پاکستان میں ڈاکٹر ذاکرنائیک کے ساتھ کیا ہوا؟
ایک پاکستانی کے احساسات… ترتیب: عبدالعزیز
سچ پوچھیں تو ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھ اس قوم نے وہی حال کیا ہے جو تقریباً ڈھائی سو سال پہلے شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد بریلوی شہیدؒ کے ساتھ کیا تھا۔
بقول سید مودودی رحمہ اللہ کتاب ’تجدید احیائے دین‘ میں لکھتے ہیں کہ دونوں شاہ صاحبان چونکہ ہندو اکثریتی علاقوں میں رہتے تھے، انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ شمال مغربی ہندستان کے مسلمان (بالاکوٹ اور مانسہرہ) اتنے مضبوط ہوں گے وہ جہاد کو سمجھتے ہوں گے اور اسلام کے حوالے سے بھرپور ساتھ دیں گے، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ شمال مغربی ہندستان کے مسلمانوں نے سکھوں کا ساتھ دیا یا نیوٹرل بنے رہے اور نتیجتاً شاہ اسماعیل اور سید احمد بریلوی دونوں شہید ہوگئے۔
آج ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھ بھی ویسی ہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ میرے خیال میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پاکستانی مسلمانوں کے بارے میں یہ تصور کیا ہوگا کہ چونکہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اس لیے یہاں کے لوگ دین کو سمجھتے ہوں گے۔ لیکن جب وہ یہاں آئے تو ان کی حیرانی کی حد نہ رہی کہ یہ لوگ دین سے کتنے دور ہیں۔ ان کے ذہن میں ڈاکٹر اسرار احمد کی مثال تھی، ان کے سامنے مفتی تقی عثمانی اور پروفیسر خورشید احمد کی مثال تھی جن سے ڈاکٹر ذاکر نائیک اسلامک بینکنگ و فائیننس کے حوالے سے علم حاصل کیا جن سے وہ 1991ء میں ملاقات کر چکے تھے، ذاکر نائیک کو یہی امید تھی کہ پاکستانی معاشرہ دینی لحاظ سے مضبوط ہی ہوگا، تبھی اتنے بڑے بڑے علماء لوگ یہاں پیدا ہوتے ہیں ۔
لیکن جب ڈاکٹر ذاکر نائیک نے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہ لوگ تو دین کے بارے میں سطحی علم بھی نہیں رکھتے۔ ایک واقعے میں جب چند بالغ لڑکیوں کو ہجوم میں اسٹیج پر لایا گیا اور نظم و ضبط کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا، تو ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بہتر سمجھا کہ وہ کسی ناخوشگوار حادثے سے بچنے (یعنی کسی خاتون سے غلطی سے بھی دھکم پیل کے دوران ٹچ ہونے سے بچنے ) کے لئے نیچے اتر آئیں۔ اس معاملے پر سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، حالانکہ ان کا یہ عمل قابلِ تعریف تھا۔
اسی طرح جب ایک خاتون نے سوال کیا کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں اسلامی معاشرہ قائم ہے۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں لیکن بچوں کے ساتھ بدفعلی بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے بالکل درست بات کہی اور اسے کہا کہ یہ آپ اسلام کو یا اسلامی معاشرے کو کیوں بدنام کر رہی ہیں؟ یا تو معاشرہ اسلامی ہوگا یا بچوں سے بدفعلی ہوتی ہوگی دونوں ایک ساتھ کیسے ہوسکتے ہیں؟ آپ کا سوال ہی غلط ہے۔ ایسا معاشرہ اسلامی معاشرہ نہیں ہے۔ ( اس کو ایک مثال سے سمجھیں ایک شخص کہتا ہے کہ میں ایک صحت مند معاشرے سے تعلق رکھتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ہر دوسرا شخص بیمار رہتا ہے، اب اس پر آپ اسے کیا کہیں گے یہی نا یا تو آپ کی پہلی بات درست نہیں یا دوسری بات غلط ہے یعنی دونوں باتیں کہ معاشرہ صحت مند بھی ہو اور ہر دوسرا شخص بیمار بھی ہو، سوال ہی غلط ہے۔ بالکل اسی طرح ان خاتون صاحبہ کا سوال ہی غلط تھا۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے اس خاتون کو درست معافی مانگنے کا کہا تھا کہ آپ اسلام کو بدنام نہ کریں، ایسے معاشرے کو اسلامی معاشرہ مت کہیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیل سے جاننے کے لیے سید مودودیؒ کی کتاب خطبات یا اسلام میں عبادت کا تصور ضرور پڑھیں کہ محض نمازیں پڑھنے، روزے رکھنے سے کوئی معاشرہ اسلامی معاشرہ نہیں بن جاتا یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے)۔
اسی طرح جب انہوں نے پاکستان ایئرلائنز کے حوالے سے بات کی تو ان کی بات بالکل درست تھی۔اس حوالے سے خاص طور پر سوشل میڈیا پر بیٹھے نام نہاد دانشوروں کی اصل حقیقت سامنے آگئی کہ انہیں دین اور اخلاقیات کا کتنا علم ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ یہاں کتنے کند ذہن لوگ موجود ہیں۔
اس کی سب سے بڑی مثال ایک بینڈ باجے بجانے والے گلوکار فخر عالم اور شہباز گل (تحریک انصاف کے رہنما ) کی ہے۔ دونوں موصوف نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی یہ ویڈیو شیئر کی اور بغیر کسی سوچے سمجھے تنقید کے نشتر چلا دیئے ۔وہی ویڈیو جس میں ذاکر نائیک بتا رہے ہیں کہ جب انہیں پاکستان نے اسٹیٹ گیسٹ کے طور پر مدعو کیا تو انہوں نے ’پی آئی اے‘ سے رابطہ کیا کہ ان کے پاس چھ سو کلو کا سامان ہے جو میڈیا کوریج کے لئے ہے۔ پی آئی اے کے سی ای او نے فوراً کہا کہ آپ بے فکر رہیں، آپ کو 50 فیصد ڈسکاؤنٹ ملے گا۔ اس پر ذاکر نائیک نے جواب دیا کہ انہیں یہ ڈسکاؤنٹ نہیں چاہئے اور اگر وہ اپنے ساتھ چار اور لوگوں کو لے جائیں اور ان کے کوٹے میں فری سامان بھیجیں، تو یہ زیادہ سستا پڑے گا۔ شہباز گل اس پر نہایت نامناسب تبصرہ کرتا ہے کہ ’’ ذاکر نائیک صاحب کی ماڑی قسمت اور مت بھی ماری گئی۔ سوچیں کتنا بڑا آدمی اور کتنی چھوٹی باتیں۔ کیا وقار تھا پاکستان میں ان کا اور دو دن میں کیا سے کیا ہو گئے‘‘۔
اور وہ خاندانی گلوکار جنرل رانی کا نواسہ فخر عالم پی آئی اے کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ ’’یہ شخص یعنی ڈاکٹر ذاکر 50% رعایت کیسے حاصل کر سکتا ہے جبکہ ایئرلائن کو بھاری نقصان ہو رہا ہے اور ہم اس کے لئے کوئی خریدار بھی نہیں ڈھونڈ پا رہے؟ نیز ریاست کو اپنے مہمانوں کا انتخاب سمجھداری سے کرنا چاہئے۔
حقیقت میں اس معاملے پر ریاست پاکستان کو معافی مانگنی چاہئے تھی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے تمام اخراجات واپس کرنے چاہئے تھے، کیونکہ وہ بطور ریاستی مہمان بلائے گئے تھے اور ان کے تمام اخراجات حکومتِ پاکستان کو برداشت کرنے چاہئے تھے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کئی بار اپنی تقریروں میں کہہ چکے ہیں کہ ان کا کوئی ذاتی ذریعہ آمدن نہیں ہے کیونکہ وہ دین کی دعوت کے لئے خود کو وقف کر چکے ہیں اور ان کے تمام اخراجات ان کا خاندان یا ان کا ادارہ اٹھاتا ہے۔ جب وہ دینی سفر کرتے ہیں تو یا تو وہ ملک جو انہیں دعوت دیتا ہے، ان کے اخراجات برداشت کرتا ہے یا ان کا ادارہ۔
اس کو آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ جماعت اسلامی کا جب کوئی شخص مرکزی امیر بن جاتا ہے جیسا پہلے سراج الحق صاحب تھے، اب سراج الحق صاحب معاشی لحاظ سے مڈل کلاس شخص ہیں اور امیر جماعت اسلامی بننے کے بعد تو انہیں اپنا ذاتی کاروبار بھی چھوڑنا پڑا اسی طرح حافظ نعیم الرحمن کو نوکری چھوڑنا پڑی تاکہ وہ اپنا تمام وقت جماعت اسلامی اور دین کا کام کرسکیں ۔ اب کیونکہ اس شخص یا امیر نے اپنا سب کچھ وقف کر دیا ہے تو جماعت اسلامی بطور ادارہ ان کے تمام اخراجات، جیسے ذاتی خرچ، ٹورز، گاڑی کا پیٹرول وغیرہ، برداشت کرتی ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کا بھی یہی حال ہے۔ ان کے تمام اخراجات اب ان کے ادارے نے ہی برداشت کئے ہوں گے۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کو افسوس اس بات کا ہوا کہ جو رقم اس مد میں خرچ ہوئی، وہ رقم دین کے مزید دوسرے کاموں میں استعمال ہو سکتی تھی۔ اور اگر پاکستان، جو ایک اسلامی ملک ہے اور جس نے انہیں بطور ریاستی مہمان بلایا تھا، ان کے اخراجات برداشت کر لیتا، تو اس میں کیا برائی تھی؟
لیکن افسوس، اس قوم کو دین کا بنیادی و سطحی سا علم بھی نہیں ہے اور یہ ذرا سا بھی گہرائی میں نہیں سوچ سکتی۔ انہیں ایسی سادہ بات بھی سمجھ نہیں آتی اور ہر کوئی اپنی من مانی باتیں کرنے لگتا ہے۔ پی آئی اے کی بات پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا مذاق بنایا جا رہا ہے، حالانکہ انہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ ان کے رشتہ دار یا ادارہ برداشت کرتے ہیں، اور وہ شخص چوبیس گھنٹے دین کی خدمت کے لیے وقف ہے۔
؎ بجائے اس کے کہ ہم ان کے اخراجات برداشت کرتے، ہم شرم سار ہوکر ان کے تمام اخراجات واپس کرتے معذرت کرتے ہم انہیں مذاق کا نشانہ بنا رہے ہیں۔یہ سب دیکھ کر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو احساس ہوا ہوگا کہ پاکستانی عوام دین کے بارے میں کتنا کم فہم اور سطحی علم رکھتے ہیں۔ ذاکر نائیک بھی وہی غلطی کر رہے ہیں جو سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے کی تھی، جب انہوں نے سوچا تھا کہ مسلمان دین کا فہم رکھتے ہوں گے۔ اور ساتھ دیں گے۔
پاکستانی قوم آج بھی وہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، جیسا کہ ڈھائی سو سال پہلے تھا؛ بلکہ اس سے بھی شاید بدتر۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم اور حکمرانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور دین کا فہم عطا فرمائے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
