Skip to content
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیراعظم نریندر مودی اپنےسہ روزہ امریکی دورے سے لوٹ آئے ۔ اس بار کے دورے میں نہ تو ٹائم اسکوائر جیسی چکا چوند تھی اور نہ’ ہاوڈی مودی‘ جیسا ہنگامہ تھا۔ پچھلے سال جیسا قصر ابیض میں استقبال اور امریکی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب بھی یادِ ماضی بن گیا ہے۔ مودی نے 21 ستمبر کو جو بائیڈن کی سربراہی میں منعقدہ کواڈ رہنماوں کے اجلاس میں شرکت کی جوالتوا سے قبل ہندوستان میں ہونا تھا ۔ اس اجلاس سے کئی تلخ یادیں وابستہ ہوگئیں مثلاً صدر جو بائیڈن کا پریس کانفرنس میں وزیر اعظم مودی کانام بھول جانا ۔81 سالہ بائیڈن نے کہا، ’’آپ سب کا شکریہ۰۰۰ اور اب میں کس کا تعارف کروانے والا ہوں؟ کون اگلا ہے؟‘‘ اس کے بعد جو بائیڈن کے عملے نے نریندر مودی کو خطاب کی دعوت دی تو اس توہین کے بعد ہنستے مسکراتے مودی کا مائیک کے قریب آکر بائیڈن سے گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ کرنا ناقابلِ فہم تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو دیکھ کر جو بائیڈن ظریفانہ انداز میں کہاکہ ’’(اچھا) ایک چھوٹا سا کم آبادی والا ملک ۰۰۰ہماری طرح‘‘۔ بائیڈن اگر اس فقرے کے آخری دو الفاظ بھی بھول جاتے تو مودی جی کے ساتھ پورے ملک کی توہین ہوجاتی لیکن امریکی صدر نےاس کو ٹال دیا۔ وزیر اعظم نے ایک اور احمقانہ حرکت ایک اخباری ترجمان کے یہ پوچھنے پر کی کہ ’’ نومبر کے بعد کواڈ کا کیا مستقبل ہے؟‘‘ یہ سوال ٹرمپ کے کواڈ اتحاد کی بابت شکوک و شبہات کےحوالے سے تھا یعنی اگلے سال جب صدر جو بائیڈن اقتدار سے سبکدوش ہوجائیں گے تو یہ ادارہ باقی رہے گا یا صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا ۔ اس سنجیدہ بلکہ رنجیدہ کردینے والے سوال کے جواب سے قبل مودی جی قہقہہ لگانے لگے جس کی کوئی تُک نہیں تھی۔ وزیر اعظم شاید یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ وہ کواڈ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ اس لیے اس پر ہنس دینا ایک نہایت مضحکہ خیز تھا، ممکن ہے موصوف کی سمجھ میں سوال ہی نہ آیا ہو اور انہوں نے بے موقع ہنسی کے ذریعہ اپنی کم فہمی کو چھپانے کی سعی کی گئی ہو ۔ واللہ اعلم ۔
کواڈ کے تعلق سے بائیڈن انتظامیہ کے سینئر اہلکار نے پچھلے دنوں اعتراف کیا، ’’یہ کوئی راز نہیں ہے کہ کواڈ ایک ایسی شراکت داری ہے، جو اگرچہ چین کے خلاف نہیں ہے، لیکن چین کا متبادل پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘سابق امریکی انتظامیہ کی ایک اہلکار اور ایشیا سے متعلق پالیسی کے ماہر لیزا کرٹس کہتے ہیں ، ”کواڈ بحری سکیورٹی کا نیا اقدام چین کو ایک بہت مضبوط اشارہ بھیجے گا، کہ اس کی سمندری ‘غنڈہ گردی‘ ناقابل قبول ہے، اور یہ کہ اس اتحاد کے ہم خیال ممالک مربوط کارروائی کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ کواڈ پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔ وہ اسے بیجنگ کو گھیرنے اور تنازعات کو بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا توازن قائم کرنے کی کوشش میں یہ کہہ دینا کہ یہ کسی کے (یعنی چین کے) خلاف نہیں ہے ایک بے معنیٰ دعویٰ ہے ۔ اس پر چین سمیت کوئی بھی یقین نہیں کرے گا اس لیے چین کی مخالفت کے بغیرکواڈ کا وجود ہی بے معنی ٰ ہے۔
کواڈ کا تعلق چونکہ علاقائی تحفظ سے ہے اس لیے وہاں قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر اعظم نریندر مودی کے منظورِ نظر اجیت ڈوبھال کی شرکت ضروری تھی ۔ ویسے بھی چونکہ وزیر داخلہ امیت شاہ ملک کے باہر نہیں جاتے اور وزیر خارجہ شیوشنکر کو مودی گھاس نہیں ڈالتے اس لیے ڈوبھال ہی ان کی ڈھال ہیں لیکن اس بار یہ معاملہ بھی کھٹائی میں پڑگیا کیونکہ امریکہ میں نیویارک کی جنوبی ضلعی عدالت نے دورے کے تین دن قبل خالصتان تحریک کے حامی علیحدگی پسند سکھ رہنما گرپتونت سکھ کے قتل کی سازش کاالزام لگاکر قومی سلامتی کی مشیر اجیت ڈوبھال، خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ سامنت گویل، را کے ایجنٹ وکرم یادو اور تاجر نکھل گپتا سے 21 روز میں جواب طلب کرلیا ۔ اس کے ردعمل میں خارجہ سیکریٹری وکرم مستری نے امریکی عدالت کے سمن کو ’ بلاجواز‘ قرار دے کر کہا کہ اس معاملہ میں اقدامات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔
نومبر 2023 میں بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر اہل کار نے کہا تھا کہ امریکہ نے سکھ علیحدگی پسند رہنما پنوں کے قتل کی سازش ایک کو ناکام بنا دیا ہے اور ایک ہندوستانی کے خلاف قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کردئیے ہیں۔گرپتونت سنگھ پنوں سکھوں کی علیحدہ ریاست خالصتان کی حامی تنظیم ’سکھس فور جسٹس‘ کے سربراہ ہیں۔مودی سرکار نے 2020 میں نفرت انگیزی کا الزام لگاکر اس تنظیم پر پابندی لگادی تھی۔اس کے علاوہ حکومتِ ہند نے امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت کے حامل گرپتونت پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سبب مطلوبہ قرار دے دیا تھا ۔ اس قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں امریکہ کی درخواست پر نکھل گپتا کو چیک ری پبلکن کے اندر حراست میں لے کر نیویارک منتقل کردیا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پنوں قتل میں ہندوستانی خفیہ ادارے را کے افسر وکرم یادو اور ایجنسی کے سربراہ سامنت گوئل کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا اور اب یہ سمن جاری ہوگیا جس کے سبب اجیت ڈوبھال کو وزیر اعظم کا رفیقِ سفر بننا ناممکن ہوگیا ۔
بائیڈن انتظامیہ نے صرف ڈوبھال کے سمن پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے سرکاری دورے پر امریکہ پہنچنے سے چند گھنٹے قبل، وائٹ ہاؤس میں خالصتان تحریک سے ہمدردی رکھنے والے سکھوں کے ایک گروپ سے ملاقات کرکے خالصتانی گروپ کو "اپنی سرزمین پر کسی بھی بین الاقوامی جارحیت سے تحفظ” کا یقین دلایا۔ وائٹ ہاؤس کا یہ کہنا تو حکومتِ ہندکے زخموں پر نمک ڈالنے جیسا تھا کہ وہ ریاستہائے متحدہ کی حدود میں رہتے ہوئے "امریکی شہریوں کو نقصان سے بچانے” کے لیے پرعزم ہے۔ وائٹ ہاؤس کی اس نشست میں امریکن سکھ کاکس کمیٹی کے پریت پال سنگھ اور سکھ کولیشن اور سکھ امریکن لیگل ڈیفنس اینڈ ایجوکیشن فنڈ (SALDEF) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پریت پال سنگھ نے سکھ امریکیوں کے تحفظ کے لیے امریکی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "ہم اپنی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے مزید کام کرنے کے لیے ان کی یقین دہانیوں پر قائم رہیں گے۔ آزادی اور انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے۔‘‘ امریکی قومی سلامتی کونسل کے ذریعہ سکھ علیحدگی پسندوں کے ساتھ میٹنگ کا یہ پہلا موقع تھا ۔ اس کے لیے مودی کی آمدکا مہورت امریکی ناراضی کا ا ظہار تھا ۔
مودی جی کے اس دورے میں ان کے لیے ایک دھرم سنکٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے کملا ہیرس کا انتخاب لڑناہے ۔ یہاں کئی مشکلات ہیں مگر سب سے پہلی سنگھ پریوار کی اقتدار کو نمسکار کرکرنے کی خصلت ہے۔ انگریزی سامراج کے ساتھ ان کی وفاداری اس حقیقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس لیے مودی جی نے 2019 میں ہاوڈی مودی نامی ہنگامہ آرائی میں اپنے وقار کو مجروح کرکے’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا اعلان کردیا تھا ۔ ٹیکساس میں منعقدہ اس تقریب میں 50,000 سے زائد افراد موجود تھے ۔مودی نے 2020 میں کورونا کی آمد کے باوجود لاک ڈاون کو ملتوی کرکےاحمد آباد میں ’نمستے ٹرمپ ‘ منعقد کرکے اپنے ہی صوبے کے لاکھوں لوگوں کو وباء کے خطرے میں ڈالا لیکن پھر بھی ٹرمپ ہار گئے ۔ مودی اور ٹرمپ کے مزاج میں بے شمار مماثلت ہے اس لیے بعید نہیں کہ وہ پھر سے ان کی حمایت کرتے مگر ان کے سامنے کملا ہیرس آگئیں جن کے والدین ہندوستانی تھی ایسے میں ایک سیاہ فام کے مقابلے سفید فام انتہا پسند کی حمایت مشکل ہوگیا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر امید تھے اسی لیے انہوں نے ایک انتخابی ریلی میں یہ اعلان کردیا تھا کہ "وہ (مودی) اگلے ہفتے مجھ سے ملنے آرہے ہیں۔”ٹرمپ نے مودی کی تعریف کے ساتھ ہندوستان پر تنقید کرکے اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی ۔ وہ بولے ہندوستان تجارتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے مگر مودی "شاندار” شخصیت کے مالک ہیں۔ اس کے بعد جب ہندوستانی وزارت خارجہ نے مودی کے امریکی دورے کا شیڈول جاری کیاتو اس میں ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کا کوئی تذکرہ نہیں تھا ۔ کملا ہیرس حالانکہ مودی سرکار کی ناقد رہی ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے گزشتہ دورے کے وقت مودی کو ظہرانہ دیا تھا ۔ اس بار مودی جی نے دونوں امیدواروں سے یکساں فاصلہ بنائے رکھنے کو ترجیح دے کر اپنے وشوگرو ہونے کا غبارہ ازخود پھوڑ دیا ۔ حالیہ امریکی دورے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کے فیوچر سمٹ میں پھسپھسا خطاب کیا۔ویسے جس رہنما کے سیاسی مستقبل پر ایک چھوڑ دودو تلواریں لٹک رہی ہیں وہ بھلا عالم انسانیت کی کیا رہنمائی کرسکتا ہے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تین دن بعد اقوام متحدہ کے اجلاس کو خطاب وزیر خارجہ کے ذمہ کرکے واپس آنے کو ترجیح دی تاکہ ہریانہ اور جموں کشمیر کے اندر بی جے پی کے ڈوبتے جہاز کو بچانے کی خاطر ہاتھ پیر مار سکیں ۔
Like this:
Like Loading...