Skip to content
ہماری بربادی کی کہانی ایک پادری کی زبانی
ازقلم: ابن عطاءاللہ بنارسی
”سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے
زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں“
امام المؤرخین، علامہ واقدیؒ نے اپنی تصنیف ‘فتوح الشام’ میں ایک بڑی ہی عبرت انگیز اور سبق آموز روایت نقل کی ہے، راقم اس روایت کو اپنے پیرائے میں آپ کی نذر کرتاہے۔۔۔
خلیفۂ ثانی، امیر المؤمنین، سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد مسعود میں، جب ہماری تاریخ کے عظیم جرنیل سیدنا خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ کی شمشیر، رومیوں کے زیر نگیں شامی علاقوں پر قہرِ خدا بن کر برسنے لگی اور ایک کے بعد ایک شامی علاقے مسلمانوں کے زیر دست آنے لگے تو اس تاریخی شکست اور بدترین ہزیمت سے پوری عیسائی دنیا میں کہرام برپا ہوگیا! ابنائے باسفورس کے کنارے قائم اس عظیم قلعے کی دیواروں میں بھی دراڑ کی آہٹ سنی جانے لگی جسکی سنگین دیواروں کو فتح کرنا دیوانے کا خواب تھا، دنیائے عیسائیت کے مرکز قسطنطنیہ کے اس قلعے میں شاہ روم ‘ہرقل’ نے تمام دانشورانِ ملک، ماہر جرنیلوں اور مذہبی پیشوا پادریوں کو جمع کرنے کا حکم دیا، اور عرب کی خانہ بدوش قوم کی حیرت انگیز فتح و کامرانی اور اپنی شکست و ہزیمت کا بھید سمجھنے کے لئے ایک مشاورت بلائی! انکے سامنے کہا میں ایک سوال کرتا ہوں کیا آپ لوگ اسکا جواب دینے کی زحمت گوارا فرمائیں گے؟
والیان ملک اور اعیان سلطنت نے کہا کہ آپ جو چاہیں دریافت کر سکتے ہیں، شاہِ روم نے کہا:
”اس زمانے میں تمہارے برابر کسی کی تعداد نہیں، عربوں سے فوجیں تمہاری زیادہ ہیں، شجاعت، سطوت اور ڈیل ڈول میں تم ان سے فائق ہو، قوت و عظمت میں وہ تمہاری برابری نہیں کر سکتے، پھر یہ شکست پر شکست اور ہزیمت پر ہزیمت کیسی؟ حالانکہ تم وہی ہو کہ جن کی سطوت اور د بدبہ سے ترک، ایران اور جرامقہ کانپا کرتے تھے اور تمہاری حرب و ضرب سے ان کے بدنوں میں لرزہ پڑ جایا کرتا تھا، تمہاری طرف انہوں نے کئی مرتبہ رخ کیا مگر ہمیشہ منہ کی کھا بھاگنا ہی پڑا، اب کہاں گئی تمہاری وہ عظمت؟ اور کہاں چلی گئی وہ شان و شوکت؟ اور کیا ہوئی وہ سطوت؟ عرب! وہ عرب جو ایک ضعیف الخلقت اور ننگی بھوکی قوم تھی، جس کے پاس نہ آدمی تھے نہ ہتھیار وہ غالب آگئے“
بادشاہ کے یہ الفاظ سن کر سب خاموش رہے، سب پر سکتہ طاری ہوگیا، کسی سے جواب نہ بن پڑا، ایک بوڑھا پادری جو نصرانیوں کا عالم تھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا:
”بادشاہ سلامت! کیا آپ کو واقعتاً معلوم نہیں کہ عرب ہم پر کیوں فتح پاتے چلے جارہے ہیں؟ اور آسمان سے کیوں ان کی تائید ہورہی ہے؟“ بادشاہ نے کہا: ”نہیں، مسیح کی قسم ! مجھے خبر نہیں“ بوڑھے پادری نے عرض کیا : “بادشاہ سلامت ! یہ اس لئے اور محض اس لئے کہ ہماری قوم نے اپنے دین میں تبدل اور اپنے مذہب وملت میں تغیر کر لیا ہے، ابن مریم جو کچھ لائے تھے اس کا انکار کر دیا ہے، بعض نے بعض کے ساتھ ظلم کرنے میں کمر باندھ لی ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دفتر ہی بند ہوگیاہے، نہ عدل ہے نہ احسان، طاعات و فرمانبرداری بالکل مفقود ہے، اوقات نماز کی پابندی بالکل نہیں، سود خوری اور زناکاری پیشہ بنا لی گئی ہے، معاصی اور فواحش کھلم کھلا ہوہے ہیں!
اسکے برعکس وہ عرب اپنے رب کے مطیع، دین کے پابند، راتوں کو نوافل پڑھنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے ہیں، ذکر رب سے غافل نہ ہونے والے، اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ہر وقت درود بھیجنے والے ہیں، ظلم و جور کا نام تک نہیں جانتے، ایک دوسرے میں امتیاز نہیں سمجھتے، صدق ان کا شعار ہے اور عبادت ان کا مشغلہ، اگر ہم پر حملہ کرتے ہیں تو پھر جب تک فتح نہ ہولے ہٹنا نہیں جانتے اور اگر ہم ان پر حملہ کر دیں تو میدان سے پشت دکھاکر بھا گنا نہیں آتا، ان لوگوں نے یہ اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور ان پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ دنیا دارِ فنا ہے اور آخرت دار بقا ہے“
{فتوح الشام/از:علامہ واقدی/:ص244}
آج سے چودہ صدی پہلے ایک عیسائی عالم نے اپنی قوم کی سیاسی اور سماجی شکست و بربادی کے جو وجوہات بیان کئے تھے، ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں اور ایمان سے فیصلہ کریں کہ کیا ہماری حالت رومی عیسائیوں سے کچھ مختلف ہے؟ کیا ہماری قوم میں دولتِ دنیا عنقا ہے؟ کیا ہمارے ہاتھوں میں حکومتیں نہیں؟ کیا ہمارے پاس اسباب و وسائل کی قلت ہے؟ دیکھنے والی نگاہیں جانتی ہیں کہ ہمیں ظاہری دنیا کی تمام تر نعمتیں میسر ہیں! اگر کچھ مفقود ہے تو وہ جذبۂ اندروں، وہ اوصاف، وہ خصائل، وہ مؤمنانہ شان مفقود ہے جسکا ذکر عیسائیوں کے عالم نے قسطنطنیہ کے قلعے میں کیا تھا؛
”تعصب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نے“
:ابن عطاءاللہ بنارسی/2 ربیع الثانی 1446ھ
Like this:
Like Loading...