Skip to content
اورنگ آباد مہاراشٹرا میں مسلم نوجوان کی ماب لنچنگ تشویشِ ناک ہے۔
ازقلم: شیخ سلیم
(سابق صدر مہاراشٹرا ،ویلفیئر پارٹی آف انڈیا )

اورنگ آباد میں پچھلے جمعہ کے دن پھلمبری ٹی پوائنٹ پر آپسی رنجش کی وجہ سے شر پسندوں نے حملا کر کے نذیر خان کو قتل کر دیا ممبئی اُردو نیوز کی آج کی خبر کے مطابق مقتول نذیر خان پُھلمبری ٹی پوائنٹ پر فروٹ کی ہاتھ گاڑی لگاتا تھا گزشتہ جمع کے دن آٹھ غیر مسلم شراب پی کر مرحوم کی ہاتھ گاڑی پر آئے اور زبردستی فروٹ کھانے لگے پیسہ مانگنے پر وہ جھگڑا کرنے لگے اور انہوں نے چاقو مار کر نذیر خان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ جمعیت علماء کی ایک ٹیم نے مرحوم کے گھر جا کر اُنکے والدین اور گھر والوں سے ملاقات کی ہے۔
اس پورے معاملے میں میڈیا میں کہیں خبریں سننے نہیں ملی نہ ہی سوشل میڈیا پر کوئی خاص بوال ہوا کیونکہ مرنے والا مسلمان تھا اور بڑی آسانی سے ماب لنچنگ کی خبر نظر انداز کر دی گئی۔ مہاراشٹرا میں مسلسل شر پسند عناصر ماحول خراب کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں گستاخی رسولﷺ کے واقعات پیش آئے گری راج کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئی مگر مہا یوتی سرکار زبانی جمع خرچ کے آگے کچھ کرنا نہیں چاہتی۔ مہا وکاس اگھآڑی سے اُمید تھی وہ ایک مضبوط حزب اختلاف کا رول ادا کرتی مگر اُسنے مصلحت پسندی اختیار کی اور ہر معاملے میں خاموشی اختیار کی ہے۔ آنے والے تین مہینے مہاراشٹرا کی سیاست کے لئے بہت اہم ہیں ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں کوئی بھی اپنے ووٹرز کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اس سارے معاملے میں مسلمانوں کو اب ایسا محسوس ہو رہا ہے انڈیا اتحاد والے صرف ووٹ لینے کی حد تک ہی ہم سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں اور اس سے آگے کچھ نہیں آگے بڑھ کر دھرنا آندولن تو دور کی بات ہے بیان بازی سے بھی اجتناب کرنا چاہتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ ساری صورتحال تشویشِ ناک اور غور طلب ہے۔ دِینی جماعتوں سیاسی جماعتوں اور سویل سوسائٹی کے افراد کو مل بیٹھ کر اجتماعی طور پر کوئی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے وقت بہت کم ہے۔
Like this:
Like Loading...