Skip to content
غزہ کی جنگ: ایک سال بعد کی صورتحال اور مغربی طاقتوں کا دوغلا پن
ازقلم:شیخ سلیم ،ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
آج غزہ کی جنگ کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔ اس جنگ کے دوران چالیس ہزار سے زیادہ فلسطینی اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں، لاکھوں زخمی ہیں، اور 95 فیصد سے زائد غزہ تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار انسانی المیے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ عالمی برادری کی اکثریت، بالخصوص امریکہ اور مغربی ممالک، اقوام متحدہ اس پر مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور اسرائیل کی حمایت میں کھڑے ہیں۔
غزہ کی جنگ میں ہونے والی تباہی فلسطینیوں کے لیے ایک شدید انسانی بحران بن چکی ہے۔ نہ صرف گھر اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں، بلکہ لوگوں کی زندگیوں کا معیار بھی بدترین صورتحال کا شکار ہے۔ خوراک، پانی، بجلی، اور صحت کی سہولیات تک رسائی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہیں، خواتین بیوہ ہو چکی ہیں اور کئی خاندانوں کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔ اس کے باوجود، عالمی میڈیا میں اس جنگ اور اس کے نتائج کو بہت کم کوریج ملی، اور جب بھی بات ہوئی تو وہ اکثر اسرائیل کے حق میں جھکاؤ رکھنے والی ہوتی تھی۔
مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ کا اسرائیل کی کھلی حمایت کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسرائیل کو ہمیشہ ایک "اتحادی” کے طور پر دیکھا گیا ہے، اور اس کی کارروائیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں جائز قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ جائز ہے کہ ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں لیں جائیں، انہیں اپنے ہی گھروں میں قید کر دیا جائے، اور ان کی بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے؟ اس سوال کا جواب عالمی برادری کے سامنے واضح ہے، مگر مغربی ممالک اپنے مفادات کے لیے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
مسلم ممالک کے عوام میں اس صورت حال پر غم و غصہ پایا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ان کی آواز عالمی سطح پر موثر ثابت نہیں ہو رہی۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں، جنہیں انسانی حقوق کا علمبردار سمجھا جاتا ہے، فلسطینیوں کے حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ دوغلا پن اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ان کے نزدیک انسانیت کے حقوق اور انصاف کے اصول صرف اس وقت تک قابلِ عمل ہیں جب وہ ان کے مفادات کے مطابق ہوں۔مسلمانوں کے لئے کوئی آواز اٹھانا نہیں چاہتے بلکہ قتل و غارتگری میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں ۔
یہ جنگ نہ صرف فلسطینیوں کے لیے تباہی لائی ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سبق ہے کہ طاقتور ممالک کی ترجیحات ہمیشہ انصاف اور انسانی حقوق پر مبنی نہیں ہوتیں۔ دنیا کے مسلمانوں کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ متحد ہو کر اپنے حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کریں اور عالمی برادری کو اس دوغلے پن کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کریں۔
غزہ کی جنگ کی تباہ کاریاں اور مغربی ممالک کا رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی برادری میں انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کو اکثر طاقت اور مفادات کے سامنے قربان کیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں کے لیے یہ جدوجہد طویل اور مشکل ہے، لیکن یہ ان کے حقوق اور خود مختاری کے لیے ضروری ہے۔
Like this:
Like Loading...