Skip to content
ظریفانہ: وقت ہے جھونکا ہوا کا، ریت کے پتلے ہیں لوگ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن اندوری نے کلن ناگپوری سے کہا دیکھا تم نے ہمارے وزیر اعلیٰ نے موہن یادو نے شہزاد کو کیسا سبق سکھایا؟
کلن نے پوچھا تم کس شہزاد کی بات کررہے ہو؟ میں اسے نہیں جانتا ۔
ارے بھائی وہی چھتر پور کا سید شہزاد علی جس کی چار کروڈ کی کوٹھی پر یادو نے بلڈوزر چلوادیا۔
اچھا تو کیا اس نے اپنی سادھوی پرگیہ کی مانند کوئی بم دھماکہ کردیا تھا ؟
جی نہیں اس کےلوگوں نے پولیس تھانے پر پتھراو کیا تھا اور تم تو جانتے ہی ہو ہم لوگ اس طرح کی قانون شکنی برداشت نہیں کرتے۔
کلن بولا یہ تو بہت اچھی بات ہے مگر پھر قانون شکنی کرتے کیوں ہیں ؟
کیا بکواس کرتے ہو کلن ہم کوئی قانون شکنی نہیں کرتے ۔ ہم اس ملک کے سب سے بڑے وفادار ہیں۔
اچھا تو پھر رانچی میں پرسوں ہمارے جلوس میں کانگریسی یا جھامومو کے لوگ داخل ہوکر پولیس تھانے پر سنگ باری کررہے تھے ؟
للن نے کہا ہوسکتا ہے۔ وہ بہت بدمعاش لوگ ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے مسلمانوں نے ہمارے جلوس میں گھس کر یہ حرکت کی ہوگی ۔
ارے بھیا ہمارے تین عدد سابق وزرائے اعلیٰ جلوس کی قیادت کررہے تھے اور ہزاروں بجرنگی شریک تھے تو انہوں نے روکا کیوں نہیں؟
للن لاجواب ہوگیا اور بولا یار کیا کریں غصہ آجائے تو تھوڑی بہت توڑ پھوڑ ہوجاتی ہے نا؟
ہاں توکیا رام گری پاکھنڈی کے ذریعہ توہین رسالت پر انہیں غصہ نہیں آسکتا؟ ان کے غصے پر بلڈوزر اور اپنا پتھراو جائز ؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟
للن نے کہا بھیا انصاف ونصاف کی بات نہ کرو ورنہ آج ہم لوگوں نے کولکاتہ میں جو ہنگامہ آرائی کی اس کاجواز کہاں سے لائیں گے ؟
ہاں یار خوشی کی بات ہے کہ مہاراشٹر میں عصمت دری پر بند کرنے سے عدالت نے اپوزیشن کو روک دیا مگر کولکاتہ میں ہمیں کھلی چھوٹ مل گئی ۔
للن چہک کر بولا جی ہاں بھیا یہ مودی یُگ ہے۔ مودی ہے تو ممکن ہے ۔
کلن نے کہا نہیں یار اگر ایسا ہوتا تو مالون میں شیواجی کا وہ مجسمہ زمین دوز نہیں ہوتا جس کا افتتاح خود مودی نے کیا تھا ۔وہاں توبغیر بلڈورکے ہی۰۰۰
دیکھو بھیا پردھان جی کے ستارے گردش میں ہیں اس لیےان کا افتتاح کردہ مندر ہو یا ایوان پارلیمان سڑک ہو یا ہوائی اڈہ ازخود ٹوٹ جاتاہے۔
تو یار اگر اتنی پنوتی ہے تو اس عمر میں انہیں افتتاح کی زحمت ہی کیوں دی جاتی ہے؟
للن بولا بھائی کیا کریں ؟ ہم تو نہیں چاہتے مگر وہ برا مان جاتے ہیں اور جس سے وہ ناراض ہوجائیں اس کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے۔
اچھا اب سمجھا کہ یہ ایک مجبوری ہے۔ ویسے وہ خود بھی تو نتیش اور نائیڈو کے سامنے مجبورِ محض ہیں بلکہ اب تو چراغ بھی آنکھ دکھانے لگا ہے۔
للن نے کہا ارے بھیا وہ تو ٹھیک مگر میں نے موبائل پر مجسمہ کے بکھرے ہوئے ٹکڑے دیکھے تو دل ٹوٹ گیا۔ قسم سے۰۰۰
کلن نے کہا بھائی جمن خاندیشی کہہ رہا تھا کہ گری راج کی زہر افشانی نے اسے بھی مغموم کردیا تھا کہیں شہزاد کی بددعا نے تو ۰۰۰
کون شہزاد؟ وہ درمیان میں کہاں سے آگیا ؟
وہی چھترپور کا شہزادعلی جس کے گھر پر بلڈوزر چلانے والے موہن یادو کی تم تعریف کررہے تھے ۔یار تنکہ تنکہ کرکے آشیانہ بنتا ہے۔
للن بولا تم نے شاید ویڈیو نہیں دیکھی ۔ وہ کوئی جھونپڑی نہیں غیر قانونی کوٹھی تھی جو تین سال سے تعمیر ہورہی تھی ۔
کلن نے سوال کیا اچھا تو اس دوران انتظامیہ کو اس کا غیر قانونی ہونا نظر نہیں آیا؟یا اس نے آنکھوں پر بدعنوانی کی پٹی چڑھا رکھی تھی؟
ارے بھیا زیادہ ہمدردی نہ جتاو۔ تم نہیں جانتے وہ ایک زمانے میں ٹھیلے پر کپڑے بیچا کرتا تھا ۔
یہی بات میں نے دھیرو بھائی امبانی کے بارے میں بھی سنی ہے تو کیا اس کا مکان بھی ڈھادیں گے ؟
للن سینہ پھلا کر بولا کیوں نہیں اگر غیر قانونی ہوگا تو ضرور ڈھائیں گے ۔
فضول بکواس نہ کرو ۔ مکیش امبانی کا غیرقانونی گھراناٹیلیا بچانے کے لیے اپنی سرکار وقف کا قانون بنارہی ہے۔ بڑے آئے مکان ڈھانے والے؟
للن نے کہا یار میں مجسمہ کی بات کررہا تھا مگرتم بہت دور نکل گئے۔وزیر اعلیٰ کے مطابق بارش اور تیز ہوا کے نمکین جھونکوں سے وہ زمین دوزہوگیا۔
ارے للن جس قلعہ میں وہ مجسمہ نصب کیا گیا تھاوہ تو صدیوں سے کھڑا ہے۔ اس پر ہوا کے جھونکے اثر انداز کیوں نہیں ہوئے؟
بھیا پہلے زمانے میں ہر شئے خالص ہوتی تھی آج کل سیاست سے لے کر معیشت تک ہر جگہ ملاوٹ ہے ۔
کلن نے سوال کیا تیز ہوا کیا صرف مجسمہ پر مہربان تھی؟ اس کے سبب آس پاس کوئی تباہی کیوں نہیں ہوئی ؟ نہ کوئی پیڑ گرا اور نہ چھت اڑی۔
ارے بھیا تو کیا تم چاہتے ہو سارا مالون شہر تباہ ہوجاتا ؟ تباہی نہیں آئی۔ تمہیں کیا پریشانی ہے؟
کلن نے پھر پوچھا آندھی طوفان توپتہ ہے مگر نمکین ہوا کیا ہوتی ہے؟
یار اتنا بھی نہیں جانتے کہ سمندر کے کنارے ہوا میں رطوبت کے ساتھ نمک ہوتا ہے جس سے لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے۔
یہ بات تومجسمہ تعمیر کرنے والوں کو معلوم ہونی چاہیے تھی تاکہ ایسا لوہا استعمال کرتے کہ جس پر زنگ نہ لگے ۔
بھیا دل تو نہیں مانتا مگر دماغ کہتا ہے کہ وقت کے جھونکے سےمجسمہ نہیں بلکہ ہماری بدعنوانی کی دیوار ریت بن کر بکھر گئی اورہم برہنہ ہوگئے ۔
کلن بولا ہاں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس سے حزب اختلاف کو ہم پر ہزاروں کروڈ کے پروجکٹ میں بڑی گھپلے بازی کی الزام تراشی کا موقع مل گیا ۔
لیکن یار اگر ہم ایک چوبیس سالہ غیر تجربہ کار نوجوان کو اتنا بڑا کام دیں گے تو کیا ہوگا ؟ آخر حماقت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے؟؟
بھیا دیکھو اپنے آدمی کو تو نوازنا ہی پڑتا ہے۔
للن نے کہا عجب اتفاق ہے کہ بدلا پور عصمت دری کے اسکول کا مالک اور یہ ٹھیکیدار دونوں آپٹے یعنی برہمن ہیں۔
ہاں مگر وقت کا بھی تو مسئلہ تھا ۔ جس کام کے لیے تین سال سے زیادہ مدت درکار ہوتی ہے اس کے لیے اگر ۶؍ ماہ دئیے جائیں تو وہ کیا کرےگا؟
للن نے کہا لیکن وہ مجبوری تھی بھیا ۔ انتخاب سے چار ماہ قبل اگر وہ مجسمہ نصب نہیں کیا جاتا تو اس سے فائدہ اٹھانا کیو ں کر ممکن تھا؟
ارے بھیا اسی لیے تو ایودھیا میں ہمارا بیڑہ غرق ہوگیا ؟ جلد بازی میں مندر بنایا گیا ۔ اس کے سبب معیاری کام ہو نہیں سکا۔
اچھا تو اب سمجھا کہ اسی لیے پہلی ہی برسات میں چھت ٹپکنے لگی۔
کلن نے کہا جی نہیں ہمارے شنکر اچاریہ سوروپ آنند کے مطابق وہ پران پرتشٹھان منحوس گھڑی میں کی گئی، اسی لیے ایسا ہوگیا۔
للن بولا یار یہ میں نہیں مانتا۔ مودی جی انسان تھوڑی نا ہیں جو ان کے ساتھ شبھ اور اشبھ کا معاملہ ہو؟ وہ تو ساکشات بھگوان ہیں۔
بھیا بس بھی کرو تم جیسے لوگوں نے انہیں سر چڑھا رکھا ہے ۔ اس لیے وہ خود بھی اپنے آپ کو غیر طبعی کہنے لگے ہیں۔
جی ہاں یہ بات درست ہے مگر انتخابی نتائج نے ان کو پھر سے انسان بنا دیا ہے۔ اب مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں دوبارہ شیطانی نہ کرنے لگیں؟
کلن نے کہا اس کا امکان کم ہے کیونکہ ان کا دماغ درست رکھنے کے لیے نتیش اور نائیڈو کافی ہیں۔
للن بولاوہ سب تو ٹھیک ہے مگر یہ حادثہ بہت غلط وقت پر ہوگیا۔
کلن نے کہا جی نہیں ۔ وہ صحیح وقت تھا اگر زائرین کی بھیڑ بھاڑ کے وقت مجسمہ گرتا تو خدانخواستہ گھاٹکوپر سے بڑا سانحہ ہو سکتا تھا ۔
ارے ٹھیک ہے دس بارہ مرجاتے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ آبادی کے لحاظ سے ہم دنیا بھر میں اول مقام پر ہیں۔
نہیں بھیا یہ اگر ریاستی انتخاب کے بعد ہوتا تو لوگ اسے اگلے الیکشن تک بھول جاتے۔
کلن نے کہا جی نہیں وہ تو اچھا ہوا کہ پارلیمانی انتخاب سے قبل نہیں گرا ورنہ ہم لوگوں کو 9؍ نشستیں بھی نہیں ملتیں ۔
کیا بکواس کرتے ہوکلن، 23 سے 9 پر آگئے اور کتنا نیچے جاتے؟
ارے بھائی مرٹھواڑہ اور ودربھ میں تو اپنا سپڑا صاف ہوگیا لیکن کوکن نے عزت بچالی ۔ یہ مجسمہ گرجاتا تو وہاں بھی ستیہ ناس ہوجاتا۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر اب تین ماہ کے اندر صوبائی انتخابات ہونے والے ہیں ؟ اس میں کیا ہوگا ۔
کلن ہنس کر بولا زیادہ مت سوچو جیسا کہ ہمارے وزیر دیپک کیسرکر جو مجسمہ کے بارے میں کہہ چکے ہیں ۔ جو بھی ہوگا اچھا ہی ہوگا ۔
للن نے سوال کیا اچھا ہوگا کیا مطلب؟
ان کا کہنا ہے اب ہم اس سے تین گنا اونچا مجسمہ تعمیر کریں گے ۔
للن نے طنزاً کہا اور تین گنا زیادہ روپیہ کمائیں گے۔
جی ہاں کیسرکرکا اصرار ہے کےتعمیرِ نو کے بعد کہ پھر سے وزیر اعظم کو افتتاح کی دعوت دیں گے۔
یعنی پھر پنوتی ! یار دیپک کیسرکر کی ہمت کی داد دے کر میں غالب کا یہ شعر ان کی نذر کرتا ہوں؎
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
Like this:
Like Loading...