Skip to content
لبنان پر اسرائیلی حملہ
ازقلم:شیخ سلیم ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
اسرائیل کا لبنان پر حملے کا بنیادی مقصد حزب اللہ کو اور آپنے خلاف ہر مزاحمت کو غیر موثر بنانا ہے،حزب اللہ جو ایک عسکری اور سیاسی تنظیم ہے جسے اسرائیل اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے، خاص طور پر اس کے راکٹوں کے ذخائر اور جنوبی لبنان میں اس کا اثر و رسوخ۔ اسرائیل کا مقصد حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنا، اس کی قیادت کو کمزور کرنا، اور ایران اور شام سے اس کی سپلائی لائنز کو توڑنا ہو سکتا ہے۔ ایک اور مقصد جنوبی لبنان میں ایک بفر زون بنانا ہو سکتا ہے تاکہ مستقبل میں راکٹ حملوں کو روکا جا سکے۔
حزب اللہ کے خلاف جنگ کتنی لمبی ہوگی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ایسی جنگ کب تک جاری رہے گی۔ ماضی میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جھڑپیں، جیسے کہ 2006 کی لبنان جنگ، تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی تھیں۔ تاہم، ایک نئی جنگ طویل ہو سکتی ہے، جو کہ کئی مہینے یا حتیٰ کہ سالوں تک جاری رہ سکتی ہے، اس کا انحصار جنگ کی شدت، حزب اللہ کی مزاحمت، اور علاقائی اور بین الاقوامی مداخلت پر ہوگا۔ حزب اللہ کی گوریلا جنگی حکمت عملی، لبنان میں اس کی مضبوطی، اور اس کے وسیع فوجی وسائل اس جنگ کو مشکل اور طویل بنا دیں گے۔
اگر یہ جنگ ایران، شام، یا دیگر علاقائی ممالک کو شامل کرتی ہے تو یہ کئی سالوں تک جاری رہ سکتی ہے، جس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ بندی کے مختلف ادوار شامل ہو سکتے ہیں۔
جنگ سے مشرق وسطی میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے خاص طور پر اگر حزب اللہ کو نمایاں طور پر کمزور کیا جاتا ہے۔ اس سے ایران کا لبنان اور شام میں اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے، اور تہران کی مشرقی بحیرہ روم میں موجودگی کمزور ہو سکتی ہے۔ اور اگر جنگ لمبی ہوئی اسرائیل حزب اللہ کو شکست نہیں دے پایا تو اسرائیل کمزور ہو جائے گا حزب اللہ حماس اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت مضبوط ہو سکتی ہیں۔
لبنان کے لئے جنگ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے ،لبنان جو کہ پہلے ہی معاشی اور سیاسی طور پر کمزور ہے، فوج کمزور ہے ،شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگیاں بڑھ سکتی ہیں، پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور اگر حزب اللہ کمزور ہوتی ہے یا لبنان کا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہوتا ہے تو ملک ناکامی کے دہانے پر جا سکتا ہے۔
حزب اللہ کے ساتھ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دے گی اور ممکن ہے کہ ایران کو اس جنگ میں مزید ملوث کر دے، چاہے وہ براہ راست ہو یا شام اور عراق میں پراکسی فورسز کے ذریعے۔
اِس جنگ میں مغربی طاقتیں اور عرب ریاستیں امن قائم کرنے یا سفارتی مداخلت کی کوشش شاید نہ کریں۔ اس جنگ سے عرب ریاستوں میں مزید تقسیم پیدا ہو سکتی ہے—کچھ ممالک، جیسے شام، حزب اللہ کی حمایت کر سکتے ہیں، جب کہ دیگر ممالک امریکہ برطانیہ اور، خلیجی ریاستیں، اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہیں یا غیر جانبدار رہ سکتی ہیں۔کیونکہ سبھی ایران اور حزب اللہ کو اپنا دشمن سمجھتی ہیں ۔
اس جنگ سے انسانی جانوں کا بڑا نقصان، شہریوں کی نقل مکانی، اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا خدشہ ہے، جس سے لبنان میں ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سے بین الاقوامی امداد اور مداخلت کی کوششیں بھی ہو سکتی ہیں۔
جنگ کے نتائج کا انحصار اس کی شدّت، ملوث عناصر، اور سفارتی کوششوں کی کامیابی پر ہوگا جو جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے کی جائیں گی۔ ایران اب بل راست اس جنگ میں شامل ہو چکا ہے حزب اللہ لبنان کی مدد کے لیے بڑے پیمانے پر شام عراق سے جنگجو بڑی آسانی سے پہونچ سکتے ہیں۔ اسرائیل کو زبردست فضائی برتری حاصل ہے اس نے جنگ باضابطہ شروع ہونے سے پہلے ہی حزب اللہ کے حسن نصراللہ اور کئی کمانڈروں کو ہلاک کردیا ہے حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو اسرائیل پہلے ہے تہران میں شہید کر چکا ہے۔
آپ کو یاد دلا دیں 1982 میں اسرائیل نے لبنان پر ایک بڑا حملا کیا تھا وہاں بڑی تعداد میں فلسطینی جنگجوؤں کو ہلاک کیا تھا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا تھا جس کے نتیجے میں حزب اللہ کا قیام عمل میں آیا تھا ۔اسرائیل کا قبضہ لبنان پر تقریباً 2006 تک چلا جب حزب اللہ نے اسرائیل کو جنوبی لبنان سے شکست دےکر جنوبی لبنان کو اسرائیلی فوج سے خالی کروا لیا تھا۔ایران براہ راست اسرائیل پر حملا نہیں کریگا یہ بات اب طے ہے۔ امریکہ کی زبردست مدد اسرائیل کو حاصل ہے۔ اس کے باوجود اس جنگ کے بارے میں کوئی بھی پیش گوئی اور اندازہ لگانا آسان نہیں حماس جس کو کوئی مدد حاصل نہیں تھی اسرائیل حماس کو ایک سال کی جنگ کے باوجود ختم نہیں کر سکا تو حزب اللہ جس کو مبینہ طور پر شام عراق اور ایران کی مدد شامل رہیگی اسرائیل کیسے ختم کر سکتا ہے۔
سارے معاملے میں اصل چیز نظروں سے اوجھل ہوتی جارہی ہے وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ روز مرہ کا ظلم و تشدّد فلسطینیوں پر ظلم و جبر کی انتہا اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل نہیں کرنا فلسطینیوں کی جائز حقوق کو تسلیم نہ کرنا فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں قائم کرنا۔ جب تک مشرق وسطی کے یہ بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے ظلم و جبر ختم نہیں ہوتا آزادی کے متوالوں کی جدو جہد جاری رہے گی۔ان شاء اللہ
Like this:
Like Loading...