Skip to content
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
سب سے زیادہ محبت کا حق دار صرف اللہ ہے
ازقلم:مسلم محمود .مسقط (عمان)
اللہ سبحانہ تعالیٰ خالق و مالک ہے،حاضر و ناظر ہے، ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، ہم سے قریب ترین ہے، اپنی ہر حاجت کے لیے ہم اس کے ہی محتاج ہیں، ہمارا اصل مالک اور پالن ہار ہے۔ سب سے زیادہ ہماری محبت کا حقدار بھی اللہ ہے، کیوں کہ وہی ہماری نشو ونما کرتا ہے، رزق دیتا ہے، صحت دیتا ہے اور مشکل سے نکالتا ہے۔
اللہ سے زیادہ نہ کوئی نوازنے والا ہے اور نہ کسی کے اتنے احسانات ہے۔ ہمارا مہربان اللہ ہم کو دکھ پر بھی اجر دیتا ہے، خوشی پر دو اجر دیتا ہے۔ ہر تکلیف کے بدلے گناہ معاف کرتا ہے اور آخرت میں انعام دیتا ہے۔ اللہ کے احسانات کو لکھا جائے تو سمندر کے برابر روشنائی بھی کافی نہ ہو۔ ہر وقت ہرحال میں ہر جگہ اللہ ہماری سنتاہے،ہمیں دیکھتا ہے، اللہ سے زیادہ ہم سے قریب کوئی دوسرا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں، تم مجھے پکارتے ہو تو میں سنتاہوں۔ بندہ اللہ کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے تو اللہ اس کی طرف دس قدم بڑھاتاہے، بندہ اللہ کی طرف چل کر آتا ہے تو اللہ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔ گناہگار انسان کے توبہ کرکے اللہ کی طرف پلٹنے والے کو ریگستان میں گمے اونٹ کے واپس مل جانے سے تشبیہ دیتا ہے کہ جیسی خوشی اونٹ کے مالک کو ہوتی ہے، اللہ کو اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے، جب ایک بندہ تائب ہوکر اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا اپنے رب سے تعلق کتنا گہرا ہے، ہم اپنے رب سے کیسی محبت کرتے ہیں، جب کہ ہمارا رب دنیا کی ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتاہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنے رب سے اپنے تعلق کو کیسے گہرا کریں، کیسے اس کی بندگی کا حق ادا کریں ، کیسے اس کے احسانات کا اعتراف کریں، کیسے اس کی ناراضگی سے بچیں۔ اپنے آپ کو ناشکر گزار اور احسان فراموش بندوں کی فہرست سے بچائیں۔
آئیے اللہ سے قربت حاصل کرنے کے کچھ طریقوں پر غور کرتے ہیں۔سب سے اہم یہ ہے کہ اپنے رب کی قربت حاصل کرنے کے لیے نیک عمل کیے جائیں اور اللہ ہی کی عبادت کریں، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔
اپنی آخرت کی فصل کو اُگانے اور زیادہ سے زیادہ سنوارنے کے لیے یہ دنیا بہت زرخیز زمین ہے ۔ لہٰذا اللہ تعالی کی قربت حاصل کرنے کا ہر موقع حاصل کیا جائے، اپنی توجہ آخرت پرمرکوز کرکے اور وہاںکی کامیابی حاصل کرکے ہی ہم اللہ کے مقرب بندے بن سکتے ہیں۔ نیکی اور خالص عمل جو اللہ کے لیے ہو، وہ اللہ سے محبت کی دلیل ہے ۔ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، لہٰذا نیت میں اخلاص اور اللہ کی خوشنودی پیش نظر ہونی چاہیے۔ عمل خلوص دل کے ساتھ صرف اللہ کے لیے ہی شمار ہوگا۔ دوسرے تمام اعمال جن میں خلوص نہ ہو، بے معنی اور بے فائدہ ہوں گے۔ خلوص دل اور نیت کی پاکیزگی کے ساتھ کیا گیا ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل باعث اجر اور قابل قبول ہوتا ہے اور اللہ سے قرب کا باعث بنتا ہے۔
بہترین عبادات وہ ہیں جن میں بندہ یہ سمجھے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے،اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم عبادات اس اعتقاد سے کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ نماز جو شخص خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرے گا ،اس کو اللہ کی قربت نصیب ہوگی اور جو بددلی کے ساتھ رسمی نماز ادا کرے گا، ایسی نماز قابل قبول نہ ہوگی، بلکہ ایسی نماز اس کے منہ پر ماردی جائے گی۔ اللہ سے محبت کرکے ہی اللہ سے تعلق کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ اللہ کی محبت ہی عبادات کو آسان بناسکتی ہے، اس کے برخلاف اگر دل اللہ کی محبت سے خالی ہو توعبادات بھی بھاری لگنے لگتی ہیں۔
اللہ سے محبت کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اے نبی ! لوگوں سے کہہ دو کہ ’’اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں کو در گزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے‘‘۔(آل عمران: 31)۔ مومن کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جان ، اپنی آل و اولاد اور ساری دنیا کے لوگوں سے زیادہ محبت کرے۔ اللہ سے محبت کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کو ہر وقت یاد کیا جائے،اس کا ذکر کیا جائے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مجھے یاد کرومیں تمھیں یاد کروں گا، میرا شکر کرو، میں تم کو مزید دوں گا۔
نفلی عبادات اور استغفار اللہ سے محبت حاصل کرنے کا طریقہ ہیں۔توبہ و استغفار مومن کا عمل ہے، جس سے وہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے اور اللہ سے قریب ہوجاتا ہے۔
ایمان لانے والے، توبہ کرنے والے اور نیک عمل کرنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی برائیوں کو اچھائیوں میں بدل دے گا۔ غرض کہ اللہ سے محبت ، عقیدت، خلوص اور بندگی ہی اللہ سے قربت کے طریقے ہیں اور جب رب کائنات کی محبت میسرہوجائے تو بیڑہ پار ہونے سے کون روک سکتاہے۔
اللہ کا ذکر کرنے یا مانگنے کے لیے باو ضو ہونا، مصلے پر بیٹھنا، ہاتھ اٹھا نا ضروری نہیں۔ چلتے پھرتے اللہ کا ذکر کیا جاسکتا ہے، اللہ سے مانگاجاسکتا ہے،التجا کی جاسکتی ہے۔ تنہائی میں اللہ سے اپنے مسائل اور ان کے حل کی دعا مانگی جائے، نعمتوں پر شکر ادا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم شکر ادا کرو میں اور زیادہ دوں گا۔ مشکلات و مصائب میں بھی شکر کاپہلو ہوتاہے کہ اللہ نے اس سے بڑی مشکل میں نہیں ڈالا۔ مشکلات و پریشانی میں اپنے سے برتر کو دیکھیں اور نیکیوں کے معاملے اپنے سے بہتر کو دیکھیں اور اس بہتری کو حاصل کرنے کی جدوجہد کریں۔
اللہ کی محبت حاصل کرنے کے لیے اللہ کے محبوب ترین بندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بہترین ذریعہ ہے۔ رسول ؐ کی محبت اور اطاعت اللہ کی محبت اور اطاعت کے مترادف ہے۔ اللہ سے محبت رسول ؐ سے محبت کے بغیر نہیں ہوسکتی، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اللہ تعالیٰ سے محبت کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ دونوں لازم ملزوم ہیں۔
آئیے ارادہ کریں کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے اپنی محبت کو بڑھائیں گے،اس اعتقاد اور اعتماد کے ساتھ کہ وہی ہم سے ہروقت سب سے زیادہ قریب ہے اور ہماری ہرطرح کی بہتری ، حفاظت اور نجات اسی کے قبضہ میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اللہ سبحانہ تعالیٰ سے محبت کی دلیل ہے۔
٭٭٭
Like this:
Like Loading...