہبی تقریب کے دوران پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلام کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔ ہم ان کے توہین ریمارکس کی مذمت کرتے ہیں اور قانونی کارروائی اور ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہماری ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ توہین آمیز تبصروں نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی دن ناسک میں ایک تقریب کے دوران کچھ سینئر سیاسی رہنماؤں کو رام گیری کی سرپرستی کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس سے ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ ایک سیاسی سازش ہے جس کا مقصد فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہبی پولرائزیشن پیدا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد سےکچھ مفاد پرست عناصر کے ذریعہ آنے والے ودھان سبھا انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے کی ایک منظم کوشش کی جارہی ہے۔
مولانا الیاس خان فلاحی نے کہا، ہم مسلم کمیونٹی کی طرف سے ایولہ(ناسک) اور ویجاپور (اورنگ آباد) میں رام گیری کے خلاف درج ایف آئی آر کی بنیاد پر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی اپیل کرتے ہیں۔ ہم ملک میں نفرت پھیلانے والے ٹی وی چینلوں اور میڈیا ہاؤسز کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم مختلف مذاہب کی مذہبی شخصیات کی توہین کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے توہین مذہب کا قانون بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔بعض فرقہ پرست طاقتوں کی طرف سے جارحیت اور نفرت کی حوصلہ افزائی اور ہمدردی و رواداری کو کم کرنے کے لئے پیدا کردہ سیاسی ماحول بھی اس صورتحال کیلئے ذمہ دار ہے۔ ہم مسلمانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس طرح کی اشتعال انگیز کارروائیوں کا شکار نہ ہوں اور امن و سکون برقرار رکھیں۔ ہم تمام امن اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر اس تفرقہ انگیز نفرت اور تشدد کے خلاف لڑیں۔
Like this:
Like Loading...