جلتی مشینیں، سلگتے سوالات اور جمہوریت کی بے چینی

جلتی مشینیں، سلگتے سوالات اور جمہوریت کی بے چینی

جلتی مشینیں، سلگتے سوالات اور جمہوریت کی بے چینی

✍️ (حافظ)افتخاراحمدقادری

_________ مغربی بنگال کی سیاست گزشتہ چند برسوں سے مسلسل تنازعات، الزامات، سیاسی کشمکش اور انتظامی سوالات کی زد میں رہی ہے لیکن الی پور کی سرکاری عمارت میں لگنے والی وہ پراسرار آگ جس میں تقریباً چار ہزار الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں تباہ ہو گئیں ایک ایسا واقعہ ہے جس نے نہ صرف ریاستی انتظامیہ بلکہ جمہوری نظام کی شفافیت کے بارے میں بھی متعدد سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
__________ جمہوریت میں انتخابات محض ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں ہوتے بلکہ عوام کے اعتماد کا نام ہوتے ہیں اور جب اسی اعتماد سے وابستہ مشینیں اچانک آگ کی نذر ہو جائیں تو فطری طور پر شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ سب سے حیران کن بات صرف ای وی ایم کا جل جانا نہیں بلکہ آگ کے پھیلاؤ کا وہ غیر معمولی انداز ہے جس نے عام شہریوں سے لے کر سیاسی مبصرین تک سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق آگ نو منزلہ عمارت کی تیسری منزل سے شروع ہوئی لیکن اس کے بعد اس نے چوتھی پانچویں اور چھٹی منزل کو خاطر خواہ متاثر کیے بغیر ساتویں اور آٹھویں منزل تک رسائی حاصل کر لی۔ آگ کے اس طرزِ حرکت نے فائر سیفٹی کے ماہرین اور سیاسی حلقوں میں بے شمار سوالات کو جنم دیا ہے۔ عام طور پر آگ نیچے سے اوپر کی طرف بتدریج پھیلتی ہے لیکن یہاں جو منظر سامنے آیا وہ روایتی انداز سے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے ریاستی وزیر مملکت برائے فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کوشک چودھری کا یہ بیان خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ یہ معمول کی آگ معلوم نہیں ہوتی اور تخریب کاری کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ یہ محض ابتدائی مشاہدہ ہے اور حتمی نتیجہ نہیں لیکن جب خود متعلقہ وزیر اس نوعیت کا شبہ ظاہر کریں تو معاملہ مزید سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ آخر وہ ای وی ایم وہاں کس مقصد کے لیے محفوظ رکھی گئی تھیں۔ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد بھی کئی مواقع پر ای وی ایم کو مخصوص مدت تک محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ قانونی تنازعات، عدالتی درخواستوں یا دیگر انتخابی ضروریات کی صورت میں ریکارڈ دستیاب رہے۔ چنانچہ ان مشینوں کا وجود محض پرانی مشینوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ انتخابی تاریخ کا ایک حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ جب ایسی مشینیں اچانک تباہ ہو جائیں تو لوگوں کے ذہن میں یہی آتا ہے کہ کیا محض اتفاقاً ایسا ہوا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ کار فرما تھی؟
____________ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو جنوبی 24 پرگنہ ضلع کی اہمیت اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہے۔ یہ ضلع طویل عرصے سے ترنمول کانگریس کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کی سیاسی بساط پر اس علاقے کو غیر معمولی حیثیت حاصل ہے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اثر و رسوخ کی وجہ سے یہاں پیش آنے والا ہر بڑا واقعہ فوری طور پر سیاسی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد سیاسی جماعتوں اور مبصرین نے مختلف زاویوں سے اس واقعے کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر یہ حادثہ تھا تو پھر حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک ایسی عمارت جہاں حساس سرکاری ریکارڈ اور انتخابی آلات محفوظ ہوں وہاں آگ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ حفاظتی نظام میں کہیں نہ کہیں بڑی خامی موجود تھی۔

___________ اگر شارٹ سرکٹ ہوا تو اس کی روک تھام کیوں نہ کی جا سکی؟
___________ اگر آگ کسی تکنیکی خرابی سے لگی تو فائر الارم اور دیگر حفاظتی انتظامات کس حد تک مؤثر تھے؟
___________ اگر حفاظتی نظام موجود تھا تو نقصان اس قدر وسیع کیوں ہوا؟
دوسری جانب اگر تخریب کاری کا امکان درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ کہیں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ
___________ آخر کس کو ان مشینوں کے تباہ ہونے سے فائدہ پہنچ سکتا تھا؟
___________ کیا کوئی ایسا عنصر موجود تھا جو انتخابی ریکارڈ یا متعلقہ معلومات کے خاتمے میں دلچسپی رکھتا ہو؟
____________ کیا یہ کسی سیاسی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟
____________ یا پھر اس کے پس پردہ کوئی ایسا مقصد تھا جس کا ابھی تک انکشاف نہیں ہوا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہندوستان میں ای وی ایم کے استعمال پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقتدار میں رہنے والی جماعت عموماً ای وی ایم کا دفاع کرتی ہے جبکہ شکست خوردہ جماعتیں اس پر اعتراضات اٹھاتی ہیں۔ اس پس منظر میں جب ہزاروں ای وی ایم ایک ہی واقعے میں تباہ ہو جائیں تو لازماً نئی بحث جنم لیتی ہے اور عوام کے ذہنوں میں مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حقیقت نہایت سادہ ہو اور آگ واقعی کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہو۔ دنیا بھر میں سرکاری عمارتوں میں شارٹ سرکٹ یا برقی خرابی کے باعث آگ لگنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ واقعے میں کئی ایسے پہلو موجود ہیں جو اسے عام حادثے سے مختلف بنا دیتے ہیں۔ آگ کا مخصوص منزلوں کو متاثر کرنا، حساس انتخابی مشینوں کا تباہ ہونا اور سیاسی طور پر اہم علاقے میں یہ واقعہ پیش آنا ان تمام عوامل نے معاملے کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔
___________ اس واقعے کے بعد ریاستی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف آگ کی وجہ معلوم کرنا نہیں بلکہ عوام کا اعتماد بحال کرنا بھی ہے۔ اگر تحقیقات شفاف انداز میں نہ ہوئیں یا رپورٹ میں ابہام باقی رہا تو شکوک و شبہات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ فرانزک ماہرین، فائر سیفٹی ماہرین اور پولیس مشترکہ طور پر ایسی رپورٹ تیار کریں جو تمام سوالات کا تسلی بخش جواب دے سکے۔ جمہوریت صرف ووٹوں سے نہیں بلکہ اعتماد سے چلتی ہے۔ جب اعتماد کمزور پڑنے لگے تو بہترین نظام بھی تنقید کی زد میں آ جاتا ہے۔ الی پور کی آگ نے دراصل اسی اعتماد کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کیا ہوا، کیوں ہوا اور کس کی ذمہ داری تھی۔ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ فی الحال حقیقت یہ ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تخریب کاری کے شبہات موجود ہیں لیکن ثابت نہیں ہوئے۔ حادثے کے امکانات موجود ہیں لیکن ان کی بھی تصدیق نہیں ہوئی۔ یہی غیر یقینی کیفیت اس واقعے کو مزید پراسرار بناتی ہے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، ہر رائے محض ایک قیاس رہے گی۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس آگ نے صرف چند ہزار مشینوں کو نہیں جلایا بلکہ اس نے جمہوری شفافیت، انتظامی ذمہ داری اور سیاسی جوابدہی سے متعلق کئی ایسے سوالات کو بھی روشن کر دیا ہے جو آنے والے دنوں میں مغربی بنگال کی سیاست میں مسلسل زیر بحث رہیں گے۔ آج ریاست کے عوام کی نظریں تحقیقات پر مرکوز ہیں۔ لوگ کسی سیاسی بیان سے زیادہ ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد جواب کے منتظر ہیں۔ اگر سچائی پوری دیانت داری کے ساتھ سامنے آ گئی تو شاید یہ واقعہ ایک حادثے یا ایک سازش کے طور پر تاریخ میں درج ہو جائے گا لیکن اگر سوالات کے جواب نہ مل سکے تو الی پور کی یہ آگ طویل عرصے تک سیاسی مباحث، عوامی گفتگو اور انتخابی شفافیت کے حوالے سے ایک سلگتے ہوئے سوال کی صورت میں زندہ رہے گی۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے