Skip to content
جینور کے ڈی ایس پی کا تبادلہ کرنا کافی نہیں بلکہ اصل خا طیوں کو گرفتار کرکے ان کو کیفر کردا رتک پہو چائیں اور جو نقصان ہوا ہے۔
حکومت اس کی بھر پائی کریں۔حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش کا بیان ۔
(حیدرآباد 7؍ ستمبر ۲۰۲۴)
جینور ضلع آصف آباد میںگزشتہ دنوں تشدد اور فرقہ پرستی کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ۔ریاستی جمعیۃ علماء نے شروع دن سے پولیس آفیسران کو معطل کرنے حکومت سے مطالبہ کیا تھا ۔صدر محترم حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھراپردیش کی ہداہت پر جمعیۃ علماء ضلع آباداور جمعیۃ علماء ضلع نرمل کے ذمہ داران نے کلکٹرس سے اور ریاستی جمعیۃ علماء نے حکومت سے نمائندگی ۔اور عوام سے ماحول پرامن رکھنے کی اپیل کی جاری ہے یہاں سوال یہ ہے کہ پولیس انتظامیہ رہنے کے باوجود اتنا بڑا واقعہ پیش آیا ۔
شرپسندوں نے ماحول کو خراب کیا‘ مساجد کی بے حرمتی کی اور مسلمانوں کے کروڑروپیوں کے املاک کا نقصان کیا ۔حکومت کی جانب سے صرف پولیس آفیسرکا تبالہ نہ کافی ہے ۔ریاستی جمعیۃ علماء حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ا صل خاطیوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کاروائی کرکے ان کو سخت سے سخت سزادی جائے تاکہ آئندہ ا یساماحول ریاست میں پھر دوبارہ نہ ہو۔ ریاست جمعیۃ علماء کا خیال ہے یہاں منصوبہ بندی سازش کے تحت فساد ہوا ہے۔
جمعیۃ علماء کے ذمہ داران نے کلکٹرس سے مسلسل نمائندگی کے بعدعلاقہ کا دورہ کرکے جو نقصان ہوا ہے اس کا جائزہ لیا ہے۔عنقریب ریاستی حکومت کو کلکٹرکے ذریعہ تمام تر تفصیلات پہوچائیں جائی گی۔ اطراف واکناف کے علاقہ لوگ جمعیۃ علماء عادل آباد ‘جمعیۃ علماء نرمل کے احباب متاثر افراد کی راحت رسانی کے کاموں میں مصروف ہے۔ اور جینو ٹاؤن کے جمعیۃ علماء سے مسلسل رابط میں ہے ۔
Like this:
Like Loading...