Skip to content
مسلم محلے’پاکستان’ریمارکس:
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے…
ازقلم:جاوید جمال الدین
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
مشہور شاعر اسد اللہ خاں غالب نے پتہ نہیں مذکورہ اشعار کس موقع پر کہے تھے،لیکن یہ شعر کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک معززجج جسٹس ویداویاساچاریہ سریشانندکے ذریعے مسلمانوں کی بستیوں اور محلوں پر متعصبانہ تبصرے پرقابل اطلاق ہے،ممکن ہے کہ یہ کسی جج کے ذریعے پہلی بارایسا کہاگیاہو،لیکن حقیقت یہ ہےکہ گزشتہ نصف صدی سے دائیں بازو کے سیاستدانوں کی زبان پر مسلمانوں کو پاکستانی اور اُن کی بستیوں کو’منی پاکستان’ کہنا عام سی بات ہے ۔ان حضرات کی ایک طویل فہرست ہے۔جن میں شیوسینا کے خود ساختہ سپریمو اور ہندوہردیہ سمراٹ آنجہانی بال ٹھاکرے سرفہرست رہے ،لیکن آج اُدھوٹھاکرے اور ادیتیہ ٹھاکرے کے دور میں صورت حال مختلف ہے اور یہ خوش آئند بات ہے ۔
ماضی میں 1980 کے عشرے میں شیوسینا کو پہلی بار1984 میں ممبئی میونسپل کارپوریشن میں اقتدار حاصل ہوا اور پہلے 1960 کی دہائی میں کیمونسٹ ،پھر گجراتی اور جنوبی ہند باشندوں کے خلاف زہر اگلنے والے بال ٹھاکرے نے اپنی توپ کارُخ مسلمانوں کی طرف موڑ دیاتھا،یہ سب بچپن سے اخبارات میں پڑھتے رہے،لیکن 1988 میں صحافت میں قدم رکھنے کے بعد دسہرہ ریلی میں شیوسینا کے جلسہ کی رپورٹنگ کرنے کا تقریباً دوعشرے تک موقعہ ملا اور یہاں بال ٹھاکرے ہی نہیں چھگن بھجبل ،رام داس کرم ،خودایکناتھ شندے اور اُن کے گرو آنند دیگھے،منوہر جوشی جیسے شیوسینا لیڈروں کو بال ٹھاکرے کے ساتھ زہر اگلتے سنا ہے،ان بیانات میں اگر مگر لگاتے ہوئے کہہ دیا جاتا کہ ” ہم دیس دروہی مسلمانوں کے خلاف ہیں۔”میرے پاس 1993 کی ایک محفوظ کٹنگ کی تحریر ہے ،جس کے مطابق بال ٹھاکرے نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوناچاہئیے جیسا جرمنی میں یہودیوں کےساتھ سلوک ہواہے۔ بال ٹھاکرے نے ہمیشہ ہٹلر کواپنا آئیڈل کہاتھا۔
رپورٹ کے مطابق”ٹھاکرے نے آزادانہ طور پر، کھلے عام، اور اکثر ہٹلر، اس کی کتاب، نازیوں اور ان کے طریقوں کی تعریف کی۔ مثال کے طور پر، 1993 میں، انہوں نے ٹائم میگزین کو ایک انٹرویو دیااور کہاکہ کیوں نہ (ہندوستانی)مسلمانوں کے ساتھ نازی جرمنی میں یہودیوں جیسا سلوک کیاجائے۔
یہ انٹرویو دسمبر 1992 اور جنوری 1993 میں ممبئی میں ہونے والے فسادات کے چند ماہ بعد سامنے آیا، جس میں تقریباً ایک ہزار افرادکو قتل کر دیا گیا، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ ٹھاکرے ان ہفتوں کے دوران سرگرم رہے، انہوں نے اپنی پارٹی کے ترجمان، "سامنا” میں اداریہ لکھا کہ مسلمانوں کے ساتھ "سلوک” کیسے کیا جائے۔
مثال کے طور پر 9 دسمبر 1992 کو ان کا اداریہ ان سطروں پر مشتمل تھا: ’’پاکستان کو سرحد پار کرکے ہندوستان پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوستان میں 250 ملین مسلمان مسلح بغاوت کریں گے۔ یہ پاکستان کے سات ایٹم بموں میں سے ایک ہیں۔”
ایک ماہ بعد، 8 جنوری، 1993 کو، یہ تحریر شائع کی گئی کہ "بھنڈی بازار، نل بازار، ڈونگری اور پائیدھونی کے مسلمانوں کو، جنہیں ہم ممبئی کا’منی پاکستان’ کہتے ہیں… کو موقع پر ہی گولی مار دی جائے۔ "بلکہ انیتا پرتاپ کوسی این این چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ ” مسلمانوں کو بحرعرب میں پھینک دیناچاہئیے۔” سرکاری طورپر کبھی کچھ نہیں کہاگیا اور پولیس تماشائی بنی رہی، بلکہ وہ کہتے رہے کہ ” پولیس کی خاکی وردی کے اندر میرے شیوسینک ہیں۔”البتہ دباؤ کے بعد معمولی کیس درج کیے گئے۔کارروائی کبھی نہیں ہوئی ،جوآج ماحول ہےکہ درجنوں ایف آئی آر درج ضرور کی گئی ہیں ،لیکن کارروائی ‘صفر’ ہی نظرآتی ہے۔
معزز جج جسٹس ویداویاساچاریہ سریشانندنے بنگلورو کے مسلم اکثریتی علاقے کو ”پاکستان” کہا تھا اور مالک مکان کرایہ دار کے تنازعہ پر ایک خاتون وکیل کے بارے میں بدتمیزی پر مبنی تبصرہ کیا تھا۔ ان کا تبصرہ، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ ویڈیو میں انہوں نے بنگلورو کے مسلم اکثریتی علاقے کو پاکستان کہا تھا ، دوسرے واقعے میں، جسٹس شریشانند کو خاتون وکیل سے یہ کہتے ہوئے دیکھایا گیااور سننے میں آیا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ”اپوزیشن پارٹی” کے بارے میں (خاتون وکیل)اتنا جانتی ہیں کہ وہ ان کے زیر جامے کا رنگ بھی بتا سکتی ہیں۔یہ مسلمانوں کے محلے پر کیے گئے تبصرہ سے بھی زیادہ قابل اعتراض ہے۔
یہ تبصرے ایسے تھے کہ سپریم کورٹ کو کرناٹک ہائی کورٹ سے رپورٹ طلب کرنے پر مجبور کیا، جو اس واقعے کے فوراً بعد پیش کی گئی ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ کوئی بھی ہندوستان کے کسی حصے کو’ پاکستان’ نہیں کہہ سکتا۔ یہ بنیادی طور پر قوم کی خودمختاری کے خلاف ہے۔سپریم کورٹ نے اس معاملے کو اٹھایا اور کرناٹک ہائی کورٹ سے متنازع تبصرہ پر رپورٹ طلب کی۔ آئی چندرچوڑ کی قیادت میں اور جسٹس ایس کھنہ، بی آر گاوائی، ایس کانت اور ایچ رائے پر مشتمل پانچ ججوں کی بنچ نے 20 ستمبر کو آئینی عدالت کے ججوں کے لیے عدالت میں اپنے تبصروں کے بارے میں واضح رہنما اصول قائم کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا تھا۔
چندرچوڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے تبصرے ذاتی تعصب کی عکاسی کرتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں کسی خاص جنس یا برادری کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، ہرکسی کو غلط بیانات کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہمیں امید ہے اور یقین ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو تفویض کردہ ذمہ داریاں بغیر کسی تعصب اور احتیاط کے پوری کی جائیں گی۔سپریم کورٹ کے بنچ نے کہا کہ جب سوشل میڈیا کمرہ عدالت میں ہونے والی کارروائی کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے تو اس بات کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے کہ عدالتی ریمارکس عدالتوں سے متوقع آداب کے مطابق ہوں۔
میں نے اوپرکی سطروں میں ذکر کیا ہے کہ شیوسینا کے سپریمو بال ٹھاکرے کے ساتھ ہی ایک لمبی تہی ہے اوراس فہرست میں بہت سے ناموں میں ماضی میں اوما بھارتی،ونئے کٹہیار،سادھوی رتمبرا،حال میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے ہمیشہ اشتعال انگیز تقاریر کیں،اور اب دیکھیں ایک مرکزی وزیر گری راج کشورتواٹھتے بیٹھتے فحش گالیاں دیتے ہیں،اور ممبر پارلیمنٹ اور پھر وزیر کا حلف اٹھاتے ہوئے جوقسمیں کھاتے ہیں،انہیں اس کا ذرا سا بھی احساس نہیں ہوتاہے۔ان میں آسام کے وزیراعلی سرما،یوپی کے بابا یوگی اور ہماچل پردیش میں ایک کانگرسی وزیر بھی اس فہرست میں شامل ہوچکاہے۔
البتہ اس بار ایک بات ضرور اچھی ہوئی ہے کہ سپریم کورٹ نے ازخود کارکرناٹک۔کے جج کے نازیبا اور متعصبانہ ریمارک کا نوٹس لیااور کارروائی شروع بھی کی ،لیکن یہ افسوسناک امر ہے کہ متعصب جج صاحب کی ذراسی معافی تلافی پر ان کے خلاف کارروائی روک دی گئی ،اگر جج کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی تو یہ ایک نظیر بنتی بلکہ دوسروں کے کان کھڑے ہو جاتے۔ویسے سچائی یہ ہے کہ اب تو یہ زہرافشانی مسلمانوں کے کانوں کو ‘زہر’ بھی نہیں لگتا ہے۔عادت جو پڑگئی ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
Like this:
Like Loading...